islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. ترجمہ قرآن شیخ محسن علی نجفی

    ترجمہ قرآن شیخ محسن علی نجفی

    ترجمہ قرآن شیخ محسن علی نجفی
    • شیخ محسن علی نجفی
    ترجمہ قرآن شیخ محسن علی نجفی
    5 (100%) 1 vote

    قرآن پاک کی تلاوت باعث ثواب ہے، خیر وبرکت کا سبب بھی ہے۔ اگر اس کو سمجھ کر پڑھا جائے تو اس میں ہدایت ، شفاء اور رحمت کے پہلو بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں موجود تعلیمات سمجھ میں آئیں گی تو کما حقہ تعمیل ہو سکے گی۔ اس لیے ان فوائد کے حصول کے لئے غیر عربی علماے کرام نے جو اپنی زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ قرآن کے ترجمے جیسا عظیم کام کیا ہے۔
    دنیا بھر میں قرآن پاک کے تراجم بے شمار زبانوں میں ہوئے ہیں اور اردو زبان کو یہ شرف حاصل ہے کہ ترجمہ وتفسیر کا سب سے زیادہ مواد اسی میں لکھا گیا ہے۔ کم وبیش 1011 اندراجات موجود ہیں۔
    ’ترجمہ‘ مستقل ایک فن ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی ضرورت و اہمیت مسلم ہے۔ تراجم کی مختلف اصناف میں مذہبی تراجم سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے کہ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کے من جملہ تراجم کی خدمات میں نصف سے زائد خدمات مذہبی تراجم پر مشتمل ہیں۔
    ہر دور میں مذہبی ترجمہ کرنے والوں کا اصل مقصد یہی رہا ہے کہ قرآنی مطالب ومفاہیم کو ان لوگوں تک پہنچایا جائے جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے۔پھر اس مقصد کے ساتھ ساتھ ان کا اس بات پر بھی زور رہا ہے کہ عوام کو آسان ا ور عام فہم پیرایہ میں قرآنی احکامات اور تعلیمات پہنچانی جائیں تاکہ انہیں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ( اردو نثر کے اسالیب تبدیل ہوتے رہے جس کا اثر قرآن کے اردو تراجم پر بھی ہوا۔)
    اپنے اپنے دور اور اپنے دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اردومترجمین نے پر خلوص کوششیں کی ہیں جن کی جزاء یقینا اللہ کے پاس ہے۔ اور وہ درج ذیل ہیں:
    پہلا دور جو قدیم دور بھی کہلاتا ہے جو دکنی دور سے شروع ہوتا ہے اور اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام تک چلتا ہے۔ اب تک کی دستیاب تحقیقات کے مطابق پہلے دور میں جو تراجم ملتے ہیں وہ تقریبا سبھی نامکمل ہیں۔ حالانکہ وہ خاصیعدد میں ہیں۔
    دوسرا دور شاہ رفیع الدین کے ترجمہ سے شروع ہو کر انیسویں صدی کے آخر میں ختم ہوتا ہے۔
    تیسرا اور عصر حاضر کا دور ڈپٹی نذیر احمد کے ترجمہ سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ دور تک چل رہا ہے۔
    پہلے دور کے نامکمل تراجم کے بعد دوسرے دور میں قرآن پاک کا مکمل ترجمہ منظر عام پر آیا تھا۔ اردو بھی اپنی شکل بدل رہی تھی اور ادب پر دکنی اثرات کم ہو گئے تھے۔ بلکہ تقریبا ختم ہونے کو تھے۔
    اس لیے اس دور میں ملنے والے تراجم میں دکنی اثرات کی جگہ شمالی ہندکے الفاظ، محاورات اور دیگر اسالیب بیان نے سنبھال لی تھی۔
    اس دور کا معروف اور معتبر ترجمہ شاہ رفیع الدین دہلوی کا ہے۔اگرچہ ان کی علمیت کا چرچا تھا لیکن قرآن کا پہلا مکمل ادور ترجمہ ان کی شہرت کی اصل وجہ بنا۔ اٹھارویں صدی کے اواخر کا پہلا مکمل اردو ترجمہ تھا۔ ترجمہ کرنے کا انداز بھی یہ تھا کہ وہ بولتے جاتے اور ان کے ایک شاگرد سید نجف علی خاں اسے لکھتے جاتے تھے۔ جب قرآن مکمل ہو گیا تو انہوں نے اسے اپنےاستاد محترم کی خدمت میں پیش کر دیا اور اصلاح کروائی۔ شاہ صاحب کا یہ ترجمہ لفظی ہے۔ لفظی ترجمہ ہونے کے باوجود یہ وہ ترجمہ ہے جو قرآن کی روح اور اس کے مزاج کے عین مطابق ہے۔
    انیسویں صدی کو قرآن کے اردو تراجم کا دوسرا دور تصور کیا جاتا ہے جس میں قرآن مجید کے اردو تراجم کو ضروری سمجھا جانے لگا تھا اور بڑی جانفشانی سے اس پر کام ہو رہا تھا۔ اس میں کچھ ترجمےمکمل اور کچھ جزوی بھی ملتے ہیں۔
    اس دور میں ایک ترجمہ فورٹ ولیم کالج میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کے حکم پر ہوا ان کی بیماری کی وجہ سے ادھورا رہ گیا جسے اسی کالج کے استاد مولوی امانت اللہ شیدا نے مکمل کیا۔ جن میں میر بہادر علی حسینی اور کاظم علی کا تعاون بھی شامل تھا۔
    اردو میں قرآنی تراجم کا تیسرا دور ڈپٹی نذ یر احمد دہلوی کے ترجمہ قرآن سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ترجمہ پہلی بار 1896 میں شائع ہوا۔ یہ اپنے بعض خصائص کی بناء پر ایک خاص مقام رکھتا ہے اس ترجمے کو اردو زبان و ادب کا ایک مثالی کارنامہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اصل میں یہ ایک عظیم مذہبی خدمت بھی ہے۔ ڈپٹی نذ یر احمد دہلوی کے ترجمہ کے بعد بہت سے علماء اور ماہرین نئے انداز میں پر خلوص کوششیں کر رہے ہیں ان عصر حاضر کے اردو مترجمین میں سے شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری اپنا خاص مقام رکهتے  ہیں۔ آپ کی اس عظیم مذہبی خدمت عوام الناس تک پهنچانے کے لئے پیش خدمت ہے۔قرآن پاک کی تلاوت باعث ثواب ہے، خیر وبرکت کا سبب بھی ہے۔ اگر اس کو سمجھ کر پڑھا جائے تو اس میں ہدایت ، شفاء اور رحمت کے پہلو بھی حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں موجود تعلیمات سمجھ میں آئیں گی تو کما حقہ تعمیل ہو سکے گی۔ اس لیے ان فوائد کے حصول کے لئے غیر عربی علماے کرام نے جو اپنی زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ قرآن کے ترجمے جیسا عظیم کام کیا ہے۔
    دنیا بھر میں قرآن پاک کے تراجم بے شمار زبانوں میں ہوئے ہیں اور اردو زبان کو یہ شرف حاصل ہے کہ ترجمہ وتفسیر کا سب سے زیادہ مواد اسی میں لکھا گیا ہے۔ کم وبیش 1011 اندراجات موجود ہیں۔
    ’ترجمہ‘ مستقل ایک فن ہے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی ضرورت و اہمیت مسلم ہے۔ تراجم کی مختلف اصناف میں مذہبی تراجم سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لیے کہ ایک سروے کے مطابق دنیا بھر کے من جملہ تراجم کی خدمات میں نصف سے زائد خدمات مذہبی تراجم پر مشتمل ہیں۔
    ہر دور میں مذہبی ترجمہ کرنے والوں کا اصل مقصد یہی رہا ہے کہ قرآنی مطالب ومفاہیم کو ان لوگوں تک پہنچایا جائے جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے۔پھر اس مقصد کے ساتھ ساتھ ان کا اس بات پر بھی زور رہا ہے کہ عوام کو آسان ا ور عام فہم پیرایہ میں قرآنی احکامات اور تعلیمات پہنچانی جائیں تاکہ انہیں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ( اردو نثر کے اسالیب تبدیل ہوتے رہے جس کا اثر قرآن کے اردو تراجم پر بھی ہوا۔)
    اپنے اپنے دور اور اپنے دور کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اردومترجمین نے پر خلوص کوششیں کی ہیں جن کی جزاء یقینا اللہ کے پاس ہے۔ اور وہ درج ذیل ہیں:
    پہلا دور جو قدیم دور بھی کہلاتا ہے جو دکنی دور سے شروع ہوتا ہے اور اٹھارویں صدی عیسوی کے اختتام تک چلتا ہے۔ اب تک کی دستیاب تحقیقات کے مطابق پہلے دور میں جو تراجم ملتے ہیں وہ تقریبا سبھی نامکمل ہیں۔ حالانکہ وہ خاصیعدد میں ہیں۔
    دوسرا دور شاہ رفیع الدین کے ترجمہ سے شروع ہو کر انیسویں صدی کے آخر میں ختم ہوتا ہے۔
    تیسرا اور عصر حاضر کا دور ڈپٹی نذیر احمد کے ترجمہ سے شروع ہوتا ہے اور موجودہ دور تک چل رہا ہے۔
    پہلے دور کے نامکمل تراجم کے بعد دوسرے دور میں قرآن پاک کا مکمل ترجمہ منظر عام پر آیا تھا۔ اردو بھی اپنی شکل بدل رہی تھی اور ادب پر دکنی اثرات کم ہو گئے تھے۔ بلکہ تقریبا ختم ہونے کو تھے۔
    اس لیے اس دور میں ملنے والے تراجم میں دکنی اثرات کی جگہ شمالی ہندکے الفاظ، محاورات اور دیگر اسالیب بیان نے سنبھال لی تھی۔
    اس دور کا معروف اور معتبر ترجمہ شاہ رفیع الدین دہلوی کا ہے۔اگرچہ ان کی علمیت کا چرچا تھا لیکن قرآن کا پہلا مکمل ادور ترجمہ ان کی شہرت کی اصل وجہ بنا۔ اٹھارویں صدی کے اواخر کا پہلا مکمل اردو ترجمہ تھا۔ ترجمہ کرنے کا انداز بھی یہ تھا کہ وہ بولتے جاتے اور ان کے ایک شاگرد سید نجف علی خاں اسے لکھتے جاتے تھے۔ جب قرآن مکمل ہو گیا تو انہوں نے اسے اپنےاستاد محترم کی خدمت میں پیش کر دیا اور اصلاح کروائی۔ شاہ صاحب کا یہ ترجمہ لفظی ہے۔ لفظی ترجمہ ہونے کے باوجود یہ وہ ترجمہ ہے جو قرآن کی روح اور اس کے مزاج کے عین مطابق ہے۔
    انیسویں صدی کو قرآن کے اردو تراجم کا دوسرا دور تصور کیا جاتا ہے جس میں قرآن مجید کے اردو تراجم کو ضروری سمجھا جانے لگا تھا اور بڑی جانفشانی سے اس پر کام ہو رہا تھا۔ اس میں کچھ ترجمےمکمل اور کچھ جزوی بھی ملتے ہیں۔
    اس دور میں ایک ترجمہ فورٹ ولیم کالج میں ڈاکٹر جان گلکرسٹ کے حکم پر ہوا ان کی بیماری کی وجہ سے ادھورا رہ گیا جسے اسی کالج کے استاد مولوی امانت اللہ شیدا نے مکمل کیا۔ جن میں میر بہادر علی حسینی اور کاظم علی کا تعاون بھی شامل تھا۔
    اردو میں قرآنی تراجم کا تیسرا دور ڈپٹی نذ یر احمد دہلوی کے ترجمہ قرآن سے شروع ہوتا ہے۔ یہ ترجمہ پہلی بار 1896 میں شائع ہوا۔ یہ اپنے بعض خصائص کی بناء پر ایک خاص مقام رکھتا ہے اس ترجمے کو اردو زبان و ادب کا ایک مثالی کارنامہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اصل میں یہ ایک عظیم مذہبی خدمت بھی ہے۔ ڈپٹی نذ یر احمد دہلوی کے ترجمہ کے بعد بہت سے علماء اور ماہرین نئے انداز میں پر خلوص کوششیں کر رہے ہیں ان عصر حاضر کے اردو مترجمین میں سے شیخ محسن علی نجفی اپنا خاص مقام رکهتے  ہیں۔ آپ کی اس عظیم مذہبی خدمت عوام الناس تک پهنچانے کے لئے پیش خدمت ہے۔