click on book to show pdf

پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ)

سیدنا لوط اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو […]

  • محترم جناب اشتیاق احمد صاحب
  • دار السلام سعودی عرب
  • ۱۴۲۶
پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ)
Rate this post
پتھروں کی بارش (قصہ سیدنا لوطؑ)
اس کتاب کے بارے میں
  • جائزہ

    سیدنا لوط اللہ تعالیٰ کے جلیل القد ر نبی تھی انہوں نے زندگی بھر اپنی قوم کو اللہ کی واحدانیت کی دعوت دی۔ لیکن ان کے قوم نےان کی ایک نہ مانی اور سرکشی پراترآئی۔جب حضرت لوط کی قوم کی سرکشی جب حد سے بڑھ گئی اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو انہوں نے اللہ پاک سے التجا کی کہ وہ فسادیوں کے خلاف انکی مدد فرمائے۔ انکی دعا قبول ہوئی اور آپ کی ناراضگی کی وجہ سے قوم پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے اس قوم کے لئے عذاب الہٰی لیکر پہنچے اور انسانی شکل میں حضرت لوط کے پاس آئے۔ قرآن مجید نےاس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔"آپ اپنے گھر والوں کو لیکر رات کے آخری حصے میں یہاں سے تشریف لے جائیں اور جب قوم پر عذاب نازل ہو تو انکی آواز سن کر تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے کا۔ ان کے (عذاب کے) وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح کچھ دور ہے؟" (سورۂ ہود: ۸۱)حضرت حضرت لوط جب شہر سے نکلے تو ان کے ساتھ انکی بیٹیاں اور بیوی بھی تھی اورجب وہ شہر سے نکل گئے اور سورج طلوع ہوا تو اللہ کا عذاب بھی آ گیا جسے ٹال دینا کسی کے بس میں نہیں تھا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:" تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس (بستی) کو (الٹ کر) نیچے اوپر کر دیا۔ اور ان پر پتھر کے تہ بہ تہ کنکر برسائے جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کئے ہوئے تھے اور وہ ظالموں سے کچھ دور نہیں۔"(سورۂ ہود: 82،83) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان بستیوں کو اسطرح الٹ دیا کہ انکا اوپر والا حصہ نیچے ہو گیا، پھر مسلسل پتھروں کی بارش سے انہیں نظروں سے اوجھل کر دیا۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس پر اسے گرنا تھا، خواہ ان میں سے کوئی اپنے شہر میں تھا یا سفر کی وجہ سے شہر سے باہر تھا۔حضرت لوط کی بیوی بھی اپنے خاوند اور بیٹیوں کے ہمراہ روانہ ہوئی تھی، لیکن جب شہر تباہ ہونے کی آواز اور ہلاک ہونے والوں کا شور سنا تو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے مڑ کر دیکھا اور بولی "ہائے میری قوم" وہیں ایک پتھر اس پر آ پڑا، جس نے اسکا سر پھاڑ کر اسے اس کی قوم سے ملا دیا۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’پتھروں کی بارش قصہ سیدنا لوط ‘‘جناب اشتیاق احمدکی تحریر ہے اور دار السلام کی سلسلہ قصص الانبیاء سیریز   کا نواں حصہ ہے۔ اس میں مرتب نے سیدنا لوط کی قوم کی تباہی   کے واقعہ کو بڑے آسان اور دلچسپ اندا ز میں بیان کیا ہے۔ دار السلام نے اسے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا ہے۔دار السلام کی بچوں کے لیے یہ منفرد کاوش ہے ۔والدین اپنے بچوں کو بازاری فضول کہانیاں ، اخلاق سے گرے ہوئے ڈائجسٹ او رناولوں کی بجائے قصص الانبیاء اور سچی کہانیوں کو پڑھنے کی ترغیب دیں

  • تفصیلات
    • محترم جناب اشتیاق احمد صاحب
    • دار السلام سعودی عرب
    • ۱۴۲۶
    • طبع اول
  • جائزے