islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. کتابیں

    3. شاهكار رسالت

    شاهكار رسالت

    شاهكار رسالت

    • آیۃ اللہ شہید مرتضیٰ مطہری
    • لاهور ۔ پاكستان
    download

      Download

    شاهكار رسالت
    Rate this post
    description book specs comment

    دین اسلام كا ظہور اس كے ابدی ہونے اور سلسلہ نبوت كے ختم ہونے كا اعلان دونوں كے درمیان كوئی فصل نہیں ہے۔
    مسلمانوں نے ختم نبوت كو ہمیشہ ایك امر واقعہ كے طور پر تسلیم كیا ہے۔ان كے سامنے یہ سوال كبھی نہیں آیا كہ حضرت محمد (ص) كے بعد كوئی دسرا پیغمبر بھی آئے گا یا نہیں؟ اس كی وجہ یہ ہے كہ قرآن كریم نے سلسلہ نبوت كے ختم ہونے كا بڑی صراحت كے ساتھ اعلان كیا ہے اور پیغمبر (ص) نے خود بھی كئی بار اس كا اعادہ كیا ہے، مسلمانوں میں رسول اكرم (ص) كے بعد كسی دوسرے پیغمبر كے ظہور كے خیال كو خدا كی وحدانیت یا قیامت كے انكار كے مشابہ اور ایمان كے منافی سمجھا گیا ہے۔
    مفكرین اسلام نے ختم نبوت كے مسئلے پر اگر كوئی تحقیقی و علمی كاوش كی ہے تو اس كا مقصد گمراہ كن خیالات كی بیخ كنی كرنا اور عقیدۀ ختم نبوت كو زیادہ سے زایدہ واضح اور روشن كرنا رہا ہے۔
    ہاں ہم وحی و نبوت كی ماہیئت پر گفتگو كرنا نہیں چاہتے، یہ ایك مسلمہ حقیقت ہے كہ وحی ایك ایسی رہنامئی كا نام ہے جو غیب و ملكوت كے ساتھ ضمیر كے ربط و اتصال سے حاصل ہوتی ہے، نبی، تمام انسانوں اور عالم غیب سے ربط و تعلق كا ایك ویلہ ہے، در حقیقت وہ عالم انسانیت اور جہان غیب كے درمیان ایك پل كی حیثیت ركھتا ہے۔
    نبوت، شخصی اور انفرادی پہلو سے ایك فرد انسانی كی روحانی شخصیت كی وسعت كانام ہے اور عمومی و اجتماعی پہلو سے نبوت كا مطلب عالم انسانیت كے لئے ایك ایسا پیام الٰہی ہے جو اس كی رہنمائی كی خاطر ایك منتخب شخصیت كے ذریعہ بھیجا گیا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے عقیدۀ ختم نبوت سے متعلق مختلف سوالات سامنے آتے ہیں۔كیا خاتم النبیین (ص) كے بعد كسی دورے نبی كے ظاہر نہ ہونے اور سلسلہ نبوت كے ختم ہو جانے سے روحانی و معنوی پہلوؤںسے انسانیت كو كسی تنزل كا سامنا كرنا پڑا ہے؟ كیا مادر زمانہ ایسے ملكوتی صفات فرزندوں كو جنم دینے سے عاجز ہو چكی ہے جو عالم غیب و ملكوت سے رشتہ ركھتے ہیں؟ كیا ختم نبوت كا اعلان كرنے كا مطلب فطرت كا بانجھ ہو جانا اور ایسے عالی مرتبت فرزندوں كو وجود میں لانے كی صلاحیت سے اس كا محروم ہو جانا ہے؟
    اس كے علاوہ یہ بھی كہا جاتا ہے كہ انسان خدا كی رہنمائی اور اس كا پیغام كا محتاج ہے۔اس كی یہ ضرورت ہی سلسلہ نبوت كے آغاز كا سبب بنی۔ماضی میں مختلف زمانوں اور ادوار كے تقاضوں كے مطابق پیغام الہی كی تجدید ہوتی رہی ہے ۔پیغمبروں كا پے درپے آنا شریعتوں كی مسلسل تجدید اور كتب آسمانی كا یكی بعد دیگری نزول اس لئے ہوا كہ ہر دور میں انسان كی ضروریات میں تغیر آتا رہا ہے اور انسان كو ہر زمانے میں ایك نئے پیغمبر كی ضرورت رہی ہے ۔جب یہ صورت ہے تو كس طرح یہ بات فرض كی جاسكتی ہے كہ ختم نبوت كے اعلان كے ساتھ ہی یہ رابط یك دم منقطع ہوگیا اور وہ پل كہ جس نے عالم انسانیت كو عالم غیب كے ساتھ جوڑ ركھا تھا وہ یك بیك ڈھ گیا ہے ۔اس كے بعد اب كوئی الہی پیغام انسانیت كی طرف نہیں بھیجا جائے گا تو كیا انسانیت كو فرائض اور ذمہ داریوں كے بغیر یو نہی آزاد چھوڑدیا جائے گا ۔ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں كہ نوح (ع)، ابراہیم (ع)، موسی (ع) اور عیسی (ع) جیسے صاحب شریعت پیغمبروںكے درمینی زمانوں میں كچھہ دوسرے پیغمبروں كا سلسلہ بھی موجود رہا ہے “اس سلسلے سے تعلق ركھنے والے پیغمبر اپنے سے پہلے كی شریعت كو نافذ كرنے اور پھیلانے كا كام انجام دیتے رہے ہیں ۔نوح علیہ السالم كے بعد ہزاروں انبیا آئے ۔ان انبیاء نے نوح علیہ السلام كی شریعت كو نافذ كیا اور پھلایا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام كے بعد بھی ایسا ہی ہوا ۔بالفرض یہ تسلیم كرلیا جائے كہ شریعت اسلام كی آمد كے ساتھ ہی شریعت لانے والی نبوت اور شریعتوں كا سلسلہ ختم ہوگیا ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے كہ اسلام كے بعد تبلیغی نبوتوں كا سلسلہ كیوں منقطع ہوگیا “جبكہ ماضی میں ہر شریعت كے نازل ہونے كے بعد بےشمار پیغمبر ظاہر ہوتے رہے اور ظہر ہوتے رہے اور سابق شریعت كی تبلیغ، ترویج اور نگہبانی كا فرض ادا كرتے رہے لیكن اسلام كی درآمد كے بعد اس طرح كا ایك پیغمبر بھی ظاہر نہ ہوا؟
    یہ ہیں وہ سوالات جو عقیدہ ختم نبوت كے بارے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ختم نبوت كا عقیدہ اسلام نے پیش كیا ہے اور وہی اس كا جواب بھی دیتا ہے۔
    اسلام نے ختم نبوت كے عقیدہ كو ایك ایسے جامع فلسفہ كی صورت میں پیش كیا ہے كہ ذہنوں میں كوئی شك و ابہام باقی نہیں رہتا ۔
    اسلام كی رو سے ختم نبوت كا عقیدہ نہ انسانیت كے تنزل كی علامت ہے اور نہ انسانی صلاحیت كے نقصان كی نہ مادر زمانہ كے بانجھ ہوجانے كی، اور نہ عقیدہ اس بات كی دلیل ہے كہ انسانیت اب پیغام الہی سے بے نیاز ہوچكی ہے اور انسان كو مختلف ناسازگار زمانوں كے تقاضوں كے مطابق كسی رہنمائی كی ضرورت نہیں ہے ۔ اسلام اس بارے میں ایك دوسرا ہی فلسفہ اور توجیہ پیش كرتا ہے ۔
    سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاپیئے كہ اسلام نے خود ختم نبوت كے بارے میں كیا كہا ہے، اس كے بعد ان سوالات كا جواب تلاش كرنا چاہیئے ۔سورہ احزاب كی آیت ۴۰ میں ہم پڑہتے ہیں
    “ما كان محمد ابا احد من رجالكم و لكن رسول اللہ و خاتم النبیین” “محمد تم مردون میں سے كسی كا باپ نہیں ہے لیكن وہ اللہ كا رسول (ص) اور انبیا كے سلسلے كو ختم كرنے والا ہے”
    اس آیت میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم كا خاتم النبیین كے نام سے یاد كیا گیا ہے

    • آیۃ اللہ شہید مرتضیٰ مطہری
    • لاهور ۔ پاكستان