islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے

    معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے

    معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے
    Rate this post

    قيامت
    1. معاد کے بغیر زندگی بے مفہوم ہے
    ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد ایک دن تمام انسان زندہ ہوں گے اور ان کے اعمال کے حساب کتاب کے بعد نیک لوگوں کو جنت میں وگناہگاروں کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ وہیں پررہیں گے۔ الله لا اله الا هو لا یجمعنکم الی ٰ یوم القیامة لاریب فیه الله کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ،یقینا قیامت کے دن، جس میں کوئی شک نہیں ہے، وہ تم سب کو جمع کرے گا ۔
    فاما من طغی ٰ وآثر الحیوة الدنی ۔۔ فان الحجیم هی الماوی ۔۔ وامامن خاف مقام ربه ونهی النفس عن الهوی ۔۔ فان الجنة هی الماوی یعنی جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زندگی کو اختیار کیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جس نے اپنے رب کے مقام (عدالت) کا خوف پیدا کیا اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا اس کا ٹھکانہ جنت ہے۔
    ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا ایک پل ہے جس سے گذرکر انسان آخرت میں پہونچتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں دنیا آخرت کے لئے تجارت کا بازار ہے یا ایک دیگر تعبیر کے مطابق دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ حضرت علی علیہ السلام دنیا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ” ان الدنیا دار صدق لمن صدقها ۔۔۔ ودار غنی لمن تزود منها، ودار موعظةلمن اتعظ بها، مسجد احباء الله ومصلی ٰ الملائکةالله ومهبط وحی الله ومتجر اولیاء الله ” یعنی دنیا سچائی کی جگہ ہے، اس کے لئے جو دنیا کے ساتھ سچی رفتار کرے ۔۔۔۔ اور بے نیازی کی جگہ ہے اس کے لئے جو اس سے ذخیرہ کرے ، اور آگاہی و بیدای کی جگہ ہے اس کے لئے جو اس سے نصیحت حاصل کرے ، دنیا دوستان خدا کے لئے مسجد ،ملائکہ کے لئے نماز کی جگہ، الله کی وحی کے نازل ہونے کا مقام اور اولیاء خدا کی تجارت کا مکان ہے۔
    2. معاد کی دلیلیں بہت روشن ہیں:
    ہمارا عقیدہ ہے کہ معاد کی دلیلیں بہت روشن ہیں کیونکہ :
    الف: دنیا کی زندگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ یہ دنیا، جس میں انسان چند دنوں کے لئے آتا ہے مشکلات کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے اور مرجاتا ہے، انسان کی خلقت کا آخری ہدف ہو افحسبتم انما خلقناکم عبثاوانکم الینا لاترجعون یعنی کیا تم یہ گمان کرتے ہوکہ ہم نے تمھیں کسی مقصد کے بغیر پیداکیا ہے اور تم ہمارے پاس پلٹ کر نہیں آؤ گے۔ یہ ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر معاد کا وجود نہ ہوتا تو دنیا کی زندگی بے مقصد رہ جاتی ۔
    ب: الله کا عدل، اس بات کا تقاضاکرتا ہے کہ نیک اور بد لوگ، جو اس دنیا میں ایک ہی صف میں رہتے ہیں بلکہ اکثر بدکار آگے نکل جاتے ہیں، وہ آپس میں جدا ہوں اور ہر ایک اپنے اعمال کی جزا یاسزا پائے ام حسب الذین اجترحوا السیئات ان نجعلهم کالذین آمنوا وعملوا الصالحات سواء محیا هم ومماتهم ساء ما یحکمون یعنی کیا برائی اختیار کرنے والوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ ہم انھیں ایمان لانے والوں اورنیک عمل کرنے والوں کے برابر قراردیں گے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو، یہ انھوں نے بہت برافیصلہ کیا ہے ۔
    ج: الله کی لا زوال رحمت اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کا فیض اور نعمتیں انسان کے مرنے کے بعد بھی قطع نہ ہوں بلکہ صاحب استعداد افراد کا تکامل مر نے کے بعد بھی اسی طرح ہوتا رہے کتب علی ٰ نفسه الرحمة لیجمعنکم الی ٰ یوم القیامة لاریب فیه یعنی الله نے اپنے اوپر رحمت کولازم قراردے لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    جو افراد معاد کے بارے میں شک کرتے ہیں قرآن کریم ان سے فرماتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں، الله کی قدرت میں شک کر و، جب کہ تم کو پہلی بار بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔ بس جس نے تمھیں ابتدا میں خاک سے پیدا کیا ہے وہی تمھیں دوسری زندگی بھی عطا کرے گا۔ افعیینا بالخلق الاول بل هم فی لبس من خلق جد ید یعنی کیاہم پہلی خلقت سے عاجز تھے؟( کہ قیامت کی خلقت پر قادر نہ ہوں) ہر گز نہیں! لیکن وہ (ان روشن دلائل کے باوجود ) نئی خلقت کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ضرب لنا مثلاً ونسی خلقه قال من یحی العظام وهی رمییم ۔۔۔۔ قل یحیها الذی انشائهااول مرة وهو بکل خلق علیم یعنی وہ ہمارے سامنے مثالیں پیش کرتا ہے، اپنی خلقت کو بھول گیا، کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟، آپ کہہ دیجئے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انھیں پہلی مرتبہ خلق کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کا بہتر جاننے والا ہے ۔
    اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ زمین و آسمان کی خلقت زیادہ اہم ہے یا انسان کا پیدا کرنا ! بس جو اس وسیع جہان کو اس کی تمام شگفتگی کے ساتھ خلق کرنے پر قادر ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اولم یروا ان الله الذی خلق السمو ٰ ت والارض ولم یعی بخلقهن بقادر علی ٰ ان یحی الموتی ٰ بلی ٰ انه علی ٰ کل شی ٴ قدیر یعنی کیا وہ نہیں جانتے کہ الله نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور وہ ان کو خلق کرنے سے عاجز نہیں تھا، بس وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادرہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
    معاد جسمانی:
    ہمارا عقیدہ ہے کہ اس جہان (آخرت) میں صرف انسان کی روح ہی نہیں بلکہ روح و جسم دونوں کو پلٹایا جائیے گا۔ کیونکہ اس جہان میں جو بھی کچھ انجام دیا گیا ہے اسی جسم اور روح کے ذریعہ انجام پایا ہے لہٰذا جزا یا سزا میں بھی دونوں کاہی حصہ ہونا چاہئے۔
    معاد سے مربوط قرآن کریم کی اکثر آیات میں معاد جسمانی کا ہی ذکر ہوا ہے جیسے معاد پر تعجب کرنے والے مخالفین، جو یہ کہتے تھے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کے جواب میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ قل یحییا الذی انشائها اول مرة یعنی آپ کہہ دیجئے کہ انھیں وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار خلق کیا تھا
    ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامه ۔۔ بل قادرین علی ٰ ان نسوی بنانه یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی (بوسیدہ )ہڈیوں کو جمع(زندہ) نہیں کریں گے؟ ہاں! ہم تو یہاں تک بھی قادر ہیں کہ ان کی انگلیوں کے (نشانات) کو بھی مرتب کریں (اور انکو پہلی حالت پر پلٹادیں) ان آیات کی طرح یبہت سی دوسری آیتیں بھی معاد جسمانی کو صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ وہ آیتیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ تم اپنی قبروں سے اٹھائے جاؤ گے وہ بھی معاد جسمانی کو ہی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ قرآن کریم کی معاد سے مربوط اکثر آیات معاد روحانی وجسمانی پر ہی دلالت کرتی ہیں۔
    3. موت کے بعد کی زندگی:
    ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ چیزیں جو موت کے بعد، اس جہان میں قیامت، جنت، جہنم میں رونما ہوں گی، ہم اس محدود دنیا میں ان سے باخبر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ چیزیں ہماری فکر سے بہت بلند و بالاہیں فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین یعنی کسی نفس کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے لئے کیا کیا خنکی چشم کا سامان چھپا کر رکھا گیا ہے جو ان کے اعمال کی جزا ہے۔
    پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: ” ان الله یقول اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رات ولا اذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر ” یعنی الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے جو نعمتیں محیا کیں ہیں وہ ایسی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے ایسی نعمتیں دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی دل میں ان کا تصورپیداہوا ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہماری مثال ایک جنین کی سی ہے۔ جو اپنی ماں کے شکم میں محدود فضا میں زندگی بسر کرتا ہے فرض کروکہ اگر یہ جنین عقل و شعور بھی رکھتا ہو تو بھی باہر کی دنیا میں موجود چمکتے ہوئے سورج، دمکتے ہوئے چاند، پھولوں کے مناظر،ہواؤں کے جھوکوں اور دریا کی موجوں کی صدا جیسے مفاہیم وحقائق کو درک نہیں کرسکتا۔ بس یہ دنیا بھی اس جہان کے مقابل میں ماں کے پیٹ کی طرح ہے۔ ہمیں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے۔
    4. معاد واعمال نامہ:
    ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن ہمارے اعمال نامے، ہمیں سونپ دئے جائیں گے ۔نیک لوگوں کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں اور گناہگاروں کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دئے جا ئگا۔ نیک لوگ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور گناہگار افراد اپنے نامہ اعمال کو دیکھ رنجیدہ ہوں گے۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کواس طرح بیان فرمایا ہے فاما من اوتی کتابه بییمینه فیقول اؤم اقرؤا کتابیه ۔۔ انی ظننت انی ملاق حسابیه ۔۔ فهو فی عیشة الراضیة ۔۔۔۔۔ واما من اوتی کتابه بشماله فیقول یالیتنی لم اوت کتابیه یعنی جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (خوشی سے )سب سے کہے گا کہ (اے اہل محشر ) ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھو، مجھے یقین تھا کہ میرے اعمال کا حساب مجھے ملنے والا ہے، پھر وہ پسندیدہ زندگی میںہوگا ۔۔۔۔۔ لیکن جس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا۔
    اب رہی یہ بات کہ ان نامہ اعمال کی نوعیت کیا ہوگی ؟وہ کیسے لکھے جائیں گے کہ کسی کو اس سے انکار کرنے کی جراٴت نہ ہوگی ؟ یہ سب ہمارے لئے روشن نہیں ہیں۔ جیسا پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ معاد وقیامت میں کچھ ایسی خصوصیتیں ہیں کہ ان کے جزئیات کو اس دنیا میں سمجھنا بہت مشکل یا غیر ممکن ہے۔ لیکن کلی طور پر سب معلوم ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
    5. قیامت میں شہود وگواہ:
    ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کے علاوہ کہ الله ہمارے تمام اعمال پر خودشاہد ہے، قیامت میں کچھ اور شاہد بھی ہمارے اعمال پر گواہی دیں گے۔ جیسے ہمارے ہاتھ پیر، ہمارے بدن کی کھال، زمین جس پر ہم زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے ہمارے اعمال پر گواہ ہوں گے الیوم نختم علی ٰ افواههم وتکلمنااید یهم وتشهدوا ارجلهم بماکانوا یکسبون یعنی اس دن (روز قیامت) ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پیروں نے جو کام انجام دئے ہیں وہ ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ وقالوا لجولدهم لم شهدتم علینا قالوا انطقنا الله الذی انطق کل شی ٴ یعنی وہ لوگ اپنے بدن کی کھال سے کہیں گے کہ ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ تو ان کو جواب ملے گا کہ جوالله ہر چیز میں بولنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس نے ہی ہم کو بولنے کی طاقت دی ہے(اور ہم کو رازوں کے فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے) یومئذ تحدث اخبارها ۔۔ بان ربک اوحی ٰ لها یعنی اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی اس لئے کہ آپ کے پروردگار نے اس پر وحی کی ہے (کہ اس ذمہ داری کو انجام دے)
    6. صراط ومیزان :
    ہم قیامت میں ” صراط” و “میزان” کے وجود کے قائل ہیں ۔صراط وہ پل ہے جو جہنم کے اوپر بنایاگیا ہے اور قیامت کے دن سب لوگ اس کے اوپرسے عبور کریں گے۔ ہاں جنت کا راستہ جہنم کے اوپر سے ہی ہے وان منکم الا واردها کان علی ٰ ربک حتماً مقضیا ۔۔ ثم ننجی الذین التقوونذرواالظالمین فیها جثیاً یعنی اورتم سب (بدون استثنی) جہنم میں داخل ہوگے یہ تمھارے رب کا حتمی فیصلہ ہے اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کو جہنم ہی میں چھوڑ دیں گے۔ اس خطرناک پل سے گذرنا انسان کے اعمال پر منحصر ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے و منهم من یمر مثل البرق، ومنهم من یمر مثل عدو الفرس ، ومنهم من یمر حبواً ،ومنهم من یمر مشیاً، ومنهم من یمر متعلقاً ، قد تاخذ النار منه شیئا وتترک شیئاً یعنی کچھ لوگ پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے ،کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح گذریں گے، کچھ گھٹنیوں کے بل چل کر پار جائیں گے، کچھ پیدل چلنے والوں کی طرح آگے بڑھیں گے اورکچھ لوگ اس پر لٹک کر گزریں گے، ان میں سے کچھ لو گوں کو جہنم کی آگ اپنی طرف کھینچ لے گی اور کچھ کو چھوڑ دے گی۔
    ” میزان” اس کے تو نام سے ہی اس کے معنی ظاہر ہیں ۔یہ انسانوں کے اعمال کوپرکھنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اس دن ہمارے تمام اعمال کو تولا جائے گا اور ہر ایک کے وزن و ارزش کو آشکارکیا جائے گا۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیامة فلا تظلم نفس شیئاً وان کان مثقال حبة من خردل آتینا بها وکفی ٰ بنا حاسبین یعنی ہم روز قیامت انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور کسی پر معمولی سا بھی ظلم نہیں ہوگا، یہاں تک کہ اگر رای کے دانہ کے وزن کے برابر بھی کسی کی (نیکی یا بدی) ہوئی تو ہم اس کو بھی ظاہر کریں گے اور (اس کو اس کا بدلہ دیں گے)کافی ہے کہ ہم حساب کرنے والے ہوں گے۔
    فامامن ثقلت موازینه فهو فی عیشة الراضیة ۔۔ وامامن خفت موازینه فامه هاویة یعنی(اس دن) جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا اور جس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کا ٹھکانہ دوزخ میں ہوگا۔
    ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ اس جہان میں نجات وکامیابی انسان کے اعمال پر منحصر ہے، نہ کہ اس کی آرزؤں وتصورات پر۔ ہرانسان اپنے اعمال کے تحت ہے اور کوئی بھی انسان تقوے اور پرہیزگاری کے بنا کسی مقام کو حاصل نہیں کرسکتا ۔ کل نفس بماکسبت رهینة یعنی ہر نفس اپنے اعمال میں گروی ہے ۔
    یہ صراط و میزان کے بارے میں مختصر سی شرح ہے اور ان کے جزئیات کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ آخرت ایک ایسا جہان ہے جو اس دنیا سے، بہت برتروبالا ہے ۔اس مادی دنیا میں قید افراد کے لئے اس جہان کے مفہوموں کوسمجھنا مشکل وناممکن ہے ۔
    7. قیامت اور شفاعت :
    ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن انبیاء، ائمہ معصومین علیہم السلام اور اولیاء خدا ، الله کے اذن سے کچھ گناہگاروں کی شفاعت کریں گے۔ جنلوگوں کی شفا عت کی جائگی وہ الله کی معافی کے مستحق قرار پائیں گے۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ شفاعت فقط ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اپنے رابطہ کو الله اور اولیاء الله سے قطع نہ کیا ہو۔ لہٰذا شفاعت بے قید وبند نہیں ہے ،بلکہ یہ ہمارے اعمال ونیات سے مربوط ہے ولایشفعون الا لمن ارتضی ٰ یعنی وہ فقط ان کی شفاعت کریں گے جن کی شفاعت سے الله راضی ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے کہ شفاعت جہاں انسان کی تربیت کا ذریعہ ہے وہیں گناہگاروں کو گناہوں سے روکنے و اولیاء الله سے رابطہ کو قطع نہ ہونے دینے کا ایک وسیلہ بھی ہے ۔اس کے ذریعہ انسانوں کو پیغام دیا جاتاہے کہ اگر گناہوں میں ملوس ہوگئے ہو تو فوراً توبہ کرلو اور آئندہ گناہ انجام نہ دو ۔
    ہمارا یقین ہے کہ” شفاعت عظمیٰ “کا منصب رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مخصوص ہے اور آپ کے بعد دوسرے تمام انبیاء و ائمہ حتی علماء ، شہداء، مومنین عارف وکامل کو حق شفاعت حاصل ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم و اعمال صالح بھی کچھ لوگوں کی شفاعت کریں گے ۔
    امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ” ما من احد من الاولین والآخرین الا وهو یحتاج الی ٰ شفاعة محمد (ص) یوم القیامة ” یعنی اولین وآخرین میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو روز قیامت حضرت محمدمصطفےٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا محتاج نہ ہو۔
    کنز العمال میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث درج ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ” الشفعاء خمسة: القرآن والرحم والامانة ونبیکم واهل بیت نبیکم ” یعنی روز قیامت پانچ شفیع ہوں گے: قرآن کریم، صلہٴ رحم، امانت، آپ کے نبی اور آپ کے نبی کے اہل بیت۔
    حضرت امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ ” اذا کان یوم القیامة بعث الله العالم و العابد ، فاذا وقفا بین یدی الله عزوجل قیل لعابد انطلق الی ٰ الجنة و قیل للعا لم قف تشفع للناس بحسن تا ٴ دیبک لهم” یعنی قیامت کے دن الله عابد وعالم کو اٹھائے گا جب وہ الله کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں جاؤ اور عالم سے کہا جائے گا کہ ٹھہرو ! تم نے لوگوں کی صحیح تربیت کی ہے اس وجہ سے تمہیںس یہ حق ہے کہ تم لوگوں کی شفاعت کرو۔
    یہ حدیث شفاعت کے فلسفہ کے سلسلہ میں ایک لطیف اشارہ کررہی ہے ۔
    منبع:shiaarticles.com