مشورے کا مطلب

اسلام میں مشورے کو خاص اہمیت حاصل ہے، مشورے کا معنی دوسروں سے ان کی رائے مانگنا ہے، قرآن اور روایات میں مشورہ کرنے کو واجب اور لازم قرار دیا گیا ہے۔

مشورے کی اہمیت

مختلف کاموں کے لئے مشورہ کرنے کو قرآن مجید میں مومنین کی صفات میں سے بیان کیا ہے۔ اور مشورے کو نماز کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَالَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوا لِرَبِّهِمۡ وَاَقَامُوۡا الصَّلٰوةَۖ وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡۖ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ‌ۚ
اور جو اپنے رب کی بات کو قبول کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور آپس کے معاملات میں مشورہ کرتے ہیں اور ہمارے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں
القرآن – سورۃ 42 – الشورى – آیت 38

کن کاموں میں مشورہ کرنا چاہیے؟

جو لوگ اپنے کاموں میں دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، ان کے کاموں میں کم غلطیاں ہوتی ہیں۔

البتہ جہاں بات خدا کے حکم کی ہو اس میں مشورے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ مشورہ اس جگہ ہونا چاہئے جہاں مسئلے کو عوام کے حوالے کر دیا گیا ہو۔ جنگ بدر میں خدا کی جانب سے کفار سے جنگ کا حکم تھا، پر کس علاقے میں جنگ کرنی ہے یہ عوام ہر چھوڑا گیا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علاقے کے تعین کے لیے اصحاب سے مشورہ کیا اور ان کی نظر پر عمل کیا۔

نبی اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جب بھی تمہارے حاکم نیک اور قدرتمند، سخی، اور تمہارے کام مشوروں سے کیئے جائیں تو یہ زمین تمہارے لیے موت سے زیادہ بہتر ہے، اور جب تمہارے حاکم برے، امیر، کنجوس اور کاموں میں مشورہ کرنے والا نا ہو، اس صورت میں موت زیادہ بہتر ہے۔
(تحف العقول ص 36 )
امام علی علیہ السلام نے مشورہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: 1- مشورہ ہدایت ہے 2- مشورہ روشنی ہے 3- مشورے سے انسان کامل ہوتا ہے 4- مشورہ کرنے والے دوسروں کی عقل میں شریک ہوتا ہے، 5- مشورہ سے انسان پچھتاوے اور غلطی سے محفوظ رہتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے: چار شرائط کے ساتھ مشورے کا فائدہ ہوتا ہے، پہلی یہ کہ آپ نے مشورہ عاقل سے کیا ہو، دوسری یہ کہ وہ آزاد اور با ایمان ہو، تیسری شرط یہ کہ وہ آپ کا دوست اور ہمدرد ہو، چوتھی یہ کہ اس کو مسئلے کے بارے میں ویسے ہی آگاہ کریں جیساکہ آپ خود اس بارے میں جانتے ہیں ۔
( المحاسن جلد 2 صفحہ 602 )

رسول اکرم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے امام علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی ڈرپوک سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ مشکلات سے نکلنے کا راستہ تمہارے لیے تنگ کر دے گا، اور کنجوس سے مشورہ نہ کرو، کیونکہ وہ آپ کو سخاوت کرنے اور آپ کے ہدف سے دور کر دے گا، اور لالچی سے مشورہ نہ کرو کیونکہ وہ لالچ کو تمہارے لیے خوبصورت بنا دے گا۔
( بحار الانوار جلد 7 صفحہ 34)
امام علی علیہ السلام، مالک اشتر کو خط میں یوں لکھتے ہیں: کنجوس سے مشورہ نہ کرو، وہ تمہیں خلق خدا کی خدمت سے روکے گا، اور غریب سے ڈرائے گا، اور ڈرپوک سے مشورہ نہ کرو وہ تمہارے ارادے کو کمزور کردیگا، لالچی سے بھی مشورہ نہ کرو کیونکہ وہ ظلم کو تمہارے لیے خوبصورت جلوہ افروز کرے گا۔
(نہج البلاغہ، خط 52)
رسول خدا صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم نے مشورہ دینے والے کے لیے کچھ وظائف بیان فرمائے ہیں: اگر کوئی تم سے مشورہ کرے تو اس میں غور اور فکر کرو، اور اگر کوئی اچھی رائے ملے تو اس کو ظاہر کرو، اور اگر ایسا نہ ہو تو اسے ایک ایسے شخص کے پاس جانے کا مشورہ دو جو تم سے زائد تجربہ کار ہو اور اسے اچھا مشورہ دے سکتا ہو۔
( بحار الانوار جلد 72 صفحہ 104)
نبی کریم صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم کی سیرت میں مشورہ کی کئی مثالیں ملتی ہیں، 1- بدر ، احد ، خندق ، بنی قریظہ ، بنی نضیر کی جنگوں میں فوجی مسائل میںاصحاب سے مشورہ
2- ان کی زوجہ پر جو تہمت لگائی گئی، اس کے بارے میں مشورہ
3- افراد کو تبلیغ اور مسائل کے حل کے لیے روانہ کرنے سے پہلے مشورہ کرنا، جیسا کہ پہلا کہا گیا ہے کہ خدا اور رسول کے حکم میں مشورہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

1- قرآن کریم
2- نہج البلاغہ
3-بحار الانوار ، مجلسی
4-المحاسن ، ابوجعفر برقی
5-تحف العقول ، ابن سعبہ طرنی
6-سیره ابن ہشام ، ابن ہشام
7- المغازی ، واقدی


more post like this