click on book to show pdf

اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر

تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے ،وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے […]

  • ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی
  • بیت الحکمت لاہور
  • ۲۰۰۵
اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر
Rate this post
اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر
اس کتاب کے بارے میں
  • جائزہ

    تہذیبیں گروہ انسانی کی شدید محنت اور جاں فشانی کا ثمرہ ہوتی ہیں۔ہر گروہ کو اپنی تہذیب سے فطری وابستگی ہوتی ہے۔جب تک اس کی تہذیب اسے تسکین دیتی ہے ،وہ دیگر تہذیبوں سے بے نیاز رہتا ہے۔جب کوئی بیرونی تہذیب اس پر دباؤ ڈالنے لگتی ہے تو معاشرہ اپنی تہذیب کی مدافعت کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے،اور مخالف تہذیب کو اپنی تہذیب پر اثر انداز ہونے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ مدافعت اکثر حربی ٹکراؤ کی صورت اختیار کر جاتی ہے،اور اگر حربی مدافعت کی قوت باقی نہیں رہ جاتی تو غالب معاشرے کے خلاف سرد جنگ شروع ہوجاتی ہے۔تاآنکہ دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی برتری حاصل نہ ہوجائے۔بصورت دیگر کوئی نئی تہذیب وجود میں آتی ہے جس میں متحارب معاشرے ضم ہوجاتے ہیں۔مستشرقین بھی اسلام اور پیغمبر اسلام کو اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، اور اس کا مقابلہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلام ،پیغمبر اسلام اور مستشرقین مغرب کا انداز فکر"محترم ڈاکٹر عبد القادر جیلانی کا کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لئے لکھا گیا مقالہ ہے،جسے محترم آصف اکبر صاحب نے مرتب کیا ہے۔مقالہ نگار نے اس میں مغرب کا پس منظر،ریاست اسلامیہ کی توسیع اور عہد وسطی کا مغرب، مغرب کا رد عمل ،مستشرقین، اورسترہویں تا انیسویں صدی عیسوی کا مشترکہ جائزہ جیسے موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہے۔مغرب کے انداز فکر کو سمجھنے کے لئے یہ ایک مفید اور بہترین کتاب ہے

  • تفصیلات
    • ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی
    • بیت الحکمت لاہور
    • ۲۰۰۵
    • طبع اول
    • قدوسیہ اسلامک پریس لاہور
  • جائزے