islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟

    قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟

    قرآن کے حروف مقطّعات سے کیا مراد ہے؟
    Rate this post

    قرآن مجید کے ۲۹ سوروں کے شروع میں حروف مقطّعات آئے ہیں، اور جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے کہ یہ الگ الگ حروف ہیں اور ایک دوسرے سے جدا دکھائی دیتے ہیں، جس سے کسی لفظ کا مفہوم نہیں نکلتا۔
    قرآن مجید کے حروف مقطّعات، ہمیشہ قرآن کے اسرار آمیز الفاظ شمار ہوئے ہیں، اور مفسرین نے اس سلسلہ میں متعدد تفسیریں بیان کی ہیں، آج کل کے دانشوروں کی جدید تحقیقات کے مد نظر ان کے معنی مزید واضح ہوجاتے ہیں۔
    یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی بھی تاریخ نے بیان نہیں کیا ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب یا مشرکین نے قرآن کے بہت سے سوروں میں حروف مقطّعات پر کوئی اعتراض کیا ہو، یا ان کا مذاق اڑایا ہو، جو خود اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ وہ لوگ حروف مقطّعات کے اسرار سے بالکل بے خبر نہیں تھے۔
    بہر حال مفسرین کی بیان کردہ چند تفسیریں موجود ہیں، سب سے زیادہ معتبراوراس سلسلہ میں کی گئی تحقیقات سے ہم آہنگ دکھائی دینے والی تفاسیرکی طرف اشارہ کرتے ہیں:
    ۱۔ یہ حروف اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ یہ عظیم الشان آسمانی کتاب کہ جس نے تمام عرب اور عجم کے دانشوروں کو تعجب میں ڈال دیا ہے اور بڑے بڑے سخنور اس کے مقابلہ سے عاجز ہوچکے ہیں، نمونہ کے طور پر یہی حروف مقطّعاتہیں جو سب کی نظروں کے سامنے موجود ہیں۔
    جبکہ قرآن مجید انھیں الفابیٹ اور معمولی الفاظ سے مرکب ہے، لیکن اس کے الفاظ اتنے مناسب اور اتنے عظیم معنی لئے ہوئے ہے جو انسان کے دل و جان میں اثر کرتے ہیں، روح پر ایک گہرے اثر ڈالتے ہیں ، جن کے سامنے افکار اور عقول تعظیم کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، اس کے جملے عظمت کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور اپنے اندر معنی کا گویا ایک سمندر لئے ہوٴئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔
    حروف مقطّعات کے سلسلے میں اس بات کی تا ئید یوں بھی ہوتی ہے کہ قرآن مجید کے جہاں سوروں کے شروع میں حروف مقطّعاتآئے ہیں ان میں سے ۲۴ /مقامات پر قرآن کی عظمت بیان کی گئی ہے، جو اس بات کی بہترین دلیل ہے کہ ان دونوں (عظمت قرآن اور حروف مقطّعہ) میں ایک خاص تعلق ہے۔
    ہم یہاں پر چند نمونے پیش کرتے ہیں:
    ۱۔ <اٰلٰرٰ کِتَابٌ اٴُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیر>(1)
    الرٰیہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں اور ایک صاحب علم و حکمت کی طرف سے تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں“۔
    ۲۔ <طٰس تِلْکَ آیَاتُ الْقُرْآنِ وَکِتَابٍ مُبِینٍ >(2)
    ”طٰس ،یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں“۔
    ۳۔ <اٰلٰم تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْحَکِیمِ >(3)
    ” الم ، یہ حکمت سے بھری ہوئی کتاب کی آیتیں ہیں“۔
    ۴۔ <اٰلٰمص کِتَابٌ اٴُنزِلَ إِلَیْکَ>(4)
    ”المص، یہ کتاب آپ کی طرف نازل کی گئی ہے“۔
    ان تمام مقامات اور قرآن مجید کے دوسرے سوروں کے شروع میں حروف مقطّعہ ذکر ہونے کے بعد قرآن اور اس کی عظمت کی گفتگو ہوئی ہے۔(5)
    ۲۔ ممکن ہے قرآن کریم میں حروف مقطّعات بیان کرنے کا دوسرا مقصد یہ ہو کہ سننے والے متوجہ ہوجائیں اور مکمل خاموشی کے ساتھ سنیں، کیونکہ گفتگو کے شروع میں اس طرح کے جملے عربوں کے درمیان عجیب و غریب تھے، جس سے ان کی تو جہ مزید مبذول ہو جا تی تھی، اور مکمل طور سے سنتے تھے، اور یہ بھی اتفاق ہے کہ جن سوروں کے شروع میں حروف مقطّعاتآئے ہیں وہ سب مکی سورے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ وہاں پر مسلمان اقلیت میں تھے، اور پیغمبر اکرم (ص) کے دشمن تھے، آپ کی باتوں کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے، کبھی کبھی اتنا شور و غل کیا کرتے تھے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی، جیسا کہ قرآن مجید کی بعض آیات (جیسے سورہ فصلت ، آیت نمبر ۲۶) اسی چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
    ۳۔ اہل بیت علیہم السلام کی بیان شدہ بعض روایات میں پڑھتے ہیں کہ یہ حروف مقطّعات، اسماء خدا کی طرف اشارہ ہیں جیسے سورہ اعراف میں ”المص“ ، ”انا الله المقتدر الصادق“ (میں صاحب قدرت اور سچا خدا ہوں) اس لحاظ سے چاروں حرف خداوندعالم کے ناموں کی طرف اشارہ ہیں۔
    مختصر شکل ( یا کوڈ ورڈ) کو تفصیلی الفاظ کی جگہ قرار دینا قدیم زمانہ سے رائج ہے، اگرچہ دورحاضر میں یہ سلسلہ بہت زیادہ رائج ہے، اور بہت ہی بڑی بڑی عبارتوں یا اداروں اور انجمنوں کے نام کا ایک کلمہ میں خلاصہ ہوجا تا ہے۔
    ہم اس نکتہ کا ذکرضروری سمجھتے ہیں کہ ”حروف مقطّعات“ کے سلسلہ میں یہ مختلف معنی آپس میں کسی طرح کا کوئی ٹکراؤ نہیں رکھتے، اور ممکن ہے کہ یہ تمام تفسیریں قرآن کے مختلف معنی کی طرف اشارہ ہوں۔(6)
    ۴۔ ممکن ہے کہ یہ تمام حروف یا کم از کم ان میں ایک خاص معنی اور مفہوم کا حامل ہو، بالکل اسی طرح جیسے دوسرے الفاظ معنی و مفہوم رکھتے ہیں۔
    اتفاق کی بات یہ ہے کہ سورہ طٰہٰ اور سورہ یٰس کی تفسیر میں بہت سی روایات اور مفسرین کی گفتگو میں ملتا ہے کہ ”طٰہ“ کے معنی یا رجل (یعنی اے مرد) کے ہیں ، جیسا کہ بعض عرب شعرا کے شعر میں لفظ طٰہ آیاہے اور اے مرد کے مشابہ یا اس کے نزدیک معنی میں استعمال ہوا ہے ، جن میں سے بعض اشعار یا تو اسلام سے پہلے کے ہیں یا آغاز اسلام کے ۔(7)
    یہاں تک کہ ایک صاحب نے ہم سے نقل کیا کہ مغربی ممالک میں اسلامی مسائل پر تحقیق کرنے والے دا نشوروں نے اس مطلب کو تمام حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا ہے اوراس بات کا اقرار کیا ہے کہ قرآن مجید کے سوروں کی ابتداء میں جو حروف مقطّعات بیان ہوئے ہیں وہ اپنے اندر خاص معنی لئے ہوئے ہیں جو گزشتہ زمانہ میں متروک رہے ہیں، اور صرف بعض ہم تک پہنچے ہیں، ورنہ تو یہ بات بعید ہے کہ عرب کے مشرکین حروف مقطّعات کو سنیں اور ان کے معنی کو نہ سمجھیں اور
    مقابلہ کے لئے نہ کھڑ ے ہوں، جبکہ کوئی بھی تاریخ یہ بیان نہیں کرتی کہ ان کم دماغ والے اور بہانہ باز لوگوں نے حروف مقطّعات کے سلسلہ میں کسی ردّ عمل کا اظہار کیا ہو۔
    البتہ یہ نظریہ عام طور پر قرآن مجید کے تمام حروف مقطّعات کے سلسلے میں قبول کیا جانا مشکل ہے، لیکن بعض حروف مقطّعات کے بارے میں قبول کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اسلامی منابع ومصادر میں اس موضوع پر بحث کی گئی ہے۔
    یہ مطلب بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ ”طٰہ“ پیغمبر اکرم (ص) کا ایک نام ہے ،جس کے معنی ”یا طالب الحق، الہادی الیہ“ ( اے حق کے طالب اور حق کی طرف ہدایت کرنے والے)
    اس حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ لفظ ”طٰہٰ “ دو اختصاری حرف سے مرکب ہے ایک ”طا“ جو ”طالب الحق“ کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے ”ھا“ جو ”ہادی الیہ“ کی طرف اشارہ ہے۔
    اس سلسلہ میں آخری بات یہ ہے کہ ایک مدت گزرنے کے بعد لفظ ”طٰہ“ ، لفظ ”یٰس“ کی طرح آہستہ آہستہ پیغمبر اکرم (ص) کے لئے ”اسم خاص“ کی شکل اختیار کرگیا ہے، جیسا کہ آل پیامبر (ص) کو ”آل طٰہ“ بھی کہا گیا، جیسا کہ دعائے ندبہ میں حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ ‘ کو ”یابن طٰہ“ کہا گیا ہے۔(8)
    ۵۔ علامہ طباطبائی ( علیہ الر حمہ) نے ایک دوسرا احتمال دیا ہے جس کو حروف مقطّعات کی ایک دوسری تفسیر شمار کیا جاسکتا ہے، اگرچہ موصوف نے اس کو ایک احتمال اور گمان کے عنوان سے بیان کیا ہے۔
    ہم آپ کے سامنے موصوف کے احتمال کا خلاصہ پیش کررہے ہیں:
    جس وقت ہم حروف مقطّعات سے شروع ہونے والے سوروں پر غور و فکر کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ مختلف سوروں میں بیان ہو ئے حروف مقطّعات سورہ میں بیان شدہ مطالب میں مشترک ہیں مثال کے طور پر جو سورے ”حم“ سے شروع ہوتے ہیں اس کے فوراً بعد جملہ <تَنْزِیْلُ الکِتَابِ مِن الله> (سورہ زمر آیت۱) یا اسی مفہوم کا جملہ بیان ہوتا ہے اور جو سورے ”الر“ سے شروع ہوتے ہیں ان کے بعد <تِلْکَ آیاتُ الکتابِ> یا اس کے مانند جملے بیان ہوئے ہیں۔
    اور جو سورے ”الم“ سے شروع ہوتے ہیں اس کے بعد <ذٰلک الکتابُ لاریبَ فِیْہ> یا اس سے ملتے جلتے کلمات بیان ہوئے ہیں۔
    اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حروف مقطّعات اور ان سوروں میں بیان ہوئے مطالب میں ایک خاص رابطہ ہے مثال کے طور پر سورہ اعراف جو ”اٴلمٰص“ سے شروع ہوتا ہے اس کا مضمون اور سورہ ”الم“ اور سورہ ”ص“ کا مضمون تقریباً ایک ہی ہے۔
    البتہ ممکن ہے کہ یہ رابطہ بہت عمیق اور دقیق ہو، جس کو ایک عام انسان سمجھنے سے قاصر ہو۔
    اور اگر ان سوروں کی آیات کو ایک جگہ رکھ کر آپس میں موازنہ کریں تو شاید ہمارے لئے ایک نیا مطلب کشف ہوجائے۔(9)(10
    ——————————————————————————–
    حوالاجات
    (1) سورہ ہود ، آیت ۱
    (2) سورہٴ نمل ، آیت
    (3) سورہٴ لقمان ، آیت ۱و۲
    (4) سورہٴ اعراف ، آیت ۱و۲
    (5) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۶۱
    (6) تفسیر مجمع البیان ،سورہٴ طہ کی پہلی آیت کے ذیل میں
    (7) تفسیر نمونہ ، جلد ۱۳، صفحہ ۱۵7
    (8) تفسیر نمونہ ، جلد اول، صفحہ ۸
    (9) تفسیر المیزان ، جلد ۱۸، صفحہ ۵و۶
    (10) تفسیر نمونہ ، جلد ۲۰، صفحہ ۳۴۶
    منبع:shiaarticles.com