islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. کتابیں

    3. حق و باطل کی وسعت

    حق و باطل کی وسعت

    حق و باطل کی وسعت
    Rate this post
    description book specs comment

    حق و باطل کی وسعت حق و باطل کی وسعت ”یا اباذر: الحق ثقیل مر والباطل خفیف حلو ورب شہوة ساعہ تورث حزناً طویلا ” ”اے ابوذ ! حق سنگین و تلخ ہے اور باطل سہل اور شیرین۔بسا اوقات ایک گھنٹہ کی ہوس رانی طولانی حزن و غم کا سبب ہوتی ہے۔” حق و باطل اور اس سے استفادہ کے مواقع: عموم مفاہیم میں سے ایک جو اسلامی لغت میں مذکور ہے اور اس کو بہت سے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ”حق و باطل” کا مفہوم ہے۔ قرآن مجید میں ”حق و باطل” کا مفہوم بعض جگہوں پر معبودوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ اس صورت میں کہ خدائے متعال کو معبود حقکہا جاتا ہے اور تمام دوسرے کو معبود باطل: (ذٰلک بأَن اللّٰہ ھو الحق وان ما یدعون من دونہ ھو الباطل…) (حج٦٢) ”یہ اس لئے ہے کہ خدا ہی یقیناً حق ہے اور اس کے علاوہ جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں…” بعض اوقات حق و باطل عقائد’ افکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی کردار و رفتار کے لئے بھی آیا ہے۔ من جملہ مطالب’ جن کے بارے میں قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے’ یہ ہے کہ یہ کائنات حق و باطل سے آمیختہ ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا حق و باطل کے دو عناصر سے مرکب ہے۔ ”اللہ” حق کی بنیاد ہے اور باطل ایک امر طفیلی ہے جو حق کے سایہ میں اور اس کی آڑ میں ظہور کرتا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق حق و باطل کی یہ آمیختگی پائدار نہیں ہے’ ایک دن آئے گا جب حق باطل سے مکمل طور پر جدا ہو جائے گا اورپائیدار رہے گا اور باطل نابود ہوجائے گا: (بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغہ فاذاھوزاھق) (انبیائ١٨) ”بلکہ ہم تو حق کو باطل پر تسلط اور غلبہ دے دیں گے تاکہ وہ باطل کو نیست و نابود کر دے اور باطل تو مٹنے والا ہی ہے ” ایک دوسری جگہ پر خدائے متعال باطل کو پانی کے او پر جھاگ سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتا ہے۔ (انزل من السماء مائً فسالت اودیة بقدرہا فاحتمل السیل زبداً رابیاً ومما یوقدون علیہ فی النار ابتغاء حلیة اومتاع زبد مثلہ کذٰلک یضرب اللّٰہ الحق والباطل فاما الزبد فیذھب جفائً واما ماینفع الناس فیمکث فی الارض کذٰلک یضرب اللّٰہ الامثال)(رعد١٧) ”اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیوں میں بقدر ظرف سیلاب آگیا اور اس بہتے ہوئے پانی پر چھاگ پیدا ہو گیا اور اس دھات سے بھی جھاگ پیدا ہو گیا جسے (سونے و چاندی کے ) زیورات یا کوئی دوسرا سامان بنانے کے لئے آگ پر پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح پروردگار حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے کہباطل کی مثال پانی کے اوپر اس چھاگ کی سی ہے جو خشک ہو کر فنا ہو جاتا ہے اورحق جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے اور خدا اس طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔” باطل کی جھاگ سے تشبیہ میں ایک ظریف نکتہ ہے جو جھاگ کی حقیقت کے پیش نظر واضح ہوتا ہے۔ جھاگ در حقیقت ایک حباب ہے جو پانی کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ جب انسان صابن کے جھاگ سے بھرے ایک طشت پر نظر ڈالتا ہے۔ تو اسے تیرتے ہوئے حباب نظر آتے ہیں جو اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی پہلی بار اس طشت پر نظر ڈالے تو وہی جھاگ اس کی توجہ کواپنی طرف متوجہ کرے گا اور اس جھاگ کے نیچے موجود پانی جو اس جھاگ کی پیدائش کا سرچشمہ ہے۔ سے غافل رہتا ہے۔ خیال کرتا ہے کہ حقیقت یہی حباب ہیں جو ظاہر ہوگئے ہیں اور اوپر نیچے ہو رہے ہیں اور ان میں گونا گوں رنگ پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ حباب نے اپنی حقیقت کو اسی پانی سے حاصل کیا ہے اور اس کا وجود پانی کے سایہ میں ہی ہے۔ دنیا’ حق و باطل کامرکب ہے’ لیکن باطل حق کے طفیل میں موجود ہے، ممکن ہے باطل حق سے زیادہ نمایاں ہواور اس سے زیادہ چمک دمک رکھتا ہو’ لیکن قانون خلقت میں حق پانی کے مانند ہے اور باطل کی حیثیت اس کے جھاگ کی سی ہے جو پائدار نہیں ہے ‘ وہ نابود ہوجائے گا اور باقی رہنے والا حق ہے جو لوگوں کے لئے سودبخش ہے۔ باطل’ جھاگ کی طرح چند لمحوں کے لئے ظہورظاہر ہوتا ہے اور اس کے بعد حقیقت اور حق نمایاں ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لمحات کو جب ہم اپنے معیاروں سے موازنہ کرتے ہیں’ تو فکر کرتے ہیں کہ یہ لمحہ ایک سکنڈ یا ایک منٹ کا ہوگا’ لیکن جو ازل و ابد پر نظر رکھتا ہے’ سو سال اور ہزار سال بھی اس کے لئے ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ہے’ اس کے معیار اورہمارے معیار میں فرق ہے۔ جس پیمانے سے ہم زمان اور اشیا کی بقاو ثبات کے بارے میں پیمائش کرتے ہیں اس کا حق کے پیمانہ سے فرق ہے۔ جو شخص حق بین نگاہ رکھتا ہے اس کے لئے زمانوں کا طول خواہ لمحوں میں یا گھنٹوں میں یا برسوں میں یا صدیوں میں ہو’ کوئی اعتبار نہیں رکھتا، جو ہم دیکھتے ہیں’ وہ اس سے بالاتر ایسے افق کو دیکھتا ہے جو بہت بلند اور پائدار تر ہے اور جس معیار و پیمانے سے حساب کرتا ہے’ اس کی نظر میں باطل کوئی چیز نہیں ہے اور اس میں پائداری نہیں ہے۔ حق و باطل کا ظاہری شکل و صورت: حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کا مفہوم یہ ہے کہ حق سنگین اور تلخ ہے اور باطل سہل اور شیرین ہے۔ اس جملہ کی وضاحت میں کہنا چاہئے: جو مومن سعادت اخروی کی فکر میں ہے’ اسے اپنے ایمان کے اقتضا کے مطابق اپنے روحی اور معنوی تکامل وترقی کی فکر میں ہونا چاہئے اور اسے چاہئے کہ راستے کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دے تاکہ مقصد تک پہنچ سکے۔ فطری بات ہے کہ جو مومن اس راہ میں ابتدائی مرحلہ پر ہو’ وہ توقع رکھتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سہل’ آسان’ گوارا اور شیریں ہوں۔ اس نے مشکلات اور تلخیوں کو برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں کیا ہے’ اس لحاظ سے ممکن ہے مشکلات کے ساتھ مقابلہ میں شکست کھا کر راہ حق سے منحرف ہو جائے یا اگر اس راہ پر حسب معمولی آگے بڑھ رہا ہے تو اس لحاظ سے فکر مند ہے کہ خیر و حق کی راہ میں کیوں یہ مشکلات اور دشواریاں پائی جاتی ہیں؟ انسان کے لئے ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق کیوںتلخ اور سنگین ہے اور انسان حق کی راہ میں ناقابل برداشت مشکلات سے کیوں دوچار ہوتا ہے’ لیکن باطل شیریں اور آسان ہے؟ انسان کو کیوں تلخیوں کو برداشت کرنا چاہئے اور خوشیوں اور خوشگوار لمحات کو نظر انداز کرے؟ شاید یہ سوال ذہن میں پیدا ہو جائے (نعوذ بااللہ) کیا خدا بخیل ہے کہ اجازت نہیں دیتا ہے تاکہ اس کے دوست دنیا کے خوشگوار لمحات اور خوشیوں سے استفادہ کریں اور ان کے لئے محنت اور دشوار کام فریضہ کے طور پر مقرر کئے جائیں؟ اس میں کونسی مشکل تھی کہ حق کو شیریں بنا دیتا تاکہ سب لوگ حق کے پیرو بن جاتے اور گمراہ نہ ہوتے؟ جب ہم ایک مومن کی زندگی کا ایک فاسق سے موازنہ کرتے ہیں’ تو دیکھتے ہیں کہ ایک مومن کو زندگی میں فراوان مشکلات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک لقمہ حلال روٹی کمانے کے لئے اسے کتنی جانفشانی کرنی پڑتی ہے ۔ گھریلو زندگی میں’ بیوی’ بچے اور ہمسایوں کے ساتھ فراوان مشکلات رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اس کا فاسق اور لاابالی ہمسایہ یا رشتہ دار ایک اچھی اور خوشحال زندگی بسر کر رہا ہے اور کسی قسم کی مشکلات سے دو چار نہیں ہوتا۔ اس موازنہ کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ‘ جو خدا مومن کو دوست رکھتا ہے،جیسا کہ بہت سی روایتوں میں مومن کے ایمان کی ستائش کی گئی ہے کس طرح اسے ان مشکلات اور سختیوں سے دوچار کرتا ہے؟ اپنے معاشی وسائل کے لئے کس قدر اسے محنت کرنی پڑتی ہے۔ جب وہ شادی کرنا چاہتا ہے’ کبھی اسے برسوں تک مناسب جوڑے کی تلاش میں پھرنا پڑتا ہے۔ جہاں بھی جاتا ہے لوگ بہانہ کر کے اسے بیوی نہیں دیتے، لیکن دوسرے لوگ آسانی کے ساتھ اپنی من پسند بیوی کو منتخب کرتے ہیں، یہی موازنہ مومن اور کافر معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ جب ہم بوسنیہ ہرزگوینہ کے مسلمانوں کا ان کی ہمسائیگی میں موجود غیر مسلمان معاشرے سے موازنہ کرتے ہیں’ تو اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ اس ملت بوسنی ہرزگوین نے کونسا جرم کیا ہے کہ انہیں یہ مشکلات ظلم و بربریت برداشت کرنی پڑتی ہیں؟ کیوں ان کی ہمسائیگی میں موجود کافر آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور اس مسلمان ملت کی جان’ مال اور ناموس ہر لمحہ پائمال کی جائے اور ظالم و جابر قوم ان پر وحشیانہ طور پر حملے کریں؟ اگر خدائے متعال مومنوں کا حامی ہے’ تو ان کی کیوں مدد نہیں کرتا ہے؟ یہ سوال مختلف صورتوں میں ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے اور ہر ایک کے پاس اس کی معرفت کے مطابق اس کا ایک جواب ہے۔ لیکن بہرحال ہم میں سے اکثر لوگوں کے لئے کچھ ابہامات پیدا ہوتے ہیں۔ شاید’ جن لوگوں کا ایمان زیادہ ہے’ یہ کہیں جو کچھ پیش آتا ہے مصلحت خداوندی کی بنا پر ہے۔ اس قسم کے سوالات اور من جملہ اس سوال کے جواب میں کہ کیوں حق تلخ ہے اور خدائے متعال نے اسے شیریں نہیں بنایا ہے تاکہ سب اس کو قبول کر کے گمراہ نہ ہوتے اور بد بختی سے دوچار نہ ہوتے؟ یہاں پر علمی مباحث بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان مفاہیم سے عملی نتائج حاصل کریں اور مطلب کو روشن اور واضح کریں چونکہ اگر انسان پر کوئی مطلب مکمل طور پر واضح نہ ہو تووہ اس کے دل پر مناسب اثر نہیں ڈالتا ہے اور یا شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور شبہات ایجاد کر کے اس کے لئے مناسب اثر پیدا ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے’ مطلب واضح ہونے اور ابہامات دور ہونے کے بعد شبہات اور شیطانی وسوسوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔