islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. قیامت کی نشانیاں

    قیامت کی نشانیاں

    قیامت کی نشانیاں
    Rate this post

    قیامت کی نشانیاں
    اشتراط الساعة کے لغوی معنی تمام شرائط کا جمع ھونا ھے، یہاں پر نشانی مراد ھے، لہٰذا اشتراط الساعة کے معنی قیامت کی نشانیاں یا قیامت پر دلالت کرنے والی علامتیں ھیں،ابن عباس سے مروی ھے کہ قیامت کی نشانیاں جیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا ھے:
    < فَہَلْ یَنْظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ اٴَنْ تَاٴْتِیَہُمْ بَغْتَةً فَقَدْ جَاءَ اٴَشْرَاطُہَا فَاٴَنَّی لَہُمْ إِذَا جَاءَ تْہُمْ ذِکْرَاہُمْ>[75]
    ”تو کیا یہ لوگ بس قیامت ھی کے منتظر ھیں کہ ان پر اک بارگی آجائے تو اس کی نشانیاں آھی چکی ھیں تو جس وقت قیامت ان (کے سر) پر آپہنچے گی پھرانھیں نصیحت کہاں مفید ھو سکتی ھے“۔
    یہ آیہ شریفہ قیامت کی دو نشانیاں بیان کرتی ھیں:
    ۱۔ قیامت اچانک او رناگہانی طور پر آئے گی، جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
    <لاَتَاٴْتِیکُمْ إِلاَّ بَغْتَةً>[76]
    ”وہ تمہارے پاس بس اچانک آجائے گی“۔
    یہ آیت اس بات پر (بھی) دلالت کرتی ھے کہ قیامت کے آنے کا وقت صرف خداوندعالم کے پاس ھے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ھوتا ھے:
    < قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّی لاَیُجَلِّیہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ>[77]
    ”تم کہہ دو کہ اس کا علم بس فقط میرے پروردگار ھی کو ھے وھی اس کے معین وقت پر اس کو ظاہر کردے گا “۔
    ۲۔ جس وقت قیامت کے آثار نمایاں ھوجائیں اور اس کی نشانیاں دکھائی دینے لگیں تو پھر ایمان لانا یا گناھوں سے توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نھیں ھوگا، جیسا کہ خداوندعالم فرماتا ھے:
    <یَومَ یَاٴْتِي بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَیَنفَعُ نَفْسًا إِیمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اٴَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِہَا خَیْرًا>[78]
    ”(یہ صرف اس بات کے منتظر ھیں کہ ان کے پاس ملائکہ آجائیں یا خود پروردگار آجائے ) یا اس کی بعض نشانیاں آجائیں تو جس دن اس کی بعض نشانیاں آجائیں گی اس دن جو نفس پہلے سے ایمان نھیں لایا ھے یا اس نے ایمان لانے کے بعد کوئی بھلائی نھیں کی ھے اس کے ایمان کا کوئی فائدہ نہ ھوگا“۔
    قیامت کی نشانیاں ظاہر ھونے کے بعد کسی کی توبہ قبول نھیں ھوگی اور نہ ھی کسی کا ایمان لانا مفیدھو گا۔
    نشانیوں کے اقسام:
    قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں قیامت کی نشانیوں کو دو قسموں پر تقسیم کیا جاسکتا ھے:
    اول: پہلی نشانی آخر الزمان میں لوگوں کے کردار سے مخصوص ھے، اور اسی سے متعلق ھے، چاھے اس سلسلے میں متعدد احادیث میں آخر الزمان میں لوگوں کے اعمال اور کردار کی باتیں کی گئی ھوں یا حوادث اور جنگوں کے بارے میں بیان کیا گیا ھو، (لہٰذا ھم ذیل میں چند ایک احادیث بیان کرتے ھیں:)
    ۱۔ابن عباس ، حضرت رسول اکرم (ص)سے روایت کرتے ھیں کہ آنحضرت نے فرمایا:
    ”من اشراط الساعة :اضاعة الصلوات ،واتباع الشھوات والمیل الی الاھواء،و تعظیم اصحاب المال، و بیع الدین بالدنیا ، فعندھایذاب قلب الموٴمن فی جوفہ کما یذاب الملح بالماء ،مما یری من المنکر فلا یستطیع ان یغیرہ“۔[79]
    ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ھیں: نماز کو ضایع کیا جائے گا، شھوت پرستی کی پیروی کی جائے گی، ھوا و ھوس کی طرف رغبت ھونے لگے گی، مالدار لوگوں کا (ان کے مال کی وجہ سے)احترام کیا جائے گا، دین کو دنیا کے بدلے فروخت کیا جائے گا، پس وقت مومن کا دل اس کے اندراس طرح ذوب (پانی) ھوجائے گا جس طرح پانی میں نمک ، اس وقت برائیوں کو دیکھنے والا ان کو بدل نھیں سکے گا“۔
    ۲۔ اسی طرح حضرت رسول اکرم ﷺنے فرمایا:
    ”اذا عملت امتی خمس عشرة خصلة حل بھا البلاء“۔ قیل: یا رسول اللہ وما ھی؟ قال:”اذاکانت المغانم دولا،والامانة مغنما،والزکاة مغرما، واٴطاع الرجل زوجتہ و عق امہ، وبر صدیقہ ،وکان زعیم القوم ارذلھم ،و اکرمہ القوم مخافة شرہ ،و ارتفعت الاصوات فی المساجد،ولبسوا الحریر ،واتخذوا القینات ،وضربوا بالمعازف ،ولعن آخر ھذہ الامة اولھا، فلیرتقب عند ذلک الریح الحمراء اوالخسف اوالمسخ “۔[80]
    ”جب میری امت میں ۱۵ /عادتیں پیدا ھوجائےں تو ان پر بلائیں نازل ھونا جائز ھے“۔ تو لوگوں نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ کیا ھیں؟ تو آنحضرت (ص)نے فرمایا: جب مال غنیمت کا ناجائز استعمال کیا جانے لگے، اور امانت کو غنیمت سمجھا جانے لگا، زکوٰة کی ادائیگی نہ کی جائے، جب شوہر اپنی زوجہ کی اطاعت اور اپنے والدین کی نافرمانی کرنے لگے ، دوست سے نفرت کی جائے، پست و ذلیل لوگ قوم کی سرپرستی کریں، شریف ترین لوگ ان کے خوف سے سھم جائیں، مسجد میں آوازیں بلند ھونے لگے، حریر کا لباس پہنا جانے لگے، ناچ گانے کا سازو سامان جمع کیا جانے لگے، اس امت کے بعد والے پہلے والوں پر لعنت کرنے لگےں، اس وقت سرخ آندھی ، سورج گرہن اور مسخ ھونے کا انتظار کرو“۔
    دوم : قیامت کی دوسری نشانی زمینی اور فلکی حوادث ھیں جیسا کہ بعض احادیث میں بیان ھوا ھے:
    ۱۔ حیوان کا نکلنا، جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ھے:
    <وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ اٴَخْرَجْنَا لَہُمْ دَابَّةً مِنْ الْاٴَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ اٴَنَّ النَّاسَ کَانُوا بِآیَاتِنَا لاَیُوقِنُونَ۔>[81]
    ”اور جب ان لوگوں پر (قیامت کا) وعدہ ھوگا تو ھم ان کے واسطے زمین سے ایک چلنے والا نکال کھڑا کریں گے جو ان سے یہ باتیں کرے گا کہ(فلاں فلاں ) لوگ ھماری آیتوںپر یقین نھیں رکھتے تھے“۔
    ۲۔ امام مہدی (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا ظھور ، قیامت سے پہلے امام زمانہ (عج) کے ظھور کے سلسلے میں بہت (ھی)زیادہ احادیث بیان ھوئی ھیں، جن میں حضرت رسول اکرم (ص)کی مشھورومعروف یہ حدیث ھے:
    ”لاتقوم الساعة حتی یخرج رجل من عترتی (اوقال من اھل بیتی) یملوٴ ھا قسطا و عدلاً کما ملئت ظلما و عدواناً“۔[82]
    ”اس وقت تک قیامت نھیں آئے گی جب تک میری عترت میں سے ایک شخص قیام نہ کرے، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ھوگی“۔
    ۳۔ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا (آسمان سے) نزول ھوگا، جیسا کہ درج ذیل آیت کی تفسیر میں یہ بات کھی گئی ھے:[83]
    < وَإِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلاَتَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُونِ ہَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِیمٌ>[84]
    ”اور وہ تو یقینا قیامت کی ایک روشن دلیل ھے تم لوگ اس میں ہر گز شک نہ کرو اور میری پیروی کر و۔یھی سیدھا راستہ ھے“۔
    مذکورہ بالا حدیث کے سلسلے میں بہت سے مفسرین نے کھاھے کہ یہ آیت حضرت عیسی علیہ السلام کے آخر الزمان میں نزول سے مخصوص ھے۔[85]
    ۴۔ یاجوج و ماجوج کا خروج،[86]جیسا کہ ارشاد الٰھی ھوتا ھے:
    <حَتَّیٰ إِذَا فُتِحَتْ یَاٴْجُوجُ وَ مَاٴْجُوجُ وَھُم مِن کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِٴذَا ھِیَ شَاخِصَةٌ اٴَبْصَارُ الَّذِینَ کَفَرُوا>[87]
    ”بس اتنا (توقف توضرور ھوگا)کہ جب یاجوج و ماجوج (سد سکندری کی قید سے) کھول دیئے جائیں اور یہ لوگ (زمین کی) ہر بلندی سے دوڑتے ھوئے نکل پڑیں اور قیامت کا سچاوعدہ نزدیک آجائے پھر تو کافروں کی آنکھیں ایک دم سے پتھراھی جائیں“ ۔
    ۵۔ بہت زیادہ دھواں اٹھے گا، خداوندعالم کا فرمان ھے:
    < فَارْتَقِبْ یَوْمَ تَاٴْتِی السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِینٍ یَغْشَی النَّاسَ ہَذَا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ >[88]
    ”تو تم اس دن کا انتظار کرو کہ آسمان سے ظاہر بظاہر دھواں نکلے گا(اور) لوگوںکو ڈھانک لے گا یہ درد ناک عذاب ھے “۔
    احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ھے کہ(قیامت سے پہلے) مشرق و مغرب تک دھواں پھیل جائے گا اور یہ دھواں چالیس دن تک رھے گا۔[89]
    ۶۔ ان کے علاوہ قیامت کے سلسلے میں احادیث میں دوسری بہت سی نشانیاں بھی ذکر ھوئی ھیں، جیسے قعر عدن سے ایسی آگ کا نکلنا،جو لوگوں کو محشر کی طرف ڈھکیلے گی، جس کے پیچھے کوئی نھیں رہ جائے گا، اور جب لوگ رکےں گے تو وہ بھی رک جائے گی اور جب لوگ چلنے لگےں گے تو بھی چلنے لگے گی،مغرب سے سورج نکلے گا، تین سورج گہن ھوں گے ایک مشرق میں دوسرا مغرب میں اور تیسرا جزیرہ عرب پر، دجال [90] ظاہر ھوگا، فالج کی بیماری اور اچانک موتیں زیادہ ھوں گی[91] (دمدار) ستارہ طلوع کرے گا، بے موسم میں بارشیں ھوگی[92] اور کالی آندھی چلے گی۔[93]
    —————————————–
    حوالاجات
    [75] سورہٴ محمد آیت۱۸۔
    لسان العرب، ابن منظور ۔شرط ۔۷:۳۲۹۔۳۳۰،مجمع البیان ، طبرسیۺ،ج۹،ص۱۵۴،تفسیر المیزان، علامہ طباطبائی ۺ،ج۱۸،ص۲۳۶۔
    [76] سورہٴ اعراف آیت۱۸۷۔
    [77] سورہٴ اعراف آیت۱۸۷۔
    [78] سورہٴ انعام آیت۱۵۸۔
    [79] تفسیرقمی ۲:۳۰۳،بحار الانوار ۶:۳۰۶/۶۔
    [80] خصال شیخ صدوق:۵۰۰/۱و۲۔
    [81] سورہٴ نمل آیت۸۲۔،مزید تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: ”کتاب الرجعة“، مرکز الرسالة: ۲۷ ۔ ۲ ۳ ۔
    [82] مسند احمد ۳:۳۶،صحیح ابن حبان ۸:۲۹۰/۶۲۸۴،ا۔مستدرک علی اصحیحین ۴:۵۵۷۔
    [83] خصال شیخ صدوق:۴۴۹/۵۲،جامع الاصول / ابن الاثیر ۱۱:۸۷۔داراحیاء التراث العربی ، بیروت۔
    [84] سورہٴ زخرف آیت۶۱۔
    [85] معالم التنزیل / البغوی ۵:۱۰۵۔دارالفکر ۔بیروت ،الکشاف / الزمخشری ۴:۲۶،تفسیر الرازی ۲۷: ۲۲۲، تفسیر القرطبی ۱۶:۱۰۵۔داراحیاء التراث العربی ۔بیروت ،تفسیر ابی السعود ۸:۵۲۔داراحیاء التراث العربی۔بیروت۔
    [86] راجع:الخصال ، شیخ صدوق :۴۳۱/۱۳،الدرالمنثور / السیوطی ۶:۳۸۰۔
    [87] سورہٴ الانبیاء آیت۹۶۔۹۷۔
    [88] سورہٴ دخان آیت ۱۰۔۱۱
    [89] تفسیر الطبری ۲۵:۶۸۔دارالمعرفة ۔بیروت۔
    [90] الخصال ،شیخ صدوق:۴۳۱/۱۳،الدرالمنثور / السیوطی ۶:۳۸۰،مسند احمد ۲:۲۰۱،جامع الاصول / ابن الاثیر ۱۱:۸۷۔
    [91] اصول کافی / الکلینی ۳:۲۶۱/۳۹۔
    [92] تفسیر القمی ۲:۳۰۴و۳۰۶۔
    [93] بحارالانوار ۶:۳۱۵/۲۴۔
    منبع:shiaarticles.com