islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. کیاامام زمانہ عج سے ملاقات ممکن ہے ؟

    کیاامام زمانہ عج سے ملاقات ممکن ہے ؟

    کیاامام زمانہ عج سے ملاقات ممکن ہے ؟
    Rate this post

    کیاامام زمانہ عج سے ملاقات ممکن ہے ؟
    وجود امام زمانہ عج پر اعتقاد اور ان کی امامت کو قبول کرنا ایک واضح مسئلہ ہے کہ جس کاشمار مذھب شیعہ کی ضروریات میں سے کیا جاتا ہے ۔عقلی ،قرآنی اورحدیثی دلائل کے ذریعے یہ اعتقاداب تک بطوراحسن روشن اورواضح کیا گیا ہے لیکن زمانہ غیبت کی خاص تاریخی شرائط کےپیش نظر بہت سی بحثیں ابھی تک تشنئہ کام پڑی ہیں مثلا زمانہ غیبت میں حضرت حجت عج کی زندگی کی خصوصیات ، شیعی نظریہ میں مسئلہ غیبت کے آثار ،فوائداورنتائج ،
    غیبت کے طولانی ہونے کے عوامل اور اس میں لوگوں کا کردار ،ظہورکی شرائط اورعلامات وغیرہ،ابھی تک بہت کم بحثیں ہوئی ہیں کہ ان مسائل کے تمام زاویوں کوزیربحث لایا جائے انہی موضوعات کی طرح ایک موضوع جواپنی تمام تر اہمیت وضرورت کے باوجود ابھی تک تحقیق کے ترازو میں نہیں تولا گیا وہ اس زمانے میں امام زمانہ عج کی زیارت اور ان سے ملاقات ہے کو جو امام کے آخری نائب کی رحلت کے بعد سے ابھی تک شیعوں کے درمیان رائج رہا ہے اورمختلف جہتوں اورزاویوں سے بحث اورتحقیق کا محتاج ہے اوردوسری طرف موضوع کی پیچیدگیاں ،علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ موضوع کی شکل اورقالب کے لحاظ سے بھی دقت کی طلبگار ہیں کیونکہ ہر قسم کی کج فکری اورافراط وتفریط اس مسئلہ کو پیش کرنے میں مشکلات ایجاد کرسکتی ہے اور اسی بناء پر انسان کاوسیع النظر اورمعتدل ہونا ،اس وادی میں قدم رکھنے کی مھمترین شرط ہے ۔
    موجودہ کتابوں میں بہت کم ایسی کتابیں ملیں گی جن میں اس موضوع کے عوامل اور اس کے نتائج پر بحث کی گئی ہو زیادہ تر کتابوں میں حالات زندگی اورحکایات کو نقل کیا گیا ہے کہ ان میں سے بھی بعض عوامانہ طرز پر لکھی گئی ہیں،امام زمانہ عج کی مالاقات کے واقعات اورداستانیں بغیر کسی بحث اورتحقیق کے جمع کی گئی ہیں کہ جن کے ذریعے اس موضوع میں کئی مبھم مطالب کا اضافہ ہوا ہے اس مختصرسے مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ افراط وتفریط سے بالاتر ہوکر علمی اور روشمند طریقے سے اس موضوع پر بحث کی جائے جس کا اصلی سوال یہ ہے کہ کیا غیبت کبریٰ کے زمانہ میں حضرت امام زمانہ عج کی زیارت ممکن ہے یا نہیں ؟یا اتفاقا ملاقات ہوسکتی ہے یا نہیں ؟روایات اس بارے میں کیا کہتی ہیں ؟
    شیعہ علماء اصل مسئلہ (یہ کہ زمانہ غیبت میں حضرت حجت عج کی زیارت ممکن ہے )کو اجمالا قبول کرتے ہیں اگرچہ اس مسئلہ کی خصوصیات اورجزئیات میں اختلاف نظرپایا جاتاہے اوربعض علماء نے اس مسئلہ کی تردید اوراس کا انکار کیا ہے ۔
    موضوع کی تمام زاویوں سے علمی بحث کےلیے اس موضوع کو تین بابوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔
    ۱:موضوع کی وضاحت اورموضوع کی حد بندی وغیرہ
    ۲:جو زیارت کو ممکن سمجھتے ہیں ان کے دلائل
    ۳:اورتیسرے باب میں ان علماء کے دلایل پر بحث ہوگی جو زیارت کو غیبت کے زمانہ میں ممکن نہیں سمجھتے ۔
    بنیادی کلمات:ملاقات ،غیبت ،توقیع شریف ،امکان
    پہلا باب :
    توقیع شریف :غیبت صغری ٰ میں جب امام زمانہ عج کا تمام لوگوں سے رابط نہیں تھا بلکہ خاص نائب تھے جو لوگوں اورامام زمانہ عج کے درمیان واسطہ ہواکرتے تھے لوگوں کےمسائل امام تک پہچانا اور ان کا جواب لوگوں تک پہچانا ان کا اولین فریضہ تھا اور جوتحریر ایک خط کی صورت میں امام زمانہ عج کی طرف ان کو ملتی تھی اس کو توقیع کہاجاتاہے ۔
    ملاقات کا معنی :ملاقات یعنی دوسرے شخص کے ساتھ ایساارتباط جو گفتگواورشناخت کوبھی شامل ہو ۔امام عصر عج کے ساتھ ملاقات کا اصطلاح اورعرف میں معنی یہ ہے کہ امام عج کے وجود مبارک کو دیکھنا ،گفتگوکرنا وغیرہ ہوسکتاہے یہ ملاقات عالم خواب میں ہوئی ہو یا بیداری کے عالم میں ۔
    خواب میں ملاقات :ایسی ملاقات کہ جس کا ظرف اورجگہ عالم خواب ہے شخص حضرت امام زمانہ عج سے عالم خواب کے اعتبار سے ملاقات کرتاہے اور گفتگوکرتاہے ایسی ملاقات مختلف اشخاص کے لیے ممکن ہے مخصوصا جب انسان روحی اعتبارسے قوی ہواورعمل وکردار کے حوالے سے بھی پختہ ہوالبتہ عالم خواب نہ حجت ہے اور نہ شرعی اعتبار سے تکلیف کا سبب بنتا ہے
    بیداری کے عالم میں ملاقات :
    یعنی انسان بیداری کے عالم میں اپنی ظاھری آنکھوں کے ذریعے حضرت حجت کی زیارت کرے اوران کے ساتھ گفتگو کرے ،ایسی ملاقات کی تین مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں
    الف:حضرت حجت کی زیارت ،غیر حقیقی عنوان کے اعتبار سے :اس طرح کہ ملاقات کرنے والا اورحضرت حجت کی زیارت کرنے والا اصلا متوجہ نہ ہوکہ یہی امام زمانہ عج ہیں اور اس کو پتہ بھی نہ چلے اوربعدمیں بھی اسے پتہ نہ چلے کہ کبھی امام کی زیارت ہوئی تھی ۔
    یہ ہماری بحث سے خارج ہے کیونکہ اس کو نہ ملاقات کے وقت پتہ چلتا ہے کہ یہی امام ہیں اور نہ ملاقات کے بعد کبھی معلوم ہوتاہے کہ امام سےملاقات ہوئی تھی اور ممکن ہے کہ یہ صورت اکثر افراد کے لیے پیش آئے جس طرح کہ بعض روایات میں آیاہے اورآگے چل کران روایات کو بیان بھی کیا جائےگا۔
    ب :امام سے ملاقات اس عنوان سے کہ ملاقات کرنے والا ملاقات کے وقت امام کو پہچانتا ہو کہ یہی امام زمانہ عج ہیں ۔ یہ ہماری بحث میں شامل ہے اوربحث ہوگی کہ کیاایسی ملاقات غیبت کے زمانہ میں ممکن ہےیا نہیں ؟
    ج :امام سے ملاقات کرے لیکن دوران ملاقات معلوم نہ ہو کہ یہی امام زمانہ عج ہیں لیکن ملاقات کے بعد پتہ چلے کہ وہ امام زمانہ عج تھے یہ بھی ہماری بحث میں شامل ہے۔
    آخری دوصورتیں ہماری بحث میں شامل ہیں البتہ اصل بحث کو شروع کرنے سے پہلے چند ایک اہم سوالات کو ذکر کرنا مناسب ہے کیونکہ ہماری یہ تحقیق انہی سوالوں کے گرد گھومتی ہے۔
    کیا غیبت کبری میں امام زمانہ عج کی زیارت اور ان سے ملاقات ممکن ہے ؟اگر بالفرض ممکن ہے تو کیا سب کے لیے یہ توفیق میسر ہے یا صرف خاص اشخاص اورخاص شرائط کےساتھ ممکن ہے ؟غیبت کا معنی کیا ہے ؟کیا غیبت سے مراد اصلا امام کے وجود مبارک کانظر نہ آنا ہے یا مراد امام کا گمنام ہوناہے اگرچہ نظر آئیں ؟وغیرہ
    پہلے سوال کے جواب میں کہا جاسکتاہے کہ اس کے جواب سے دوطرح سے بحث کی جاسکتی ہے اولا یہ کہ کیا عقلاممکن ہے امام سے ملاقات یا نہیں ؟اگر جواب مثبت ہے تو پھر یہ سوال ہوگا کہ کیا واقع میں بھی کسی کی امام سے ملاقات ہوئی ہے یا نہیں ؟جہاں تک امکان عقلی کاتعلق ہے کہ کیاعقلی طورپربھی امام سے ملاقات ممکن ہے؟ تو اس کا جواب واضح اورروشن ہونے کہ وجہ سے زیادہ بحث کا محتاج نہیں، کیونکہ امام سے ملاقات کے ممکن ہونے پر شیعہ علماء کا اتفاق ہے شاید کوئی ہو جس نے یہ کہا ہو کہ امام سے ملاقات عقلاممکن نہیں کیونکہ امام سے ملاقات نہ تناقض کاسبب ہے اور نہ استحالہ کا سبب تاکہ عقلی طورپر ناممکن کہیں بلکہ عقلی دلایل الٹا ملاقات کے ممکن ہونے پر دلالت کرتے ہیں جیسے امامت کا فلفسہ ،زمین کا حجت خداسے خالی نہ ہونا ،لوگوں کا امام کے وجود کا محتاج ہونا وغیرہ اگر غیبت کے زمانے میں لوگ امام کے ظاہری وجودسے محروم ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو امام کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ امام کے ظاہری وجود مبارک سے محرومی اس رکاوٹ کی وجہ سے ہے کہ جس کوان روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ جو روایات غیبت کے فلسفے کوبیان کرتی ہیں ان روایات میں ان رکاوٹوں کو بیان کیا گیا ہے کہ کیوں لوگ امام کے ظاہری وجودسے محروم ہیںجیسے قتل کا ڈر ،ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں پر بیعت نہ کرنا ،لوگوں کا آمادہ نہ ہونا وغیرہ اب اگر لوگ امام کے محتاج ہیں اور ضرورت ہے تو یہ کافی نہیں ہے بلکہ ان رکاوٹوں کو ہٹانا بھی ضروری ہے جن میں سے آج سب سے زیادہ مھم اپنے آپ کی اورلوگوں کی تربیت ہے اورظہور کے زمینہ کو ہموار کرنا ہے البتہ یہ رکاوٹیں امام کے ظہور سے مانع ہیں نہ یہ کہ امام کسی ایک شخص سے بھی نہیں مل سکتے ہوسکتاہے کہ ایک شخص میں تمام شرائط پائی جائیں اور تمام رکاوٹیں اس شخص کی نسبت ہٹ جائیں توامام سے ملاقات ممکن ہوسکتی ہے ،شیخ طوسی کا بھی یہی نظریہ ہے اسی طرح وہ واقعات اورروایات جو امام کے ساتھ ملاقات کوبیان کرتی ہیں اس مسئلے کو مزید روشن کردیتی ہیں وہ چیز جس پر دقت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ کیا واقع میں بھی کسی کی ملاقات امام سے ہوئی ہے یا نہیں ؟مختلف نظریات پائے جاتے ہیں بعض اصلاقبول نہیں کرتے کہ واقع میں غیبت کبریٰ کے زمانہ میں کسی شخص کی امام سے ملاقات ہوئی ہو اوربعض قبول کرتے ہیں اوربعض قبول کرتے ہیں لیکن ہر روایت اور واقعہ کو نہیں بلکہ خاص افراد کے لیےاورخاص شرائط کے پیش نظر قبول کرتے ہیں ۔
    اس مضمون میں جو چیز مہم ہے وہ دونوں طرف سے پیش کیے گئے دلائل کی تحقیق ہے ؟تاکہ مذھبی احساسات سے بالاتر ہوکر علمی معیار کی بناپر دونوں طرف کے دلائل کو علمی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے ۔امام سے ملاقات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے کہ بعض کہتے ہیں واقع میں ممکن ہے اوربعض نفی کرتے ہیں ۔اس اختلاف کی اصلی وجہ (خود امام کے غیب ہونے سے مراد کیا ہے؟) اس میں اختلاف ہے ۔کیا امام کے غائب ہونے کا مطلب اصلاامام کے وجود کا غائب ہونا ہے یا مراد عنوان کا مخفی ہوناہے (یعنی ممکن ہے انسان امام کو دیکھے لیکن پہچان نہ سکے اورمعلوم نہ ہوسکے کہ یہی امام ہیں ؟البتہ یہ سوال ان روایات سے پیدا ہوتا ہے جو امام کی غیبت کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔
    امام کے وجود کے غائب ہونے کا مطلب ہے کہ کوئی فوق العادہ طاقت کارفرما ہے اور یہ مطلب دوطرح سے سمجھا جا سکتا ہے، پہلا یہ کہ یا مراد یہ ہے کہ امام غیبت کے زمانے میں موجودہ عادی اورمادی شرائط سے بالاتر ہیں جیسا کہ شیخیہ کہتے ہیں اور جس عالم میں امام زمانہ عج ہیں اس عالم کو ھورقلیا کا نام دیتے ہیں (کہ امام ایک روح کی صورت میں موجود ہیں )یا مراد امام کا دنیا میں تصرف ہے البتہ اس قدرت تکوینی کے ذریعہ جو خداوند نے انہیں عطا کی ہے ۔ اب اگرہم غیبت سے مراد، امام کے وجودمبارک کا غیب ہونا مراد لیں توپھر امام سے ملاقات اور ان کی زیارت کے بارے میں بحث بے فائدہ ہے کیونکہ امام کا وجود ہی اس دنیا سے غائب ہوچکاہے توملاقات اور زیارت معنی نہیں رکھتیں ، ہاں اگر مراد دوسری صورت لیں یعنی امام اس دنیا میں ہی ہیں البتہ نآشنا کے طور پر ایک اجنبی کے طور پر کہ کوئی پہچان نہیں سکتا کہ امام ہیں تو یہاں بحث فایدہ دے گی اور بحث کی جاسکتی ہے کہ کسی نے امام کی زیارت کی ہے یا نہیں ؟
    اجمالی طورپر جو بات حدیثوں سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امام، غیبت کے زمانہ میں بھی طبیعی اوراسی جسم کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جیسا کہ اگرغیبت واقع نہ ہوتی تو امام زندگی گزارتے ۔اس بنا پر ان روایات کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو امام کی زندگی گزارنے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں جوالفاظ اورکلمات ان حدیثوں میں آئے ہیں مثلا (لاترون شخصہ )[1]اس کو کوئی دیکھ نہیں سکتا ۔ یا (فیراھم ولایرونہ )[2]و(یری الناس ولایرونہ)[3]وہ تو لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ انہیں نہیں دیکھ سکتے وغیرہ کہ جن کا معنی ہے امام کے وجودمبارک کانظر نہ آنا اوربعض حدیثوں میں کہاگیا ہے (یرونہ ولایعرفونہ )[4]یعنی امام کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں جو واضح طورپر کہ رہی ہے کہ لوگ امام کودیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں ۔ دونوں چیزیں ظاہر ا ایک دوسرے سے فرق کرتی ہیں لیکن اگر خود الفاظ ،کلمات اور روایت کے مضمون میں توجہ کی جائے تومعلوم ہوجائےگا کہ ان دو قسم کی روایات میں تضاد اورتعارض نام کی کوئی چیزنہیں ہے۔
    پہلی قسم کی روایات میں لفظ (لایر ی )اس وقت امام کے وجود کے غائب ہونے پر دلالت کرسکتا ہے جب اس کلمہ کا ایک ہی معنی ہو تا کہ معلوم ہوسکے کہ اس کا مطلب ہے کہ اصلاامام نظر نہیں آتے لیکن دوسری روایت میں بھی اسی کلمہ کا استعمال یعنی (یرونہ ولایعرفونہ )(لوگ )امام کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں )تو اس کا مطلب ہے لایرونہ کے دومعنی ہیں ایک ظاھری طورپر نہ دیکھنا اوردوسرا ہے نہ پہچاننا اگرچہ دیکھ رہے ہیں ۔
    پس کلمہ (یری )کے دومعنی ہیں کہ جو روایات اورآیات میں استعمال ہوئے ہیں امام علی علیہ السلام امام مھدی عج کی غیبت کے بارے میں فرماتے ہیں :
    (داخلۃ فی دورھاوقصورھا جوالۃ فی شرق ھذہ الارض وغربھا تسمع الکلام وتسلم علی الجماعۃ تری ولاتری [5])یعنی حجت خدا گھروں اوراجتماع میں تشریف لاتی ہے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا میں چکرلگاتی ہے مختلف علاقوں کا نظارہ کرتی ہے لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے مجلس میں موجود افراد پر سلام کرتی ہے وہ لوگوں کو پہچانتی ہے درحالانکہ خود نہیں پہچانی جاتی ۔
    یہ جملہ امام علی علیہ السلام کا کہ (تسلم علی الجماعۃ )دلالت کررہا ہے کہ (لاتری )سے مراد یہ نہیں ہے کہ امام اصلا دیکھے نہیں جاتے بلکہ مراد یہ ہے کہ پہچانے نہیں جاتے پس پہلی روایات میں جو الفاظ ذکر ہوئے ہیں مثلا (لایرون )(لاتراہ )(لایری )وغیرہ سے مراد صرف یہ نہیں ہےکہ اصلا دیکھے نہیں جاتے بلکہ مراد اس کا دوسرا معنی ہے جو قرینے سے سمجھا جاتا ہے اور وہ ہے امام کا نہ پہچانا جانا، پس دونوں معنی مرادلیے جاسکتے ہیں اس بنا پر ان دوقسم کی روایات میں تضاد نام کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ (لایری )اور(لایرون )کا معنی ہے عدم پہچان اوراس پر قرینہ اورگواہ وہ کلمات ہیں جو امام علی علیہ السلام نے فرمائے :امام کا لوگوں کے درمیان اجنبی کے طورپر آنا جانا ،مجالس اورمحافل میں تشریف لانا ،اھل مجلس پرسلام کرناوغیرہ اوراسی طرح وہ روایات جو غیبت کے زمانہ میں امام کی غیبت کو حضرت یوسف کی غیبت سے تشبیہہ دیتی ہیں جیسا کہ عنقریب آئے گا ،اسی چیز پر دلالت کرتی ہیں اسی طرح محمد بن عثمان عمری (غیبت صغری ٰ میں دوسرے خاص نائب) کا قسم یا د کرنا کہ امام ہر سال حج کے موقع پر حج کے اعمال انجام دیتے ہیں اورلوگوں سے ملاقات کرتے ہیں ۔اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ امام حاجیوں کو دیکھتے ہیں اوران کو پہچانتے ہیں اورحاجی بھی انہیں دیکھتے ہیں البتہ پہچانتے نہیں ہیں :یری الناس ویعرفھم ویرونہ ولا یعرفونہ [6])امام کے دوسرے خاص نائب کا یہ جملہ جو امام صادق علیہ السلام کی طرح استعمال کیا ہے امام کے اجنبی ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔امام کے وجود کا اصلانظر نہ آنا غیر طبیعی اورغیر عادی ہے حالانکہ روایات کہتی ہے کہ امام کی زندگی عادی اورمعمول کے مطابق ہے اوردوسرا امام کے وجود کا دنیا سے غائب ہونا معجزہ کے ذریعے ممکن ہے لیکن معجزہ تب ہے جب اس معجزہ میں خاص حکمت اورفلسفہ ہو، اس کے علاوہ معجزہ کا استعمال معنی نہیں رکھتا کیونکہ الھی سنت کا محور یہ ہے کائنات کے تمام مراحل عادی حالت میں طے ہوں اورمعجزہ صرف استثنائی صورت میں واقع ہوتاہے ۔اس بنا پر کہا جاسکتاہے کہ امام عادی زندگی اورطبیعی زندگی گزاررہے ہیں مگر کسی خاص مورد پر جہاں خود وجود کوبھی غائب ہونا پڑے اوریہ ھمیشگی نہیں ہے بلکہ ضرورت کے تحت جہاں احتیاج ہواور(لاترونہ )کی تعبیر امام کے اجنبی یعنی امام پہچانے نہ جانے کی طرف اشارہ ہے۔
    رہی یہ بات کہ کسی کوتوفیق ہوئی ہے امام سے ملاقات کی یا نہیں ؟تویہ علیحدہ موضوع ہے جس پر بعد میں بحث ہوگی۔
    اب ان دونظریوں کے ذکر کیے گئے دلائل پر بحث کرتے ہیں جو امام سے ملاقات کو ممکن یا ناممکن بناتے ہیں ۔
    پہلا نظریہ :ملاقات کا ممکن ہونا :
    امام سے ملاقات کے ممکن ہونے سے مراد یہ ہےکہ واقع میں بھی اگربعض لوگ تعیین کی گئی شرائط پر پورا اترسکیں تو ان کی امام سے ملاقات ہوسکتی ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ شرائط رکھنے کے باوجود بھی وہ کبھی امام کی زیارت نہیں کرسکتے وہ بزرگ ھستیاں جنہوں نے اس نظریے کو قبول کیا ہے کچھ کے نام درج ذیل ہیں :
    شیخ طوسی ،سید مرتضی علم الہدی ،سید ابن طاووس ،علامہ حلی ،علامہ بحرالعلوم اورمقدس اردبیلی وغیرہ [7]۔
    ان کے علاوہ علامہ مجلسی ،فیض کاشانی ،محدث نوری ،شیخ محمود عراقی ،شیخ علی اکبر نھاوندی ،محمد تقی موسوی اصفہانی ،آیت اللہ صافی گلپایگانی اورسید محمد صدر کے نام قابل ذکر ہیں ۔
    پہلے نظریہ کے حامی اگرچہ اس مسئلہ کی جزئیات میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن اس بارے میں اتفاق رکھتے ہیں کہ اولا زمانہ غیبت میں اصل اوراساس امام کا مخفی ہونا ہے ثانیایہ کہ اس اصل سے استثناء کوبھی قبول کرتے ہیں ۔پہلے نظریہ کے دلائل ممکن ہے دوطرح کے ہوں   :
    الف) روایات :وہ روایات جو کم از کم تیسری قسم کی ملاقات کو ثابت کرتی ہیں یعنی امام سے ملاقات بغیر پہچان کے ،لیکن ایسی ملاقات جس میں دوران ملاقات بھی معلوم ہو کہ یہی امام زمانہ عج ہیں اس کے لیے دوسرے دلائل کی ضرورت ہے یہ روایات اس پر دلالت نہیں کرتیں ۔یہ روایات دلالت کے اعتبار سے چند قسم کی بنتی ہیں
    (۱)جن روایات میں کلمہ “یرونہ) استعمال ہوا ہے جو امام کی زیارت اورملاقات پر واضح دلالت کرتا ہے جیسے ابوبصیر امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتا ہے کہ امام ان الھی سنتوں کو بیان فرما رہے تھے جو خداوند متعال کی طرف سے انبیاء کو پیش آئیں ،فرمایا:وہ امام مھدی عج کو بھی پیش آئیں گی حضرت موسی اور حضرت عیسی کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں (اماسنتہ من یوسف فالستریجعل اللہ بینہ وبین الخلق حجابایرونہ ولایعرفونہ[8] )وہ سنت الھی جو حضرت یوسف کو پیش آئی مھدی کو بھی آئے گی اوروہ ہےلوگوں کے درمیان نآشنا اورمخفی رہنا کہ لوگ دیکھتے تھے لیکن پہچانتے نہیں تھے ۔
    (۲)اس روایت کا مضمون جو محمد بن عثمان عمری سے نقل ہواہے کہ وہ قسم کھاتے ہوئے کہتے ہیں (واللہ ان صاحب ھذاالامرلیحضرالموسم کل سنۃ فیری الناس ویعرفھم ویرونہ ولایعرفونہ[9] )خدا کی قسم صاحب امر (امام زمانہ عج )ہرسال حج کے اعمال کو انجام دیتے ہیں اس طرح کہ وہ حاجیوں کو دیکھتے ہیں اورحاجی بھی اسے دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ۔یعنی حتیٰ کہ گفتگوکے دوران بھی متوجہ نہیں ہوتے کہ یہی امام ہیں ۔اولانائب دوم کا قسم کھانا اورثانیاخود اس کا مقام ومرتبہ ملاقات امام کے مسئلہ کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے اورخود امام صادق علیہ السلام کی روایت کے ساتھ بھی اس کا مضمون ملتا ہے ۔
    (ب)وہ روایات جو بیان کرتی ہیں کہ امام زمانہ عج عادی زندگی گزاررہے ہیں اورمعاشرہ اورلوگوں میں نآشنا کے طورپر رہتے ہیں :
    (۱)جیسے صدیر صرفی امام صادق علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ جس میں امام زمانہ عج کو حضرت یوسف سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح یوسف اپنے بھائیوں میں ناآشنا کے طور پر موجود تھا :صاحب ھذاالامر یتردد بینھم ویمشی فی اسواقھم ویطا فرشھم ولایعرفونہ حتی یاذن اللہ ان یعرفھم نفسہ کمااذن لیوسف[10] )تمہارا صاحب امر (امام زمانہ عج )لوگوں کے درمیان آتاجاتاہے بازاروں مین چکر لگاتا ہے گھروں اورمجلس میں تشریف لاتاہے ان کے ساتھ بیٹھتا ہے درحالانکہ لوگ ان کو نہیں پہچانتے مگریہ کہ امام خداوندمتعال کے اذن سے اپنا تعارف کروائیں جیسے یوسف نبی ۔
    (۲)حذیفہ یمانی ایک طولانی حدیث امام علی علیہ السلام سے نقل کرتا ہے کہ جس میں امام علی ؑ نے فرمایا :(۔۔۔ ماشیۃفی طرقھا داخلۃ فی دورھا وقصورھا جوالۃ فی شرق ھذہ الارض وغربھا تسمع الکلام وتسلم علی الجماعۃ تری ولاتری )[11] یعنی حجت خدا راستوں اورسڑکوں پر گردش کرتی ہے گھروں اورمجلسوں میں تشریف لاتی ہے تمام دنیا میں مشرق سے مغرب تک گھومتی ہے مختلف علاقوں کا نظارہ کرتی ہے لوگوں کی باتوں کو سنتی ہے مجلس میں موجود اشخاص پر سلام کرتی ہے لوگوں کو پہچانتی ہے درحالانکہ خود نہیں پہچانی جاتی ۔آخری جملہ میں جو لفظ لاتری آیا ہے اس کامعنی یہ نہیں ہے کہ اصلا ان کا وجود ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ پہلے فقرے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ معنی کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ اجنبی کے طور پر آتے ہیں دیکھے جاتے ہیں لیکن پہچانے نہیں جاتے ۔
    تیسری قسم
    :تیسری قسم روایات کی وہ ہے جو دلالت کرتی ہے کہ بعض خاص افراد امام کے مسکن اوررہائش سے آگاہ ہیں
    (۱)مفضل امام صادق ؑ سے نقل کرتا ہےکہ امام نے فرمایا (ان لصاحب ھذاالامرغیبتین احداھماتطول حتی یقول بعضھم مات وبعضھم یقول قتل وبعضھم یقول ذھب فلایبقی علی امرہ من اصحابہ الانفریسیر لایطلع علی موضعہ احد من ولی ولاغیرہ الاالمولی الذی یلی امرہ [12] )اس امر کے صاحب(امام زمانہ )کے لیے دوغیبتیں ہیں کہ ان میں سے ایک کچھ طولانی ہے کہ بعض کہیں گے وہ فوت ہوگئے ہیں اوربعض خیال کریں گے کہ شھید ہوگئے ہیں اوربعض کہیں گے وہ رحلت فرماگئے ہیں اوران کا کوئی اثرباقی نہیں رہا ، ماننے والا اورنہ ماننے والا کوئی بھی ان کے مسکن اوررہائش سے آگاہ نہیں ہوگا مگروہ شخص جو حضرت کے کاموں کوانجام دینے پر مامور ہو صرف ایسا شخص امام کی رہائش سے آگاہ ہوگا
    (۲)اسحاق بن عمار صیرفی امام صادق ؑ سے نقل کرتا ہے (للقائم غیبتان احداھما قصیرۃ والاخریٰ طویلۃ :الغیبۃ الاولیٰ لایعلم بمکانہ فیھا الاخاصۃ شیعتہ والاخری لایعلم بمکانہ فیھا الاخاصۃ موالیہ[13] )قائم کے لیے دوغیبتیں ہیں کہ ایک تھوڑی مدت والی اوردوسری طولانی مدت ہے پہلی قسم کی غیبت کی خصوصیت یہ ہے کہ بعض خاص افراد کے علاوہ باقی شیعہ ان کے محل زندگی سے واقف نہیں اوردوسری غیبت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ماننے والے بھی ان کے مسکن سے آگاہ نہیں ہیں مگر خاص اشخاص اورمنتخب افراد :ممکن ہے (خاصۃ موالیہ )سے مراد بہت ہی قریبی اورہمراز افراد ہوں یا جو امام کی خدمت میں ہوتے ہیں جیسا کہ پہلی روایت میں بھی پڑھا ۔بہرحال یہ روایت اور پہلی روایت کچھ خاص افراد کو مستثنی کرتی ہے کہ جو امام کے محل زندگی سے واقف ہیں حدیث کی سند بھی صحیح ہے اور اس کے راوی مثل کلینی ،محمد بن یحیی ،محمد بن حسین (ابوجعفر زیات )،حسن بن محبوب اوراسحاق بن عمار صیرفی ہیں جو بزرگ اصحاب اورمورداطمینان ہیں ۔
    ان روایات کی بناء پر امام سے ملاقات کے ممکن ہونے میں کم از کم محدود طور پر تائید ہوتی ہے کیونکہ پہلی قسم کی روایات کی بنا پر لوگ امام کو ایک عام شخص تصور کرتے ہیں اورامام کی طرف متوجہ نہیں ہوتے کہ یہی امام ہیں پس یہ نظریہ کہ غیبت کےزمانہ میں امام سے ملاقات ممکن ہے پہلی قسم کی روایات صراحت کے ساتھ اس پر دلالت کررہی ہیں ۔دوسری قسم کی روایات مثلا لوگوں کے درمیان امام کا آنا جانا ،سلام کرنا اور مجلسوں میں شرکت وغیرہ خود امام کے دیکھے جانے پر دلالت کرتی ہیں ۔کیونکہ ان روایات میں بحث اس سے نہیں کہ امام کا وجود مبارک نظر نہیں آتا یاامام سے ملاقات نہیں ہوتی بلکہ بحث اس سے ہے کہ امام پہچانے نہیں جاتے   جوغیبت کے فلسفہ کی وجہ سے ہے ۔
    تیسری قسم کی روایات اس چیز کوبیان کررہی ہیں کہ امام کی رہائش اورمسکن سے کوئی واقف نہیں ہے سوائے چند خاص افراد کے ۔البتہ رہائشی مکان کے علاوہ دوسری جگہ پر امام سے ملاقات یا امام کی زیارت کو رد نہیں کررہیں۔
    بنابر این، ان تمام روایات میں جس چیز پر زیادہ توجہ دی گئی ہے اورتاکید کی گئی ہے وہ ہے امام کا اجنبی ہونا اور نہ پہچانا جانا حضرت اس جگہ اجنبی کے طورپر ملاقات کرتے ہیں جب خود نہ چاہیں وگرنہ اگر اذن الہی سے چاہیں تو اپنا تعارف بھی کروا سکتے ہیں جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی روایت میں گزرچکا ہے ۔
    (ب)امام کی زیارت کے واقعات
    پہلا نظریہ کہ امام سے ملاقات ممکن ہے اس پر ایک دلیل روایات کی صورت میں بیان ہوئی ہے اوردوسری دلیل خود امام کی زیارت کے واقعات اور حکایات جو تاریخ میں بیان ہوئی ہیں خود دلیل ہیں کہ امام سے ملاقات ممکن ہے کیونکہ ایک چیز کا واقع ہونا بہترین دلیل ہے اس کے ممکن ہونے پر ۔
    اگرچہ ہماری بحث ان ملاقاتوں سے نہیں ہے جو امام سے ہوئی ہیں بلکہ ہم ان کو بطور دلیل اس لیے نقل کررہے ہیں کہ اتنے واقعات کا نقل ہونااگرچہ شاید ہرایک واقعہ علیحدہ علیحدہ طورپر اما م کی زیارت کے ممکن ہونے پر دلیل نہ بن سکے لیکن مجموعی طورپر ان واقعات سے کم از کم اتنا اطمینان حاصل ہوجاتا ہے کہ امام سے ملاقات ممکن ہے البتہ ہماری بحث اس سے نہیں ہے کہ ہم واقعات پر علیحدہ علیحدہ بحث کریں کہ کونسا واقعہ حقیقت رکھتا ہے اور کونسا واقعہ حقیقت نہیں رکھتا اس کے لیے علیحدہ اور مستقل طورپر بحث کی ضرورت ہے یہاں ہم صرف ان کو بطور دلیل ذکرکررہے ہیں ۔
    تواتر حکایات :بیداری کی حالت میں امام سے ملاقات کے واقعات بہت زیادہ ہیں اورشیعہ علماء نے بھی ان واقعا ت کے متواتر ہونے کو اجمالی طورپر قبول کیا ہے اوراس کی طرف اشارہ بھی کیا ہے آیت اللہ صافی گلپایگانی لکھتے ہیں :وہ لوگ جنہیں غیبت کبری کے آغاز سے لے کر آج کے زمانہ تک ،امام کی زیارت ہوئی ہے بہت زیادہ ہیں ،،[14]
    بعض محققین نے ان واقعات کو تواتر سے بھی زیادہ اہمیت دی ہے بہت سارے ان واقعات کو نقل کرنے والے اور جن کی امام سے ملاقات کے واقعات نقل ہوئے ہیں اکثر فقیہ ،زاہد اورعلمی شخصیات ہیں بنابر ایں ان واقعات کانقل ہونا اوربزرگ شخصیات مثلا سید بن طاووس ،علامہ بحرالعلوم اورمقدس اردبیلی کا خود ان افراد میں سے ہونا جن کو امام کی زیارت ہوئی ہے یہ سب دلیل ہیں امام سے ملاقات کے ممکن ہونے پر ۔
    زیارت کرنے والوں کا اقرار
    بہت سارے افراد نے اقرار کیا ہے کہ انہیں امام کے ساتھ ملاقات نصیب ہوئی ہے اگرچہ علماء کی روش یہ رہی ہے کہ ایسے معاملے کو مخفی اورپنھان رکھا جائے اس کے با وجود بعض نے صراحتا اس چیز کو ذکربھی کیا ہے مثلا حاج علی بغدادی [15]،سید احمد رشتی[16][17] ،علی ابن ابراہیم مھزیار[18] ،علامہ بحرالعلوم [19]،محمد علی قشنری[20] ،محمد بن عیسی بحرینی[21] ،حسن بن مثلہ جمکرانی [22]،آیت اللہ مرعشی نجفی [23]وغیرہ ہرایک نے تمام واقعہ کو نقل کیا ہے ۔ ،سید بن طاووس
    پس اس بنا پر یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ (جن مجتھدین یا بزرگ ہستیوں کی طرف امام سے ملاقات کی نسبت دی جاتی ہے انہوں نے کہیں بھی خود اس کا ذکر نہیں کیا )یہ اعتراض قابل قبول نہیں ،کیونکہ بعض علماء جیسے مرعشی نجفی نے اپنی امام سے ملاقات کو لکھا ہے اوربیان کیا ہے ۔پس کچھ علماء اور بزرگ ہستیوں نے اپنی ملاقات کےواقعہ کو نقل کیا ہے اورکچھ نے نہیں کیا جو ہمیشہ کےلیے ایک راز بن گئے ۔
    امام زمانہ عج سے اعمال اوردعاوں کا نقل ہونا :
    جو ذکر اوردعائیں امام زمانہ عج سے منسوب ہیں شیعہ کتابوں میں بغیر شک وشبہ کے ان دعاوں کا امام سے ذکر ہوناخود امام سے ہونے والی ملاقات پردلالت کرتاہے وگرنہ ان دعاوں کا امام سے منسوب کرنا درست نہیں ہےخصوصا جب علماء کسی نامعلوم چیز کو امام سے نسبت دینے میں احتیاط سے کام لیتے ہوں اورہرگز جس چیز کا امام سے صادرہونا یقینی نہ ہوتا امام سے نسبت نہیں دیتے تھے خصوصا شرعی احکام ،دعائیں اورعبادات ۔اس سے بھی زیادہ بعض ملاقاتوں میں امام نے ایک خاص حکم بھی ارشاد فرمایا جیسے مسجد جمکران کی بنیاد رکھنا اورشیعوں کو اس مکان کی طرف توجہ کرنے کا حکم دینا جیسا کہ ۳۷۳ھ ماہ رمضان میں حسن بن مثلہ جمکرانی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں فرمایا ۔ امام نے اس ملاقات میں مسجد بنانا اورشیعوں کی اس مقدس مقام کی طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ مسجد جمکران میں دورکعت نماز جو ایک خاص طریقے سے پڑھی جائے اس کا حکم بھی دیا اوریہ مشہور ومعروف ہے بعض ملاقاتوں میں امام سے خاص دعائیں بھی نقل ہوئی ہیں جیسے آئمہ اطہار کے مزاروں کی زیارت کاخاص طریقہ ،استخارہ کرنے کا طریقہ ،رکوع میں مستحب اعمال ،قنوت میں پڑھی جانے والی دعا اورزیارت جامعہ کی نصیحت وغیرہ جو امام سے نقل ہوئی ہیں ۔ان دعاوں کا معتبر کتابوں میں موجود ہونا اوراس پر عمل محکم دلیل ہے امام سے ملاقات کے ہونے پر اوراس کونسبت دینا امام سے صرف اس وقت صحیح ہے جب اس کے امام سے نقل ہونے پر یقین یا اطمینان ہو ۔وگرنہ یہ ایک قسم کی بدعت ہوگی جو باعمل علماء سے بعید ہے کیونکہ انہوں نے حتی ایک لفظ کو بھی امام سے منسوب نہیں کیا مگریہ کہ یقین یا اطمینان حاصل ہوجائے کہ یہ امام سے نقل ہواہے چہ جائیکہ اعمال اوردعائیں وغیرہ اس بنا پر پہلا نظریہ جو ملاقات امام کو ممکن سمجھتے ہیں محکم دلایل سے ہمکنار ہے پس پہلا نظریہ ثبوتی اعتبار سے کوئی مشکل نہیں رکھتا اورخود بعض علماء کے بیانات بھی اس کی اہمیت کردوبالا کردیتے ہیں ہم یہاں بعض بزرگ ہستیوں کے چند قول نقل کرتے ہیں ۔
    (۱)سیدمرتضیٰ علم الھدی ٰ(م۴۳۶)جن کا شمار شیخ مفید (م۴۱۳)کے ممتاز شاگردوں میں کیا جاتا ہے اپنی کتاب “تنزیہ الانبیاء “میں لکھتے ہیں “ہمارااعتقاد یہ نہیں ہے کہ غیبت کے زمانہ میں کوئی بھی امام سے ملاقات نہیں کرسکتا اورکسی کابھی امام سے رابطہ نہیں ہے[24][25]۔ “اسی طرح کتاب “الشافی فی الامامۃ “میں اس بات کو رد کرتے ہیں کہ امام سے ملاقات نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے اثبات پر تاکید کرتے ہوئے رقمطراز ہیں “ہم ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ امام اپنے بعض خاص ماننے والوں کے سامنے نہ آئیں بلکہ ہماری نظر میں یہ احتمال وجود رکھتا ہے (یعنی بعض افراد کے سامنے امام تشریف لاتے ہیں اور ملاقات کرتے ہیں وغیرہ )
    کتاب “رسائل “میں تو واضح طور پر ملاقات کے مسئلہ کو صریحا ثابت کرتے ہوئے لکھتےہیں “امام تک دسترس جن سے کوئی ڈر نہیں ہے (شیعیان یا مکتب شیعہ کو کوئی نقصان نہیں ہے )ممکن ہے۔[26]
    یعنی سید مرتضی ٰ ان لوگوں کی ملاقات کو ممکن سمجھتے ہیں جو شھرت طلبی کے پیچھے نہ ہوں ،راز فاش نہ کریں ،غلط استفادہ نہ کریں وغیرہ ان کے لیے ممکن ہے کیونکہ یہ بہت حساس مقام ہے شیعہ امام کی محبت کی وجہ سے امام سے ملاقات کرنے والے کو بہت عظیم سمجھتے ہیں اورممکن ہے آگے وہ شخص اندر سے مضبوط نہ ہو اورشیعوں کوگمراہ نہ کردے اس لیے سید مرتضی کی طرح دوسرے علماء بھی اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ چند خاص اشخاص سے ملاقات ممکن ہے جن میں تعیین شدہ شرائط پائی جائیں بلکہ سید مرتضی نے ماہرانہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے ایک نظریہ قائم کردیا ہے کہ ہر شخص کے لیے نہیں بلکہ جس سے شیعہ   یا مکتب تشیع کو نقصان نہ پہنچے   ۔البتہ یہ ہمارے مدعے کوواضح طورپر ثابت کررہا ہے کہ ملاقات ممکن ہے ۔
    (۲)شیخ طوسی (م۴۶۰)ایک جانی پہچانی شخصیت ہے اورشیخ مفید کے ممتاز شاگردوں میں سے ہیں اورشیخ الطائفہ کے لقب سے مشہور ہیں کتاب الغیبہ میں لکھتے ہیں :”ہم معتقد نہیں ہیں کہ امام اپنے تمام اولیاء سے پوشیدہ اورغائب ہیں بلکہ شاید بہت سارے محبین کو نظر آتے ہوں اوران کے سامنے امام ظاہر ہوں کیونکہ کوئی بھی اپنی حالت کے علاوہ باقی لوگوں کے حالات سے آگاہ نہیں ہے پس اگر امام ایک شخص کے لیے ظاہر ہوں اس حالت میں غیبت کی جو علت تھی وہ اس شخص کی نسبت برطرف ہوگئی ہے اگر زیارت نہ ہو تو وہ جانتا ہے کہ میری اپنی بے لیاقتی ہے یا کوئی مصلحت ہے کہ امام کی زیارت نہیں ہورہی [27]”۔
    شیخ طوسی ایک اورجگہ کتاب الغیبہ میں ا س بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ امام کی بعض اشخاص اورماننے والوں سے ملاقات ممکن ہے جیسا کہ یہ عبارت ہے “دشمن اگرچہ رکاوٹ ہیں کہ امام علنا کسی سے ملاقات کریں لیکن امام کے خصوصی ارتباط کو جو مخصوص محبین کے ساتھ پوشیدہ طور پر ہیں ان کے آگے رکاوٹ نہیں بن سکتے [28]”۔
    یہ عبارت واضح طورپر دلالت کررہی ہے کہ ممکن ہے امام کا رابطہ بعض خاص افراد کے ساتھ ہو ۔
    (۳)ابوالفتح کراجکی (م۴۴۹)بھی اپنی کتاب کنزالفوائد میں رقمطراز ہیں :”ہمیں یقین نہیں ہےکہ کوئی بھی غیبت کے زمانہ میں امام سے ملاقات نہیں کرتا اورامام کو نہیں پہچانتا بلکہ بعض اوقات بعض خاص محبین کے لیے ملاقات کاموقع فراہم ہوتاہے وہ امام سے ملاقات کرتے ہیں لیکن اس بات کو پوشیدہ رکھتے ہیں[29] ۔
    (۴)سیدبن طاووس (م۶۶۴)کہ جن کی امام سے ملاقات کے واقعات بھی نقل ہوئے ہیں اس بارے میں کتاب الطرایف میں لکھتے ہیں :”اب جبکہ تمام شیعیان کے سامنے امام ظاہر نہیں ہیں مشکل نہیں ہے کہ بعض خاص افراد سے ملاقات کریں اور وہ امام کی گفتار اوررفتار کو الگواورنمونہ قرار دیں اور اس بات کو پوشیدہ رکھیں [30]”۔
    سید بن طاووس ایک اور کتاب “کشف المحجہ “میں بھی اپنے بیٹے کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں :”میرے بیٹے !اگر خدا کی عنایت شامل حال ہو تو تیرے امام تک پہچنے کا راستہ تیرے سامنے کھلا ہے[31] ۔”
    (۵)محقق نائینی لکھتے ہیں :”کبھی ایسا ہوتا ہےکہ غیبت کے زمانہ میں بعض بزرگان امام زمانہ سے ملاقات کریں اورشرعی مسائل میں حکم الہی کو ،خود امام سے دریافت کریں [32]۔”
    (۶)آقای اخوند خراسانی بھی غیبت کے زمانہ میں امام سےملاقات کو ممکن جانتے ہیں وہ لکھتے ہیں :احتمال ہے بعض منتخب اورشایستہ اشخاص امام سے ملاقات کریں اوراس ملاقات میں امام کو پہچان لیں[33] ۔”
    (۷)سید محمد تقی موسوی اصفھانی !کہ جو امام سے ملاقات کی آرزو اوردعاکو حضرت امام زمانہ عج پر ایمان رکھنے والے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں لکھتے ہیں :کیونکہ روایات اورواقعات جو امام سے ملاقات کو ثابت کرتے ہیں اہل یقین کے لیے اطمینان کا باعث بنتے ہیں[34] ۔
    (۸)سید محمد صدر ،اگرچہ ان واقعات کو اس لیے کہ یہ متواتر ہیں اس دلیل کو قبول نہیں کرتے اور ان سب واقعات کو سچا نہیں مانتےلیکن واقعات کے نقل کرنے والے متقی پرہیز گار افراد کی وجہ سے ان روایات کو صحیح مانتے ہوئے کہتے ہیں
    (کیونکہ بہت سارے واقعات یہ دلالت کرتے ہیں کہ نہیں ہوسکتا جان بوجھ کر سب نے جھوٹ بولاہو،اس کے علاوہ خود نقل کرنے والے افراد کا تقوا اور پرہیزگاری اور ان کا مقام ومرتبہ ان واقعات کے اعتبار میں اضافہ کردیتا ہے [35]۔”سید محمد صدر نآشناء طورپرلوگوں سے امام کی ملاقات کوروزمرہ کا معمول سمجھتے ہیں۔
    (۹)آیت اللہ صافی گلپایگانی کہ جنہوں نے خود مھدویت کے موضوع پر بہت زیادہ تحقیقات اورکتابیں لکھی ہیں اپنی کتاب منتخب الاثر میں ان واقعات کو امام کے وجود پر مہم ترین دلیل سمجھتے ہیں[36] اوراسی طرح کتاب امامت اور مھدویت میں ایک عاقل شخص کےملاقات امام زمانہ کو تردید کرنے کا انکار کرتے ہیں اور امام سے ملاقات کو یقینی طور پر مانتے ہیں۔
    (۱۰)شیخ محمد جواد خراسانی معتقد ہیں کہ امام زمانہ سےملاقات ممکن ہےکیونکہ تواتر اجمالی ایک قطعی دلیل ہے جو صالح اورپرہیزگار افراد سے نقل ہوئی ہے کہ جو تقوا وپرہیزگاری اور اطمینان کے اعتبار سے ،حدیث کے راویوں سے کم نہیں [37]۔
    ان علماء کے علاوہ اور بھی بہت سارےعلماء ایسے ہیں جنہوں نے زیارت کے واقعات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جیسے مرحوم مجلسی بحارالانوار میں ،محدث نوری نے اپنی دو کتابیں جنۃ الماوی اورنجم الثاقب میں ،علی اکبر نھاوندی نے عبقری الحسان میں اور شیخ محمود عراقی نے دارالسلام میں نقل کی ہیں ۔
    جیسا کہ ہم گذشتہ ذکر کرچکے ہیں کہ یہ سب مرحلہ ثبوتی میں بطور دلیل سمجھے جاسکتے ہیں اورکم از کم ملاقات کے ممکن ہونے پر دلیل بن سکتےہیں البتہ ان واقعات کے صحیح اور ناصحیح ہونے سے ہماری بحث نہیں ہے کیونکہ بزرگ علماء جو اس بارے میں احتیاط سے کام لیتے تھے اور ہرواقعہ اور دعوے دار کے دعوے کو قبول نہیں کرتے تھے یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پر مستقل کتاب کی ضرورت ہے اور اس مختصر سے مضمون کے دامن میں اتنی گنجائش نہیں ہے
    جو کچھ اوپر گزر چکا ہے اس سے پتہ چلتا ہےکہ غیبت کے زمانہ میں امام سے ملاقات ممکن ہے اگرچہ مسئلہ کی جوجزئیات ہیں ان سب سے بحث کرنا ممکن نہیں ہے خود علماء کے بیانا ت بھی امام سے ملاقات کو ممکن قرار دیتے ہیں اور پہلے نظریہ کو ثابت کرتے ہیں ۔
    دوسرانظریہ :امام سے ملاقات کا ممکن نہ ہونا
    اب یہاں دوسرانظریہ کے پیروکاروں سے بحث ہوگی جو کہتے ہیں کہ غیبت کبری میں امام سے ملاقات ممکن نہیں البتہ خود امام کی زیارت کے ممکن ہونے یا نہ ہونے میں جو اختلاف ہے اور جو نظریات پائے جاتے ہیں اگرچہ یہ اختلاف خود روایات میں استعمال شدہ دقیق کلمات کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے چار گروہ ہیں کہ جن میں سے ہر ایک گروہ کا ایک خاص نظریہ ہے جو یہ ہیں
    پہلا گروہ :جو ملاقات کو ممکن سمجھتے ہیں اور تمام واقعات کو جو نقل ہوئے ہیں ان کو بھی صحیح سمجھتے ہیں ۔
    دوسراگروہ :جو خود ملاقات کو ممکن سمجھتے ہیں کہ غیبت کے زمانہ میں امام سے ملاقات ممکن ہے لیکن جو ملاقات امام کا دعوی کرے اس کو قبول نہیں کرتے اور اسی طرح امام سے ملاقات کےواقعات کو بھی رد کرتے ہیں ۔
    تیسرا گروہ :جو ملاقات کو ممکن سمجھتے ہیں البتہ زیارت اور ملاقات سے متعلق ذکر کیے گئے واقعات میں سے صرف ان واقعات کو قبول نہیں کرتے جس ملاقات میں، ملاقات کرنے والے کو پتہ چل جائے کہ یہی امام زمانہ ہے یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ملاقات اور زیارت کے دوران پتہ چل جائے کہ یہی امام ہیں ۔
    چوتھا گروہ :جو اصلا امام سےملاقات کو ناممکن سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں غیبت کے زمانہ میں اصلا امام سے ملاقات نہیں ہوسکتی
    پس یہاں ہماری بحث چوتھی قسم کے نظریہ سے ہے جو اصلا ممکن نہیں سمجھتے ۔
    شیخ یداللہ دوزدوزانی ان افراد میں سے ہیں جو غیبت کے زمانہ میں امام سے ملاقات کو ممکن نہیں سمجھتے اورکہتے ہیں کہ امام سےملاقات اصلا ممکن نہیں ہے اور ایک مضمون لکھا “تحقیق اللطیف حول توقیع الشریف “اس مضمون میں امام زمانہ عج کے فر مان سے جو آخری نائب خاص کو خط میں لکھا گیا اس سے استفادہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ممکن نہیں ہے امام سے ملاقات کرنا ۔
    علی اکبر ذاکری نے بھی ایک مضمون میں[38] (ارتباط با امام زمان عج )دونوں نظریوں کو بیان کرنے اوران پر بحث کرنے کے بعد دوسرے نظریہ کو اہمیت دیتے ہوئے اس کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنے دلائل کو ذکر کیا ہے کہ ان کے مہم ترین دلائل درج ذیل ہیں :
    (۱)امام زمانہ عج کا خط آخری نائب خاص علی بن محمد سمری کو (کہ جس پر تفصیلی بحث اور تبصرہ بعد میں آئے گا )۔
    (۲)وہ روایات جو دلالت کرتی ہیں کہ امام لوگوں کے درمیان نآشناء کے طورپر رہتے ہیں ۔
    (۳)وہ روایات جو دلالت کرتی ہیں کہ امام حج کے موقع پر نظر نہیں آتے ۔
    (۴)وہ روایات جو غیبت کے زمانہ میں شیعوں کے امتحان پر دلالت کرتی ہیں کہ حتماامام غائب ہوگا جس کے ذریعہ شیعوں کا امتحان لیاجائے گا کہ کون اپنے ایمان پر باقی رہتا ہے ۔
    اس سے پہلے کہ دوسرے نظریہ کے دلایل پر تبصرہ کیا جائے ضروری ہے کہ جو انکار کے قایل ہیں اور کہتے ہیں کہ امام زمانہ عج کی ملاقات ممکن نہیں ،ان کی ذہنی فضا کا مطالعہ کیاجائے کہ کس انگیزہ کی بنیا د پر وہ ملاقات کو ناممکن سمجھتے ہیں ۔
    ان کے دیے گئے دلائل پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے جو ملاقات کوممکن نہیں سمجھتے زیادہ تر ہدف ان کا یہ ہےکہ خرافات اورجھوٹے دعویداروں سے بچا جاسکے ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کیلیئے شیعہ عوام کو گمراہ کریں اور دوسرا امام زمانہ عج کی آخری توقیع (خط)جو آخری نائب خاص کوفرمائی ۔لیکن سوال یہ ہےکہ کیا یہ خود امام کی توقیع یا دوسری روایات سے ثابت ہوسکتا ہے کہ زیارت یا ملاقات ممکن نہیں ؟اس باب میں ان کے ذکر کیے گئے دلایل اور ان پر تبصرہ کیا جائے گا ۔.
    ملاقات کے ممکن نہ ہونے پر دلائل
    وہ لوگ جو ملاقات امام کو ممکن نہیں سمجھتے اورکہتے ہیں کہ امام سے اصلا ملاقات ممکن نہیں ہے انہوں نے اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے چند ایک دلائل پیش کیےہیں لیکن اگر ان کے دئیے گئے دلایل پر غور کیا جائے تو سوائے امام زمانہ عج کے آخری خط کے جو آخری خاص نائب محمد بن علی سمری کو ملا تھا باقی دلایل ان کی بات ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں پس یہاں ہم روایات جو انہوں نے دلایل کے طور پر پیش کی ہیں ان کی دو قسمیں کرتے ہیں ایک امام کا آخری خط (توقیع شریف اوردوسری باقی رویات ،تاکہ تفصیلی طور پر بحث کی جاسکے۔
    الف:امام کے آخری خط کے علاوہ روایات
    ان روایات کی بھی چند قسمیں ہیں :
    (۱)وہ روایات جو امام کو تلاش کرنے اور امام کا کھوج لگانے سے منع کرتی ہیں مثلا روایت میں آیا ہے (من بحث فقد طلب ومن طلب فقد دل ومن دل فقد اشاط ومن اشاط فقد اشرک ) جوکسی شے کی تلاش میں ہواس کو پالے گا اورجس نے بھی پا لیا
    (ان دللتھم علی الاسم اذاعوہ وان عرفواالمکان دلواعلیہ[39] ) اگر امام کا نام لوگوں کو بتا دوں اس کو فاش کردیں گے اور اگر امام کی رہائش سے واقف ہوجائیں تو اس کو بھی فاش کردیں گے۔
    جیسا کہ عبارات سے معلوم ہے یہ روایات غیبت صغری کے زمانہ کی طرف اشارہ ہیں کہ جب خطرہ تھا اور جو منع کیا گیا ہے اس کا سبب یہی تھا کہ کہیں دشمن آپ عج کو گرفتار اور شھید نہ کردیں ۔لیکن غیبت کبری ٰ کے زمانہ میں یہ بات صدق نہیں کرتی ۔
    (۲)وہ روایات جو امام کے نآشنا ہونے پر دلالت کرتی ہیں بعض کہتی ہیں کہ امام اصلا نہیں پہچانے جاتے البتہ اجنبی کے طورپر لوگوں میں رہتے ہیں رابطہ رکھتے ہیں جیسا کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے
    (ولایعرفونہ حتی یاذن اللہ ان یعرفھم نفسہ[40]) لا وگ امام کو نہیں پہچانتے مگر یہ کہ امام خدا کے اذن سے اپنا تعارف نہ کرائیں ۔بعض روایات صرف حج کے موقع پر امام کے نآشنا ہونے پر دلالت کرتی ہیں جیسےکہ یہ روایت ہے (یفقدالناس امامھم یشھدالموسم فیراھم ولایرونہ[41])ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کی اپنے امام تک دسترسی حاصل نہیں ہوگی امام مراسم حج میں تشریف لائیں گے لوگوں کو پہچانتے ہوں گے لیکن لوگ انہیں نہیں پہچان پائیں گے ۔
    یا ایک اور روایت میں ارشاد فرمایا 🙁 للقائم غیبتان یشھد فی احداھماالموسم یری الناس ولایرونہ[42] )حضرت قائم عج کے لیے دو غیبتیں ہیں کہ ان دو میں سے ایک میں حج کے اعمال کےلیے تشریف لائیں گے اور لوگوں کو دیکھیں گے لیکن لوگ انہیں نہیں پہچان پائیں   گے ،یہ دونوں روایات امام صادق علیہ السلام سے منقول ہیں یہ روایات نہ صرف ملاقات یا زیارت کی نفی نہیں کرتیں بلکہ الٹا زیارت اور ملاقات کو ثابت کرتی ہیں جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے کیونکہ (لایعرفونہ )لوگ امام کو نہیں پہچانتے جیسا کہ پہلی روایت میں ہے امام کی ملاقات اور زیارت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری روایت میں( لایرونہ) لوگ امام کو دیکھ نہیں پاتے، سے مراد بھی (لایعرفونہ) ہے کیونکہ پہلی روایت اوردوسری روایت سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا معنی بھی یہی ہے کہ پہچانے نہیں جاتے نہ اینکہ اصلا امام کا وجود مبارک ہی نظر نہیں آتا ۔
    پس اس بنا پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امام دوسرے افراد کی طرح عادی طورپر حج کے اعمال انجام دیتے ہیں لوگو ں سے ملاقات ہوتی ہے البتہ لوگ نہیں پہچان پاتے کہ یہی امام زمانہ عج ہیں ۔
    اس کے علاوہ امام کے دوسرے خاص نائب محمد بن عثمان سے جو نقل ہوا ہے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ امام ہرسال حج کے اعمال انجام دینے کے لیے تشریف لاتے ہیں اور لوگ امام کو دیکھتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں پہلی دو روایات ظاہرا اس قول کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں ۔اگر بالفرض مان لیا جائے کہ یہ روایات دلالت کرتی ہیں کہ امام اصلا دیکھے نہیں جاتے اور نظر نہیں آتے لیکن پھر بھی یہ فقط حج کے موسم کی طرف اشارہ ہے یعنی حج کے موقع پر نہیں دیکھے جاتے لیکن دوسری جگہوں کی نفی نہیں ہوتی ۔
    (۳)وہ روایات جو دلالت کرتی ہیں کہ امام کو نہیں دیکھ سکوگے اور اس کا نام مبارک ہی زبان پر لانا جائز نہیں مثلا امام ہادی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں (انکم لاترون شخصہ ولایحل لکم ذکرہ باسمہ[43] )تم امام کو نہیں دیکھ سکو گے اور جایز نہیں ہے کہ ان کا نام لیا جائے ۔
    امام رضا علیہ السلام بھی ارشاد فرماتے ہیں : (لایری جسمہ ولایسمی اسمہ [44])اما م دیکھے نہیں جاسکیں گے اور ان کو ان کے نام سے نہیں پکاراجائے گا ۔
    یہ دو روایات بھی ملاقات یا زیارت کے ممکن ناہونے سے ربط نہیں رکھتیں ،کیونکہ پہلی روایت غیبت صغری ٰ کے زمانہ کو بیان کررہی ہے اور ان خطرات ومشکلات سے مربوط ہے جو دشمنوں نے فراہم کی ہوئی تھیں ۔
    اورجو نام سے نہ پکارنے کا مسئلہ ہے اورمنع کیا گیا ہے کہ امام زمانہ عج کو ان کے نام سے مت پکارنا اور جستجو مت کرنا تو یہ بھی غیبت صغری ٰ کی طرف اشارہ ہے جب حکمران حساس تھے اور اس طرف متوجہ تھے کہ کسی طرح امام کی جگہ کا علم ہوجائے تا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوسکیں اسی بنا پر بہت سارے شیعہ علماء غیبت کبریٰ میں امام زمانہ عج کے نام لینے کو جائز سمجھتے ہیں کیونکہ اس زمانہ میں کوئی وجہ نہیں ہے کہ امام کے نام کو چھپایا جائے یا تقیہ کیا جائے اور یہ جو عبارت پہلی روایت میں آئی ہے (لاترون شخصہ )کہ امام کے وجود مبارک کو نہیں دیکھ پائیں گے یا دوسری روایت میں آیا ہے (لایری جسمہ )امام کا وجود مبارک نظر نہیں آئے گا اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جس طرح دوسرے لوگوں کو دیکھتے ہیں ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں جانتے ہوئے سلام دعا کرتے ہیں ایسا نہیں ہوگا البتہ ہوسکتاہے کہ ایک شخص ایک دفعہ کہیں ایک جگہ امام کی زیارت کرلے یا امام سے ملاقات ہوجائے تو یہ ہرگز ان روایات کے منافی نہیں ہے۔
    (۴)وہ روایات جو غیبت کو شیعوں کا امتحان قراردیتی ہیں کیونکہ امتحان جو غیبت کا فلسفہ بیان ہوا ہے وہ ختم ہوجائے گا اور غیبت اور غیر غیبت میں کوئی فرق نہیں رہے گا ،اس بارے میں روایات بہت زیادہ ذکر ہوئی ہیں مرحوم نعمانی قدس سرہ نے اپنی کتاب “الغیبہ “میں باقاعدہ طور پر ایک باب ذکر کیا ہے جس میں ان روایات کوجمع کیا گیا ہے جو کم وبیش بیس روایات بنتی ہیں ہم صرف ایک کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں :ابوبصیر امام صادق علیہ السلام سے امام زمانہ عج کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کرتا ہے امام نے جواب دیا:
    ( مع القائم من العرب شی ء یسیر )۔ظہور امام کے وقت عربوں میں سے بہت کم لوگ امام زمانہ کے لشکر میں ہونگے ،پھر پوچھا گیا :
    ان من یصف ھذاالامرمنھم لکثیر )ہم نے سنا ہے کہ امام کے لشکر میں عرب زیادہ ہونگے ، تو امام نے فرمایا :
    لابدللناس من ان یمحصواویمیزواویغربلواوسیخرج من الغربال خلق کثیر[45] )غیبت کے زمانے میں امتحان لوگوں کو اس طرح ہلا کر رکھ دے گا کہ بہت سارے اس حساس اور نازک موڑ پر منہ پھیر لیں گے ۔
    یہ واضح ہے کہ یہ روایات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ امام سب لوگوں کے سامنے نہیں آئیں گے اس طرح کہ اکثر یت امام کو دیکھ سکیں لیکن یہ ہرگز منافات نہیں رکھتا کہ کبھی اور کہیں پر خاص مصلحت کے پیش نظر کسی سے امام کی ملاقات ممکن ہو اور نہ ہی غیبت کا فلسفہ اس کے مخالف ہے ، غیبت صغری کی خصوصیات اور اس کا غیبت کبری سے فرق یہ ہےکہ لوگوں سے رسمی اور منظم ارتباط نہیں ہے اور کوئی خاص نائب نہیں ہے کہ جس طرح غیبت صغری میں تھا لیکن غیبت کبری کا معنی ہرگزیہ نہیں ہے کہ اصلا امام کا لوگوں سے کسی قسم کا ارتباط ہی نہیں ہے حتی کہ زیارت وملاقات ۔اگر بالفرض یہ قبول کرلیا جائے تو شیخیہ نظریے اور اس نظریے میں کیا فرق رہ جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ غیبت صغری میں امام کے خاص نائب تھے اور ان کا امام کےساتھ ایک منظم ارتباط تھا وہ لوگوں کے مسائل امام تک پہچانتے اور ان کے جوابات لوگوں تک لیکن غیبت کبری میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے نہ کسی کا امام کے ساتھ ارتباط خاص ہے اور نہ منظم ملاقات لیکن کوئی دلیل نہیں ہے کہ غیبت کبری میں امام نے مطلقا شیعوں سے رابطہ قطع کیا ہو اہو حالانکہ واقعات کا نقل ہونا اور مختلف دعاوں کا امام سے نقل ہونا اس کے برخلاف چیز کو ثابت کرتے ہیں ۔
    جو کچھ گزر چکا ہے حقیقت یہ ہے کہ ان روایات میں سے کوئی بھی ملاقات اور زیارت امام کےناممکن ہونے پر دلیل نہیں بن سکتیں۔
    باقی رہ گئی ان کی آخری دلیل کے طورپروہ روایت جو علی بن محمد سمری کو امام زمانہ عج کی طرف سے ایک خط کے ذریعے ملی
    توقیع شریف:
    مہم ترین دلیل جس کے ذریعے وہ ملاقات امام زمانہ عج کو ممکن نہیں سمجھتے اور انکار کرتے ہیں وہ امام کی توقیع یا خط ہے جو آخری خاص نائب علی بن محمد سمری کو ان کی وفات سے چھ دن پہلے امام زمانہ عج نے ان کو لکھا اور یہ ایسی توقیع اور فرمان ہے کہ جو دونوں گروہوں کے نزدیک مورد بحث قرار پائی ہے اس توقیع اور خط کی اہمیت کی وجہ سے ضروری ہے کہ اس روایت کے تمام زاویوں کو علمی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جائے ۔
    الف:توقیع شریف کی عبارت پر بحث اور اس میں موجود کلمات کی جانچ پڑتال
    ب:توقیع شریف کی سند پر بحث کہ معتبر ہے یا ضعیف
    ج:توقیع کی دلالت یامفاد
    توقیع شریف کی عبارت
    کتاب کمال الدین وتمام النعمۃ میں شیخ صدوق نے سب سے پہلی بار اس توقیع کو نقل کیا ہے اس بنا پر شیخ صدوق سب سے پہلے راوی ہیں اس توقیع کے اور دوسروں نے بھی شیخ صدوق سے نقل کیا ہے اس فرمان اور خط کی عبارت یہ ہے :
    بسم اللہ الرحمن الرحیم یا علی بن محمد السمری اعظم اللہ اجراخوانک فیک ،فانک میت مابینک وبین ستۃ ایام فاجمع امرک ولا توص الی احد یقوم مقامک بعد وفاتک ،فقد وقعت الغیبۃ الثانیۃ ،فلاظھور الا بعد اذن اللہ عزوجل وذلک بعد طول الامد وقسوۃ القلوب وامتلاء الارض جورا وسیأتی شیعتی من یدعی المشاھدۃ ألافمن ادعی المشاھدۃ قبل خروج السفیانی والصیحۃ فھوکاذب مفتر ۔ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔
    شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے اے علی بن محمد سمری !خداوند تیرے بھائیوں کو تیری وفات کا اجر عظیم عطافرمائے تو چھ دن بعد فوت جوجائے گا پس اپنے کاموں کو سمیٹ لو (اورجانے کے لیے تیار ہوجاو)اپنے بعد کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر مت کرنا کیونکہ دوسری غیبت کا وقت آن پہنچا ہے پس ظہور نہیں ہوگا مگر خداوند عزوجل کے اذن سے اور ایسا (یعنی ظہور)زمانے کے طولانی ہونے اور دلوں کی سختی اورزمین کے ظلم وستم سے پر ہونے کے بعد ہوگا   بہت جلد شیعوں میں سے بعض میری زیارت کا دعوی کریں گے آگاہ رہنا جو بھی سفیانی کے خروج اور آسمانی فریاد سے پہلے ایسا دعوی کرے وہ جھوٹااور فریب کار ہے کوئی قدرت اور طاقت نہیں سوائے خداوند بزرگ وبرتر کے ۔
    توقیع کی سند
    یہ توقیع شیخ صدوق (۳۱۱۔۳۸۱)کے بقول خود ابومحمد حسن بن احمد المکتب سے سنی ہے کہ اس نے علی بن محمد سمری سے نقل کی ہے شیخ صدوق لکھتے ہیں :حدثنا ابومحمد الحسن بن احمد المکتب ۔قال :کنت بمدینۃ السلام فی السنۃ التی توفی فیھا الشیخ علی بن محمد السمری قدس اللہ روٓحہ فحضرتہ قبل وفاتہ بایام فاخرج الی الناس توقیعا نسختہ :بسم اللہ الرحمن الرحیم یا علی بن محمد السمری ۔۔۔۔۔۔)فنسخنا ھذاالتوقیع وخرجنا من عندہ ۔۔
    ابومحمد حسن بن احمد نے کہا میں اس سال جس سال چوتھا نائب خاص شیخ علی بن محمد سمری فوت ہوا بغداد میں تھا اور اس کی وفات سے کچھ دن پہلے اس کے پاس گیا (علی بن محمد سمری )ایک توقیع لوگوں کے سامنے لے آئے کہ جس کی عبارت یہ ہے ۔۔۔۔۔پس میں نے اس توقیع کو لکھ لیا اور چلا گیا ۔
    جو گروہ زیارت امام زمانہ عج کو ممکن نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ اس توقیع کی سند معتبر ہے اور خود مضمون بھی معتبر ہے کہ جس کو بزرگ شخصیات نے بغیر کسی واسطہ کے ایک دوسرے سے نقل کیا ہے ۔
    لیکن محدث نوری اپنی کتاب نجم الثاقب اور جنۃ الماؤی میں اس توقیع کو مرسل کہتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس حدیث کوماننے کا مطلب ہے کہ ان تمام واقعات کو رد کردیں جو واقعات امام زمانہ عج کی ملاقات کے بارے میں نقل ہوئے ہیں مثلا سید بن طاووس کا واقعہ وغیرہ ان کے علاوہ مرحوم نھاوندی نے بھی اس کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ۔
    آیت اللہ صافی گلپایگانی اس روایت کی سند پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ توقیع ایک خبر واحد ہے کہ جس کی سند مرسل اور ضعیف ہے اور شیخ طوسی نے جو اپنی کتاب الغٖیبۃ میں نقل کی ہے خود اس کی طرف توجہ نہیں دی اور شیعوں نے بھی اس عبارت کو اہمیت نہیں دی ۔
    لیکن ان دواقوال کی تحقیق ہونی چاہیے کہ بالآخر اس روایت کی سند ضعیف ہے یا معتبر ۔
    جو توقیع ہم نے ذکر کی ہے شیخ صدوق کی کتاب سے حقیقت یہ ہے کہ اس کی سند میں شک نہیں کہ معتبر اور صحیح ہے کیونکہ توقیع فقط تین افراد کے توسط سے خود امام سے نقل ہوئی ہے اور یہ تین شخصیات جنہوں نے بغیر کسی واسطہ کے ایک دوسرے سے نقل کی ہے عبارت ہیں :
    شیخ صدوق ،ابو محمد حسن بن احمد المکتب اور علی بن محمد سمری پس سند جب چوتھے نائب خاص تک متصل اور واضح ہے توا مام سے صادر ہونا قطعی اور یقینی ہے ۔ابومحمد حسن بن احمد المکتب شیخ صدوق کے ان افراد میں سے شمار کیے جاتے ہیں کہ جن سے شیخ صدوق نے روایات نقل کی ہیں پس شیخ صدوق کا حسن بن احمد پر اعتماد اور اس سے روایات اور توقیع کونقل کرنا خود دلیل ہے کہ حسن بن احمد بزرگ اور معتبر انسان تھے پس توقیع کی سند اس اعتبار سے کوئی مشکل نہیں رکھتی جس طرح محدث نوری اور مرحوم نھاوندی نے کہا ہے ۔
    حتی کہ وہ اشخاص جو ملاقات امام زمانہ عج کو ممکن سمجھتے ہیں انہوں نے بھی اس حدیث کی سند کو معتبر قرار دیا ہےجیسے سید صدر جو سند توقیع کو معتبر اور صحیح سمجھتے ہیں ،سید محمد تقی موسوی ،صاحب کتاب مکیال المکارم بھی اس روایت کو صحیح ترین اور معتبر ترین روایت سمجھتے ہوئےلکھتے ہیں: کیونکہ صرف تین اشخاص کے توسط سے خود امام زمانہ عج سے نقل ہوئی ہے وہ تین اشخاص عبارت ہیں :
    (۱)شیخ اعظم ،ابوالحسن علی بن محمد سمری ،چوتھے نائب خاص
    (۲)شیخ صدوق ،محمد بن علی بن الحسین بن موسی بابویہ قمی کہ جو شھرت کے اعتبار سے تعریف کے محتاج نہیں
    (۳)ابومحمد حسن بن احمد المکتب کہ جس کا پورا نام ابومحمد حسن بن الحسین بن ابراہیم بن احمد بن ہشام المکتب ہے اور شیخ صدوق نے کئی بار ان سے روایت نقل کی ہے اور ان پر درود بھیجا ہے جو اس کی صداقت اور عظیم منزلت پر دلالت کرتا ہے ۔
    اسی طرح شیخ صدوق سے لے کر آج تک اس توقیع سے استناد کرنا خود دلیل ہے اس کے صحیح ہونے پر آخرکار صاحب کتاب مکیال المکارم سید محمد تقی موسوی نتیجہ نکالتے ہوئے لکھتے ہیں :یہ حدیث (توقیع شریف )ان قطعی روایات میں سے ہے کہ جس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے ۔
    پس اس توقیع کی سند صحیح ہے اس میں کوئی مشکل نہیں ہے ۔
    توقیع کی دلالت
    جس طرح کہ پہلے گزرچکاہے دوسراگروہ جو ملاقات امام زمانہ عج کو ممکن نہیں سمجھتے ان کےپاس یہ قوی ترین دلیل ہے مثلا صاحب تحقیق لطیف ،یداللہ دوزدوزانی اپنے مضمون میں لکھتےہیں کہ امام زمانہ عج کا یہ جملہ (فلاظھورالابعد اذن اللہ ۔۔۔)صریحا بتا رہاہے کہ اصلا امام کے ساتھ ملاقات اور ان کی زیارت ممکن نہیں ہے البتہ غیبت صغری ٰ میں چار نائب تھے جن کا امام کے ساتھ ارتباط تھا لیکن غیبت کبری میں ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہے اورکسی کا امام زمانہ عج کے ساتھ ارتباط نہیں ہے ۔
    صاحب مضمون( ارتباط با امام زمان عج )علی اکبر ذاکری بھی کہتےہیں کہ اس روایت سے پتہ چلتا ہے کہ کسی کا بھی امام کے ساتھ نہ ارتباط ہے اور نہ ملاقات کا امکان ،کیونکہ جملہ (فلاظہور الابعد اذن اللہ ۔۔۔)لفظ ظہور کا معنی ہے کسی پوشیدہ شی کا ظاہر ہونا اورمشاہدہ اس کا نتیجہ ہے جب مطلق ظہور کی نفی کی گئی ہے تو مشاہدہ کی بھی مطلقانفی ہے اسی لیے توقیع میں آگے چل کر امام زمانہ عج فرماتے ہیں :سیاتی شیعتی من یدع المشاھدہ الافمن ادعی المشاھدہ ۔۔۔۔۔)یہ جملہ تاکید ہے (لاظھور الابعد اذن اللہ ۔۔۔)کی پس اس بنا پر چاہے مشاہدہ امام کی نیابت کے دعوی کے ساتھ ہو یا بغیر نیابت کے دعوی کے ،اس کی تکذیب اور اس کا انکار ضروری ہے چاہے خود ملاقات امام زمانہ عج کا دعوی کرے یا کوئی دوسرا نقل کرے بہر حال اس روایت پر دقیق بحث کی ضرورت ہے تاکہ تمام زاویوں پر بحث کی جائے اور کوئی نتیجہ نکالا جاسکے اور اس کے لیے چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے :
    اولا :جس زمانے میں یہ توقیع شریف امام زمانہ عج کی طرف سے آئی اس زمانے کی شناخت ضروری ہے
    ثانیا :جو الفاظ اور کلمات امام نے استعمال کیے ہیں ان کا صحیح معنی اور مفھوم
    بغیر شک وشبہ کے اس زمانے کی صحیح شناخت اس توقیع کا صحیح معنی کرنے میں مددکارثابت ہوگی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ امام ھادی اور امام حسن عسکری   علیھماالسلام کے زمانے میں شیعوں کا اپنے آئمہ علیھم السلام سے ارتباط بہت تنگ اور مشکل تھا اور اسی لیے آئمہ نے مختلف علاقوں میں اپنے وکلامقرر کیے ہوئے تھے اور غیبت صغریٰ میں بھی چار نائب خاص گزرے ہیں اوراس زمانے میں شیعہ امام سے ارتباط کا معنی یہی مراد لیتے تھے کہ یہ شخص یا امام کا نائب ہے یا ان کا وکیل ،پس ایسی فضا میں غیبت کبری کا شروع ہونا اورایسے فرمان کا امام کی طرف سے جاری ہونا بتا رہاہے کہ دراصل امام بتانا یہ چاہتے تھے کہ غیبت صغری کا زمانہ ختم ہوچکا ہے اورغیبت کبری کا زمانہ شروع ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ جھوٹے دعویداروں کے ان دعوؤں کو رد کردیا جائے جو نیابت کا دعوی کریں تاکہ کوئی وکیل ہونے کا دعوی نہ کرے پس اس بنا پر توقیع سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی نیابت یا وکالت کا دعوی کرے تو وہ جھوٹا ہے نہ یہ کہ مطلقا دیداریا ملاقات ہی ممکن نہیں پس امام کا یہ فرمان ان افراد کے لیے ہے جو مذموم مقاصد رکھتے تھے تاکہ امام کی نمائندگی اور نیابت کا فائدہ اٹھا کر مختلف منافع کوحاصل کرسکیں البتہ پھر بھی بعض دنیا طلب ،فریب کار اور جھوٹے لوگوں نے بابیت کے عنوان سے امام زمانہ عج کے خصوصی نمائندہ ہونے کا دعوی کیا اور بہت سارے سادہ لوح افراد کو گمراہ کیا۔ بابیت ،بھائیت اور قادیانیہ میں سے ہر کسی نے بہت سارے لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرکے ہرایک نے ایک خاص فرقہ یا مذھب کی بنیاد رکھی یہ اس خطر ناک فکر کے چند نمونے ہیں توقیع کی عبار ت سراسرایسی خطرناک آفتوں سے بچاؤ کے لیے تھی اور امام نے اسی لیےیہ توقیع صادر فرمائی تھی تاکہ لوگوں کو آگاہ کیا جاسکے اسی لیے شیعوں نے بھی جھوٹے دعویدار کو ہمیشہ جھٹلایا ہے اس بنا پر زمانے کی شناخت اور اس زمانے میں مسلط شرائط ہمیں اس توقیع شریف کے معنی اور مفھوم سمجھنے میں مدد کرتی ہے شیعوں کی غیبت صغریٰ اور آغاز غیبت کبری میں ذھنی فضا ایسی تھی کہ مشاہدہ اور امام کےساتھ ارتباط وکلاء یا نائب کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے پس جوبھی زیارت کا دعوی کرتا مرادیہی تھی کہ وہ امام کا نائب یا وکیل ہے پس امام نے مسئلہ کی حساسیت اور اس کے منفی اثرات کے پیش نظر ایک حکیمانہ تدبیر اختیار کرتے ہوئے ایک طرف جھوٹے اور فریب کار انسانوں سے بچایا اور دوسری طرف شیعوں کو حکم دیا کہ ایسے افراد کی مذمت اور ان کی تکذیب کریں ۔اگر توقیع میں امام اس طرح سخت لہجہ اورالفاظ استعمال نہ کرتے یا توقیع صادر نہ فرماتے نہ جانے کتنے انحرافات وجود میں آتے جس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
    توقیع کی عبارت کےچنداہم کلمات
    اس توقیع میں چند ایسے الفاظ اور کلمات استعمال ہوئے ہیں جن کا لغت کے اعتبار سے جاننا اور معنی کرنا ضروری ہے
    لفظ “غیب”کا معنی یہ ہے کہ آنکھوں سے پوشیدہ ہونا ،ابن فارس نے معجم مقائیس الغۃ میں کہا ہے :یدل علی تستر الشی ء عن العیون لفظ “ظہور”غیب کا عکس ہے یعنی کسی چیز کا ظاہر اور آشکار ہونا وغیرہ (یدل علی قوۃ وبروز،ظھرالشی اذاانکشفت وبرز )
    لفظ “ادعا”ایک قسم کا طلب کار ہونا ،دعوت دیناوغیرہ ،ادعا:ان تدعی حقالک اولغیرک تقول :ادعی حقااوباطلا
    لفظ “مشاہدہ “مادہ شھد سے لیاگیا ہے جس کا معنی ہے دیکھنا ،آنکھوں سے درک کرنا ۔المشاھدۃ :المعاینۃ وشھدہ شھودای حضرہ فھوشاھد۔
    لفظ (کاذب )اسم فاعل ہے یعنی جھوٹ بولنے والا۔الکذب :یدل علی خلاف الصدق اسی طرح مفتر یعنی کسی پر جھوٹ باندھنے والااور کسی پر جھوٹی تہمت لگانے والا پس کلی طورپر معلوم ہوا کہ غیبت کا معنی ہے آنکھوں سے پوشیدہ ہونا اور ظہور کامعنی ہے آشکار اور واضح ہونا اسی طرح لفظ ادعی کا معنی ہے کسی کو دعوت دینا وغیرہ
    توقیع کی عبارت کےحصے
    توقیع شریف کی عبارت کو چارحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
    (۱)علی بن محمد سمری چوتھے نائب خاص کی وفات کی خبر “یا علی بن محمد السمری ۔۔۔۔۔۔فاجمع امرک ”
    (۲)جانشین تعیین کرنے سے منع فرمانا :”ولاتوص الی احد یقوم مقامک بعد وفاتک فقد وقعت الغیبۃ الثانیۃ ”
    (۳)ظہور کی نفی یہانتکہ خداوند متعال کی طرف سے اذن ملےگا :”فلاظھور الابعد اذن اللہ عزوجل وذلک بعد طول الامد وقسوۃ القلوب وامتلاء الارض جورا”
    (۴)مشاہدہ کرنے کے دعویداروں کو جھٹلانا :”سیأتی شیعتی من یدعی المشاھدۃ الافمن ادعی ٰ المشاھدۃ قبل خروج السفیانی والصیحۃ فھوکاذب مفتر ۔”
    توقیع شریف کی عبارت کے ان چار حصوں میں سے آخری دوحصوں سے ہماری بحث ہے کیونکہ پہلے حصے میں جناب علی بن محمد سمری کی وفات کی خبر ہے اور دوسرے حصے میں علی بن محمد سمری کو روکا گیا ہے کہ اپنے بعد کسی کو جانشیں قرار نہ دیں کیونکہ غٖیبت کبری ٰ کا زمانہ شروع ہورہا ہے ۔پس آخری دوحصوں سے ہماری بحث ہوگی اور جو لوگ غیبت کبریٰ میں امام زمانہ عج سےملاقات کو ممکن نہیں سمجھتے وہ انہی دو حصوں سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تیسرے حصے کا جملہ :”فلاظھورالابعد اذن اللہ عزوجل “بتا رہاہے کہ امام سےملاقات اصلاممکن نہیں کیونکہ لانفی جنس ہے جو عمومیت پر دلالت کرتی ہے اور چوتھا حصہ بھی تیسرے حصے کے نتیجے کے طورپر پیش کیا گیا ہے کہ سفیانی کے خروج اور آسمانی ندا سے پہلے اگر کوئی زیارت یا امام سے ملاقات کا دعوی کرے تو وہ جھوٹا ہے پس تیسرے اور چوتھے حصے پر غورکرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ امام کے ظہورسے پہلے اگر کوئی ملاقات یا زیارت کا دعوی کرتا ہے تو امام کے اس فرمان کی روشنی میں وہ جھوٹا ہے ۔
    لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر تھوڑی سی توجہ کی جائے تو پتہ چل جاتا ہے کہ ایسا استدلال اور نتیجہ نکالنا حقیقت سے بہت دور ہے کیونکہ امام زمانہ عج کے اس جملہ کو (فلاظھورالابعد اذن اللہ ۔۔۔)کو مساوی قرار دینا امام کی زیارت یا ملاقات کے اور نتیجہ نکالنا کہ جب ظہورکی نفی کی گئی ہے تو گویا ملاقات یا زیارت کی مطلقا نفی ہے توان کی پہلی لغزش اور اشتباہ یہی ہے اور دوسرا اشتباہ یہ ہے کہ توقیع کے چوتھے حصے کو تیسرے حصے کی تاکید کہا گیا ہے یعنی جب ظہور نہیں ہے تو امام نے جو جھوٹے دعویداروں کی مذمت کی ہے اور یہ ظہور کے ساتھ مربوط ہے ۔
    حقیقت یہ ہے کہ فلاظہور۔۔)یہ جملہ جب رویات میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا ایک خاص معنی ہے اور عموما امام زمانہ عج کے قیام کی طرف اشارہ ہوتاہے اور اس توقیع میں بھی چند ایسی تعابیر ات استعمال ہوئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہےکہ یہ امام زمانہ عج کے قیام سے مربوط ہے جب امام مھدی عج ظہورفرمائیں گے اور قیام کریں گے جیسے فلاظھورالابعد اذن اللہ عزوجل وذلک بعد طول الامد وقسوۃ القلوب وامتلاء الارض جورا “یہ سب تعابیر مثلا زمانے کا طولانی ہونا ،دلوں کی سختی اورزمین کا ظلم وستم سے بھر جانا بتارہی ہیں کہ اس عبارت میں لفظ ظہور کا لغوی معنی مراد نہیں لیاگیا بلکہ اصطلاحی معنی مراد ہے اوروہ ہے امام زمانہ عج کا علنا قیام ،پس یہ منافات نہیں رکھتا کہ غیبت کبریٰ میں کسی ایک شخص یا فقیہ یا مجتہد کے لیےامام سے ملاقات یا زیارت ممکن ہوکیونکہ علنی ظہور تو ہے نہیں کہ ہم کہیں توقیع کی عبارت اس کے مخالف ہے۔
    پس یہ توقیع کم از کم اس لحاظ سے خاموش ہے کہ کیا بعض اوقات خاص مصلحت کے پیش نظر کسی ایک شخص کی امام سے ملاقات ہوجائے بلکہ نفی اوراثبات امام کے ظہور کے متعلق ہے جب امام زمانہ عج قیام فرمائیں گے باقی رہایہ کہ چوتھے حصے کو تیسرے حصے کی تاکید قرار دینا اصلادرست نہیں ہے کیونکہ چوتھا حصہ ان شیعوں کے بارے میں ہے جو امام زمانہ عج کی نیابت اور وکالت کا دعوی کریں اور تیسرا حصہ امام کے قیام کے بارے میں ہے پس یہ دونوں حصے جدا ہیں اور علیحدہ علیحدہ ہیں ۔
    توقیع میں جو لفظ مشاہدہ استعمال ہوا ہے جس کا معنی ہے دیکھنا ،ان شواھد اور قرائن کے مطابق جو توقیع کے آخرمیں آئے ہیں پتہ چلتا ہے مطلقا دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ ایسادیکھنا جو نیابت کے دعوی کے ساتھ ہو یعنی کہے کہ میں امام کو دیکھتاہوں اور میرا امام سے رابطہ ہے ۔
    المشاھدہ “پر داخل الف لام بھی یہی بتارہی ہے کہ مراد وہ دیکھنا ہے جیسا علی بن محمد سمری نے دیکھا تھا یعنی نائب خاص تھے اور ان کا امام سے باقاعدہ رابطہ تھا اور لوگوں کے درمیان واسطہ تھے لوگ ان کے توسط سے مسائل امام کے حضور پیش کرتے تھے ۔
    ورنہ امام فرماسکتے تھے (سیاتی شیعتی من یدعی مشاھدتی “)بغیر الف لام کے ۔الف لام کے ساتھ ذکر کرنا بتارہاہے امام زمانہ عج کی مراد عصرغیبت صغریٰ والی نیابت ہے جس میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے خاص نائب اور وکیل تھے جو لوگوں کے مسائل امام تک پہنچاتے تھے۔
    البتہ اگر کوئی دیکھنے کا دعوی کرے تو اس کی تین صورتیں بن سکتی ہیں :
    (۱)دیکھنے والا صرف یہ کہے کہ امام کی زیار ت کی ہے اور اس دعوے میں سچا بھی ہو۔
    (۲)دیکھنے والادعوی کرے کہ امام کی زیارت کی ہے اور جھوٹاہو یعنی در حقیقت زیارت نہ ہوئی ہو۔
    (۳)دیکھنے والادعوی کرے کہ امام کی زیارت کی ہے اور اس دعوی میں جھوٹاہو ،اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسی چیز کی امام کی طرف نسبت دے جو امام نے نہیں فرمائی ایسا شخص صفت کذاب (جھوٹا)اور مفتر (جھوٹی نسبت دینے والا)ہے اور توقیع کے آخر میں جو امام نے فرمایا ہے (سیاتی شیعتی ۔۔۔۔۔کذاب مفتر )کا مصداق ہے
    پس کیونکہ امام نے زیارت کا دعوی کرنے والے کو ان دو صفتوں سے بیان کیا ہے صرف فرض اخیر ان دونوں صفتوں کا مصداق ہے اور دوسری صورت میں کذاب کا مصداق ہے لیکن مفتر نہیں لیکن پہلا فرض یعنی کہے کہ امام کی زیارت ہوئی ہے اور سچابھی ہو تو ان دو تعبیروں (کذاب مفتر )کا مصداق نہیں ہے بلکہ توقیع کے موضوع سے ہی خارج ہے پس اگرچہ دوسر ےفرض کا احتمال ہے کہ توقیع شریف کا مصداق قرار پائے لیکن تیسرا فرض حتمی ہے ۔
    پس توقیع شریف کے کلمات پر غوروخوض کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ امام چاہتے ہیں کہ ان لوگوں کو روکا جائے جو نیابت کے جھوٹے دعویدار بنیں گے اور شیعوں کو گمراہ کریں گے کہ ان کا امام کے ساتھ ارتباط ہے تاکہ اپنے دنیوی مفادات کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں امام نے ایسے فرمان کے ساتھ شیعوں کو خبردار فرمایا کہ مبادا کسی کے غلط پروپیگنڈااور فریب میں آجائیں ،اب میرا کوئی خاص نائب نہیں ہے اور نہ خاص وکیل اسی وجہ سے شیعہ امان میں رہے اگرچہ بعض نے کوشش کی تھی شیخیہ ،بابیہ اوربھائیہ وغیرہ ان کے چند نمونے ہیں جنہوں نے امام کے فرمان کی طرف توجہ نہ دی اور بعض لوگوں کے دھوکے میں آگئے ۔
    اس مسئلہ کی حساسیت کی وجہ سے شیعہ علماء ہمیشہ ان لوگوں سے دوررہے جن سے بابیت کی بو آتی تھی اور وہ دعوے دار تھے کہ امام کے ساتھ رابطہ ہے اورہمیشہ زیارت ہوتی ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی ایسے اشخاص سے دوررہنے کی تاکید کرتے تھے کیونکہ ان سچے افراد کی شناخت جیسے بزرگ مجتہدین کے واقعات اور ان لوگوں کے درمیان تشخیص جو فقط دنیاوی مفاد کی خاطر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں ان کے درمیان تشخیص عام افراد کے لیے بہت سخت ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا پس احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔
    جو کچھ بیان ہوچکا ہے اس کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ اس توقیع کے آخری حصے کے مصداق وہ اشخاص ہیں جو خاص اپنی نیابت کا دعوی بھی ساتھ کریں اور اپنے آپ کو واسطہ قراردیں امام اور شیعوں کے درمیان اور اسی طرح فلاطھور)کا معنی اصطلاحی مراد ہےیعنی امام کا قیام اور علنی ظہور جو فقط خدا کے اذن سے ہوگا پس یہ توقیع ان افراد کو شامل نہیں ہے جو کسی مصلحت کے تحت ان کو امام کی زیارت یا ملاقات کی توفیق اور سعادت حاصل ہوجائے یا خود امام چاہیں تو بعض افراد کو زیارت کراسکتے ہیں البتہ عموما ایسے اشخاص ہوتے ہیں جو روحی اعتبار سے بھی قوی ہوتے ہیں اوراما م کی زیارت کو دنیوی مفادات کے لیے استعمال نہیں کرتے اور نہ شہرت طلبی کے لیے ،وہ ہمراز امام ہوتے ہیں اوربرملااظہار کرکے لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع نہیں کرتے ۔
    پس میانہ روی اور منصفانہ نظر کے ذریعے ممکن ہے کہ ہم فرق کرسکیں کہ سچے واقعات کون سے ہیں اور جھوٹے دعویدار کونسے وہی روش جو ہمارے علماء اور مجتہدین نے اپنائی مثلا سند کی تحقیق ،دعوے کرنے والے کی وثاقت ،اس کے مذہب کا صحیح ہونا وغیرہ
    نتیجتا ہم کہ سکتےہیں کہ توقیع شریف ،وکالت اور نیابت خاص کو رد کرتی ہے یعنی جو کہے کہ میں نائب خاص یا امام کا وکیل ہوں اور میر ارابطہ ہے امام کے ساتھ اس کو جھٹلانا چاہیے لیکن جو واقعات مجتہدین کے گزرے ہیں یا دوسرے واقعات تو کسی نے بھی نیابت کا دعوی نہیں کیا تاکہ اس توقیع کا مصداق قرار پائیں اور یہ درست نہیں ہے کہ کہیں ، نہیں اصلا امام سے ملاقات ممکن ہی نہیں ہے ۔اگرچہ شاید پھر بھی اس موضوع پر سیر حاصل بحث نہ ہوسکی ہولیکن کوشش کی گئی ہے کہ اس موضوع کے تمام پہلوؤں کو زیر بحث لایا جائے ۔
    ——————————————–
    حوالاجات
    :کلینی ،اصول کافی ،ج۱،ص۳۲۸ انتشارات دارالکتب الاسلامیہ [1]
    : شیخ صدوق ،کمال الدین وتمام النعمۃ ،ج۲،ص ۳۴۶ ؛کلینی ،اصول کافی ،ج ۱ ،ص ۳۲۷[2]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۲۹[3]
    :کمال الدین وتمام النعمہ ،ج۲،ص۳۵۰[4]
    :نعمانی ،الغیبہ ،ص۱۴۲ انتشارات مکتبۃ الصدوق [5]
    :کمال الدین ،ج۲،۴۴۰،؛شیخ طوسی ،الغیبہ ،ص۳۶۲،انتشارات موسسہ المعارف الاسلامیہ [6]
    :ان بزرگان کی زیارت کے واقعات سے مزید آگاہی کے لیے محدث نوری کی کتاب جنۃ الماوی اور نجم الثاقب ،بحارالانوار ج۵۳وغیرہ [7]
    :کمال الدین ،ج۲،ص۳۵۰؛بحارالانوار،ج۵۱،ص۲۲۴؛قطب الدین راوندی،الخرائج والجرائح،ج۲،ص۹۳۷[8]
    :کمال الدین ،ج۲،ص۴۴۰؛شیخ طوسی ،الغیبہ ص۳۶۳[9]
    :نعمانی ،الغیبہ ،ص۱۶۳؛بحارالانوار ج۵۲،ص۱۵۴[10]
    :نعمانی ،الغیبہ ص۱۴۲[11]
    :نعمانی ،الغیبہ ص۱۷۱؛شیخ طوسی ،الغیبہ ،ص۱۶۱،بحارالانوار،ج۵۲،ص۱۵۲[12]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۴۰؛نعمانی ،الغیبہ ،ص۱۸۸،بحارالانوار ،ج۵۲،ص۱۵۵[13]
    منتخب الاثر ،ص۵۲۰:[14]
    :شیخ عباس قمی ،مفاتیح الجنان ،ترجمہ موسوی دامغانی ،ص۷۹۷ چاپ پنجم [15]
    :ھمان ،ص۹۱۲[16]
    :مسعود پورسید آقایی ،میر مھر ،ص۱۰۱،چاپ اول ،نشر حضور،قم [17]
    :ھمان ،ص۸۷[18]
    ھمان ،ص،۸۵ [19]
    : ھمان ،ص،۶۱ [20]
    : ھمان ،ص،۸۵ [21]
    : ھمان ،ص۶۹ [22]
    : ھمان ،ص۶۹ [23]
    :سید مرتضیٰ ،تنزیہ الانبیاء ،ص۱۸۲،انتشارات بوستان کتاب ،قم [24]
    :نقل از مجلہ حوزہ ،ش۷۰۔۷۱،ص۱۲۸[25]
    :رسائل ،ج۲،ص۲۹۷،انتشارات خیام ،قم [26]
    :شیخ طوسی ،الغیبہ ،ص۹۸[27]
    :ھمان ،ص۹۸[28]
    :ابوالفتح کراجکی ،کنزالفوائد ،ج۲،ص۲۱۸،انتشارات دارالذخائر ،قم[29]
    :سید ابن طاووس ،الطرایف ،ج۱،ص۱۸۵[30]
    :سید بن طاووس ،کشف المحجہ ،ص۱۵۴[31]
    :محقق نائینی ،فوائدالاصول ،ج۳ ،ص۱۵۰ ،انتشارات موسسہ نشر اسلامی قم [32]
    :اخوند خراسانی ،کفایۃ الاصول ،(ایک جلدی )ص۲۹۱[33]
    :مکیال المکارم ،ترجمہ سید مھدی حائری ،ج۲،ص۵۰۵ [34]
    :تاریخ الغیبۃ الصغریٰ ،ج۱،ص۶۴۲[35]
    : : لطف اللہ صافی گلپایگانی ،منتخب الاثر ،ص۵۲۰[36]
    :مھدی منتظر ،ص۵۴[37]
    :مجلہ حوزہ ،سال دوازدھم ،ش۷۰۔۷۱ ص۷۵ (یہ مجلہ پندرہ شعبان کی مناسبت سے ایک کتاب کی شکل میں شائع ہوا اورلوگوں کے استقبال وجہ سے ایک کتاب کی شکل میں کئی بار جھپ چکاہے ۔[38]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۲۳[39]
    :نعمانی ،الغیبہ ،ص۱۶۳؛بحارالانوار ،ج۱۲،ص۲۸۳[40]
    :کمال الدین ،ج۲،ص۳۵۱؛اصول کافی ،ج۱،ص۳۳۷[41]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۳۹[42]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۲۸[43]
    :اصول کافی ،ج۱،ص۳۲۳؛کمال الدین ،ج۲،ص۳۷۰[44]
    :نعمانی ،الغیبہ ،ص۲۰۴[45
    منبع:shiaarticles.com