islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. یمن ،احادیث و روایات کا مرکز

    یمن ،احادیث و روایات کا مرکز

    یمن ،احادیث و روایات کا مرکز
    Rate this post

    دنیائے اسلام کے حدیثی مراکز میں سے مدرسہ حدیثی یمن ، اہل سنت کا ایک با سابقہ اور تاثیر گذار مرکز ہے جس نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ) کی احادیث کو نقل و منتشر کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا ہے ، اس لحاظ سے یہ مقالہ اس حدیثی مدرسہ کی  پہلی دو صدیوں کی تحقیق کرے گا ۔
    یمن کی تہذیبی اور جغرافیائی خصوصیات، یمن کے مدرسہ کی پیدائش کی کیفیت، یمن کے محدثین و روات، حدیث کے برجستہ آثار، اور مدرسہ یمن کی بارز خصوصیات یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو اس مقالہ میں بیان کئے گئے ہیں ۔
    مقدمہ
    اہل سنت کی تاریخ حدیث کی ایک شاخ (جس پر آخری چند سالوں میں بہت زیادہ کام ہوا ہے) حدیثی واقعات کا جغرافیائی مطالعہ ہے ۔ اس مطالعہ میں ایک جغرافیائی مرکز کی تحقیق کی جاتی ہے اور اس علاقہ کے حدیثی تحولات پر غور وفکر کیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے مطالعات جن کو کسی مدرسہ یا حدیثی مرکز کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے وہ بڑے حدیثی مراکز جیسے مکہ، بصرہ،شام اور قیروان وغیرہ کے متعلق بحث کرتے ہیں ۔
    لیکن ایک اہم اور قدیمی مرکزجس نے اہل سنت کے حدیثی تحولات کی تاریخ میں اپنا سکہ جمایا ہے وہ یمن کا مرکز ہے ۔ اس مرکز میں بہت سے شرایط ہونے کی وجہ سے جیسے محدثین اور راویوں کی ایک کثیر تعداد،برجستہ حدیثی آثار و مکتوبات ،مدارس وغیرہ نے اس چھوٹے سے علاقہ کو ایک بہت بڑے حدیثی مدرسہ میں تبدیل کردیا ہے جس کی وجہ سے دوسرے اسلامی علاقوں کے برجستہ محدثین و راوی ، احادیث کو اخذ اور حفظ کرنے کیلئے اس شہر کی طرف آتے تھے ۔یمن کی تہذیبی اور جغرافیائی خصوصیات، یمن کے مدرسہ کی پیدائش کی کیفیت، یمن کے محدثین و روات، حدیث کے برجستہ آثار، اور مدرسہ یمن کی بارز خصوصیات یہ سب ایسے موضوعات ہیں جو اس مقالہ میں بیان کئے گئے ہیں ۔س لحاظ سے یہ مقالہ اس حدیثی مدرسہ کی ہجری کی پہلی دو صدیوں کی تحقیق کرے گا ۔
    ١۔ یمن کا مختصر تعارف
    الف : یمن نام رکھنے کی وجہ
    یمن کے نام کی علت کے بارے میں علماء کے دمیان اختلاف ہے ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ ایک شخص کے نام سے لیا گیا ہے جو اس سرزمین پر زندگی بسر کرتا تھا اور وہ شخص ایک قول کی بناء پر حضرت ہود(علیہ السلام)کے فرزند” قحطان بن عابر” تھے ، یمن کے قبائل کا نسب بھی انہی کی طرف پلٹتا ہے(شیبانی ١٣٩١، ج١، ص ٣١) ۔
    بعض علماء کانظریہ ہے کہ یہ ”یُمن” سے لیا گیا ہے جس کے معنی برکت کے سمجھے جاتے ہیں ، مسلمان مشہور مورخ مسعودی نے اس سلسلہ میں کہا ہے: ” ان الیمن سمی یمنا لیُمنہ و الشام شاما لشومہ” (مسعودی ١٣٨٥، ج٢، ص٣٨٧) ۔
    لیکن ایک دوسرے گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ نام ”یمین” سے لیا گیا ہے جس کے معنی داہنی سمت کے ہیں، کیونکہ یمن اس سمت میں واقع ہے ، لیکن یہ کہ ”داہنی سمت” سے کونسی طرف مراد ہے اس میں اختلاف ہے اکثریت کے نزدیک یمن کعبہ کے داہنی طرف ہے اس لئے اس کو یمن کہاجاتا ہے اور شام کعبہ کے بائیں جانب واقع ہے ” سمیت الیمن لانھا عن یمین الکعبة والشام عن یسار الکعبہ، المشامة المیسرة” (بخاری ١٣١٤، ج٤، ص ٢١٧) ۔
    ب : جغرافیائی خصوصیات
    سرزمین یمن ، جغرافیائی لحاظ سے جزیرة العرب کے جنوب میں واقع ہے اور اس کے دو اصلی حصہ ہیں ایک ”یمن الاعلی” اور دوسرا ”یمن الاسفل” ۔ یمن الاعلی سے مراد شہر ”صنعا” ہے جس کا یمن کے اصلی اور قدیمی شہروں میں شمار ہوتاہے اوراس کو ”ام الیمن” اور ”قطب الیمن” بھی کہتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ زمین کا سب سے قدیمی ٹکڑا ہے جو ”سام بن نوح” کے ذریعہ آباد ہوا تھا(ہمدانی ١٩٨٩، ص ١٠٢) ۔
    لیکن ”یمن الاسفل” سے مراد شہر ”زبید” ہے اس کا شمار بابرکت اور مقدس زمینوں میں ہوتا ہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)کی دعائے رحمت اس کے شامل حال ہے جیسا کہ بیہقی نے دلائل النبوة میں بیان کیا ہے کہ جب اشعری یمن سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)کی خدمت میں پہنچے تو آپ نے فرمایا: کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا: زبید سے، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: ” بارک اللہ فی زبید” (بیہقی ١٤٠٥، ج ٦، ص ٢٩٨) ۔
    ج : تہذیبی خصوصیتیں
    اہل یمن کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہاں کے رہنے والے تمام لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)کے زمانے میں اسلام لے آئے تھے ، یمن کا مشہور مورخ خزرجی اس سلسلہ میںلکھتا ہے : اجمع المسلمون علی ان اھل الیمن اسلموا علی عھدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)) ۔ (یحیی الحسین ١٣٨٨، ج١ ، ص ٦٩) ۔
    اس سلسلہ کی دو اصلی علتوں کو بہت کم نظیر شمار کیا گیا ہے ، ایک یہ ہے کہ یمن کو مناسب جغرافیایی حیثیت حاصل ہے ، یہ ملک تجارت اور اقتصاد کے بہترین راستوں پر واقع ہے اور اسی وجہ سے جزیرة العرب کے اکثر و بیشتر تاجر ، یمن کا سفر کرتے تھے اور اسی طرح یمن کے تاجر بھی جزیرة العرب کے گوشہ و کنار کے بازار میں حاضر ہوتے تھے جیسا کہ بعض مفسرین(ابن کثیر ١٣٨٩، ج٧، ص ٣٧٨) نے کہا ہے ،اس موضوع کی طرف قرآن کریم میں بھی اشارہ ہوا ہے اور قریش کے گرمیوں(یمن) اور سردیوں (شام)کے سفر کے متعلق بیان ہوا ہے : ”لایلاف قریش ، ایلافھم رحلة الشتاء والصیف” (سورہ قریش آیت ١ و ٢) یہی چیز سبب بنی کہ اہل یمن تجارتی بازاروں میں حاضر ہونے کی وجہ سے جزیرة العرب کی جدید خبروں سے مطلع ہوتے رہے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی بعثت کی خبر بھی اسی ذریعہ سے ان کو ملی۔
    دوسرا سبب حج کا موسم تھا ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) ہر سال حج کے ایام میں مختلف قبیلوں کے سامنے اپنے دین اسلام کو پیش کرتے تھے اور ان کو دین اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے، یہ مسئلہ بھی سبب بنا کہ یمن کے قبیلہ جو موسم حج میں وہاں پر حاضر تھے وہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور آپ کے نئے دین سے آشنائی حاصل کریں، اس طرح یمن میں اسلام کے داخل ہونے کے بعد اہل یمن نے اس دین کا بہت وسیع پیمانہ پر استقبال کیا اور بہت جلدی یہ دین مختلف قبائل اور شہروں میں منتشر ہوگیا(حدیثی، ص ٩٠۔ ٩٥) ۔
    یہ مسئلہ (اہل یمن کا اسلام قبول کرنا)اس قدر تیزی سے آگے بڑھا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اسلام کی تبلیغ کیلئے یمن کے مختلف شہروں میں بہت سے افراد کو اعزام کیا تاکہ اس طرح ان کو اپنی شریعت سے اچھی طرح متعارف کرواسکیں، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے یمن کے مختلف شہروں میں جن افراد کو وہاں کے والی یا گورنر کے عنوان سے بھیجا ان کے نام درج ذیل ہیں:
    ١۔ صنعاء میں حضرت علی بن ابی طالب(علیہ السلام) ۔
    ٢۔ جند میں معاذ بن جبل ۔
    ٣۔ حضر موت میں مہاجر بن ابی امیہ ۔
    ٤۔ السکاسک والسکون میں عکاشہ بن ثور ۔
    ٥۔ زبید و رمع میں ابوموسی اشعری ۔
    ٦۔ تہامہ میں خالد بن ولید ۔
    ٧۔ نجران میں عمرو بن حزم انصاری ۔
    ٨۔ عک میں طاہر بن ابی ھالہ ۔
    ٩۔ ہمدان میں عامر بن شہر۔ (رجوع کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٥٤۔ ٦٠) ۔
    د : یمن کے فقہی اور کلامی مذاہب
    ١۔ فقھی مذاہب :
    پہلی دو صدیوں میں یمن کے لوگ کسی خاص فقھی مذہب سے تعلق نہیںرکھتے تھے اور فقہ نبوی حاصل کرنے کیلئے بہت سی کتابوں جیسے صحیفہ ھمام بن منبہ الصنعانی، جامع معمر بن راشد اور مسند عبدالملک بن عبدالرحمن الذماری پر اعتماج کرتے تھے (اکوع ١٣٩١، ص ١٠٦) ۔ دوسری صدی ہجری کے آخر میں فقہ حنفی اور فقہ مالکی یمن میںداخل ہوے ،اور ”زبید” و ” جند ” جیسے علاقوں میں رواج حاصل کرنے لگے ، لیکن یہ دونوں مذہب ان شہروں میں زیادہ وسعت حاصل نہ کرسکے اور خاص مکانوں میں محدود ہوگئے ۔
    لیکن کچھ عرصہ کے بعد دوسرے دو مذہب ظاہر ہوئے جو یمن کے اکثر شہروں میں پھیل گئے اور عام لوگوں نے انہی مذاہب کو اختیار کرلیا ۔ ان میں سے پہلے نمبر پر فقہ شافعی تھی جو ٢٠٤ ہجری میں یمن میںداخل ہوئی اور دوسرے شہروں جیسے معافر، جند، صنعائ، عدن اور تہامہ میں رائج ہوگئی ،دوسرا مذہب فقہ زیدی تھا جو ٢٨٤ ہجری میں الصعدة میں ظاہر ہوا اور بہت تیزی سے تمام مناطق میں منتشر ہوگیا(شرف الدین ١٤٠٠، ص ٣٦ ۔ ٣٧) ۔
    ٢ ۔ کلامی مذاہب:
    کلامی مذاہب میں صرف دوفرقے ”حروریة” اور ”اباضیہ” یمن میں داخل ہوسکے اور ان کے ماننے والے بہت زیادہ تھے ۔ فرقہ حروریہ ٧١ ہجری میں ابن الزبیر کی حکومت کے زمانہ میں صنعاء میں داخل ہوا ۔ یہ خوارج کا ایک گروہ تھا جو حروراء دیہات میں رہنے کی وجہ سے حروریہ کہلائے ۔ فرقہ ”اباضیہ” بھی مروان بن محمد معروف بہ ”حمار” کے زمانہ میں یمن میں داخل ہوا یہ لوک اس فرقہ کے سردار عبدالرحمن بن اباض کی طرف منسوب ہیں (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ١٣٨) ۔
    ٢۔ مدرسہ حدیثی یمن کی پیدائش
    مدرسہ حدیثی یمن کی بنیاد اسی وقت رکھی گئی تھی جب رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے اصحاب نے یمن میں قدم رکھا تھا ۔ اور جب تمام اہل یمن مسلمان ہوگئے تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)کے اصحاب کا اس ملک میں داخل ہونا اور آسان ہوگیااور تقریبا ٨٢ افرا دمدینہ سے تعلیمات نبوی کی تبلیغ و ترویج کے لئے یمن میں داخل ہوئے ۔
    اسی زمانے میں اہل یمن سے بھی کچھ لوگ مدینہ پہنچے اور رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے محضرمبارک میں مشرف ہوئے تاکہ اسلام کا اظہارکرنے کے ساتھ ساتھ احادیث سے بھی استفادہ کریں، یہ افراد جب اپنے شہر واپس پہنچے تو احادیث نبوی کو اپنے ہم وطنوں کو سناتے تھے اور تعلیمات نبوی کو منتشر کرتے تھے ۔ حقیقت میں یہ یمن کے پہلے محدثین تھے جنہوں نے اپنے تبلیغی سفر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی احادیث اور اخبار کو سنا اور اس کو اپنی قوموں کے سامنے بیان کیا ، ان میں سے بعض کے افراد کے نام یہ ہیں:
    ١۔ جریر بن عبداللہ البجلی۔
    ٢۔ عدی بن حاتم الطائی۔
    ٣۔ اشعث بن قیس الکندی۔
    ٤۔ فروة بن مسیک المرادی۔ (ابن حزم، ص ٢٧٨) ۔
    یہ کام ایسے ہی چلتا رہا ، یہاں تک کہ مدینہ میں یمن کے بہت سے افراد گروہ در گروہ پہنچ گئے جس کی وجہ سے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے ارادہ کیا کہ اپنے کچھ اصحاب کو یمن بھیجیں تاکہ اسلام کے آئین و آداب کو یمن کے لوگوں کو سکھا سکیں ۔ اس وجہ سے آپ نے بہت سے اصحاب جیسے : علی بن ابی طالب،ابوموسی اشعری، معاذ بن جبل، نعمان بن بشیر، ابوعبیدة الجراح، یعلی بن امیہ ، اور عطیہ بن عروہ وغیرہ کو یمن کی طرف روانہ کیا ۔
    اس طرح سے یمن کی مسجد (جو اس وقت ایک اہم ثقافتی مرکزشمار کی جاتی تھی) احادیث نبوی کو سکھانے کا ایک بہترین مرکز میں بن گئی ، قرآن ، حدیث اور فقہ کی تدریس کا ایک حلقہ وہاں کی مساجد میں کسی ایک صحابہ کے ساتھ قائم ہونے لگا ۔ رفتہ رفتہ یہ جلسے دوسری جگہوں پر بھی ہونے لگے اور ”مدرس” نامی جگہوں پر تشکیل ہونے لگے ۔ یہاں تک کہ ٥٩٤ ہجری میں ”اسماعیل بن طفتکین” نے یمن کا پہلا مدرسہ (جو بعد میں مدرسہ ”المیلین” کے نام سے مشہور ہوا) شہر زبید میں تاسیس کیا(اکوع ١٤٠٠، ص ٧) ۔
    ٣۔ مدرسہ یمن کے محدثین و روات
    الف : صحابہ یمانی
    جیسا کہ اوپر اشارہ ہوا کہ مدرسہ یمن کے سب سے پہلے محدثین او راوی اصحاب پیغمبر تھے جن میں سے بعض یمن کے رہنے والے تھے اور بعض دوسرے اسلامی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے ۔ یمن کے اصحاب میں سے تقریبا ٦٥ افراد تھے ان میں سے ایک گروہ یمن میں رہتا تھا اور انہوں نے جو حدیثیں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے سنی تھیں ان کو اہل یمن کے سامنے بیان کرتا تھا اور دوسرا گروہ دوسرے اسلامی شہروں میں مقیم تھا اور سنت نبوی کی تبلیغ و ترویج میں مشغول تھا ، اس وجہ سے مدرسہ یمن کی اچھی طرح شناخت کے لئے بہتر ہے کہ محدثین کے اس گروہ(جو مدرسہ حدیثی یمن میں اساتید کی حیثیت رکھتے تھے)سے آشنائی حاصل کی جائے (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٢٤٤۔ ٢٥٧) ۔
    ١۔ ابوموسی الاشعری
    ابو موسی عبداللہ بن قیس الاشعری، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے بہت ہی نزدیکی صحابی تھے یہ ایک طولانی مدت تک پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے حضور میں رہے ،آپ کا شمار ان افراد میں ہوتا ہے جن سے اہل یمن کے بہت سے لوگوں نے احادیث سنی ہیں جیسے عیاض الاشعری، عامر الشعبی، ثابت بن قیس النخعی، الاسود بن یزید النخعی اور ابوموسی اشعری وغیرہ۔ ابوموسی اشعری نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے علاوہ خلفائے اربعہ، معاذ بن جبل، عبداللہ بن مسعود، عمار بن یاسر اور عائشہ سے حدیثیںنقل کی ہیں جن کی تعداد ٣٦٠ احادیث سے زیادہ ہے ۔
    ٢۔ جریر بن عبداللہ البجلی
    انہوں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)، عمر بن خطاب اور معاویہ بن ابی سفیان سے روایت نقل کی ہے اوراہل یمن کے ایک گروہ جیسے شہر بن حوشب الاشعری، عامر بن سعد البجلی، عامر بن شراحیل الشعلبی اور ہمام بن الحارث النخعی نے ان سے روایات نقل کی ہیں، ان کی ١٠٠ حدیثیں موجود ہیں جن میں سے پندرہ حدیثیں صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ۔
    ٣۔ وائل بن حجر الحضرمی
    انہوں نے فقط پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ)سے حدیث نقل کی ہے اور ان کے دو بیٹے علقمہ اور عبدالجبار نے بھی ان کی احادیث کو نقل کیا ہے ، ان کی تقریبا ٧١ حدیثیں موجود ہیں جن میں سے چھے حدیثیں صحیح مسلم میں نقل ہوئی ہیں ۔
    ٤۔ عدی بن حاتم بن عبداللہ الطائی
    آپ عامر الشعبی، محل بن خلیفہ الطائی اور تمیم بن طرفةالطائی کے حدیث کے استاد ہیں ان سے ٦٦ حدیثیں نقل ہوئی ہیں جن میں سے پانچ حدیثیں صحیحین میں موجود ہیں ۔
    ٥۔ مقدام بن معدی کرب الکندی
    انہوں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ)، خالد بن ولید، معاذ بن جبل اور ابوایوب انصاری سے حدیثیں نقل کی ہیں اور جبیر بن نفیر الحضرمی، حسن بن جابر الکندی، خالد بن معدان الکلاعی اور عامر الشعبی وغیرہ جیسے افراد نے ان کی احادیث کو نقل کیا ہے ۔ان کی ٤٧ حدیثیں موجود ہیں جن میں سے دو حدیثیں صحیح بخاری میں ذکر ہوئی ہیں ۔
    ٦۔ شرید بن سوید الثقفی
    ابن حبان نے ان کو مشاہیر صحابہ میں شمار کیا ہے اور عمروبن نافع الثقفی، یعقوب بن عاصم الثقفی اور ان کے بیٹے عمرو بن الشرید نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں ، انہوں نے ٢٤ حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سے کچھ احادیث کو بخاری نے کتاب الادب میں اور ترمذی نے الشمائل میں ذکر کی ہیں ۔
    ٧۔ لقیط بن عامر العقبلی
    آپ کا شمار بھی یمن کے مشاہیر صحابہ میں ہوتا ہے اور عبداللہ بن حاجب، عمروبن اوس الثقفی، ابن ابی الخیثمہ وغیرہ جیسے راویوں نے آپ سے حدیثوں کو نقل کیا ہے ، انہوں نے ٢٤ حدیثیں نقل کی ہیں ۔
    ٨۔ عبداللہ بن الحارث الزبیدی
    آپ سلیمان بن زیاد الحضرمی، عبید بن التمامہ المرادی، عمرو بن جابر الحضرمی اور مسلم بن یزید الصدفی جیسے راویوں کے استاد ہیں، آپ سے ١٧ حدیثیں نقل ہوئی ہیں آپ کی حدیثوں کو ابودائود، ترمذی اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے ۔
    ٩۔ صعب بن جثامہ اللیثی
    ابن حبان نے آپ کا شمار یمن کے مشاہیر صحابہ میں شمار کیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس اور شریح بن عبید الحضرمی نے ان کی احادیث کو نقل کیا ہے آپ نے ١٦ حدیثیں نقل کی ہیں، جن میں سے دو حدیثیں صحیحین میں موجود ہیں ۔
    ١٠۔ اشعث بن قیس ا لکندی
    انہوں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور عمر بن خطاب سے حدیث نقل کی ہے اور جریر بن عبداللہ البجلی، عامر الشعبی، ابراہیم النخعی، عبدالرحمن بن عدی الکندی جیسے اشخاص نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں ان سے کل ٩ حدیثیں نقل ہوئی ہیں جن کو بخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔
    یمن کے دوسرے اصحاب جو حدیث کو نقل و منتشر کرنے میں مشغول تھے ان کے نام یہ ہیں: زیاد بن حارث الصدائی، سلمة بن یزید الجعفی، فروة بن مسیک الغطیفی، کعب بن عیاض الاشعری، نمط بن فیس الھمدانی، صخر بن وادعة العامدی، کعب بن عاصم الاشعری، طارق بن سوید الحضرمی، عامر الشھر الناعطی، مالک بن عبادة الھمدانی، عمروبن معدی کرب، غرفة بن الحارث الکندی، وھب بن قیس الثقفی، ابو شاہ الیمانی، عقبہ بن نمر الھمدانی وغیرہ۔
    ب : یمانی تابعین
    مدرسہ یمن کا دوسرا حلقہ صحابہ کے بعد یمانی تابعین کا ہے جنہوں نے اس مدرسہ کو پر رونق کرنے میں بہت اچھا کردار پیش کیا ہے ۔ یہ افراد جن حدیثوں کو شیوخ صحابہ سے شفاہی طور پر سنتے تھے ان کو اپنی مساجد میں اپنے شاگردوں کے سامنے پیش تدریس کرتے تھے اوراس طرح انہوں نے داخل یمن اورخارج یمن میں احادیث نبوی کو نقل اور منتشر کیا ۔
    لیکن ان تابعین میں سے جن کی تعدد ٧٠ تھی ، تین تابعین نے حدیث کو منتشر کرنے میں بہت اچھا کردار پیش کیا ہے:
    ١۔ طاوس بن کیسان الیمانی
    آپ بزرگ تابعین اور اہل یمن کے مفتی تھے ، زید بن ثابت، ابو ہریرہ، زید بن ارقم، ابوموسی اشعری، ابن عباس، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن الزبیرجیسے اصحاب سے انہوں نے حدیثیں سنیں، اور مجاہد بن جبرف عطاء بن ابی رباح، عمرو بن دینار، ابن الشہاب الزہری اور محمد بن المنکدر جیسے اشخاص نے ان سے حدیثوں کو نقل کیا ہے ، آپ زاہداور عابد شخص تھے اور تمام بزرگ حضرات نے آپ کی صداقت اور وثاقت کی تصریح کی ہے جیسا کہ ذہبی نے عمروبن دینار کے بقول نقل کیا ہے : ” حدثنا طاوس و لاتحسبن احدا صدق لھجة من طاوس” (ذھبی ١٤٠٢، ج٥، ص ٤٦٣) ۔ اسی طرح الجندی نے ان کے سلسلہ میں اس طرح کہا ہے: ”کان ولاة الیمن و علمائھم یعولون فی امورھم الدینیة علی قولہ فقد اشتھربانہ امام وقتہ و فقیہ مصرہ”۔ (کندی ١٤٠٣، ج ١، ص ١٠٤) ۔
    ٢۔ ابو عقبہ ہمام بن منبہ الیمانی
    آپ نے ابوہریرہ، معاویہ بن ابی سفیان، ابن عباس، ابن عمر، ابن الزبیر جیسے اصحاب سے حدیثیں سنی ہیں اور آپ کے حدیث کے استاد عقیل بن معقل، علی بن حسین بن آتش اور معمر بن راشد جیسے اشخاص تھے ۔ آپ کا شمار بھی ثقات تابعین میں ہوتا تھا اور ابن معین ، ابن حبان، ذھبی اور ابن حجر جیسے بزرگ افراد نے آپ کی وثافت کی گواہی دی ہے ۔
    ٣۔ ابوعبداللہ وھب بن منبہ الیمانی
    آپ ہمام بن منبہ کے بھائی ہیں اور انس بن مالک ، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر بن خطاب، نعمان بن بشیر، ابی سعید الخدری اور ابوہریرہ جیسے بزرگ افراد سے انہوں نے حدیثیں سنی ہیں اور طاوس بن کیسان، عمرو بن دینار، اوراپنے بھائی ہمام بن منبہ سے بھی روایت نقل کی ہیں، آپ بہت سے راویوں کے استاد تھے ،جیسے :داود بن عیسی الصنعانی، سماک بن الفضل، عبدالکریم الحوران ، عمرو بن خالد الصنعانی اور آپ کے دو بیٹے عبدالرحمن اور عبداللہ ۔
    آپ کا شمار ثقات اور معتمدین میں ہوتا تھا ، ابن حبان ، ذھبی اور ابن حجر نے آپ کی توثیق کی ہے ۔
    دوسرے یمن کے تابعین جنہوں نے حدیث کو نشر کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا ہے ان کے نام یہ ہیں: ادریس الصنعانی، ثمامة بن شراحیل الیمانی، حجر بن قیس المدری، ربیعة بن سلمة الیمانی، زیاد الجندی، سعد الاعرج، شھاب بن عبداللہ الخولانی، صفوان بن یعلی التمیمی، عبداللہ بن جریع، عبداللہ بن زید بن بوذان، عبدالرحمن بن بزرج، عثمان بن یزدویة، عطاء بن نافع، عکرمة البربری وغیرہ (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٢٨٧۔ ٢٩٧) ۔
    ٤۔ مدرسہ حدیثی یمن کے برجستہ آثار
    مدرسہ یمن کے محدثین و روات کی دو صدیوں کی انتھک کوشش کے بعد حدیثی تالیفات کا مجموعہ مرتب ہوا جس کا مقام ومرتبہ روائی مصادر میں بہت زیادہ ہے اور یہ بہت سی دوسری معتبر کتابوں کے لئے مرجع و مآخذ کے عنوان سے پہچانی جاتی ہیں، اس وجہ سے بہتر ہے کہ اس مدرسہ سے زیادہ آشنائی حاصل کرنے کیلئے ان کی برجستہ تالیفات سے آشنائی حاصل کریں (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٤٨٧ ۔ ٤٩٤) ۔
    ١۔ صحیفہ ہمام بن منبہ (١٣٢)
    اس کتاب کو مشہور تابعی ”ہمام بن منبہ”نے مشہور صحابی ابوہریرہ سے نقل کرتے ہوئے لکھی ہے اور یہ بہت پرانی کتاب ہے جو احادیث نبوی کے سلسلہ میں لکھی گئی ہے ۔ جیسا کہ ذہبی نے اس کی تعریف میں کہا ہے: ” صاحب تلک الصحیفہ التی کتبھا عن ابی ہریرة و ھی نحو من مائة و اربعین حدیثا حدیث بھا عنہ معمر بن راشد” ۔ (ذھبی ١٤٠٢، ج٥، ص ٣١١) ۔ اسی طرح ڈاکٹر صبحی صالح نے اس صحیفہ کے متعلق لکھا ہے : ” تعد ھذہ الصحیفہ نتیجہ علمیة باھرة تقطع بتدوین الحدیث فی عصر مبکر و تصحح الخطا الشایع ان الحدیث لم یدون الا فی اوائل القرن الھجری الثانی”۔ (صبحی صالح ١٣٨٨، ص ٣٢) ۔
    ٢۔ جامع معمر بن راشد (١٥٣) ۔
    معمر بن راشد تابع تابعین میں سے پہلا وہ شخص ہے جس نے احادیث کو جمع کیا اور ان کی ابواب بندی کی ۔ جلال الدین سیوطی اس متعلق لکھتے ہیں : ” اول من جمع الحدیث والآثار، عبدالملک بن جریح بمکة و معمر بن راشد بالیمن”۔ اس جامع کی خصوصیت یہ ہے کہ تابعین کے فتوں کے ساتھ دوسرے اسلامی ممالک میں بھی منتشر ہوئی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر علماء دوسرے اسلامی ممالک میں منتشر ہوگئے تھے اور خوارج جیسے لوگوں کی بدعت اور منحرف فرقوں کا مقابلہ بھی مقصود تھا ۔
    ٣۔ مصنف عبدالرزاق (٢١١ھ)
    ” الجامع الکبیر فی الحدیث” یا مصنف عبدالرزاق ، روایات کا سب سے بڑا مجموعہ ہے جو احادیث نبوی کے سلسلہ میں تصنیف ہوا ہے جیسا کہ ذھبی نے اس متعلق کہا ہے: ”کتب عبدالرزاق شیئا کثیرا و صنف الجامع الکبیر و ھو خزنة علم” (ذھبی ١٣٨٢، ج ٢، ص٦٠٩) ۔ اسی طرح ابن حزم نے حدیث کی کتابوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا : ” ثم الکتب التی فیھا کلام رسول اللہ و کلام غیرہ ، ثم ما کان فیہ الصحیح فھو اجل مثل: مصنف عبدالرزاق و مصنف ابن ابی الشیبة و مصنف بقی بن مخلد…”۔ (سیوطی ١٣٨٥، ج ١، ١١٠) ۔ یہ کتاب فقہی ابواب کے اعتبار سے مرتب ہوئی ہے اور مرفوعہ، موقوفہ اورمقطوعہ احادیث پر مشتمل ہے ۔
    ٥۔ مدرسہ حدیثی یمن کی بارز خصوصیات
    ١۔ مدرسہ یمن کے علماء کا طلب حدیث کیلئے سفر کرنا
    لغت میں ” رحلة” کے معنی کوچ کرنے کے ہیں اورحدیث کی اصطلاح میں علمی سفر کو کہا جاتا ہے جو بلند اسناد کو حاصل کرنے یا حفاظ سے ملاقات اور استفادہ کرنے کی غرض سے ہوتا ہے (بغدادی ١٤٠٣، ج ٢، ٢٢٣) ۔
    علمی سفر کے آغاز کو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ)کی ابتداء جاننا چاہئے کیونکہ بہت سے قبائل دین اسلام سے آشنائی حاصل کرنے اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و الہ) کی حدیثوں کوسننے کیلئے مدینہ کا سفر کرتے تھے اور اس کام میںاہل یمن کو ہر قبیلہ اور علاقہ پر سبقت حاصل ہے ۔ یہ کام تابعین کے زمانہ میں بھی چلتا رہااور یمنی محدثین احادیث کو حاصل کرنے کیلئے مختلف شہروں اورملکوں کا سفرکرتے تھے جیسے مکہ، مدینہ، عراق اور شام کازیادہ سفر کرتے تھے ۔ جیسا کہ ذہبی نے اس سلسلہ میںلکھا ہے: ” خرج من الیمن ائمة التابعین و تفرقوا من الارض” (ذھبی ١٤٠٥ ، ص ٤٧) ۔
    ٢۔ مدرسہ یمن کی احادیث کی تمام سندوں کا صحیح ہونا
    مختلف مراکز و مدارس سے جو حدیثیںجمع ہوئی ہیں ان میںمدرسہ یمن کی حدیثیںزیادہ صحیح اور بہترین ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یمانی محدثین حدیث اور اس کی اسانید کو ضبط و ثبت کرنے میں بہت زیادہ شدت سے کام لیتے تھے ۔ جیسا کہ خطیب بغدادی نے اس سلسلہ میںکہا ہے: ” ولاھل یمن روایات جیدة و طرق صحیحة مرجعھا الی الحجاز” (بغدادی ١٤٠٣، ج٢، ص ٢٨٧) ۔ اسی طرح حاکم نیشاپوری نے اس متعلق اظہار خیال کیا ہے: ”اصح اسانید الیمانین:معمرعن ہمام بن منبہ عن ابی ہریرة(نیشاپوری ١٩٣٧،ص ٥٥) ۔
    ٣۔ مدرسہ یمن کے علماء کا علوم حدیث کے متعلق اہتمام کرنا
    مدرسہ حدیثی یمن کی ایک خصوصیت (جو کہ اس مدرسہ کی علمی نشو ونما کو ظاہر کرتی ہے) یہ ہے کہ ان کے علماء اورمشاہیر نے علوم حدیث پر زیادہ توجہ دی ہے یعنی مدرسہ یمن کے بہت سے محدثین نے حدیث کو نقل کرنے کے علاوہ حدیث کے دوسرے علوم میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے ۔ مثال کے طور پر طاوس بن کیسان الیمانی، وہب بن منبہ، معمر بن راشد، عبدالرزاق بن ہمام اور ہشام بن یوسف الصنعانی کا شمار ان بزرگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے رجال، مصطلح الحدیث اور غریب الحدیث جیسے علوم میںنظر دی ہے اور ان علوم پر اپنا نظریہ پیش کیا ہے (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٥٣٣) ۔
    ٤۔ مدرسہ یمن کی کثرت احادیث
    مدرسہ یمن کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ آج جتنی بھی حدیثیں موجود ہیں ان میں اکثر و بیشتر حدیثیں مدرسہ یمن کی دین ہے ، جیسا کہ عبدالرزاق بن ہمام نے ان کی احادیث کی تعداد کے متعلق کہا ہے: ” کتبت عن معمر عشرة الآف حدیث” (ذھبی١٤٠٢، ج٧، ص ١١) اسی طرح ابراہیم بن عباد الدبری نے اس کے متعلق کہا ہے : ” کان عبدالرزاق یحفظ نحوا من سبعة عشر الف حدیث” (رازی ١٤٠١، ص ١٩٠)اس کے علاوہ مدرسہ یمن کی تحقیق کرنے سے اس کی کثرت حدیث بخوبی روشن ہوجاتی ہے مثال کے طور پر مصنف عبدالرزاق کی١٩٤١٨ ، جامع معمر بن راشدکی١٦١٥ ، اور صحیفہ ہمام بن منبہ کی ١٣٩ حدیثوں کو ثبت کیا گیا ہے (مراجعہ کریں: کبسی ١٤٢٥، ص ٥٥٨) ۔
    جمع بندی اور نتیجہ
    مدرسہ حدیثی یمن اہل سنت کا ایک بہترین موثرترین اور فعال مرکز ہے جس نے حفظ اور میراث حدیث کو نشر کرنے میں بہت زیادہ حصہ لیا ہے یمن کے حدیثی مرکز کا مقام یہ تھا کہ دوسوسال کے عرصہ میں جس مدرسہ میں بھی آپ نظر ڈالتے تو وہاں پر مدرسہ یمن کے بزرگ اور برجستہ علماء موجود تھے، اہل سنت کے حدیثی مکتب کی رونق کی اصل وجہ مدرسہ یمن کا سب سے زیادہ حصہ لینا ہے ۔
    البتہ مدرسہ حدیثی یمن کی تحلیل کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے دوسرے اہم موضوعات بھی اس مدرسہ میں پائے جاتے تھے جو مطالعہ اور تحقیق کرنے کیلئے بہترین چیز ہے :
    ١۔ اہل یمن کے حدیثی سفروں کی تحقیق ۔
    ٢۔ یمن کے حدیثی دروس اور مجالس کے گروہ ۔
    ٣۔ یمن کے برجستہ حدیثی خاندان ۔
    ٤۔ احادیث کو نشر کرنے میں یمن کی عورتوں کا کردار ۔
    ٥۔ آج کے زمانہ میں یمن میں حدیث سے متعلق تحقیق ۔
    امید ہے کہ اس مقالہ کو ان موضوعات پر تحقیق کیلئے ایک فتح الباب کے عنوان سے شمار کیا جائے ۔
    کتابنامہ
    ١۔ ابن حزم، علی بن احمد الاندلسی، اسماء الصحابة الرواة و مالک واحد من العدد، مصر، دار المعارف۔
    ٢۔ ابن کثیر ابی الفداء اسماعیل بن کثیر (١٣٨٩ق )، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دار الفکر۔
    ٣۔ اکوع، اسماعیل بن علی (١٤٠٠ق )، المدارس الاسلامیة فی الیمن، منشورات جامعة صنعائ۔
    ٤۔ اکوع، محمد بن علی (١٣٩١ ق) الیمن الخضراء مھد الحضارة، القاھرة، مطبعة السعادة۔
    ٥۔ بخاری، محمد بن اسماعیل (١٣١٤ ق) صحیح البخاری، القاھرہ، دار التراث العربی۔
    ٦۔ بستی، محمد بن حبان (١٣٧٩ ق)مشاھیر علماء الامصار، القاھرة ، مطبعة لجنة التالیف والنشر۔
    ٧۔ بغدادی، احمد بن علی الخطیب (١٤٠٣ ق) الجمع لاخلاق الراوی و آداب السامع، ریاض، مکتبة المعارف۔
    ٨۔ بیھقی، احمد بن حسین (١٤٠٥) دلائل النبوة و معرفة احوال صاحب الشریعة، بیروت دار الکتت العلمیة۔
    ٩۔ حدیثی، نزار عبداللطیف، اہل الیمن فی صدر الاسلام، سوریا، المؤسسہ العربیة۔
    ١٠۔ ذھبی ، محمد بن احمد بن عثمان (١٤٠٥)، الامصار ذوات الآثار، بیروت ، دار ابن کثیر۔
    ١١۔ ذھبی ، محمد بن احمد بن عثمان (١٣٨٢)، میزان الاعتدال فی نقد الرجال،مصر، دار احیاء الکتب العربیة۔
    ١٢۔ ذھبی، محمد بن احمد بن عثمان (١٤٠٢) سیر اعلام النبلاء ، بیروت ، موسسہ الرسالة۔
    ١٣۔ رازی، احمد بن عبداللہ (١٤٠١ ق)تاریخ مدینةصنعاء مطبعة صنعائ۔
    ١٤۔ سیوطی، جلال الدین عبدالرحمن (١٣٨٥ ق)، تدریب الراوی فی شرح شرح تقریب الندوی، مصر، دار الکتب الحدیثة۔
    ١٥۔ شرف الدین، احمد حسین (١٤٠٠)، تاریخ الفکر الاسلامی فی الیمن، مطبعہ الریاض۔
    ١٦۔ شیبانی، عبدالرحمن بن الدبیع (١٣٩١ ق) قرة العیون باخبار الیمن المیمون، دار المطبعة السلفیة۔
    ١٧۔ صبحی سالح (١٣٨٨) علوم الحدیث و مصطلحة، بیروت، دار العلم للملابین۔
    ١٨۔ کبسی، محمد علی احمد (١٤٢٥ ق)، مدرسة الحدیث فی الیمن فی القرنین الاول و الثانی الھجریین،جامعة صنعائ۔
    ١٩۔ کندی، محمد بن یوسف السکسکی(١٤٠٣ ق)، السلوک فی طبقات العلماء والملوک،صنعاء وزارة الاعلام والثقافة۔
    ٢٠۔ مسعودی، علی بن حسن (١٣٨٥) مروج الذھب و معادن الجواھر، مصر، مطبعة السعادة۔
    ٢١۔ نیشاپوری، ابوعبداللہ الحاکم (١٩٣٧ ) معرفة علوم الحدیث، القاھرة، دارالکتب المصریة۔
    ٢٢۔ ہمدانی، حسن بن احمد بن یعقوب (١٩٨٩ئ)، صفة جزیرة العرب، بغداد، دار الشئوون الثقافیة العامة، یحیی بن الحسین (١٣٨٨ ق)، غایة الامانی فی
    اخبار قطرالیمانی، القاھرة ، دار الکتاب العربی۔

    منبع:taqrib.info