islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. قرآن کی روشنی میں آئمہ کا تعیین

    قرآن کی روشنی میں آئمہ کا تعیین

    قرآن کی روشنی میں آئمہ کا تعیین
    Rate this post

    پہلی بحث میں ہم نے قرآنی نقطۂ نظر سے امامت کے معنی و مفہوم کی وضاحت پیش کی کہ امامت انسان کو اس کے تمام اختیاری افعال میں عروج وکمال تک پہنچاتی ہے۔ دوسری بحث میں ہم نے منصب امامت کو اپنا موضوع بحث بنایا اور اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ ربانی منصب ہے اللہ جسے چاہتا ہے اس منصب سے سرفراز کرتا ہے اس میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا درست نہیں ہے اور ہم نے اس حوالے سے قرآن کی متعدد آیات سے استشہاد کیا جس سے نص اور تعین الٰہی کے نظریے کی تائید ہوتی ہے۔ یہاں پر تیسری بحث میں ہم اختصار کے ساتھ قرآن میں مذکور صفات کی روشنی میں نظریہ امامت کو موضوع گفتگو بنائیں گے قرآن میں یہ صفات تین صیغوں میں ذکر کی گئی ہے۔
    پہلا صیغہ جس سے مراد بعض وہ آیتیں ہیں جن میں یہ بات نہایت تاکید کے ساتھ ذکر کی گئی ہے کہ پوری تاریخ انسانی میں امام کا تعین و تقرر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا آرہا ہے ۔اور اللہ نے ہمیشہ ان آئمہ کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔
    دوسرا صیغہ سے مراد چند ایسی آیتیں ہیں جن سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آئمہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے ہی ہوں گے اور یہ کہ امامت الٰہیہ کا یہ سلسلہ ابراہیم کی اولاد اور ان کی نسل میں جاری رہے گا۔
    تیسرا صیغہ سے مراد وہ قرآنی نصوص ہیں جو اس بات کی دلیل فراہم کرتی ہیں کہ رسول اللہ ۖ کے بعد امامت کی باگ ڈور اہل بیت ٪ کے افراد کے قبضہ میں ہوگی اور وہ علی ـ اور ان کی اولادمیں سے کچھ مخصوص اشخاص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح کی نجاست و گندگی سے دور رکھا ہے اور ہر طرح کی پاکیزگی سے نوازا ہے۔
    تعین کے ان ہی تین صیغوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم قرآن کریم کی روشنی میں امامت کے موضوع پر گفتگو کو آگے بڑھائیں گے ہم ان احادیث شریفہ سے صرف نظر بھی نہیں کرسکتے جو منصب امامت کی تائید میں مختلف صیغوں اور تعبیرات کے ساتھ وارد ہوئی ہیں ۔لیکن ان کا ذکر یہاں پر ممکن نہیںکیوں کہ ہمارا موضوع قرآن کی روشنی میں امام کے تعین و تقرر کی بحث ہے امامت کے موضوع پر وارد ہونے والی چند آیات بطور نمونہ پیش کریں گے۔ تاکہ مسئلہ امامت کی مکمل وضاحت ہوجائے۔جہاں تک امامت کے موضوع پر وارد ہوئی ہیں تو وہ نصوص قرآن ہی کی ایک قسم ہیں کیوں کہ احادیث نبویہ درحقیقت قرآن کریم کی آیات کی تفسیر ہیں۔ قرآن کی یہ آیت (َطِیعُوا الرَّسُولَ)رسول کی اطاعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس نص سے اللہ کے اس قول (وَ مَا یاَنْطِقُ عاَنْ الْہَوَی ں ِنْ ہُوَا ِلاَّ وَحْی یُوحَی) کے مفہوم کی تائید ہوتی ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ امامت کے موضوع پر وارد احادیث متواترہ بھی کلام الٰہی کے درجہ میں ہیں کیوں کہ ان کی روح و جوہر اور مرجع قرآن کریم ہے۔مگر جو نصوص قرآنی کے نمونے اپنے تینوں صیغوں کے ذریعے دلالت کرتی ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
    پہلا صیغہ:
    میں یہ بات واضح طور پر کہہ دی گئی ہے کہ اللہ نے ہر زمانے میں انسانوں کی رہنمائی کے لئے آئمہ کو بھیجا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    ١_ (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّامَّةٍ رَسُولاً اَنْ اُعْبُدُوا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) (73)
    ”اور ہم تو ہر قوم میں ایک پیغمبر(یہ حکم دے کر) بھیج چکے ہیں کہ اللہ کی اطاعت کرو اور طاغوت سے بچے رہو۔”
    پوری تاریخ انسانی اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ نے ہر قوم میں ایک رسول بھیجا ہے او ریہ حکم دیا ہے کہ وہ لوگ اللہ کی عبادت کریں اور طاغوت کی عبادت سے گریز کریں ۔لغوی اعتبار سے عبادت کا مفہوم و مقصود اللہ کی مکمل اطاعت و تابعداری ہے او ریہ معنی انسان کے تمام تر اختیاری افعال کو شامل کرتی ہے۔ امامت کے اس معنی کا ذکر پہلے آچکا ہے انسانی استطاعت کی حد تک تمام افعال اختیاریہ میں اسے عروج و کمال تک پہنچانا ہے ۔کمال مطلوب سے مراد اللہ کی مکمل تابعداری ہے۔
    امر واقعی میں امامت یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے تمام امور میں اللہ کی عبادت کو ملحوظ رکھے اور امامت کا یہی معنی طاغوت کے منافی ہے۔ کیوں کہ طاغوت کا معنی بہت زیادہ سرکش کے ہیں۔ اور اس کے مصادیق ،ابلیس، آئمہ کفر و ضلال او رظالم سیاسی قائدین اور وہ تمام ارباب قوت و اقتدار ہیں جو اللہ کی عبادت سے لوگوں کو باز رکھتے ہیںاور غیر اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی دعوت دیتے ہیں۔ چند آیتیں بطور مثال پیش کی جارہی ہیں جس سے ایک طرف طاغوت کے مفہوم کا تعین ہو سکے گا اور دوسری طرف عبادت کے معنی کی تاکید و تائید ہوجائے گی۔ قرآن کہتا ہے:
    َلَمْ تَرَِلَی الَّذِینَ یَزْعُمُونَ َنَّہُمْ آمَنُوابِمَاُنزِلَا ِلَیکَ وَمَاُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیدُونَ اَنْ یَتَحَاکَمُوا ِلَی الطَّاغُوتِ وَقَدْ ُمِرُوا اَنْ یَکْفُرُوا بِہِ) (74)
    ”(اے پیغمبر) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (منہ سے) کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے جو تجھ پر اترا (یعنی قرآن پر) اور جو تجھ سے پہلے (اور پیغمبروں پر) اترا باوجود اس کے وہ چاہتے ہیں کہ اپنا مقدمہ شیطان کے پاس لے جائیں حالانکہ ان کو حکم ہوچکا ہے کہ شیطان کی بات نہ مانیں۔”
    نیز اس سے پہلے والی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    (یَا َیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا َطِیعُوا اﷲَ وَ َطِیعُوا الرَّسُولَ وَ ُوْلِی الَْمْرِ مِنْکُمْ فَِانْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْئٍ فَرُدُّوہُا ِلَی اﷲِ وَ الرَّسُولِ ِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکَ خَیْر وََحْسَنُ تَْوِیلًا) (74)
    ”اے ایمان والو!اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور صاحبان امر کا جو تم میں سے ہو ،پھر اگر تم میں اور حاکم وقت میں کسی مقدمہ میں جھگڑا ہو تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف پلٹائو اگر تم کو اللہ اور آخرت پر ایمان ہے یہ (تمہارے حق میں)بہتر ہوگا اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔”
    اس آیت اور دوسری آیتوں کے سیاق سے پتہ چلتا ہے کہ طاغوت سے مراد اللہ کے سوا اور کوئی حاکم ہے جو لوگوں کو غیر اللہ کی حاکمیت کی طرف بلاتا ہے اور اللہ کے اس قول (وَلَقَدْ بَعَثْنَافِی کُلِّامَّةٍ رَسُولاً اَنْ اُعْبُدُوا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) (76)کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے ہر امت میں ربانی او رسیاسی قائدین کو بھیجا جو اللہ کے امر کی اطاعت کا حکم اور لوگوں کو اللہ کی عبادت اور اس کے حکم کی تابعداری کی دعوت دیتے ہیں اور طاغوتوں کی تابعداری سے باز رکھتے ہیں۔
    باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    ٢_ (وَمَا َرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍا ِلاَّ لِیُطَاعَ بِِذْنِ اﷲِ) (77)
    ”اور ہم نے جو رسول بھیجا وہ اسی لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کا کہا مانا جائے۔”
    اس آیت کریمہ میں اس بات پر مکمل روشنی ڈالی گئی ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے پوری تاریخ انسانی میں لوگوں کے مابین رسولوں کو قائد اور حاکم بناکر بھیجا اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا اللہ نے رسول کو بھیجا ہی اسی لئے ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے تاکہ انہیں قائد مطاع کی حیثیت حاصل ہوجائے ۔اس آیت میں ”باذن اللہ” کے لفظ سے ایک نکتہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس لفظ کے ذریعے یہ بتانا مقصود ہے کہ رسول کی اطاعت و تابعداری ان کو حاکم اور قائد مان کر کی جائے نہ صرف اللہ کے احکامات کے مخبر اور امر و نواہی کے مبلغ کی حیثیت سے۔اس لفظ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ نے رسول کو قائد مطاع کا منصب عطا کیا ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ اطاعت، اطاعت حکم و قیادت اور اطاعت امارت ہے نہ کہ صرف اطاعت تبلیغ ورنہ تو بہتر یہ ہوتا کہ کہا جائے ”وَمَا َرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍا ِلاَّ لِیُطَاعَ اللّٰہُ”۔
    اللہ نے فرمایا:
    ٣_ (لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمْ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ) (78)
    ”ہم تو اپنے پیغمبروں کو کھلی کھلی نشانیاں دے کر بھیج چکے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری (تورات ،انجیل ،زبور ،قرآن) اور انصاف کا ترازو اتارا۔ اس لئے کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔”
    اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ انسانی کے ہر مرحلے میں رسولوں کو دلائل ،کتاب اور میزان دے کر بھیجا گیا اور ان تمام لوگوں کا مقصد دنیامیں اللہ کی حکومت اور لوگوں کے مابین عدل و انصاف کا قیام تھا اس ارشاد خداوندی میں کتاب بحیثیت قانون اور دستور الٰہی کے مذکور ہے۔(لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمْ الْکِتَابَ)
    اس آیت میں کتاب سے مراد قانون اور دستور الٰہی ہے اور لغت میں کتاب کے معنی مکتوب کے ہیںاو رمکتوب کتابت سے مآخوذ ہے جس کے معنی وجود و ثبوت کے ہیں لہٰذا کتاب سے مراد واجب اور ثابت شدہ اوامر و نواہی کے ہیں۔ میزان ایسا ترازو ہے جس سے چیزوں کی پرکھ کی جائے ،تاکہ اچھی اور خراب ،صحیح اور غلط چیزوں کے درمیان فرق ہوسکے۔ لیکن یہاں پر اس سے مراد اعمال کا میزان ہے نہ کہ عام چیزوں کو تولنے کا میزان۔ نیز اللہ تعالیٰ کی غرض عدل و انصاف کے افعال و اعمال کو ظلم و فساد کے افعال و اعمال سے الگ کرنا ہے اور اس بات کا تحقق صرف عدل کی قدرت اور عصمت کی قوت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اور یہ دونوں صفات انبیاء کرام کی ذات میں بدرجہ اتم موجود تھیں، ہر حاکم کیلئے ان دونوں صفات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح اسے قانون کی معرفت اور عدل و انصاف کی قدرت و مہارت کی بھی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے تمام امور و معاملات اور اعمال عدل کے مطابق ہوں اس طرح سے اسے اللہ کے حکم کو نافذ و جاری کرنے کی قدرت حاصل ہوجائے۔
    ٤_ قرآن کہتا ہے : (وَوَہا بْنَا لَہُ ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا ہَدَیْنَا وَنُوحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وََیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَہَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ں وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَِلْیَاسَ کُلّ مِنْ الصَّالِحِینَ ں وَ ِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ ں وَمِنْ آبَائِہِمْ وَ ذُرِّیَّاتِہِمْ وَِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْنَاہُمْ وَہَدَیْنَاہُمْا ِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ں ذَلِکَ ہُدَی اللَّہِ یَہْدِی بِہِ منْ یَشَاء مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ َشْرَکُوا لَحَبِطَ عاَنْہُمْ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ں ُوْلَئِکَ الَّذِینَ آتَیْنَاہُمْ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَِانْ یَکْفُرْا بِہَا ہَؤُلاَئِ فَقَدْ وَکَّلْنَاا بِہَا قَوْمًا لَیْسُواا بِہَا بِکَافِرِینَ ں ُوْلَئِکَ الَّذِینَ ہَدَی اللَّہُ فَبِہُدَاہُمْ اقْتَدِہِ قُلْ لاََسَْلُکُمْ عَلَیْہِ َجْرًا ِنْ ہُوَا ِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِینَ) (79)
    ”اور ہم نے ابراہیم کو (بیٹا) اسحاق اور (پوتا) یعقوب دیئے اور ہر ایک راہ پر لگایا اور نوح کو تو ہم پہلے ہی راہ پر لگا چکے تھے اور ابراہیم (یا نوح) کی اولاد میں سے (ہم نے)داؤد، سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسی و ہارون کو راہ پر لگایا اور نیکی کرنے والوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں اور ذکریا اور یحییٰ (بن ذکریا)اور عیسیٰ (بن مریم بنت عمران) اور الیاس، تو یہ سب نیک بختوں میں سے تھے اور اسماعیل (بن ابراہیم) اور یسع اور یونس( بن متی) اور لوط (بن ہارون) کو اور ان سب کو ہم نے سارے جہاں پر بزرگی دی، اور ان کے بعض باپ، دادائوں ، اولاد اور بھائیوں کو بھی ،اور ہم نے ان کو چن لیا اور ان کو سیدھی راہ بتلائی، یہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں جس کو چاہے سوجھائے، اور اگر وہ لوگ شرک کرتے تو ان کا کیا کرایا (سب) اکارت ہوتا، انہیں لوگوں کو (پیغمبروں کو)ہم نے کتاب ،شریعت اور پیغمبری دی، اگر یہ لوگ ان چیزوں کو نہ مانیں تو(کچھ پرواہ نہیں) ہم نے ان پر(ایمان) لانے کے لئے ایسے لوگوں کو تیار کردیا ہے جو انکار نہیں کرتے، یہی (اٹھارہ) پیغمبر کہہ دیجئے کہ میں قرآن سنانے پر تم سے اجرت (مزدوری) نہیں مانگتا، قرآن تو اور کچھ نہیں سارے جہاں کے لئے نصیحت ہے۔ ”
    مذکورہ بالا آیات سے ہم کو معلوم ہوا کہ اللہ نے پوری تاریخ انسانی میںلوگوں کے لئے کسی نہ کسی قائد او رحاکم کا تعیین کرتا رہا ہے اور انہیں منصب قیادت ، حکومت اور نبوت سے بھی سرفراز کیا جاتا رہا اور یہ سلسلہ حضرت نوح سے لے کر آخری نبی محمد ۖ تک جاری رہا اور اللہ تعالیٰ کے قول ” ہَؤُلاَئِ اَلَّذِیْنَ الخ ” کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ اس نے انبیاء کرام ٪ کو پوری تاریخ انسانی کے لئے لوگوں کا قائد اور حاکم بنا کر بھیجا تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کے مابین عدل و انصاف کا قیام عمل میں آسکے ۔یہاں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ سلسلہ قیادت و امامت کی ایک زمانہ کے ساتھ مقید نہیں ہے بلکہ یہ پوری تاریخ انسانی میں جاری رہے گی۔
    دوسرا صیغہ:
    جس کے ضمن میں بعض وہ آیتیں ذکر کی جا ئیں گی جس میں حضرت ابراہیم کو ان کی اولاد کو آئمہ صالحین بنانے کی بشارت دی گئی ہے ۔اس حوالے سے بہت ساری مختلف آیات ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:
    ١_ (وَ اتْلُ عَلَیْہِمْ نَبََا ِبْرَاہِیمَ ں اِذْ قَالَ لَِبِیہِ وَ قَوْمِہِ مَا تَعْبُدُونَ ں قَالُوا نَعْبُدُ َصْنَامًا فَنَظَلُّ لَہَا عَاکِفِینَ ں قَالَ ہَلْ یَسْمَعُونَکُمْ ِذْ تَدْعُونَ ںَوْ اَنْفَعُونَکُمْ َوْ یَضُرُّونَ ں قَالُوا بَلْ وَجَدْنَاآبَائَنَا کَذَلِکَ یَفْعَلُونَ ں قَالَ َفَرََیْتُمْ مَاکُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ں اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ الَْقْدَمُونَ ں فَِنَّہُمْ عَدُوّ لِیا ِلاَّ رَبَّ الْعَالَمِینَ ں الَّذِی خَلَقَنِی فَہُوَ یَہْدِینِی ں وَالَّذِی ہُوَ یُطْعِمُنِی وَیَسْقِینِی ں وَِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِینِی ں وَالَّذِی یُمِیتُنِی ثُمَّ یُحْیِینِ ں وَالَّذِی َطْمَعُ اَنْ یَغْفِرَ لِی خَطِیئَتِی یَوْمَ الدِّینِ ں رَبِّ ہَبْ لِی حُکْمًا وََلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ) (١)
    ” (اے پیغمبر) ان لوگوں کو ابراہیم کا قصہ سنا دیجئے جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا: تم کس کی عبادت کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں، انہیں کے سامنے پڑے رہتے ہیں، تب ابراہیم نے پوچھا جب تم ان کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری سنتے ہیں (یا اگر تم ان کی عبادت کرو تو )وہ کچھ فائدہ پہنچاسکتے ہیں یا اگر نہ کرو تو کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں، کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادائوں کو یہی کرتے پایا۔ ابراہیم نے کہا تم کچھ سمجھے جس کو تم اور تمہارے اگلے باپ دادا پوجتے آئے ،وہ (سب) میرے مخالف (دشمن ہیں) یعنی میں ان کا دشمن ہوں مگر وہ جو سارے جہان کا مالک ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا۔ پھر وہی مجھ کو (دین اور دنیا کی) سمجھ دیتا ہے اور وہ مجھ کو کھلاتا اور پلاتا ہے، اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھ کو شفا عطا (تندرست) کرتا ہے، اور وہ مجھ کو (ایک دن) مارے گا پھر (حشر کے دن) زندہ کرے گا اور وہ جس سے مجھ کو یہ امید ہے کہ انصاف کے دن میرا قصور معاف کرے گا، اے میرے مالک مجھ کو سمجھ عنایت فرما (یا نبوت) اور نیک بندوں سے مجھ کو ملادے (آخرت میں ان کے ساتھ رکھ)۔”
    اس آیت میں حضرت ابراہیم کی اس دعا کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنے زمانہ شباب میں مانگی تھی ،اس وقت ان کے والد بھی بقید حیات تھے مگر بتوں کی عبادت کی وجہ سے ان کے درمیان شدید اختلاف رونما ہوگیا تھا۔ اور وہ اس وقت مقام بابل میں تھے اور وہیں انہوں نے یہ دعا مانگی کہ اللہ تعالیٰ ان کو حاکم و امام بنادے تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کو قائم کر سکیں اور ان کو اللہ کے عدل اور سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی کر سکیں یہ دعا ان کی دوسری دعا سے ملتی جلتی ہے جس میں انہوں نے نیک اولاد کی دعا کی تھی تاکہ نیک اولاد ان کے پیغام کو آنے والی تمام نسلوں تک پہنچاتی رہے، باری تعالیٰ کا ارشاد ہے :”اور آنے والے لوگوں میں ذکر خیر باقی رکھا” دوسری آیت میں آیا ہے ”میرے پروردگار مجھے نیک اور صالح اولاد عطا کر” ۔ان دونوں آیتوں میں مانگی جانے والی دعائیں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں ،اللہ نے اپنے اس قول سے حضرت ابراہیم کی دعا کی قبولیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
    قرآن میں دوسری جگہ آیا ہے :
    (وَ وَہا بْنَا لَہُ ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِی ذُرِّیَّتِہِ النُّبُوَّةَ وَالْکِتَابَ وَآتَیْنَاہُ َجْرَہُ فِی الدُّنْیَا وَِنَّہُ فِی الْآخِرَةِ لَمِنْ الصَّالِحِینَ) (8١)
    ”اور ہم نے وطن چھوڑنے کے بعد اس کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) دیا اور اس کی اولاد میں پیغمبری (اور اللہ تعالیٰ کی کتاب اترنا) قائم رکھا۔ اور ہم نے اس کو دنیا میں (اس کی نیکیوں کا ) بدلہ دیا اور آخرت میں تو وہ نیک بندوں میں ہی ہے۔ ”
    یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں اجر سے مراد امامت ہے اور دنیا میں اجر الٰہی کی تفسیر حکومت اور بادشاہت ہے جیسا کہ دوسری آیت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ،اللہ نے حضرت یوسف کے قصہ کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:
    (وَ کَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الَْرْضِ یَتَبَوَُّ مِنْہَا حَیْثُ یَشَاء نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا منْ نَشَائُ وَلاَ نُضِیعُ َجْرَ الْمُحْسِنِینَ) (82)
    ”اور ہم اسی طرح سے (مصر کے) ملک میں یوسف کو جمایا وہ جہاں چاہتا تھا اس ملک میں رہتا تھا ہم جس پر چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچاتے ہیں اور نیکوں کی محنت ہم برباد نہیں ہونے دیتے۔”
    امام خمینی نے اس آیت (رَبَّنَاآتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً)کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: نیکی اور بھلائی سے مراد امامت و قیادت اور بادشاہت ہے ۔اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہےعطا کرتا ہے پھر وہ اس کے ذریعے اللہ کے حکم کو زمین پر قائم کرتے ہیں اور اس کے عدل کو پھیلاتے ہیں اس حکومت کے ذریعے اللہ کی زمین کو شرک و ظلم سے پاک کرتے ہیں۔ باری تعالیٰ فرماتا ہے:
    ٢_ (وَ ِذْ ابْتَلَیا ِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فََ تَمَّہُنَّ قَالَ اِِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَیَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ) (83)
    ” اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اس نے باتوں کو پورا کیا ،پروردگار نے فرمایا بس تجھ کو لوگوں کا سردار بنائوں گا (قیامت تک لوگ تیری پیروی کریں) ابراہیم نے کہا اور میری اولاد کو فرمایا،جو ظالم (بے انصاف) لوگوں ہیں ان تک یہ اقرار نہیں پہنچے گا۔”
    مذکورہ بالا آیت میں بھی حضرت ابراہیم کی ایک دوسری دعا کا ذکر ہے چونکہ انبیاء کرام ان چیزوں کی دعائیں مانگتے ہیں جو اللہ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہوں اور جس کی انہیں مانگنے کی اجازت دی گئی ہو۔ چنانچہ حضرت ابراہیم کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ امامت کو اپنی اولاد میں جاری رکھنے کی دعا کریں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نہایت حکمت والا اور دعا قبول کرنے والا ہے اور نہایت ہی مہربان اور عطا کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اس دعا کو قبول کرلیا جسے انہوں نے اللہ کی اجازت سے مانگی تھی مگر اللہ نے اس دعا کو عدالت نامہ کے ساتھ مشروط کردیا کہ تمہاری ذریت میں وہ شخص منصب امامت کا مستحق ہوگا جو عدالت تامہ کا حامل ہو، اور اللہ کے اس قول (لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ) سے اس بات کی نفی کردی گئی کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں جو لوگ ظالم اور بے انصاف اور عدالت نامہ کے حامل نہ ہوں گے ان کو منصب امامت کا اہل قرار نہیں دیا جائے گا کیوں کہ حضرت ابراہیم کی دعا ان کی اولاد میں سے صرف نیک اور غیر ظالم لوگوں کے حق میں قبول ہو ئی ہے۔
    اگر کسی کو اس دعا کی قبولیت میں شبہ ہو اور وہ یہ سوال کرے کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ حقیقت میں ان کی دعا قبول ہو گئی اور اللہ نے امامت کو ان کی ذریت میں جاری کرنے کا فیصلہ کردیا ہے تو یہ کہا جا ئے گا کہ قرآن کی بعض دوسری آیتوں میں اس کا جواب مو جود ہے جس سے اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ اللہ نے منصب امامت کو حضرت ابراہیم کی اولاد میں ان کی دعا کے نتیجے میں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
    اللہ نے فرمایا:
    (وَنَجَّیْنَاہُ وَلُوطًا ِلَی الَْرْضِ الَّتِی بَارَکْنَا فِیہَا لِلْعَالَمِینَ ں وَوَہا بْنَا لَہُ ِسْحَاقَ وَ یَعْقُوبَ نَافِلَةً وَکُلًّا جَعَلْنَا صَالِحِینَ ں وَجَعَلْنَاہُمْ َئِمَّةً یَہْدُونَ بَِمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَا ِلَیہِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَِیتَائَ الزَّکَاةِ وَکَانُوا لَنَا عَابِدِینَ)
    ”اور ہم نے ابراہیم(اور ان کے بھتیجے)لوط کو نجات دے کر اس سرزمین میں پہنچایا جس میں ہم نے سارے جہاں کے لئے برکت رکھی ہے اور ہم نے ابراہیم کو (ان کی دعا پر)اسحاق دیا(بیٹا)اور یعقوب دیا(پوتا)اور سب کو نیک بخت کیا،اور ہم نے ان (چاروں)کو پیشوا بنایا،وہ ہمارے حکم سے(لوگوں کو) ہدایت کرتے تھے اور ہم نے ان کو نیک کام کرنے اور نماز درستی سے ادا کرنے اور زکوٰة دینے کی دعا کے نتیجے میں امام بنایا۔”
    اور یہ بخشش یعنی نیک ذریت کو امام بنایا کہ (میری ذریت)اس دعا کی قبولیت کی تائید اس آیت سے بھی ہو تی ہے۔
    (وَجَعَلْنَاھُمْ أَئِمَةً یَھْدُونَ بِأَمْرِنَا وَ أَوْھَیْنَا ِلَیھِمْ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَاِقَامَ الصَّلاةٍ وَ اِیْتَائَ الزَّکَاةِ وَکَانُوا لَنَا)
    ”اور ہم نے ان کو ہمارے حکم پہنچانے کے لئے امام بنایا……..”
    ٣_ نیز اس آیت سے بھی:
    (َامْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمْ اﷲُ مِنْ فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْنَا آلَ ا ِبْرَاہِیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْنَاہُمْ مُلْکًا عَظِیمًا) (84)
    ”جو اللہ نے اپنے فضل سے لوگوں کو دیا اس پر چلتے ہیں(تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے)ہم نے ابراہیم کی اولاد (داؤد اور سلیمان)کو کتاب اور پیغمبری دی تھی اور ہم نے ان کو بڑی سلطنت بھی دی تھی۔”
    اس میں بھی یہ صراحت موجود ہے کہ اللہ نے ابراہیم کی دعا قبول کرلی اور ان کی اولاد کو بڑی سلطنت یعنی امامت و نبوت سے سرفراز کیا جو کتاب و حکمت سے الگ چیز ہے،جسے اللہ نے اس آیت میں ”فضل”کے لفظ سے ذکر کیا ہے قرآن میں دوسری جگہ مزکور ہے۔
    ٤_ (ِانَّ اﷲَ اصْطَفَی آدَمَ وَ نُوحًا وَآلَا ِبْرَاہِیمَ وَ آلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعَالَمِینَ ذُرِّیَّةً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ وَاﷲُ سَمِیع عَلِیم) (85)
    ”بے شک اللہ نے سارے جہان کے لوگوں میں آدم اور نوح کو اور ابراہیم اور عمران کی اولاد کو چن لیا ہے ایک خاندان دوسرے خاندان کی نسل لے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔”
    اس آیت میں اصطفائے الٰہی کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں:
    اول_ اصطفائے فردی:
    اس سے مراد حضرت آدم اور نوح کا انتخاب ہے ۔
    دوم_ اصطفائے عائلی اور خاندانی :
    یعنی پورے کنبہ اور خاندان کا انتخاب، اس کے مصداق آل ابراہیم اور آل عمران ہیں اس آیت میں خاص کا عام پر عطف ہے، جس سے اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ آل عمران ابراہیم کی نسل سے ہیں انتخاب خاندانی بھی دو مرحلوں میں منقسم ہے۔
    ١_ ابراہیم کی اولاد کا انتخاب۔
    ٢_ ابراہیم کی تمام اولاد میں سے عمران کی اولاد کا انتخاب ۔
    اگلی آیت کا تعلق آل عمران کے انتخاب سے ہے:
    اگلی آیت کا تعلق آل عمران کے انتخاب سے ہے،ارشاد خداوندی ہے:
    (ِاِذْ قَالَتْ امْرََةُ عِمْرَانَ رَبِّ اِِنِّی نَذَرْتُ لَکَ مَا فِی بَطْنِی مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ ماِِنِّی انَّکَ اَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ)
    ”(اے پیغمبر وہ وقت یاد کرو )جب عمران کی بیوی (حسنہ بنت فاقوذام) نے پروردگار سے عرض کیا میرے مالک جو بچہ میرے پیٹ میں ہے میں نے اس کو آزاد کر کے تیرے لئے نذر کردیا، اب میری یہ نذر قبول کر، بے شک تو سنتا جانتا ہے۔”
    دوسری آیت :
    (اِذْ قَالَتْ الْمَلاَئِکَةُ یَامَرْیَمُ انَّ اﷲَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَةٍ مِنْہُ اسْمُہُ الْمَسِیحُ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیہًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَمِنْ الْمُقَرَّبِینَ) (86)
    ”جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تجھ کو اپنے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے اس کا نام مسیح عیسی ابن مریم ہوگا دنیا و آخرت میں بڑے مرتبے والا اور مقرب بندوں میں سے ہے۔ ”
    مذکورہ بالا اس آیتوں سے عمران کی اولاد کے انتخاب کی تائید ہوتی ہے۔
    ان آیتوں سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک انتخاب کا تحقق دوسرے کے ضمن میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بعض آل ابراہیم یعنی آل عمران کا انتخاب تمام آل ابراہیم سے ہے جب ان آیتوں کو اس آیت سے ملا کر دیکھا جائے جس میں حضرت ابراہیم نے اپنی ذریت میں امامت کو جاری کرنے کی دعا کی تھی تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ حضرت ابراہیم کی دعا قبول کر لی مگر اسے صلاحیت ولیاقت سے مشروط کردیا گیا۔
    یہ بات بھی پیش نظررہنی چاہیے کہ منصب امامت انہیں نسل یا خاندان کی ہی بنیاد پر نہیں عطا کی گئی ہے بلکہ ان کے اندر وہ تمام تر صفات اور قابلیتیں بدرجہ اتم موجود تھیں جو اصطفائے الٰہی کیلئے مطلوب اور ضروری ہیں۔ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے غیر ظالمین، اہل عدل و انصاف اور معصوم لوگوں کو اصطفاء کی تمام تر صلاحیت اور لیاقت کے حامل ہونے کی بنا پر ہی اس عہد الٰہی سے سرفراز کیا جائے گا، آل عمران میں بھی چوں کہ یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں اسی لئے ان کو اس عہد الٰہی کا مستحق قرار دیا گیا ،اسی طرح محمدۖکی اولاد کو بھی اس اصطفاء خاص کی قابلیت کی بنیاد پر منصب عطا کیا گیا۔ ارشادخداوندی ہے۔
    (اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْہِبَ عنْکُمْ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا) (87)
    ”(پیغمبرکے) گھر والو اللہ تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح) کی گندگی (ناپاکی) دور کرے اور تم کو خوب صاف ستھرا پاک صاف بنادے۔”
    انتخاب خاندانی کی بنیاد بھی یہی صلاحیت و استعداد ہے نہ کہ محض نسبی تعلق، قرآن کی یہ آیت اسی کی تائید کرتی ہے (ذُرِّیَّةً بَعْضُہَا مِنْ بَعْضٍ)اس آیت میں بعضیت کا تعلق نسب سے نہیں ہے بلکہ رسالت سے ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس منصب کیلئے منتخب کیا جائے گا جو اعلیٰ صلاحیتوں و قابلیت کے مالک ہوں جس کے حامل اس خاندان کے مورث و پیشوا تھے۔ اگلی آیت سے بھی اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ اس بعضیت کا تعلق رسالت سے ہے نہ کہ نسب سے۔ اللہ نے نوح سے فرمایا: جب انہوں نے خدائے تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔
    (وَنَادَی نُوح رَبَّہُ فَقَالَ رَبِّ انَّ ابْنِی مِنْ اَہْلِی وَِانَّ وَعْدَکَ الْاحَقُّ وَاَنْتَ ا َحْکَمُ الْحَاکِمِینَ) (88)
    ”اور نوح نے اپنے رب کو پکارا اور کہا مالک (آخر) میرا بیٹا میرے گھر ہی والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں میں سے بڑا حاکم ہے۔”
    اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جس فرد کا تعلق خاندان نبوی کے پیشوا سے روحانی ہوگا صرف وہی ولایت کا اہل ہوگا یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص جس کا نسلی تعلق نبی سے ہو وہ قیادت کا اہل بھی ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ نبی کی جس اولاد کو اس کیلئے منتخب کیا جاتا ہے وہ اس نبی کی شخصیت کا عکس
    اور پرتو ہوتا ہے۔ جس کی پوری شخصیت اطاعت خداوندی کے قالب میں ڈھل جاتی ہے۔ قرآن میں اس کیفیت کو لفظ ”اسلام” سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی خدا کے آگے خود کو پوری طرح خاضع کرنا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کی نظر میں اسلام ایک عہد و اقرار تھا جس کو ابراہیم کی اولاد نسلاً بعد نسل ایک دوسرے کو منتقل کرتی رہی۔قرآن کہتا ہے:
    (وَمنْ یَرْغَبُ عنْ مِلَّةِا ِبْرَاہِیمَا ِلاَّ منْ سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدْاصْطَفَیْنَاہُ فِی الدُّنْیَا وَانَّہُ فِی الْآخِرَةِ لَمِنْ الصَّالِحِینَ ں اِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ ا َسْلِمْ قَالَ َسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ں وَ وَصَّی بِہَا بْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَابَنِیَّاانَّ اﷲَ اصْطَفَی لَکُمْ الدِّینَ فَلاَ تَمُوتُنَّا ِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ںام کُنتُمْ شُہَدَائَ ِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ اِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ ِلَہَکَ وَ ِلَہَ آبَائِکَا ِبْرَاہِیمَ وَِسْمَاعِیلَ وَِسْحَاقَ ِلَہًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ) (89)
    ”اور ابراہیم کے طریقے سے وہی نفرت کرے گا جو احمق ہوگا اور ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا (اس کو پیغمبری عنایت کی)اور آخرت میں وہ نیک ہے، جب پروردگار نے اس سے فرمایا اسلام پر مضبوط ہوجائو تو کہنے لگا اللہ کا تابعدار بن گیا جو سارے جہاں کا مالک ہے اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں(اسماعیل و اسحق) کو اور یعقوب نے بھی (اپنے بارہ بیٹوں کو) اسی دین کی وصیت کی، بیٹا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ دین(یعنی اسلام) پسند کیا ہے تو (مرتے وقت) مسلمان ہی مرنا، بھلا یہودیوں کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب مرنے لگے جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے کہا ہم تیرے اور تیرے باپ دادائوں ،ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے خدا کی عبادت کریںگے۔ ایک ہی خدا ہے اور ہم اس کے فرمانبردار ہیں۔”
    مذکورہ بالا آیات سے ہمیں اس بات کا علم حاصل ہوتا ہے کہ امامت ربانی کا قیام انتخاب الٰہی پر موقوف ہے اور امامت و قیادت کا یہ سلسلہ مختلف زمانوں میں صرف حضرت ابراہیم کی نسل میں جاری رہا ہے۔جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے (وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ) میرے نسل و خاندان سے (آئمہ قرار دے) خدا نے فرمایا میرا عہد (مقام امامت) ظالموں کو نہیں پہنچتا۔ اسی طرح دوسری جگہ (ِانَّ اﷲَ اصْطَفَی ….. وَآلَا ِبْرَاہِیمَ …..) دوسری آیت (وَآتَیْنَاہُمْ مُلْکًا عَظِیمًا)۔جن کی آخری کڑی حضرت محمدۖ کی اولاد ہیں۔اس سے متعلق مزید بحث ہم آئندہ کریں گے۔
    ٥_ قرآن میں ہے :
    (َامْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمْ اﷲُ مِنْ فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْنَا آلَ ا ِبْرَاہِیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْنَاہُمْ مُلْکًا عَظِیمًا) (90)
    آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو نبوت کے ساتھ ”ملک عظیم” سے بھی نوازا تھا جس سے مراد حکومت و اقتدار ہے۔ یہاں اس آیت سے متعلق یہ سوال اٹھتا ہے کہ ”محسودین”سے کون لوگ مراد ہیں جس سے متعلق قرآن کہتا ہے کہ انھیں دوسروں کے معاملے میں اضافی فضیلت دی گئی ہے۔سیاق و سباق سے پتہ چلتا ہے کہ ”محسودین”سے مراد کچھ مخصوص مومنین ہیں جو زمانہ نبوت میں اللہ کے رسول کی معیت میں رہتے تھے اور جن کا تعلق ابراہیم کی
    نسل سے ہے۔اس لئے کہ مفسرین نے اس ”فضل”کی تفسیر جسے اللہ نے ان مومنین ”محسودین” کو عطا کیا ہے کتاب’حکمت اور ملک عظیم سے کی ہے ان تمام صفات سے اللہ نے اولاد ابراہیم کو سرفراز فرمایا ہے۔
    اس آیت اور بعض دوسری آیتوں کے مفہوم سے پتہ چلتا ہیے کہ محسودین کے مصداق آل محمدۖ ہیں اور اصول کافی (9١)میں جو روایت امام محمد بن علی باقر کی سند سے منقول ہے اس سے اس کی توثیق ہوجاتی کہ محسودین آل محمد کے آئمہ ہیں۔انھوں نے (َمْ لَہُمْ نَصِیب مِنْ الْمُلْکِ) میں”ملک”کی تفسیر امامت و خلافت سے کی ہے اور (َمْ یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمْ اﷲُ) کی تفسیر کرتے ہو ئے کہا کہ اس میں محسودین سے مراد ہم ہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے امامت کے فضل سے نواز ہے نہ کہ دیگر لوگ۔
    مذکورہ آیت کے شان و نزول سے اس بات کا علم ہو تا ہے کہ اس وقت لوگوں کی ایک جما عت ایسی بھی تھی جو اس وقت محسودین کے مصداق مومنین یعنی آل محمد سے حسد اور بغض و عداوت رکھتی تھی جبکہ یہ لوگ پہلے ہی اس بات کا اقرار کرچکے تھے کہ اللہ نے اس فضل یعنی منصب امامت و نبوت کو حضرت ابراہیم کی ذریت و اولاد کے ساتھ مختص کردیا ہے اور آل محمد انہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں تو انہیں اب کیا ہو گیا ہے کہ اس فضل کو (یعنی منصب امامت ،نبوت)کو آل محمدۖکے لئے ماننے سے انکار کرتے ہیں اور ان سے حسد بھی رکھتے ہیں۔
    پھر یہ کہ قرآن کریم کی تصریحات سے یہ بات پورے طور پر عیاں ہو جاتی ہے کہ منصب امامت و قیادت حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے صرف بعض لوگوں کو ان کی ربانی قدرت و صلاحیت کی بنیاد پر دی گئی ہے جو اس منصب کے استحقاق کے لئے شرط تھی۔اسی طرح قرآن کی آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ امامت کو ابراہیم کی بعض اولاد سے سلب کرکے ان کی دوسری اولاد کو دی جاسکتی ہے۔جب پہلی جماعت اس کا استحقاق کھودے۔قرآنی آیات میں عموم کے صیغے میں بعض اوقات اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جیسے(تُؤْتِی الْمُلْکَ منْ تَشَائُ وَتاَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمنْ تَشَائُ)وہ جسے چاہتا ہے بادشاہ بنادیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اس سے بادشاہت چھین لیتا ہے۔
    دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
    (ُوْلَئِکَ الَّذِینَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْہِمْ مِنْ النَّبِیِّینَ مِنْ ذُرِّیَّةِ آدَمَ وَمِمنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَ مِنْ ذُرِّیَّةِا ِبْرَاہِیمَ وَ ِسْرَائِیلَ وَ مِمنْ ہَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا ِذَا تُتْلَی عَلَیْہِمْ آیَاتُ الرَّحْمَانِ خَرُّوا سُجَّدًا وَ بُکِیًّا ں فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خَلْف َضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ) (92)
    ” یہ (پیغمبر) وہ لوگ ہیںجن پر اللہ تعالیٰ نے فضل کی آدم کی اولا دمیں سے اور ان لوگوں کی (اولاد) میں سے جن کو ہم نے نوح کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے ہدایت کی (سچی راہ بتلائی) اور ان کو ساری خلقت میں سے پیغمبری کیلئے چن لیا جب ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو سجدے میں گرپڑتے اور روتے جاتے ، پھر ان کے بعد ایسے نالائق پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو گنوا دیا اور دنیا کے مزے میں لگ گئے۔”
    ایک اورآیت میں کہا گیا
    (فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیثَاقَہُمْ وَکُفْرِہِمْ بِآیَاتِ اﷲِ وَقَتْلِہِمْ الْاَنْبِیَائَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَقَوْلِہِمْ قُلُوبُنَا غُلْف) (93)
    ”تو انہوں نے اپنا اقرار توڑا ،اور اللہ کی آیتوں کا انکار کیا اور پیغمبروں کو ناحق قتل کیا اور کہنے لگے ہمارے دل پر غلاف چرھے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ نے کفر کی وجہ سے ان پر مہر لگادی ،وہ ایمان لائیں گے مگر تھوڑے۔ ”
    قرآن کی ان آیات میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ وہ امامت و فضیلت جس سے اللہ نے حضرت ابراہیم کے بیٹوں اسحق و یعقوب کی ذریت کو سر فراز کیا تھا،جب ان ہی میں سے کچھ لوگوں نے ضلالت و گمراہی اور کفر و ظلم کا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے ان سے یہ نعمت چھین لی۔ اور وہ لوگ نعمت الٰہی کے بجائے لعنت الٰہی کے مستحق ہوگئے، جس کو اللہ نے اپنے قول میں ذکر کیا ہے۔(فَبِمَا نَقْضِہِمْ مِیثَاقَہُمْ لَعنّاہُمْ)اور (ضُرِبَتْ عَلَیْہِمْ الذِّلَّةُ وَالْمَسْکَنَةُ وَبَائُوا بِغَضَبٍ مِنْ اﷲِ)
    ان آیات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ حضرت ابراہیم کے بیٹے اسحق ـ کی ذریت کو امامت سے محروم رکھا گیا اور ابراہیم کے دوسرے بیٹے اسماعیل کی طاہر و پاکباز معصوم و مطیع اولاد سے یعنی آل محمد ۖ میں امامت کا سلسلہ جاری رہا۔
    ایک اور آیت میں فرمان باری ہے ۔
    (ِانَّ َوْلَی النَّاسِ بِِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ وَہَذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِینَ آمَنُوا وَ اﷲُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِینَ) (94)
    ” سب لوگوں میں ابراہیم سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی اور وہ نبی اور ایمان لانے والے ہیں۔”
    اس آیت سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم کی بعض ذریت کو امامت الٰہیہ کا مستحق محض ان کی ربانی لیاقت و صلاحیت کی بنیاد پر قرار دیا گیا، اور اس ربانی لیاقت و صلاحیت کے اعتبار سے حضرت ابراہیم سے قریب ترین اور ان کی شخصیت ربانی میں سب سے زیادہ مشابہ نبی اور ان پر ایمان لانے والے لوگ ہیں کیوں کہ قرآن میں (الذین امنوا) کا لفظ آیا ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایمان والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں اس وجہ سے انہیںبقیہ تمام مسلمانوں کا امام بنا دیا گیا ۔اور اللہ نے ان مخصوص مومنین کو رسول کے بعد باقی دیگر تمام مسلمانوں اور ایمان والوں کی قیادت و امامت کے لئے منتخب کر لیا اور اپنی کتاب میں ان کے اوصاف و کمالات کو بیان کر کے اس کی وضاحت و تعین کردی چنانچہ اب ان کی حیثیت ایک مکمل رہنما ء قائد مطاع (وہ قائد جس کی مکمل اطاعت کی جائے)کی ہوگئی ،اس بات کو اللہ نے سورئہ مائدہ کی آیت نمبر ٥٥ (اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَرَسُولُہُ…..) اور سورہ توبہ کی آیت نمبر ١٦ (َمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَکُوا وَلَمَّا …..)میں بیان کیا ہے۔
    تیسرا صیغہ: اس ضمن میں بعض ایسی آیتیں ہیں جن میں اشارہ و کنایہ کے اسلوب کےذریعے اس بات کی وضاحت کر دی گئی کہ منصب امامت کے اہل اور مستحق اہل بیت رسول٪ اس میں سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ اگر منصب امامت کے لئے کسی فرد معین کا نام صراحتاً ذکرکر دیا جاتا تو اس بات کا امکان تھا کہ کوئی بادشاہت و سلطنت اور امامت کا خواہشمند اور حریص انسان قرآن میں تحریف کرنے کی ناکام کوشش کرتا جس سے قرآن کی حفاظت ممکن نہ ہوتی اور اس کی نقاہت مخدوش ہوجاتی، اس لئے حکمت الٰہیہ کا یہی تقاضا تھا کہ ایسا اسلوب اختیار کیا جائے جس سے قرآن کی حفاظت پر آنچ نہ آئے کیوں کہ اللہ نے بالذات قرآن کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے اور اگر یہ اسلوب نہ اختیار کیا جاتا تو مسلمانوں میں انتشار و خلفشار پیدا ہوجاتا۔ کیوں کہ اس طرح کے واقعات خود رسول کریم کی ان احادیث کے ساتھ پیش آچکے ہیں جن میں یہ بات صراحتاً مذکور ہے کہ منصب امامت کے حق دار صرف اہل بیت ہیں، ان کے ناموں کی وضاحت بھی کر دی گئی تھی۔ جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا کہ ان کے دشمنوں اور مخالفین کے اندر نا راضگی کی آگ بھڑک اٹھی اور انہوں نے ایسی حدیثوں کی کتابت سے انکار کردیا جیساکہ ابو دائو اور دارمی نے اپنی سنن اور احمد ابن حنبل نے اپنی مسند میں عبد اللہ بن عمر بن عاص سے ایک روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا : میں جوکچھ بھی اللہ کے رسول سے سنتا تھا لکھ لیا کرتا تھا تو قریش نے مجھے منع کیا اور کہا جو کچھ بھی تم اللہ کے رسول سے سنتے ہو لکھ لیتے ہو جبکہ رسول اللہ بھی ایک انسان ہیں کبھی ان پر غصہ کی حالت ہوتی ہے اور کبھی رضامندی اور خوشی کی تو میں لکھنے سے رک گیا۔ اس کے بعد میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ ۖکے سامنے کیا تو انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: لکھ لو، خدا کی قسم جو کچھ بھی نکلتا ہے حق ہے (95) بخاری اور مسلم نے بھی ایک روایت نقل کی ہے جب نبی ۖ کی وفات کا وقت قریب آیا اس وقت گھرمیں بشمول عمر بہت سے لوگ موجود تھے آپۖ نے فرمایا : لائوتمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں اس کے بعد تم لوگ ہرگز گمراہی کا شکار نہ ہوں گے۔ عمر نے کہا نبی ۖ پر درد و تکلیف کا غلبہ اور تمہارے پاس کتاب اللہ موجود ہے اور کتاب اللہ ہماری رہنمائی کیلئے کافی ہے ۔اس بات میں اہل بیت کے اندر بھی اختلاف پیدا ہوگیا چنانچہ بعض لوگ عمر کے مؤید ہوئے اور بعض لوگ مخالف۔ جب اختلاف زیادہ بڑھ گیا تو آپۖ نے فرمایا میرے پاس سے دور ہوجائو۔ میرے پاس جھگڑنا مناسب نہیں ہے۔(96) ذہبی نے تذکرة الحفاظ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی ۖ کی وفات کے بعد ابوبکر نے لوگوں کو جمع کیا کہ تم لوگ رسول اللہۖسے حدیثیں نقل کر رہے ہو اور اس میں اختلاف بھی کر رہے ہو ،لوگ تمہارے بعد زیادہ اختلاف میں پڑ جائیں گے تم رسول اللہۖسے کوئی بھی بات بیان مت کرو۔ جب کوئی تم سے سوال کرے تو کہو کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ ہے۔ اس کی حلال کی ہوئی چیز کو حلال سمجھو اور حرام کی ہوئی چیز کو حرام،(97)اسی طرح حضرت عمر اور عثمان نے بھی اپنے اپنے عہد خلافت میں کہا ۔(98)اور جب بنو امیہ نے عہد خلافت سنبھالا تو بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ رسول اللہ کی طرف موضوع احادیث کا چلن عام ہوگیا۔ بنو امیہ کے لوگوں نے اہل بیت کی دھڑ پکڑ کی اور ان کی اولادوں کو تہہ تیغ اور خانماں برباد کردیا ،کربلا کا واقد(طف)اس پر شاہد ہے جبکہ رسول اللہ کو دنیا سے رخصت ہوئے
    ابھی نصف صدی بھی نہیں گزری تھی انہیں باتوںکے پیش نظر اللہ نے حکمت سے کام لیتے ہوئے وصف و اشارہ کے اسلوب کو اختیار کیا اور اہل بیت میں سے کسی کا نام صراحتاً ذکر نہیں کیا تاکہ قرآن کی حفاظت اللہ کے وعدے کے مطابق تا قیامت ہوتی رہے۔ ذیل میں قرآن کی بعض آیات پیش کی جارہی ہیں جن سے امامت کا ثبوت ملتا ہے۔
    ١_ آیت ولایت
    خدا تعالیٰ فرماتا ہے :
    (اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ) (99)
    ” تمہارے دوست تو اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے ہیں جو درستی سے نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جھکے رہتے ہیں۔”
    امام ثعلبی نے اس آیت کی تفسیر میں ابوذر غفاری کی سند سے ایک روایت نقل کی ہے، ابوذر غفاری نے کہا: ایک روز میں نے رسول اللہۖ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ،وہاں مسجد میں ایک فقیر نے دست سوال دراز کیا، لیکن کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ چنانچہ اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا: اے اللہ تو گواہ رہنا میں نے نبیۖکی مسجد میں دست سوال دراز کیا اور مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا، حضرت علی اس وقت نماز میں مشغول تھے اور رکوع کی حالت میں تھے، انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اس کی طرف بڑھا دی ،جس میں انگوٹھی تھی، سائل نے آگے بڑھ کر وہ انگوٹھی انگلی سے نکال لی، یہ سب کچھ رسول اللہۖ کی نظروں کے سامنے ہورہا تھا، کیوں کہ اس وقت آپۖ بھی مسجد میں موجود تھے ،پھر رسول اللہ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور کہا: اے اللہ میرے بھائی موسیٰ نے تجھ سے سوال کر کے کہا تھا:
    (قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی ں وَیَسِّرْ لِیامرِی ں وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی ں یَفْقَہُوا قَوْلِی ں وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ َہْلِی ں ہَارُونَ َخِی ں اشْدُدْ بِہِ َزْرِی)
    ”عرض کیا خداوندا (میں ماننے کو تیار ہوں)میرا سینہ کھول دے اور میرا کام (پیغمبری کا حق ادا کرنا) مجھ پر آسان کردے۔ میری زبان میں جو گرہ ہے وہ کھول دے (تاکہ) وہ میری بات سمجھیں اور میرے گھر میں سے ایک کو میرا وزیر بنادے ہارون کو جو میرا بھائی ہے اس سے مریی پیٹھ مضبوط کردے۔”
    تو توُ نے اس پر یہ نازل کیا:
    ((سنشدعضدک بأخیک و نجعل لکما سلطاناً فلا یصلون الیکما))
    اے اللہ میں محمد، آپ کا نبی اور صفی(خالص دوست) ہوں، میرا سینہ کھول دے اور میرے لئے میرا کام آسان کردے اور میرے اہل خاندان میں سے علی کو میرا وزیر بنادے اور اس کے ذریعے سے میری پیٹھ مضبوط کردے ،ابو ذر نے کہا کہ ابھی ان کی دعا پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ حضرت جبرئیل اللہ کے پاس سے آئے اور کہا اے محمد پڑھئے (اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَ رَسُولُہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَ یُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ) (١)اس بات پر اکثر مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت حضرت علی کے بارے میں نازل ہوئی جس میں مطلق کوئی پوشیدگی نہیں ہے۔اس آیت کے معنی امامت کے سلسلے میں واضح اور صریح ہیں،اس آیت کے مفہوم سے ولایت و سلطنت کے علاوہ دیگر تمام معانی کا احتمال ختم ہوجاتا ہے ،اور ولایت کے اس معنی کو اﷲ اس کے رسول اور حضرت علی کے ساتھ مختص تصور کیا جا سکتا ہے۔
    ٢_ آیت تطہیر
    اس آیت میں امامت اہل بیت کی صراحت موجود ہے۔آیت کے نزول کے وقت جو لوگ زندہ موجود تھے وہ حضرت علی، حسن اور حسینتھے۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:
    (اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْہِبَ عاَنْکُمْ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا) (١01)
    ”(پیغمبر کے) گھر والو!اﷲ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) گندگی (ناپاکی) دور کرے اور تم کو خوب ستھرا و پاک صاف بنادے۔”
    یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت سے ہر طرح کی نجاست و گندگی اور ناپاکی دور کر دی گئی۔”رجس” کے معنی گندگی اور گناہ کے ہیں خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ۔ایسی گندگی و ناپاکی جس سے بچنا ضروری ہو اسے لغت میں”رجس” کہتے ہیں۔ابن منظور نے کہا کہ رجس گندگی کو کہتے ہیںاور قرآن میں جس گندگی کے معنی میں وارد ہوا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
    (اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالَْنصَابُ وَالَْزْلاَمُ رِجْس مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ)(10٢)
    ”شراب، قمار بازی، بت اور ازلام(ایک قسم کی لاٹری) پلید ہیں یہ شیطانی کام ہیں اس لئے اس سے بچتے رہو۔”
    دوسری جگہ مذکور ہے:
    (وََمَّا الَّذِینَ فِی قُلُوبِہِمْ مَرَض فَزَادَتْہُمْ رِجْسًا ِلَی رِجْسِہِمْ) (١03)
    ”جن لوگوں کے دل میں (نفاق و کفر) کی بیماری ہے ان کی گندگی پر اور گندگی بڑھا دی گئی۔”
    ایک اور جگہ خدا تعالیٰ کا فرمان ہے۔
    (ِلاَّ اَنْ یَکُونَ مَیْتَةً َوْ دَمًا مَسْفُوحًا َوْ لَحْمَ خِنزِیرٍ فَِنَّہُ رِجْس) (104)
    ”مگر یہ کہ مردار یا بہتا خون یا سور کا گوشت وہ نجس ہے۔”
    اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ”رجس” کا اصل معنی معصیت سے بچنا ہے خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی اور یہیں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل بیت کو ان تمام صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔
    اس بات پر تقریباً پوری امت اسلامیہ کا اتفاق ہے اور متواتر صحیح حدیثوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت رسول اﷲۖ، فاطمہ،علی،حسن اور حسین کے بارے میں نازل ہوئی،مسلم اور ترمذی نے بھی اہل بیت نبی کے فضائل کے باب میں ذکر کیاہے کہ اس کا تعلق اہل بیت سے ہے نہ کہ ازواج نبی ۖ سے،جیسا کہ ام سلمہ سے منقول ایک صحیح متواتر حدیث میں آیا ہے کہ یہ آیت (اِنَّمَا یُرِیدُ اﷲُ لِیُذْہِبَ عاَنْکُمْ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَیُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیرًا) میرے گھر میں نازل ہوئی اور اس وقت گھر میں یہ سات افراد، جبرائیل،میکائیل،محمد،علی،فاطمہ،حسن اور حسین موجود تھے اور میں گھر کے دروازہ پر تھی،تو میں نے عرض کی،یا رسول اﷲ! کیا میں اہل بیت
    میں سے نہیں ہوں۔ آپۖ نے فرمایا:تم میرے نزدیک سب سے اچھی اور نیک ہو اور تم نبی کی بیویوں میں سے ہو۔
    اس آیت سے امامت اہل بیت پر دلالت اس طرح قائم ہوتی ہے کہ قرآن کی ایک دوسری آیت(لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ) میں امام کیلئے عصمت کی شرط لگائی گئی ہے اور عصمت کو اﷲ کے ذریعہ جانا اور سمجھا جا سکتا ہے۔چنانچہ یہ آیت اہل بیت کی عصمت پر دلالت کرتی ہے تو اس طرح وہ ان کی امامت کیلئے بھی دلیل بن جاتی ہے۔یہ تفصیلات اور دلائل اس کے علاوہ ہیں جو ہم اس سے قبل آیت(َطِیعُوااﷲَ وََطِیعُواالرَّسُولَ وَُوْلِی الَْمْرِ مِنْکُمْ) (105)کے ذیل میں بیان کر چکے ہیں۔
    اس آیت میں اطاعت رسول اور اطاعت اولوالامر کو بیان کرنے کیلئے امر کا ایک ہی صیغہ مذکور ہے اور اﷲ کی اطاعت کیلئے امر کا دوسرا صیغہ استعمال کیا گیا،کیونکہ اس کی اطاعت کو مستقل امر کا درجہ حاصل ہے اوراطاعت رسول اور اولوالامر کی اطاعت کیلئے ایک ہی صیغہ لا کر بتانا مقصود ہے کہ رسول اور اولوالامر کی اطاعت نفس وجوب میں یکساں ہے اور رسول اﷲ کی اطاعت مطلقاً واجب ہے جس کی کوئی حد نہیں۔جیسا کہ قرآن کی اس آیت سے مترشح ہے۔
    (وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عاَنْہُ فَانْتَہُوا) (106)
    ”مسلمانوں! جو بات (یا حکم) پیغمبرۖ تم کو دیں تو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔”
    (فَلْیَحْذَرْ الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عاَنْامرِہِ اَنْ تُصِیبَہُمْ فِتْنَة َوْ یُصِیبَہُمْ عَذَاب َلِیم)(١07)
    ”پھر جو لوگ پیغمبر کا حکم نہیں مانتے ان کو ڈرنا چاہیے (دنیا میں) ان پر کوئی مصیبت نہ آن پڑے یا(آخرت میں) کوئی تکلیف کا عذاب ان کو نہ پہنچے۔”
    (منْ یُطِعْ الرَّسُولَ فَقَدْ َطَاعَ اﷲَ) (108)
    ”جو رسول کا کہا مانے اس نے اللہ کا کہا مانا۔ ”
    اس طرح کی دوسری آیات بھی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ رسول کی ہر بات وحی کے ہی حکم میں ہوتی ہے جس کو بجالانا تمام مومنین کیلئے ضروری ہے۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے :
    (وَمَا یاَنْطِقُ عاَنْ الْہَوَی ں ِنْ ہُوَا ِلاَّ وَحْی یُوحَی) (109)
    ” اور(رسولۖ) جو کچھ بھی بات کہتا ہے اپنی خواہش سے نہیں کہتا بلکہ وہ وحی ہوتی ہے جو اس پر بھیجی جاتی ہے۔”
    اس آیت سے یہ علم حاصل ہوا کہ ہر چھوٹے بڑے امر میں رسول کی اطاعت واجب ہے اور اس طرح کا وجوب محض گناہ سے منزہ (پاک) شخص کے لئے ہی ہوسکتا ہے ۔اس وجوب کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان (َطِیعُوا الرَّسُولَ وَُوْلِی الَْمْرِ مِنْکُمْ)اولوالامر کے معصوم ہونے اور انہیں ہر طرح کے گناہ و گندگی و ناپاکی سے پاک کردیئے جانے پر دلالت کرتا ہے ۔جس کا صاف طور سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ اولو الامر سے مراد اہل بیت رسول ہیں۔ کیوں کہ آیت تطہیر ان ہی لوگوں کی عصمت و ناپاکی و گندگی سے پاک ہونے کی دلیل ہے۔ لہٰذا ان کی اطاعت واجب اور ان کی مخالفت ممنوع۔
    ٣_ آیت قربیٰ
    ان آیات میں بھی رسول کے بعد اہل بیت کی امامت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:
    (قُلْ لاَ َسَْلُکُمْ عَلَیْہِ َجْرًا ِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی) (١10)
    ”(اے رسول) تم کہہ دو میں تم سے رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا سوائے ا پنے اقرباء کی دوستی کے۔”
    اس آیت کریمہ سے یہ بات واجب ہوجاتی ہے کہ رسول اکرم کے اعزہ و اقرباء سے محبت و عقیدت اور ان کا پاس و لحاظ رکھا جائے۔ اور اللہ نے رسول کی رسالت و پیغام کیلئے اس محبت و عقیدت کو اجر اور بدلہ قرار دیا ہے ،ظاہر ہے ایسی صورت میں اس مودت کی اہمیت اور قدر و منزلت اصل رسالت سے کم تر نہیں ہوگی بلکہ اس کے مساوی ہوگی ۔کیوں کہ ہر عمل کا بدلہ قدر و قیمت میں اس عمل کے برابر ہونا ضروری ہے ورنہ وہ مساوی اجر نہیں ہوگا۔ نعوذ باللہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالی دنیا کی اہم ترین شیٔ نبی خاتم کی رسالت کا اجر غیر مساوی متعین کرے، قرآن کی دوسری آیتوں میں اس اجر کے مفہوم و معنی پر روشنی ڈالی گئی ہے قرآن کہتا ہے:
    (قُلْ مَا َسَْلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ َجْرٍا ِلاَّ منْ شَائَ اَنْ یَتَّخِذَا ِلَی رَبِّہِ سَبِیلًا) (111)
    ”اے پیغمبر کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس خوشخبری سنانے پر اور ڈرانے پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا مگر جس کا جی چاہے وہ اپنے مالک تک پہنچنے کا راستہ اختیار کرلے۔”
    اس آیت میں اجر سے مراد سبیل الی اللہ ہے یعنی اللہ تک پہنچانے والا راستہ ۔اور یہی بات دوسری آیت میں بھی مذکور ہے:
    (ِنَّ ہَذِہِ تَذْکِرَة فَمنْ شَائَ اتَّخَذَا ِلَی رَبِّہِ سَبِیلاً ) (١12)
    ”یہ آیتیں نصیحت کی باتیں ہیں پھر جس کا جی چاہے اپنے مالک کی طرف راستہ بنالے۔”
    یہاں قرآن نے رسول کے اقرباء کو قرآن کریم کے مساوی قرار دیا ہے کیونکہ دونوں چیزیں اللہ تک پہنچنے کا راستہ ہیں جیساکہ رسول اللہ تک پہنچنے کا راستہ اور ذریعہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    (وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْہِ یَقُولُ یَالَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیلًا ں یَاوَیْلَتِی لَیْتَنِی لَمْ َتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیلًا ں لَقَدْ َضَلَّنِی عاَنْ الذِّکْرِ بَعْدَ ِذْ جَائَنِی وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلِْنسَانِ خَذُولًا) (113)
    ”اور جس دن ظالم و گنہگار (مارے افسوس کے) اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا، کہے گا کاش میں بھی (دنیامیں) پیغمبر کے ساتھ اسلام کا راستہ لیتا (یا کوئی نجات کی راہ حاصل کرلیتا) ہائے میری کم بختی ،کاش میں فلاں (ابی بن خلف) کو دوست نہ بناتا، اس نے مجھ کو نصیحت پہنچنے کے بعد بہکا دیا (یعنی قرآن سننے کے بعد) اور
    شیطان تو آدمی کو (وقت پر )دغا دیتا ہے۔”
    ان آخری آیات میں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ آیت بتاتی ہے کہ خلوت و مودت ہی وہ شیٔ ہے جو انسان کے راستہ کا رخ متعین کرتی ہے ۔نیز یہ آیتیں ظالم و گناہ گار لوگوں کی حسرت و ندامت کی تصویر کشی کرتی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ چلنے کی راہ کیوں اختیار نہیں کی؟ اور کیوں آپۖ کے علاوہ دوسروں کو اپنا دوست یا رہنما بنایا ؟ گویا رسول کے علاوہ دوسروں کو دوست بنانا یہاں اسے قائد اور امام بنانے کے معنی میں ہے۔ نیز آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ”خلت” و مودت اتباع و اقتداء کا معنی رکھتی ہے۔ اس سے یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ قیامت کے دن ان ظالموں کی حسرت و ندامت کی کیا انتہا ہوگی؟ جنہوں نے غیر رسول کو اپنا پیشوا اور دوست بنایا ہوگا۔
    مذکورہ بالا تمام باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ قرابت داروں کی محبت اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا ذریعہ وراستہ ہے۔ لہٰذا انہیں آئمہ مطاع مانتے ہوئے امر و نہی میں رسول کی طرح ان کی اقتداء و اتباع لازم ہے۔قرآن کا ارشاد ہے :
    (یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَا ِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ واَنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ) (114)
    ”اے پیغمبرۖ جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے کامل طور سے (لوگوں تک) پہنچادو اور اگر تم نے (ایسا) نہ کیا تو گویا تم نے کار رسالت سر انجام نہیں دیا اور خداوند تعالیٰ تمہیں لوگوں کے (ان تمام خطرات) سے (جن کا احتمال ہے) محفوظ رکھے گا۔”
    سورئہ مائدہ کی اس آیت کے بارے میں متواتر احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ آیت کریمہ یوم غدیر خم کے موقع پر حضرت علی کے بارے میں نازل ہوئی جس میں اللہ کے رسول کو حضرت علی کی امامت کو مجمع عام میں پہنچانے کا حکم دیا گیا اور ہم آیت میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کو اپنے تمام پیغام رسالت کے ابلاغ کے مساوی قرار دیا ہے ۔کیوں کہ آیت میں یہ تاکید کی گئی ہے کہ اگر رسولۖ نے علی کی امامت کی تبلیغ نہیں کی تو گویا کہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو ہی نہیں پہنچایا جیساکہ یہ بات آیت مودت اور آیت سبیل میں بھی کہی گئی ہے کہ قرابت داروںسے مودت رسول کی رسالت کے لئے مساوی اجر اور اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ گویا مودت اور سبیل الی اللہ دونوں ایک امر ہے ،اب اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں کی محبت اور کسی غیر کو مراد لے تو اللہ اور اس کے رسول کے راستہ سے اعراض ہوگا ۔اور تا قیامت حسرت و ندامت کا باعث ہوگا۔
    متواتر اور صحیح روایات کے مطابق اور اس پر اہل علم کا بھی اتفاق ہے کہ قربیٰ سے مراد علی، فاطمہ، الحسن والحسین ہیں ،علامہ امینی نے اپنی کتاب ”الغدیر” میں، احمد نے ”مناقب” میں ، ابن منذر ،ابن ابی حاتم ،طبرانی ،ابن مردویہ الواحدی ،ثعلبی، ابو نعیم اور البغوی نے اپنی تفسیر میں اور ابن المغازلی نے ابن عباس کی سند سے یہ روایت نقل کی ہے ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ کے قرابت دار کون لوگ ہیں؟ جن کی مودت ہم پر واجب ہے تو انہوں نے فرمایا : ”علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (115)
    یہاں پر اس بات کو واضح کردینا بھی مناسب ہوگا کہ یہ اجر جس کااوپر ذکر آیا ہے اس اجر
    کی قبیل سے نہیں جو لوگوں میں یا عرف عام میں مشہور ہے جسے لوگ کسی کی خدمت کر کے حاصل کرتے ہیں بلکہ اجر ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ ،یہ بات اس مثال سے بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ کاشتکار جو زمین کی کاشت کرتا ہے اور وہ کسان جو درخت کو سیراب کرتا ہے اور اس کی دیکھ بھال کرتا ہے اس کا اجر و نتیجہ وہ ماحصل ہے جو اس کھیت یا اس درخت سے اس کو حاصل ہوتا ہے ۔ہر عمل اور کوشش کا متوقع نتیجہ اجر حقیقی ہوتا ہے جسے عامل اپنی کوشش کے نتیجہ میں پاتا ہے۔ چنانچہ آیت میں مذکور اجر اسی معنی و مفہوم میں ہے جیسا کہ سبیل کا مفہوم بھی اجر کے اس معنی میں ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
    اس آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ تمام مومنین رسول کی دعوت کو قبول کریں اور اللہ سبحانہ کے بتائے ہوئے طریقہ کی اتباع کریں اور رسول کے بعد اہل بیت رسول کی اتباع اور اطاعت کر کے اس راستہ پر ثابت قدم رہیں تاکہ رسول کی کوشش بار آور ہوسکے۔ جس کا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہو کہ پوری دنیا میں عدل و انصاف کا قیام عمل میں آسکے اور ربّانی ہدایت پوری دنیا میں پھیل جائے اور اللہ کا وعدہ سچ ہوجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    (وَعَدَ اﷲُ الَّذِینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِی الَْرْضِ)(١16)
    ”جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئے اور اچھے کام کئے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ (ایک نہ ایک دن ) ان کو ضرور اس زمین میں حکومت دے گا۔”
    (وَلَوْ َنَّ اَہْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْالَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَائِ وَالَْرْضِ)(117)
    ”اگر یہ بستی والے ایمان لاتے اور بچے رہتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔”
    ایک جگہ اور ارشاد ہے:
    (ہُوَ الَّذِی َرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ) (118)
    ” وہی خدا ہے جس نے اپنے پیغمبرۖ کو ہدایت کی باتیں اور سچا دین (اسلام) دے کر بھیجا تاکہ اس کو ہر دین پر غالب کرے گو مشرکین اس کو برا مانیں۔”
    یہ تمام کی تمام چیزیں اللہ کے رسول کی کوششوں کا اس دنیاوی زندگی میں ثمرہ اور نتیجہ رہیں، بہرحال آخرت کا ثمرہ و نتیجہ تو وہ اس آیت سے ظاہر ہے۔
    (وَمنْ یُطِعْ اﷲَ وَالرَّسُولَ فَُوْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْہِمْ مِنْ النَّبِیِّینَ وَ الصِّدِّیقِینَ وَالشُّہَدَائِ وَالصَّالِحِینَ وَحَسُنَ ُوْلَئِکَ رَفِیقًا ں ذَلِکَ الْفَضْلُ مِنْ اﷲِ وَکَفَی بِاﷲِ عَلِیمًا) (119)
    اس آیت کے مفہوم سے یہ واضح ہوگیا کہ جو اللہ اور اس کے رسول کا کہا مانیں گے انہیں آخرت میں یہ ثمرہ اور نتیجہ حاصل ہوگا کہ انہیں جنت میں انبیائ،صدیقین، شہداء اور صلحاء کا ساتھ نصیب ہوگا۔ اور یہ اجر ایسا اجر ہے جس کا فائدہ خود ایمان والوں کو پہنچتا ہے نہ کہ رسول کی ذات کو، چنانچہ قرآن نے یہ بات نہایت تاکید کے ساتھ بیان کی ہے اس اجر سے مراد وہ اجر نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان مشہور و معروف ہے جس کا نفع و فائدہ عامل و اجیر کو ہوتا ہے۔
    ان آیات میں اس نوعیت کے اجر کی اللہ کے رسول کے لئے نفی کردی گئی ہے اللہ کا ارشاد ہے۔
    (قُلْ لاََسَْلُکُمْ عَلَیْہِ َجْرًا ِنْ ہُوَا ِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِینَ) (120)
    ”اے پیغمبرۖ! کہہ دیجئے کہ میں قرآن سنانے پر تم سے اجرت (مزدوری) نہیں مانگتا ،قرآن تو کچھ نہیں سارے جہان کے لئے نصیحت ہے۔”
    مزیدبر آں اس اجر کی وضاحت و تفسیر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا جس کی وضاحت کیلئے رسول اللہ نے اللہ سے کوئی استفسار نہیں کیا:
    (َمْ تَسَْلُہُمْ َجْرًا فَہُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ) (121)
    ” تو ان سے مزدوری مانگتا ہے پھر یہ اس تاوان کے بوجھ سے دبے جاتے ہیں۔”
    ٤_ آیات تبلیغ
    ارشاد خداوندی ہے :
    (یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَا ِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ ……) (122)
    ”اے رسول وہ تمام باتیں لوگوں کو پہنچا دیجئے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔”
    اس آیت میں اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ لوگوں کو ہر بات بتا دیں کہ حضرت علی ان کے بعد امت مسلمہ کے ولی و قائد ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق امامت و قیادت کے مسئلے سے ہے۔ اس لئے کہ یہ آیت رسول اللہ کی زندگی کے آخری ایام میں حجة الوداع کے موقع پر نازل ہوئی جبکہ تمام دینی و شرعی امور کی تبلیغ مکمل ہوچکی تھی امامت کے سوائے، شریعت کے واجبات و احکام میں سے کوئی چیز ایسی باقی نہیں رہ گئی تھی جس کو رسول اللہ نے بیان نہ کردیا ہو۔ امامت کا ذکر اس سے پہلے خاص خاص موقعوں پر آیا تھا اور عام مسلمانوں کو اس کا علم نہیں تھا۔ لہٰذا اسی بات کو برملا بتانے کیلئے یہ آیت نازل ہوئی اور اس آیت میں یہ تاکید بھی موجود ہے کہ رسالت بغیر امامت کی تبلیغ کے نامکمل ہے۔اس لئے کہ امامت کے ذریعے ہی رسالت کے اہداف و مقاصد کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ جس کا سب سے اہم ترین مقصد پوری دنیا میں عدل و انصاف کا قیام ہے۔
    علامہ الامینی نے اپنی تصنیف ”کتاب الغدیر” کے حصہ اول ص٢١٤ میں صحیح روایت سے یہ بات نقل کی ہے کہ یہ آیت علی کے بارے میں نازل ہوئی۔اس بات کو سیوطی نے در منثور (123) وغیرہ نے اپنی اپنی کتابوں میں ابن مسعود کی سند سے نقل کیا ہے ،ابن مسعود نے کہا کہ ہم لوگ رسول کریمۖ کے سامنے اس آیت کی تلاوت اس طرح کرتے تھے ((یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَا ِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ اَنَّ عَلِیّاً مَوْلیٰ اَمِیْرَ اَلْمُؤمِنِیْنِ))کہ علی مسلمانوں کے ولی اورامیر ہیں، ((واَنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَ اﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ)) حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے کتاب الولایہ میں زید ابن ارقم کی سند سے نقل کیا ہے کہ زید بن ارقم نے کہا ”رسول اللہ حجة الوداع کے موقع پر غدیر خم میں تشریف فرماتے تھے، دوپہر کا وقت تھا شدید گرمی تھی ،انہوں نے سایہ دار درخت کے پاس جانے کا حکم دی اور ”الصلا ة جامعة” کی آواز لگا کر لوگوں کو بلایا ،ہم لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے ہمارے سامنے نہایت بلیغ انداز میں یہ خطبہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ آیت نازل کی ہے۔
    (یَا َیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَا ِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ وَ ِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ)
    ” جو کچھ تمہارے رب نے نازل کیا ہے اس کو پہنچادو۔ اور اگر آپ نے یہ بات نہیں پہنچائی تو گویارسالت کی تبلیغ نہیں ہوئی۔”
    اور جبرئیل نے میرے رب کی طرف سے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس مقام پر کھڑے ہو کر سیاہ و سفید انسان کو یہ بتادوں کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی جانشین ، وارث اور میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں۔ مزید فرمایااے لوگو !اﷲ نے اس کو تمہارے لئے ولی اور امام مقرر کیا ہے اور اس کی اطاعت کو تم میں سے ہر ایک پر واجب کر دیا ہے اس کا فیصلہ قابل نفاذ اور اس کی بات معقول و مناسب ہے۔جو اس کی مخالفت کرے وہ ملعون ہے اور جو اس کی تصدیق کرے وہ رحم کا سزاوار ہے،سنو اور اطاعت کرو،بے شک خدا تعالیٰ تمہارا آقا ہے اور علی تمہارے امام ہیں،منصب امامت میری اولاد میں اسی کی نسل سے تا قیامت جاری رہے گا،جس چیز کو اﷲ اور رسول نے حلال کردیا وہ حلال ہے اور جسے حرام کر دیا وہ حرام ہے۔پھر فرمایا:قرآن کی واضح آیات کو سمجھو اور اس کے متشابہات کے پیچھے نہ پڑو،ا ن آیات(متشابہات) کی تفسیر و وضاحت تمہارے لئے صرف وہی کر سکتا ہے جس کا میں ہاتھ پکڑ لوں اور اس کے بازو کو بلند کروں۔
    میں تمہارے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ بیشک جس کا میں آقا ہوں علی بھی اس کے آقا ہیں اور ان کی یہ ولایت جو مجھ پر نازل کی گئی ہے منجانب اﷲ ہے،گواہ رہو! میں نے اپنی ذمہ داری ادا کردی، گواہ رہو! میں نے اپنا پیغام پہنچا دیا۔سنو! میں نے بتا دیا اور ہر چیز کی وضاحت کردی، سوائے اس (حضرت علی) کے مسلمانوں پر کسی کی امامت جائز نہیں۔
    پھر انہوں نے ان کو آسمان کی طرف اٹھایا،یہاں تک کہ ان کا پیر رسول کے گھٹنے سے ملا ہوا تھا اور فرمایا:
    ”لوگویہ میرا بھائی،میرا وارث اور میرے علم کا محافظ ہے اور ان لوگوں کا خلیفہ ہے جو میرے اوپر اور میرے رب کی کتاب کی تفسیر یعنی حدیث پر ایمان رکھتے ہیں۔” (124)
    ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی کتاب تفسیر کبیر میں سورة المعارج کی تفسیر کرتے ہوئے اس کی اس طرح تخریج کی ہے کہ رسول کریم نے غدیر خم کے دن لوگوں کو پکارا تو لوگ جمع ہوئے، انہوں نے علی کا ہاتھ پکڑا اور کہا میں جس کا مولیٰ ہوں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں،تو یہ بات پورے ملک میں مشہور ہوگئی،اور جب حارث بن نعمان فہری کو اس کا پتہ چلا تو اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آئے، اور نیچے اتر کر کہا اے محمدۖ! آپ نے ہم کو یہ حکم دیا کہ ہم صرف اﷲ کو معبود مانیں اور آپ کو اس کا رسول،تو ہم نے یہ بات مان لی۔آپ نے ہمیں نماز پنجگانہ،زکوٰة دینے اور رمضان کے روزہ رکھنے کا حکم دیا،ہم نے وہ بھی قبول کر لیا اور آپ نے حج کرنے کا حکم دیا اسے بھی تسلیم کرلیا۔ پھرآپ اتنی باتوں سے راضی نہیں ہوئے،یہاں تک کہ اپنے چچا زادبھائی کو ہمارے اوپر فضیلت دے ڈالی،اور کہہ دیا کہ جس کے مولیٰ و آقا آپ ہیں علی بھی اس کے مولیٰ ہیں۔کیا یہ چیز اﷲ کی طرف سے ہے یا آپ کی طرف سے ۔اﷲ کے رسول نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا
    کوئی معبود نہیں بے شک یہ حکم اس کی طرف سے ہے۔پھر حارث اپنی سواری کا ارادہ کرتے ہوئے مڑا اور کہہ رہا تھا کہ اے اﷲ جو کچھ محمد کہہ رہے ہیں اگر سچ ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش کر دے یا سخت عذاب میں مبتلا کر دے۔ابھی وہ اپنی سواری تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ اﷲ نے اس پر ایک پتھر مارا جو اس کے سر پر لگا اور اس کی سرین سے نکل گیا اور وہ اس سے ہلاک ہوگیا۔
    اس پر اﷲ نے یہ آیت نازل فرمائی
    (سََلَ سَائِل بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ں لِلْکَافِرینَ لَیْسَ لَہُ دَافِع)
    ”ایک مانگنے والے نے(جلدی کر کے)وہ عذاب مانگا جو(بلند) درجے والے اﷲ کی طرف سے کافروں کو(ضرور) ہونے والا ہے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔” (125)
    ٥_ آیات شہادت
    ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانے میں اﷲ کی طرف سے کچھ قائدین کو مبعوث کیا جاتا ہے جو خدا کی کتاب قرآن اور مومنوںپر گواہ ہوتے ہیں،اﷲ تعالیٰ ان کو منصب امامت سے سرفراز کرتا ہے تاکہ لوگوں کے درمیان شریعت کے مطابق فیصلہ کریں۔آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اپنی امت پر گواہ ہوئے ہیں اور ان کے بعد مسلمانوں کیلئے خدا کی طرف سے متعدد گواہ رکھے گئے ہیں جن کے بارے میں قرآن نے کہا ہے کہ وہ رسول کی طرف سے
    ہوں گے اور گواہی میں رسول کی نیابت کریںگے اور ان گواہان سے مراد علی اور ان کی پاک باز اولاد ہیںاور ہم ان باتوں کو نکات کی شکل میں بیان کریں گے۔
    ١_ لِلّٰہِ فی کُلّ اُمَة شھید
    (ہر امت میں اﷲ نے ایک گواہ بنایا ہے)
    قرآن کی بکثرت آیتیں اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ اﷲ نے ہر امت میں انہیں میں سے ایک گواہ بنایا ہے اور یہ سنت ربّانی ہر زمانہ میں جاری رہی ہے۔ارشاد خداوندی ہے:
    (وَیَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ کُلِّامَّةٍ شَہِیدًا ثُمَّ لاَ یُؤْذَنُ لِلَّذِینَ کَفَرُواوَلاَ ہُمْ یُسْتَعْتَبُونَ) (126)
    ”اور(وہ دن یاد کرو)جس دن ہم ہر امت میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر جو لوگ کافر رہے ان کو (بولنے یا عذر کرنے کی) اجازت نہ ہوگی اور نہ وہ لوٹنے پائیں گے۔”
    اﷲ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے
    (یَوْمَ نَبْعَثُ فِی کُلِّامَّةٍ شَہِیدًا عَلَیْہِمْ مِنْ َنفُسِہِمْ وَ جِئْنَا بِکَ شَہِیدًا عَلَی ہَؤُلاَئ) (127)
    ”اور وہ دن یاد کر جس دن ہم ہر امت میں انہی میں سے ایک گواہ اٹھائیں گے اور تجھ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لائیں گے۔”
    یہ گواہی صرف امتوں کی ہی گواہی نہیں ہے بلکہ لوگوں میں سے ہر فرد کا گواہ ہوگا۔قرآن میں آیا ہے کہ
    (وَجَائَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَعَہَا سَائِق وَشَہِید) (128)
    ”اور ہر شخص(جواب دہی کیلئے) حاضر ہوگا اس کے ساتھ (دوفرشتے ہوں گے) ایک ہانکنے والا،ایک(حال بتانے والا) گواہ۔”
    ٢_ گواہوں کے اوصاف و شرائط
    قرآن میں متعدد آیتوں میں گواہوں کی صفات ذکر کی گئی ہیں اس میں سے ایک صفت معاصرت یا ہم عصر ہونا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ہر گواہ(شہید) کیلئے ضروری ہے کہ وہ مشہود علیہ(جس پر گواہی دی جائے) کا معاصر ہو۔دونوں کے زمانے میں فرق نہ ہو۔
    (وَکُنتُ عَلَیْہِمْ شَہِیدًا مَا دُمْتُ فِیہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْہِمْ)(129)
    ”جب تک میں ان میں رہا ان کا حال دیکھتا رہا۔پھر جب تو نے مجھ کو اپنے پاس اٹھا لیا(آسمان پر بلالیا)تو تو ہی ان کا نگہبان ہے۔”
    ایک صفت یہ ہے کہ وہ لوگ اﷲ کی مخلوق کیلئے حجت کا درجہ رکھتے ہیں ان کے ذریعے لوگوںپر حجت و برہان قائم کیا جاتا ہے۔گویا اﷲ نے ان کو لوگوں کیلئے ایسا میزان بنایا ہے جن کے ذریعہ سے ان کی اچھائی و برائی،اور ان کی اﷲ کے لئے اطاعت و تابعداری کی پرکھ ہو۔اسی وجہ سے ان کو کتاب اﷲ کا بھی گواہ بنایا گیا ہے کیونکہ ان کے افکار و اعمال میں کتاب اﷲ کے احکامات کی مکمل جھلک ملتی ہے اور انہی کے ذریعہ کتاب کی پہچان،اس کی آیت کی تفسیر اور اس کے مفاہیم کی وضاحت ہوتی ہے
    باری تعالیٰ فرماتا ہے:
    (وَیَوْمَ یُنَادِیہِمْ فَیَقُولُ َیْنَ شُرَکَائِی الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ں وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّامَّةٍ شَہِیدًا فَقُلْنَا ہَاتُوا بُرْہَانَکُمْ فَعَلِمُوا َنَّ الْحَقَّ لِلَّہِ وَضَلَّ عاَنْہُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ) (130)
    ”اور جس دن خدا مشرکوں کو پکارے گا ،فرمائے گا میرے شریک کہاںہیں (یعنی) وہ جس کو تم میرا شریک سمجھتے تھے،اور(اس دن) ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے پھر (مشرکین سے) کہیں گے کہ تم اپنی صفائی کی سند پیش کرو لیکن وہ جان لیں گے کہ حق اﷲ کیلئے ہے اور جو کچھ بھی وہ افتراء پردازی کرتے تھے،ا ن کا پتہ ہی نہ ہوگا۔”
    دوسری جگہ ارشاد خداوندی ہے۔
    (وَمنْ َظْلَمُ مِمنْ افْتَرَی عَلَی اﷲِ کَذِبًا ُوْلَئِکَ یُعْرَضُونَ عَلَی رَبِّہِمْ) (131)
    ”اور جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے،اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا،یہ لوگ اپنے مالک کے سامنے لائے جائیں گے اور گواہ گواہی دیں گے،انہی لوگوں نے اپنے مالک پر جھوٹ بولا تھا۔”
    شہیدوں کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ لوگ اﷲ کی کتاب کے محافظ اور اس میں مذکور تمام احکامات کا علم رکھتے ہیں!
    اﷲ سبحانہ فرماتا ہے:
    (ِنَّا َنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِیہَا ہُدًی وَنُور یَحْکُمُا بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ َسْلَمُوا لِلَّذِینَ ہَادُوا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالَْاحْبَار بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اﷲِ وَکَانُواعَلَیْہِ شُہَدَائَ)(132)
    ”بیشک ہم نے تورات اتاری اس میں ہدایت اور روشنی ہے،خدا کے تابعدار پیغمبر یہودیوں کو اس کے موافق حکم دیتے رہے اور(پیغمبروں کے علاوہ) درویش (مشائخ) اور مولوی بھی(اسی پر حکم دیتے رہے)اس لئے کہ وہ اﷲ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے(امانتدار)اور اس کی وہ نگرانی کرتے تھے۔”
    قرآن کہتا ہے:
    (قُلْ کَفَی بِاﷲِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ)(133)
    ”کہہ دیجئے!میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے،اور اس شخص کی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔ ”
    ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
    (شَہِدَ اﷲُ َنَّہُ لاَِلَہَا ِلاَّ ہُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَُوْلُوا الْعِلْمِ)(134)
    ”اﷲ اس بات کا گواہ ہے کہ ا س کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور فرشتے اور علم والے بھی(گواہ ہیں)۔”
    ایک صفت یہ ہے کہ وہ لوگ خدا کے احکام کے مطابق لوگوں کو حکم دیتے ہیں سورہ مائدہ
    کی اس آیت کی تفسیر پہلے گذر چکی ہے۔
    (وَ نُور یَحْکُمُا بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ َسْلَمُوا لِلَّذِینَ ہَادُ وا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالَْاحْبَار بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اﷲِ وَکَانُوا عَلَیْہِ شُہَدَائَ)
    ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اﷲ اور رسول پر سچے ایمان لانے والے اور ان کے ایمان میں کوئی شک و تردید کی گنجائش نہیں ہے۔
    قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے:
    (اِنَّمَاالْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ آمَنُوابِاﷲِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوا وَجَاہَدُوا بَِمْوَالِہِمْ وَ َنفُسِہِمْ فِی سَبِیلِ اﷲِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الصَّادِقُونَ)(135)
    ”مومن تو وہ لوگ ہیں جو اللہ اور رسول پر دل سے یقین لائے پھر ان کو (ایمان کی باتوں میں کسی طرح کا) شک نہیں رہا اور انہوں نے اپنی جان او رمال سے اللہ تعالی کی راہ میں کوشش کی ،ایسے ہی لوگ سچے اور ایمان دار ہیں۔”
    نیز یہ بھی اشارہ خداوندی ہے :
    (وَ الَّذِینَ آمَنُوا بِاﷲِ وَ رُسُلِہِ ُوْلَئِکَ ہُمْ الصِّدِّیقُونَ وَالشُّہَدَائُ عِنْدَ رَبِّہِمْ لَہُمْ َجْرُہُمْ وَنُورُہُمْ)(136)
    ”وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے وہ صدیقین و شہداء ہیں اپنے پروردگار کے پاس ان کے (اعمال) کا اجر اور ان کا نور (ایمان) ان کے لئے ہے۔”
    ٣_ عہد نبوت میں مسلمانوں پر اللہ کے رسول کی گواہی
    قرآن کی متعدد آیات میں رسول اعظم کو شاہد اور شہید کے لفظ سے متصف کیا گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے
    (یَاَیُّہَا النَّبِیُّ ِنَّا َرْسَلْنَاکَ شَاہِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِیرًا)(137)
    ”اے پیغمبر ہم نے تجھ کو گواہ بنا کر اور (مسلمانوں کو) جنت کی خوشخبری دینے والا اور کافروں کو خدا کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔”
    دوسری جگہ باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
    (فَکَیْفَ ِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّامَّةٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا)(138)
    ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہر امت پر ایک گواہ بنا کر لائیں گے اور تجھ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر۔ ”
    ٤_ رسول کے بعد ہونے والا گواہ
    قرآن میں اس بات کی صراحت ملتی ہے کہ رسول کے بعد بھی مسلمانوں پر کوئی گواہ ہوگا۔ قرآن کہتا ہے :
    (َفَمنْ کَانَ عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاہِد مِنْہُ)(139)
    ”کیا جو شخص اپنے مالک کی طرف سے ایک دلیل رکھتا ہے اس کے پیچھے اس کی طرف سے شاہد ہے ۔”
    یہاں پر ” یَتْلُوہُ” کے معنی ”یخلفہ” ہے۔ یعنی وہ (رسول کا جانشین اور امام المومنین ) اس کی خلافت و نیابت کرے گا یہی اس لفظ کا ظاہری معنی ہے اور خلافت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نبوت کے سوا تمام چیزوں میں اس کے قائم مقام کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس شاہد یعنی گواہ کا تعین کبھی تو اشارہ صفت کے ذریعہ کیا ہے کہ وہ رسول کی نسب سے ہوگا۔ جیساکہ اس آیت میں مذکورہ ہے اور کبھی اس کی صفت یہ بیان کی ہے کہ اس کے پاس کتاب اللہ کا علم ہوگا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:
    (قُلْ کَفَی بِاﷲِ شَہِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ)(140)
    حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صفات اہل بیت (رضوان اللہ علیہم اجمعین) پر ہی صادق آتی ہیں۔ جس میں سرفہرست حضرت علی ابن ابی طالب ہیں۔
    پہلی صفت: گواہ کا تعلق رسول کے خاندان سے ہے۔ اور آیت مباہلہ سے یہ بات پورے طور پر واضح ہوگئی ہے اور اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق بھی ہے کہ اہل بیت سے مراد ”علی،فاطمہ اور حسن و حسین٪ ” ہیں جیسا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے :
    (فَمنْ حَاجَّکَ فِیہِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ ا بْنَائَنَا وَ ا بْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَا وَنِسَائَکُمْ وَا اَنْفُسَنَا وََا اَنْفُسَکُم ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِینَ)(141)
    ”پھر جب تجھ کو عیسیٰ کا حال معلوم ہوچکا۔ اب بھی کوئی تجھ سے اس کے بارے میں جھگڑے تو کہہ دے ،آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں گے ،تم اپنے
    بیٹوں کو بلائو اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنی ذاتوں سے شریک ہوں اور تم اپنی ذاتوں سے، پھر خدا کے سامنے گڑگڑائیں (روئیں اور عاجزی سے دعا کریں) اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔”
    یہ آیت حسن ،حسین ،فاطمہ اور علی ٪کے بارے میں نازل ہوئی ہے ایک حدیث متواتر میں یہ قصہ مذکور ہے کہ یوم مباہلہ میں رسول اللہ نے علی ،حسن ،حسین٪ کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ کو ان کے پیچھے کر لیا، پھر کہا یہ ہمارے بیٹے، ذاتیں اور عورتیں ہیں تم اپنے بیٹوں ،اپنی جانوں اور اپنی عورتوں کے ساتھ آجائو، پھر ہم اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ دعا کرتے ہیں اور جھوٹ بولنے والے پر لعنت بھیجتے ہیں۔(142)
    ایک حدیث صحیح میں اللہ کے رسول کا قول مذکور ہے کہ ”علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں” (143)میری طرف سے امور کی انجام دہی علی کے ذمے ہے۔اسی طرح کی ایک خبر متواتر آیت برائت کے سلسلے میں بھی وارد ہوئی ہے۔ رسول اللہ نے آیت برائت دے کر ابو بکر کو بھیجا تاکہ اس کے مشمولات کو مکہ والوں کے سامنے بیان کردیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کر سکے گا اور نہ ہی کوئی عریاں شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا اور حرم میں داخلے کے مستحق صرف مسلمان ہوں گے۔ اور جس کسی کا اس کے اور اللہ کے رسول کے درمیان میں معاہدہ ہو تو وہ ایک خاص مدت تک ہی محدود ہوگا۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔ حضرت ابوبکر اس آیت کو لے کر تین بار گئے۔ پھر رسول اللہۖ نے حضرت علی سے کہا: تم ان کو لے کر جائو، اور ابوبکر کو میرے پاس بھیج دو، اور اس آیت کی تبلیغ تم خود کرو۔جب حضرت ابو بکر نبی کریمۖ کے پاس آئے تو رونے لگے اور کہا یا رسول اللہ کیا مجھ میں کوئی چیز پیدا ہوگئی ہے ؟رسول اللہۖ نے جواب دیا تمہارے اندر صرف بھلائی ہی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اس کی تبلیغ یا تو میں کروں یا کوئی ایسا شخص جو مجھ سے ہو۔(144)
    ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ نے حضرت حسن کو آغوش میں رکھا اور کہا : یہ مجھ سے ہیں۔(145)
    اور مزید فرمایا : حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں۔ اور اللہ کا محبوب وہ ہے جو حسین کا سب سے زیادہ محبوب ہو، اور حسین نواسے بھی ہیں۔(146)
    دوسری صفت میں یہ بات کہی گئی ہے کہ رسول کے بعد وہ شخص گواہ ہوگا جو کتاب کا علم رکھتا ہو۔ یہ مفہوم بھی صرف علی اور ان کی طاہر اولاد پر صادق آتا ہے اسی سلسلے میں ایک حدیث منقول ہے۔
    ”میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ،جو شخص علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو
    اسے دروازے پر آنا چاہیے۔” (147)
    حاکم نے اس کی سند کو صحیح مانا ہے ۔علی سے یہ روایت منقول ہے:
    ”خدا کی قسم ،میں ان کا یعنی رسول اللہ کا بھائی ہوں اور ان کا ولی یعنی نائب، اور ان کا چچا زاد بھائی ہوں اور ان کے علم کا وارث ہوں۔ مجھ سے زیادہ ان کی وراثت کا کون حقدار ہوسکتا ہے؟” (148)
    ایک اور روایت اللہ کے رسول سے منقول ہے:
    ”تمام تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے حکمت (کا مصداق) ہمارے درمیان اہل بیت کو بنایا ہے۔” (149)
    ایک دوسری حدیث میں ہے : جس شخص کو اس بات سے خوشی حاصل ہو کہ وہ میری زندگی جئے اور میری موت مرے اور میرے رب کے لگائے ہوئے جنت عدن میں رہے تو اسے علی کو میرے بعد ولی بنانا چاہئے اور ان کی ولایت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اور میرے بعد اہل بیت کی اقتداء کرنا چاہیے ۔کیوں کہ وہ لوگ میری عترت یعنی میرے خمیر سے پیدا کئے گئے ہیں ۔اور انہیں میرا علم و فہم دیا گیا ہے ۔ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہو جو ان کے فضائل کو جھٹلاتے اور ان کے درمیان قطع رحمی کرتے ہیں، اللہ انہیں میری شفاعت سے دور رکھے۔(150)
    اس بات کی توضیح و اثبات کے لئے کہ رسول اللہۖ کے علم کے وارث اہل بیت ہیں جن میں سرفہرست حضرت علی ،حسن ،حسین ہیں اور جو صحیح معنوں میں کتاب اللہ کی معرفت رکھتے ہیں ،یہ حدیث متواتر کافی ہے کہ:
    ”میں نے تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑی ہیں کہ جب تک تم مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے ہرگز ہرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ ان میں سے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے ۔کتاب اللہ جو ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے لے کر زمین تک یہاں تک کہ یہ حوض کوثر پر میرے پاس پیش کئے جائیں۔ دیکھو! کسی طرح سے تم لوگ ان دونوں کے تعلق سے میرے پیٹھ پیچھے عمل کرتے ہو۔” (151)
    طبرانی میں مذکور ہے:
    ” نہ تم ان دونوں سے آگے قدم بڑھائو کیونکہ اس میں ہلاکت ہے اور نہ پیچھے اس لئے کہ اس میں بھی ہلاکت ہے اور انہیں مت سکھائو کیونکہ وہ لوگ تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔” (152)
    آیات شہادت سے جو نتائج مستفاف ہوتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:
    (١) رسولۖ اپنی امت کے اولین گواہ ہیں جس طرح ان سے پہلے کے انبیاء اپنی اپنی امتوں کے گواہ تھے۔
    (٢) مسلمانوں پر گواہی اللہ کے رسول کے بعد بھی جاری رہے گی اور اس باب میں لوگ رسول اللہ کی جگہ برحق شہادت ادا کرتے رہیں گے، اور اللہ کی کتاب کے مطابق معاملات میں فیصلہ کریں گے جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے:
    (یَحْکُمُ ا بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِینَ َسْلَمُوا لِلَّذِینَ ہَادُوا وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالَْاحْبَار بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ کِتَابِ اﷲِ وَ کَانُوا عَلَیْہِ شُہَدَائَ فَلاَتَخْشَوْا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِی وَلاَ تَشْتَرُوا بِآیَا تِی ثَمَنًا قَلِیلًا وَ منْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا َنزَلَ اﷲُ فَُوْلَئِکَ ہُمْ الْکَافِرُونَ) (153)
    ”خدا کے تابعدار پیغمبر یہودیوں کو اسی کے موافق حکم دیتے رہے اور (پیغمبروں کے علاوہ) درویش (مشائخ) او رمولوی(بھی اسی پرحکم دیتے رہے) اس واسطے کہ وہ اللہ کی کتاب کے حافظ بنائے گئے تھے ۔(امانتدار) اور اس کی نگہبانی کرتے تھے۔ تو(اے یہودیو) لوگوں سے مت درو، او رمجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے بدلے (دنیا کا) تھوڑا مال مت لو(رشوت کھا کر میرے حکم مت چھپائو) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب کے موافق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں۔”
    یہ شہداء یا گواہ رسول کے بعد آئیں گے اور تمام امور سوائے امر نبوت کے ان کی جانشینی کا فریضہ انجام دیں گے۔ جیساکہ خدا کا ارشاد ہے۔ (وَیَتْلُوہُ شَاہِد مِنْہُ) اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی اس کو پہنچادو۔
    (٣) گواہ یا گواہان وہ لوگ ہوں گے جو کتاب اللہ کے عالم اور رسول اللہ کی اولاد میں سے ہوں گے۔
    (٤) حضرت علی اور ان کی اولاد اطہار جنہیں عترت رسول ہونے کا شرف حاصل ہے انہی پر مذکورہ دونوں صفتیں منطبق ہوتی ہیں کیونکہ ”کتاب اللہ کے علم سے پوری طرح بہرہ ور ہیں اور انہیں کے بارے میں رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ مجھ سے ہیں۔”
    ہم نے علیاور ان کی اولاد اطہار کی امامت سے متعلق چند قرآنی آیات یہاں بطور نمونہ ذکر کی ہیں اس موضوع پر اللہ کے رسول سے بکثرت احادیث بھی منقول ہیں، باوجود اس کے کہ عباسی اور اموی دور حکومت میں ان لوگوں کو سخت سزا دی جاتی تھی جو لوگ اہل بیت سے متعلق احادیث کی روایت کرتے تھے او ریہ سلسلہ تقریباً چار صدیوں تک چلتا رہا، نیز اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ احادیث کی کتابوں کی جمع و تدوین کا کام ظالم حکومتوں کے زیر سرپرستی ہوا، جو اہل بیت سے متعلق روایت کے سخت مخالف تھیں اور روایت کرنے والوں کو سخت سے سخت عذاب دیتی تھیں۔ اموی اور عباسی حکمرانوں نے صرف اہل بیت کی امامت سے متعلق احادیث روایت کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ ان لوگوں نے کچھ کمزور ایمان والوں کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ لوگ اہل بیت کے دشمنوں کی فضیلت میں کچھ احادیث گھڑ کر بیان کریں اور اس کی نسبت رسول کی طرف کردیں حالانکہ یہ باتیں نص قرآن اور صریح متواتر حدیثوں کے بالکل برعکس اور متناقص ہیں۔
    یہ ایک اہم بحث ہے ۔ اس کتاب میں ہمارا مقصد علی اور ان کی اولاد کی امامت پر بحث کرنا نہیں تھا۔ علمائے صالحین نے اس موضوع پر مفصل اور جامع کتابیں تالیف کی ہیں،جو اس موضوع کی تفصیلی واقفیت کے خواہاں ہیںانہیں اس موضوع پر با ضابطہ طور پر لکھی گئی کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
    ہم اللہ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دنیا و آخرت کی زندگی میں صحیح بات کہنے کی توفیق عطا کرے اور ہماری اس ادنیٰ خدمت کو قبولیت حسنہ سے نوازے ۔
    انہ کریم سمیع مجیب
    ====================================
    حوالاجات
    (73) سورہ نحل،آیت ٣٦۔
    (74) سورہ نسائ،آیت٦٠۔
    (75) سورہ نسائ،آیت٥٩۔
    (76) سورہ نحل،آیت٣٦۔
    (77) سورہ نسائ،آیت٦٤۔
    (78) سورہ حدید،آیت ٢٥۔
    (79) سورہ انعام،آیت ٨٤ تا ٩٠۔
    (80) سورہ شعرائ،آیت ٦٩ تا ٨٣۔
    (8١) سورہ عنکبوت،آیت٢٧۔
    (8٢) سورہ یوسف،آیت٥٦۔
    (83) سورہ بقرہ،آیت ١٢٤۔
    (84) سورہ نسائ،آیت٥٤۔
    (85) سورہ آل عمران،آیت٣٣،٣٤۔
    (86) سورہ آل عمران،آیت ٣٥ تا ٤٥۔
    (87) سورہ احزاب،آیت٣٣۔
    (88) سورہ ھود،آیت٤٥۔
    (89) سورہ آل عمران،آیت ١٣٠ تا ١٣٣۔
    (90) سورہ نسائ،آیت ٥٤۔
    (9١) اصول کافی:باب ”آئمہ ٪والیان امر اور وہ محسود ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے ۔”ج١ص٣٩٥ ۔
    (92) سورہ مریم،آیت ٥٨،٥٩۔
    (93) سورہ نسائ،آیت ١٥٥۔
    (94) سورہ آل عمران،آیت ٦٨۔
    (95) سنن الدارمی ج١ ص١٢٥۔ باب من رخص فی الکتابہ من المقدمہ، سنن ابی داود ج٢ ص١٢٦۔ باب کتابة العلم و مسند احمد ج٢ ص١٢٦۔
    (96) البخاری،کتاب العلم ،ج١ ص٢٢۔ کتاب المرض ،باب قول المریض قوموا عنی صحیح مسلم آخر کتاب الوصیة۔
    (97) تذکرة الحفاظ الذھبی فی ترجمہ ابی بکر،ج١ ص٢۔
    (98) ملاحظہ کریں کتاب معالم المد رستین ج٢ ص٥٠ ۔
    (99) سورہ مائدہ،آیت ٥٥
    (١00) کتاب الغدیر ج٢ ص٥٢ ، ٥٣۔
    (١01) سورہ احزاب،آیت٣٣۔
    (10٢) سورہ مائدہ،آیت٩٠۔
    (١03) سورہ توبہ،آیت١٢٥۔
    (104) سورہ انعام،آیت١٤٥۔
    (105) سورہ نسائ،آیت٥٩۔
    (106) سورہ حشر،آیت١٧۔
    (١07) سورہ نور،آیت٦٣۔
    (108) سورہ نسائ،آیت٨٠۔
    (109) سورہ نجم ،آیت٣،٤۔
    (1١0) سورہ شوریٰ،آیت٢٣۔
    (111) سورہ فرقان،آیت٥٧۔
    (112) سورہ مزمل،آیت١٩۔
    (113) سورہ فرقان،آیت٢٧ تا ٢٩۔
    (114) سورہ مائدہ،آیت ٦٧۔
    (115) تفصیل کیلئے ملاحظہ کیجئے کتاب الغدیر ج٢ ص٣٠٦۔
    (116) سورہ نور،آیت٥٥۔
    (117) سورہ اعراف،آیت٩٦۔
    (118) سورہ توبہ،آیت٣٣۔
    (119) سورہ نسائ،آیت٦٩ ،٧٠۔
    (١20) سورہ انعام،آیت٩٠۔
    (121) سورہ طور،آیت٤٠۔
    (122) سورہ مائدہ ،آیت٦٧۔
    (123) الدر المنثور ج٢ ص٣٩٨۔
    (124) کتاب الغدیر ج١ ص٢١٤ تا ٢١٦۔
    (125) سورہ معارج،آیت١،٢۔
    علامہ شبلنجی کی نور البصائرص٧١۔ سیرت حلبیہج٣ص٢٧٤۔
    (126) سورہ نحل،آیت٨٤۔
    (127) سورہ نحل،آیت٨٩۔
    (128) سورہ ق،آیت٢١۔
    (129) سورہ مائدہ،آیت١١٧۔
    (130) سورہ قصص،آیت٧٤،٧٥۔
    (131) سورہ ھود،آیت١٨۔
    (132) سورہ مائدہ،آیت٤٤۔
    (133) سورہ رعد،آیت٤٣۔
    (134) سورہ آل عمران ،آیت١٨۔
    (135) سورہ حجرات،آیت١٥۔
    (136) سورہ حدید،آیت١٩۔
    (137) سورہ احزاب،آیت٤٥۔
    (138) سورہ نسائ،آیت٤١۔
    (139) سورہ ہود ،آیت١٧۔
    (140) سورہ رعد،آیت٤٣۔
    (141) سورہ آل عمران،آیت٦١۔
    (142) صحیح المسلم کتاب الفضا ئل باب فضا ئل علی۔
    صحیح الترمذی ٤/٢٩٣ حدیث ٣٠٨٥ ۔
    (143) سنن ابن ماجہ کی کتاب المقدمہ باب فضائل الصحا بہ،
    ترمذی کتاب ا لمنا قب، حدیث ٢٥٣١ ،ص١٥٣، ج١، طبع اولی۔
    مسند احمد ص١٦٤ ،١٦٥، ج٤۔
    (144) مسند احمد ١ /٣۔ سنن الترمذی ١٣ /١٦٤ تا ١٦٥۔
    مستد رک الصحیحین ٣/٥١ ،٥٢۔
    (145) مسند احمد ص٤/١٣٢۔
    (146) صحیح البخاری فی الادب المفرد باب معانقہ الصب،حدیث ٣٦٤،
    ترمذی باب منا قب الحسن و ا لحسین١٣ /١٩٥۔
    (147) مستد رک الصحیحین ١٣/١٢٦۔
    (148) اس کا مصدر وہی ہے جسے حاکم اور ذہبی نے بیان کیا ہے۔خصائص ا لنسائی:١٨۔
    (149) احمد بن حنبل نے مناقب میں اور طبری نے ریاض النضرة ٢/١٩٤ میںذکر کیا ہے ۔
    (150) کنز ا لعمال ٦/٢١٨ حدیث ٣٨١٩۔
    (151) سنن ترمذی ٥/٣٢٩۔
    (152) کنز ا لعمال ١٦٨۔
    (153) سورہ مائدہ،آیت ٤٤۔
    منبع:shiaarticles.com