islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. قرآن میں امامت کا مفہوم

    قرآن میں امامت کا مفہوم

    قرآن میں امامت کا مفہوم
    Rate this post

    قرآن کریم میں امامت کا معنی انسانی استطاعت کی حد تک اسے عروج کمال تک پہنچانا۔
    امامت قرآن کریم کے مفہوم کے مطابق صرف دینی امور میں عبادت کا معنی نہیں رکھتا اور عبادات کے علاوہ اس سے صرف دنیاوی امور کی امامت مراد نہیں ہے بلکہ امامت سے مراد انسان کی اس کے تمام افعال اختیاری میں قیادت و رہنمائی ہے۔ بالفاظ دیگر وہ فعل امامت کے دائرے میں آتا ہے جو عدل و ظلم کا احتمال رکھتا ہو خواہ وہ فعل اجتماعی ہو یا انفرادی ، اس کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے۔ اسی طرح اس پر حق کا اطلاق ممکن ہو یاباطل کا ،اس میں ضلالت کا پہلو ہو یا ہدایت کا، اس فعل میں امامت کی ضرورت ہے۔
    قرآن کریم میں امامت کی تفصیلات و صفات کا ذکر
    قرآن کی روشنی میں امامت کے مفہوم کی یقین و تحدید کرنے کیلئے اس بات کی طرف اشارہ مناسب ہوگا کہ قرآن کریم میں امامت سے متعلق تفصیلات تین طرح کی ہیں۔
    پہلی صفت: امامت ان تمام شرائط کو شامل کرتی ہے جن میں لوگوں کا اختلاف پایا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ امامت ہر قسم کے ارادی فعل پر مشتمل ہوگی، کیونکہ اختلاف کا تعلق ارادہ سے ہی ہے۔ اس کے بغیر اس کا تحقق ممکن نہیں اور فعل ِغیر ارادی میں اختلاف کا وجود نہیں ہوتا۔ چنانچہ غیر ارادی طور پر وجود پذیر ہونے والی تمام چیزیں اپنے اثرات و نتائج میں یکساں اور متحد ہوتی ہیں اور جب ایک انسان دوسرے سے اختلاف کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص کسی اور چیز کا خواہشمند ہوتا ہے اور دوسرا شخص دوسری چیز کا۔ چنانچہ اس طرح دونوں کے درمیان اختلاف کا ظہور ہوتا ہے اختلاف کا مفہوم یہی ہے جو انسانی ارادے کے تحت وجود میں آتا ہے۔ بہرحال جہاں تک فعل غیر ارادی کا تعلق ہے تو اس میں اختلاف کا امکان نہیں ۔بلکہ اس کی حیثیت ایک طبیعی عمل کی ہوتی ہے۔
    دوسری صفت: امامت ہر اس شے کو شامل کرتی ہے جس میں عدل و ظلم کا احتمال ہو۔
    تیسری صفت: امامت الٰہیہ کا تعلق یکساں طور پر فرد اور معاشرے سے ہے ۔ دینی اور دنیوی امور سے بھی اور مادی و معنوی امور سے بھی۔ گویا کہ اس کا تعلق انفرادی و اجتماعی سطح پر انسان کے تمام تر افعال اختیاریہ سے ہوتا ہے۔قرآن میں ایسی متعدد آیات ہیں جن سے امامت کے مفہوم میں شامل ان تینوں صفات یا شرائط کی توثیق و تائید ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ قرآن کا متعین کردہ امامت کا یہ مفہوم بنفسہ منصب امامت کی تعیین کی ضرورت پر دلیل کے طور پر کافی ہے۔ نیز یہ بھی کہ امام کا تقرر اللہ سبحانہ کی طرف سے ہو۔ کیونکہ انسان کو اس کے افعال اختیاریہ میں خوبی و کمال تک پہنچانا نص اور وحی الٰہی کے بغیر ممکن نہیں۔اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:
    (فَلاَ تُزَکُّوا َنفُسَکُمْ ہُوَاعْلَمُ بِمنْ اتَّقَی) (١)
    ”تو اپنی پاکیزگی مت جتائو وہ خوب جانتا ہے کون پرہیزگار ہے۔ ”
    دوسری جگہ باری تعالیٰ نے فرمایا :
    (بَلْ اﷲُ یُزَکِّی منْ یَشَاء) (1١)
    ”بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے پاک اور مقدس کرتا ہے۔”
    سب سے پہلے یہاں قرآن کی چند آیتیں پیش کی جاتی ہیں جن سے امامت کے مفہوم مذکورہ تین صفات کی روشنی میں تعیین ہوسکے، باری تعالیٰ فرماتا ہے ۔
    امْ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِا َوْلِیَاء فَاﷲُ ہُوَ الْوَلِیُّ وَہُوَ یُحْیِ المَوْتَی وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیر ں وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیہِ مِنْ شَیْئٍ فَحُکْمُہُ ا ِلَی اﷲِ ذَلِکُمْ اﷲُ رَبِّی عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَِالَیْہِ اُنِیبُ) (1٢)
    ”کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا (دوسروں) کو سرپرست بنایا۔ تو سرپرست اللہ ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی سب کچھ کرسکتا ہے۔اور جس بات میں تم اختلاف کرو تو اس کا آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہے۔ (لوگوں) یہی تو اللہ ہے میرا مالک ،اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کروں گا۔”
    بلاشہ یہ آیت دو بنیادی مفاہیم کی توثیق کرتی ہے۔
    (١) بے شک اللہ ہی ولی ہے ،اور انسان کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو ولی بنائے۔
    (٢) ہر وہ چیز جس میں لوگ اختلاف کرتے ہوں، اس کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے۔
    اور جب ہم ان دونوں مفاہیم کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں تو یہ بات پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ حکومت و ولایت کا اصل حقدار صرف اللہ ہی ہے۔ اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ لوگوں کے امور کی انجام دہی اور اس کی ولایت اور اس کا حکم و فیصلہ زندگی کے کسی ایک میدان میں منحصر نہیں ہے بلکہ وہ تمام مختلف فیہ اشیاء کو محیط ہے۔ اور مختلف فیہ شی، ہر وہ فعل ارادی ہے جسے انسان ایسے اسباب و عوامل کے تحت اختیار کرتا ہے جو اس کے ارادہ کا رخ متعین کرتے ہیں۔ فعل ارادی وہ شیٔ ہے جس میں لوگ اپنی خواہشات ،ضروریات ،طریقۂ کارمیں اختلاف کرتے ہیں اور مائدہ کی دوسری دو آیتوں کو ملاکر دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے قرآنی امامت کی شکل مکمل طو رپر واضح ہوجاتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    (اِنَّمَا وَلِیُّکُمْ اﷲُ وَ رَسُولُہُ وَ الَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ یُقِیمُونَ الصَّلاَ ةَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاةَ وَہُمْ رَاکِعُونَ ں وَ منْ یَتَوَلَّ اﷲَ وَرَسُولَہُ وَالَّذِینَ آمَنُوا فَِانَّ حِزْبَ اﷲِ ہُمْ الْغَالِبُونَ) (١3)
    ”تمہارے دوست اللہ اور اس کا رسول ۖ اور ایمان والے ہیں جو درستی سے نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور وہ جھکے رہتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ۖ اور ایمان والوں سے دوستی رکھے گا اور اللہ کا ہی گروہ غالب رہے گا۔”
    ان دونوں آیتوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اللہ کی ولایت اور اس کے رسول کی ولایت اور مومنین کی ولایت مطلق ہے کسی ایک میدان یا کسی ایک موضوع کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
    (وَاِذْ ابْتَلَیاا ِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فََاتَمَّہُنَّ قَالَ اِِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ ا ِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ) (١4)
    ”اور(یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا اس نے باتوں کو پورا کیا ۔پروردگار نے فرمایا میں تجھ کو لوگوں کا سردار بنائوں گا (تاکہ قیامت تک لوگ تیری پیروی کریں) ابراہیم نے کہا اور میری اولاد کو فرمایا جو ظالم (بے انصاف) ہیں ان تک میرا یہ اقرار نہ پہنچے گا۔”
    پس اللہ تعالیٰ نے یہاں امامت کو تمام کیلئے شامل مطلق قرار دیا جن کیلئے امام ہونا ممکن ہے ۔اور آیت (اِِنِّی جَاعِلُکَ ِمَامًا)سے مراد ہر وہ شیٔ جس میں لوگوں کو کسی امام و رہنما کی ضرورت ہو اور یہ صرف دنیا و آخرت فردی اور اجتماعی امور وغیرہ تک محدود و مقید نہیں ہے۔
    انَّا َنزَلْنَااِلَیکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَااَرَاکَ اﷲُ) (15)
    ”(اے پیغمبر) ہم نے تجھ پر جو سچی کتاب اتاری تو اس لئے کہ لوگوں کا فیصلہ تو اس طرح کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے رجھ کو دکھلایا۔”
    اس خطاب کے مخاطب رسول اللہ ۖ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپۖ لوگوں کے
    درمیان تمام امور میں فیصلہ فرمائیں جن میں لوگ فیصلے کے محتاج ہوں۔ یہاں بھی لفظ ”جَعَلَ” مطلق ہے کسی امر خاص کے ساتھ مقید نہیں ہے چنانچہ آپ ۖ لوگوں کے درمیان ان کے ہر پیش آمدہ مسئلہ میں فیصلہ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:
    (یَاَایُّہَا الَّذِینَ آمَنُوااطِیعُوا اﷲ ا وََطِیعُوا الرَّسُولَ وَُاوْلِی الَْا مْرِ مِنْکُمْ) (16)
    ”مسلمانو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا اور حکم مانو اور حکومت والوں کا جو تم میں سے ہوں۔”
    یہاں بھی ”َطِیعُوا” کا صیغہ مطلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر اس چیز میں اطاعت کرو جس کا وہ لوگ تمہیں حکم دیتے ہیں اور اطاعت کا موضوع کسی امر معین کے ساتھ مقید نہیں۔ چنانچہ وہ اطاعت و فرماں برداری جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اس کاتعلق تمام اوامر و نواہی سے ہے۔
    یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ توحید کی طرح ہی امامت کو مرکز توجہ بنایا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ امامت سے متعلق آیات ان سے کم نہیں ہیں جن کا تعلق توحید سے ہے۔ قرآن میں اکثر جگہوں پر توحید کے ذکر کے فوراً بعد امامت اور قیادت الٰہیہ کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ مندرجہ زیل آیات سے واضح ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    انَّ اﷲَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُمَادُونَ ذَلِکَ لِمنْ یَشَاء وَمنْ یُشْرِکْ بِاﷲِ فَقَدْ افْتَرَی اِثْمًا عَظِیمًا ںالَمْ تَرَا ِلَی الَّذِینَ یُزَکُّونَ اَنفُسَہُمْ بَلْ اﷲُ یُزَکِّی منْ یَشَاء وَلاَ یُظْلَمُونَ فَتِیلًا ں انظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُونَ عَلَی اﷲِ الْکَذِبَ وَکَفَی بِہِ ِثْمًا مُبِینًا ں َلَمْ تَرَا ِلَی الَّذِینَ ُوتُوا نَصِیبًا مِنْ الْکِتَابِ یُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوتِ وَیَقُولُونَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا ہَؤُلاَئِ َہْدَی مِنْ الَّذِینَ آمَنُوا سَبِیلًا ں ُوْلَئِکَ الَّذِینَ لَعَنَہُمْ اﷲُ وَمنْ یَلْعاَنْ اﷲُ فَلاَنْ تَجِدَ لَہُ نَصِیرًا ںام لَہُمْ نَصِیب مِنْ الْمُلْکِ فَِذًا لاَیُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِیرًا ںام یَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَی مَا آتَاہُمْ اﷲُ مِنْ فَضْلِہِ فَقَدْ آتَیْنَا آلَا ِبْرَاہِیمَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَآتَیْنَاہُمْ مُلْکًا عَظِیمًا ں فَمِنْہُمْ منْ آمَنَ بِہِ وَ مِنْہُمْ منْ صَدَّ عاَنْہُ وَکَفَی بِجَہَنَّمَ سَعِیرًا انَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِآیَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِیہِمْ نَارًا کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُہُمْ بَدَّلْنَاہُمْ جُلُودًا غَیْرَہَا لِیَذُوقُوا الْعَذَابَاانَّ اﷲَ کَانَ عَزِیزًا حَکِیمًا ں وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُہُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا َبَدًا لَہُمْ فِیہَا َزْوَاج مُطَہَّرَة وَ نُدْخِلُہُمْ ظِلًّا ظَلِیلًا انَّ اﷲَ یَْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الَْمَانَاتِا ِلَی َہْلِہَا وَ ِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِاانَّ اﷲَ نِعِمَّا یَعِظُکُمْ بِہِاانَّ اﷲَ کَانَ سَمِیعًا بَصِیرًا ں یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا َطِیعُوا اﷲَ وََطِیعُوا الرَّسُولَ وَُوْلِی الَْمْرِ مِنْکُمْ فَِانْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْئٍ فَرُدُّوہُا ِلَی اﷲِ وَالرَّسُولِ ِنْ کُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاﷲِ وَ الْیَوْمِ الْآخِرِ ذَلِکَ خَیْر وَ َحْسَنُ تَْوِیلًا ں َلَمْ تَرَا ِلَی الَّذِینَ یَزْعُمُونَ َنَّہُمْ آمَنُوا بِمَا ُنزِلَا ِلَیکَ وَ مَا ُنزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیدُونَ اَنْ یَتَحَاکَمُوا ِلَی الطَّاغُوتِ وَ قَدْ ُمِرُوا اَنْ یَکْفُرُوا بِہِ وَ یُرِیدُ الشَّیْطَانُ اَنْ یُضِلَّہُمْ ضَلاَلًا بَعِیدًا ں وَِذَا قِیلَ لَہُمْ تَعَالَوْا ِلَی مَا َنزَلَ اﷲُ وَِلَی الرَّسُولِ رََیْتَ الْمُنَافِقِینَ یَصُدُّونَ عاَنْکَ صُدُودًا ں فَکَیْفَ ِذَا َصَابَتْہُمْ مُصِیبَة بِمَا قَدَّمَتْ َیْدِیہِمْ ثُمَّ جَائُوکَ یَحْلِفُونَ بِاﷲِ ِنْ َرَدْنَا ِلاَّ ِحْسَانًا وَ تَوْفِیقًا ں ُوْلَئِکَ الَّذِینَ یَعْلَمُ اﷲُ مَا فِی قُلُوبِہِمْ فََعْرِضْ عاَنْہُمْ وَعِظْہُمْ وَقُلْ لَہُمْ فِی َنفُسِہِمْ قَوْلًا بَلِیغًا ں وَمَا َرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍا ِلاَّ لِیُطَاعَ بِِذْنِ اﷲِ وَلَوْ َنَّہُمْ ِذْ ظَلَمُوا َنفُسَہُمْ جَائُوکَ فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ وَاسْتَغْفَرَلَہُمْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَحِیمًا ں فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ لاَ یَجِدُوا فِی َنفُسِہِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا ں وَ لَوْ َنَّا کَتا بْنَا عَلَیْہِمْ اَنْ اقْتُلُوا َنفُسَکُمْ َوْ اخْرُجُوا مِنْ دِیَارِکُمْ مَا فَعَلُوہُ ا ِلاَّ قَلِیل مِنْہُمْ وَ لَوْ َنَّہُمْ فَعَلُوا مَا یُوعَظُونَ بِہِ لَکَانَ خَیْرًا لَہُمْ وَ َشَدَّ تَثْبِیتًا ں وَ ِذًا لَآتَیْنَاہُمْ مِنْ لَدُنَّا َجْرًا عَظِیمًا ں وَ لَہَدَیْنَاہُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا ں وَمنْ یُطِعْ اﷲَ وَالرَّسُولَ فَُوْلَئِکَ مَعَ الَّذِینَ اَنْعَمَ اﷲُ عَلَیْہِمْ مِنْ النَّبِیِّینَ وَالصِّدِّیقِینَ وَ الشُّہَدَائِ وَ الصَّالِحِینَ وَ حَسُنَ ُوْلَئِکَ رَفِیقًا ں ذَلِکَ الْفَضْلُ مِنْ اﷲِ وَکَفَی بِاﷲِ عَلِیمًا) (١7)
    ”بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو تو بخشنے والا نہیں اور شرک کے سوا (جو گناہ) ہیں جس کو چاہے بخش دے (اور جس کو چاہے نہ بخشے عذاب کرے) اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اس نے بڑا گناہ باندھا۔ (اے پیغمبر) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں آپ پاک (اور مقدس)کہتے ہیں (یہ سب غلط ہے)بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے پاک (اور مقدس) کرتا ہے۔ اور ایک تاگے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔(اے پیغمبر) دیکھ اللہ پر کیسا جھوٹ باندھتے ہیں او ریہی(یعنی جھوٹ) کھلا گناہ ہونے کے لئے کافی کرتا ہے۔(اے پیغمبر) کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو(اللہ کی) کتاب کا ایک ایک حصہ ملا وہ بت اور شیطان کو ماننے لگے اور کافروں(مکہ کے مشرکوں) کو کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے تو یہ زیادہ ٹھیک راہ پرہیں۔ انہی لوگوں پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے اس کا کوئی مددگار تو نہ پائے گا( جو اس کو عذاب سے بچائے)بھلا ان کے پاس سلطنت کا کوئی حصہ ہے اگر ہو تو لوگوں کو کھجور کی گھٹلی کے شگاف برابر بھی نہ دیں۔یا
    جو اللہ نے اپنے فضل سے لوگوں کو دیا۔ ان سے حسد کرتے ہیں ۔یہ (کوئی نئی بات نہیں) ہم نے ابراہیم کی اولاد (دائود اور سلیمان٪) کو کتاب اور پیغمبری دی تھی اور ہم نے ان کو بڑی سلطنت بھی دی تھی پھر ان میں سے کوئی تو اس پر ایمان لایا اور کوئی اس پر ایمان لانے سے رک رہا(یا لوگوں کو روک دیا) اس کو دوزخ کی دھکتی ہوئی آگ کافی ہے جن لوگوں نے ہماری آتیوں سے انکار کیا ان کو ہم آگ میں ڈالیں گے۔ ہر بار جب ان کی کھال گل جائے گی تو ہم ان پر دوسری کھالیں چڑھائیں گے اس لئے کہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ زبردست ہے حکمت والا ہے۔ اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کو ہم باغوں میں لے جائیں گے جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ان کو صاف ستھری بیویاں ملیں گی۔ اور ہم ان کو گھنے ہوئے سائے میں لے جائیں گے۔ (مسلمانو)اللہ تم کو حکم کرتا ہے کہ امانتیں امانت والوں کو پہنچائو۔ اور جب لوگوں کا(مقدمہ) فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو اچھی نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہے۔ مسلمانو اللہ تعالیٰ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور حکومت والوں کا جو تم میں سے ہوں ۔پھر اگر تم میں کسی مقدمہ میں جھگڑا ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ اور رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم کو اللہ اور پچھلے دن پر ایمان ہے۔ یہ (تمہارے حق میں)بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا ہے۔ (اے پیغمبر)کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (منہ سے)کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے جو تجھ پر اترا (یعنی قرآن پر)اور جو تجھ سے پہلے (اور پیغمبروں پر) اترا (باوجود اس کے) وہ چاہتے ہیں کہ اپنا مقدمہ شیطان کے پاس لے جائیں۔ حالانکہ ان کو حکم ہو چکا ہے کہ شیطان کی بات نہ مانیں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر دور پھینک دے۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے اس طرف آئو جو اللہ نے اتارا اور رسول کی طرف تو منافقوں کو دیکھتا ہے تو رک کر منہ پھیر لیتے ہیں پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوگا (کیسے ذلیل و خوار ہوں گے) جب انہی کے کاموں کی سزا میں ان پر کوئی مصیبت آن پڑے گی اور اللہ کی قسم کھاتے ہوئے تیرے پاس آئیں گے کہ ہم تو صرف سلوک اور میل جول چاہتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کی باتیں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ تو ان سے درگذر کر اور ان کو سمجھا دے۔ اور ایسی بات کہہ جو ان کے دل پر چوٹ لگائے۔ اور ہم نے جو رسول بھیجا وہ اسی لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کا کہا مانا جائے اور اگر یہ لوگ جس وقت انہوں نے قصور کیا تھا تیرے پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور(پیغمبر بھی) یعنی تو بھی ان کیلئے معافی چاہتا تو بے شک اللہ تعالیٰ کو بڑا معاف کرنے والا مہربان پاتے۔(اے پیغمبر)قسم ہے تیرے پروردگار کی وہ مومن نہ ہوں گے جب تک اپنے جھگڑوں کا فیصلہ تجھ سے نہ کرائیں پھر تیرے فیصلہ سے ان کے دلوں میں کچھ اداسی نہ ہو اور (خوشی خوشی) مان کر منظور کرلیں۔ اور اگر ہم ان کو (یعنی ان منافقوں کو) حکم دیتے کہ اپنے آپ کو مار ڈالو یا اپنے دیس سے نکل جائو تو ان میں چند لوگوں کے سوا کوئی اس پر عمل نہ کرتا اور اگر یہ لوگ (یعنی منافق) جو ان کو نصیحت کی جاتی ہے اس پر چلتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا اور دین پر خوب جمے رہتے۔ اور اس وقت (جب وہ ایسا کرتے) ہم ان کو اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتے اور ان کو سیدھی راہ پر ضرور لگادیتے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ اور رسولۖ کا کہا مانیں وہ جنت میں ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن کو اللہ تعالیٰ نے سرفراز کیا یعنی پیغمبر اور سچے لوگ اور شہید اور نیکوں کے ساتھ اور وہ بہتر رفیق ہیں یہ فضل اللہ کی طرف سے ہے اور یہ بات کافی ہے کہ وہ(بندوں کے حالات نیتوں اور اعمال) سے آگاہ ہے۔ ”
    ان آیات میں قرآن کریم نے پہلے توحید کے مفہوم سے اپنی بات کی ابتداکی ہے پھر امامت کے موضوع کی طرف منتقل ہوا۔ جس سے اس بات کی توثیق ہوتی ہے کہ توحید الٰہی کی تکمیل عملی طور پر صرف اور صرف ربّانی قیادت کے ضمن میں ہی ہوتی ہے۔
    قرآن کریم نے امامت کے مقاصد اور اس کے مضمون و مصداق اور حدود و واجبات کو مدنظر رکھتے ہوئے بکثرت آیات میں امامت پر زور دیا ہے’ جیساکہ سورئہ حدید میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
    (لَقَدْ َرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمْ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ) (١8)
    ”ہم تو اپنے پیغمبروں کو کھلی کھلی نشانیاں دے کر بھیج چکے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری (تورات ،انجیل ،زبور ،قرآن) اور انصاف کا ترازو اتارا۔ اس لئے کہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔”
    چنانچہ ان کی قیادت و رسالت اور امامت کا مقصد یہ ہے کہ لوگ انصاف کو قائم کریں اور وہ چیز جس کا اس بات میں دخل ہوکہ لوگ اس میں انصاف کی روش اختیار کریں،تو وہ ان میں آئمہ کیوں کہ انہیں اس بات کا ذمہ دار بناکر بھیجا گیا ہے کہ لوگ انصاف قائم کریں۔ ہر وہ چیز جو لوگوں کیلئے انصاف فراہم کرے، اور عدل قائم کرے یا لوگوں سے ظلم کا خائمہ کرے تو وہ اس میں امام ہیں۔
    اسی طرح وہ آیات بھی مطلق ہیں جن میں اللہ اور نبی کریم ۖ اور دیگر رسولوں کی اطاعت پر زور دیا گیا ہے۔
    اللہ نے فرمایا:
    َطِیعُوا اﷲَ وَالرَّسُولَ) (١9
    ”اللہ اور رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو۔”
    اللہ نے بڑے بزرگ انبیاء اور رسل کی زبان سے یہ کہلوایا:
    (فَاتَّقُوا اﷲَ وََطِیعُونِی) (٢0)
    ”اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔”
    ہمیں ہرگز ہرگز ایک بھی ایسی آیت نہیں ملتی ہے جس سے یہ معلوم ہوکہ اللہ کی اطاعت صرف اخروی امور میں یا قبر کے بعد کی زندگی میں صرف عبادت میںخدا کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے۔ ”َطِیعُونِی” کا لفظ مطلق مذکور ہے اور دینی اور دنیاوی تمام امور پر مشتمل ہے اللہ نے اپنے نبی صالح ـ کی زبان سے کہلوایا :
    (فَاتَّقُوااﷲَ وََطِیعُونِی ں وَلاَ تُطِیعُواَمْرَالْمُسْرِفِینَ ں الَّذِینَ یُفْسِدُونَ فِی الَْرْضِ وَلاَ یُصْلِحُونَ) (21)
    ”اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور مسرفین کے حکم کی اطاعت مت کرو جو لوگ زمین میںفسادوبگاڑپھیلاتے ہیںاوراصلاح نہیں کرتے ہیں۔”
    یعنی میری اطاعت کرو فساد پھیلانے والوں کی اطاعت مت کرو اس آیت شریفہ میں نبی صالح ـ اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
    ”میں تمہارے پاس آیا تاکہ اس زندگی میں تمہاری قیادت و امامت کروں اور تمام امور کی باگ ڈور میرے ہاتھ میں ہو او رمیں متکبرین اور مفسدین کی اطاعت کرنے سے تمہیں روکوں۔”
    چنانچہ امامت قرآنی مفہوم کے اعتبار سے دنیاوی اور دینی ا مور میں ریاست عامہ سے عبارت ہے یا جیساکہ ہم نے پہلے کہا امامت انسان کو اس کے افعال اختیاریہ میں عروج کمال تک پہنچاتی ہے۔ قرآن کی نظر میں امامت کا مفہوم ہے۔
    امامت اور حقیقت توحید
    قرآن میں بکثرت ایسی آیتیں مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت، ولایت، حکم و فیصلہ اور بادشاہت صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے نہ تو حکومت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی حکم و فیصلہ میں۔جس طرح ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ ہم خدا کی عبادت میں کسی اور کو شریک ٹھہرائیں کہ اس کی عبادت کے ساتھ دوسرے کی پرستش کریں اسی طرح اطاعت میں بھی ہمارے لئے یہ قطعاً درست نہیں کہ ہم اللہ کی اطاعت میں اس کے غیر کو بھی شامل کریں۔ اطاعت صرف اللہ کیلئے ہے اس بات کے پیش نظر ضروری ہے کہ اللہ اپنے مخلوق میں سے کسی کو امام متعین کرے تاکہ امام کی اطاعت اللہ کی اطاعت کے قائم مقام ہو۔ گویا متعین طور پر اس کی جانب سے ایسا امام ہو کہ اللہ تعالیٰ جس کی اطاعت کا حکم دے تاکہ امام کی اطاعت کے ذریعے اطاعت خداوندی میں توحید ثابت و ظاہر ہوجائے اور امام کی یہ اطاعت اللہ کی اطاعت کے ہی ہم معنی ہوگی اور اللہ سبحانہ کی اطاعت و بندگی میں وحدانیت کا حصول صرف اس امام کی اطاعت کے ذریعے ہی ممکن ہے جس کا تعیین و تقرر اللہ کی جانب سے ہوا ہو اور جو صرف اللہ کی مرضی و منشاء کے مطابق امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا کام انجام دے۔
    متعدد آیات میں یہ بات مذکور ہے کہ طاعت و بندگی صرف اللہ کے لئے ہے اور حکومت و بادشاہت اور امر و ولایت اللہ کی ذات کے ساتھ ہی مختص ہے۔ جسے چاہتا ہے حکومت و بادشاہت کیلئے منتخب کرتا ہے ان میں سے بعض آیات کا تعلق عبادت سے ہے مثلا ً اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی زبان سے کہلواتا ہے:
    (وَلَقَدْ َرْسَلْنَا نُوحًا ِلَی قَوْمِہِ فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اﷲَ مَا لَکُمْ مِنْ ِلَہٍ غَیْرُہُ َفَلاَتَتَّقُونَ) (22)
    ”اور ہم نوح کو اس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیج چکے ہیں تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا لوگو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا سچا معبود نہیں کیا تم اس کے عذاب سے نہیں ڈرتے۔”
    (وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّامَّةٍ رَسُولاً اَنْ اُعْبُدُوا اﷲَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ) (23)
    ”اور ہم نے ہر قوم میں ایک پیغمبر (یہ کہہ کر) بھیج چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور طاغوت سے بچے رہے۔”
    عبادت کے معنی اللہ کی تابعداری اور اس کی مکمل اطاعت و بندگی کے ہیں۔ ظاہری سطح پر محض رسم و رواج کا نام نہیں ہے۔ بعض آیتیں امر و حکم سے متعلق ہیں جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے:
    لاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالَْمْرُ تَبَارَکَ اﷲُ رَبُّ الْعَالَمِینَ) (٢4)
    ”سن لو! اسی نے سب کچھ بنایا اسی کی حکومت ہے اللہ تعالیٰ کی بڑی برکت ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔”
    اس آیت کے ذریعے یہ بات واضح کردی گئی کہ خلق و امر کا کام اللہ کی ذات کے ساتھ خاص ہے۔ اسی طرح اس کے غیر کو صرف اس بادشاہت و حکومت کا اختیار ہوگا جو اللہ نے اسے عطا کیا ہو کیوں کہ تمام تر اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
    اسی طرح قرآن کی بعض آیات خدا کی حاکمیت (حکم)کو واضح کرتی ہے:
    (َلاَلَہُ الْحُکْمُ) (25)
    ”اسی کا حکم چلتا ہے۔”
    (ِنْ الْحُکْمُا ِلاَّ لِلَّہِ) (26)
    ”اللہ کے سوا کسی کو اختیار نہیں۔”
    (وَلاَ یُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ َحَدًا) (27)
    ”اور وہ اپنے فرمان میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔”
    اور بعض آیتوں کا تعلق بادشاہت سے ہے:
    (قُلْ َعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ں مَلِکِ النَّاسِ) (٢8)
    ”( اے پیغمبر ) کہو میں پناہ میں آیا لوگوںکے ربّ کی ،لوگوں کے بادشاہ کی۔”
    مذکورہ بالا حوالوں اور تشریحات قرآنی سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اللہ ہی بادشاہ امر و نہی کا سزاوار، حاکم مطلق ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ حکومت و قیادت اور امر و نہی کے کام کو بالذات اور بلا واسطہ انجام دیتا ہے اس لئے کہ وہ بشریت سے منزہ ہے اور وہ کوئی مرئی جسم نہیں رکھتا۔
    بلکہ یہ ضروری ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کے مابین انہی کے مثل انسان کے ذریعہ قیادت و حکومت کے کام کو عمل میںلائے کہ حاکم و محکوم میں سے ہر ایک دوسرے کو دیکھ رہا ہو۔ خوردونوش اور دیگر بشری ضروریات میں وہ عام لوگوں کے ہم مثل ہو۔
    نیز یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی مخصوص صفات کا حامل ہو جس کی بنیاد پر وہ اس بات کا اہل ہوسکے کہ وہ لوگوں کے سامنے احکام الٰہی کی توضیح کرے۔ اطاعت و بندگی کی دعوت دے اور ان امور کی طرف ان کی رہنمائی کرے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی کا باعث ہوں۔
    اسی طرح اس ربانی انسان کی اطاعت جس کے پاس من جانب اللہ ایسے دلائل و براہین موجود ہوں جو اس کو امامت و قیادت کے منصب سے سرفراز کئے جانے پر دلالت کرتے ہوں اللہ کی اطاعت، حاکمیت میں اس طرح کی تابعداری اللہ کی تابعداری ہوگی۔
    مذکورہ بالا باتوں سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ حکومت الٰہیہ سے مراد یہ نہیں ہے کہ براہ راست حکم الٰہی کا نفاذ ہوجائے بلکہ اس کا مطلب و مقصود یہ ہے کہ حکم الٰہی کا نفاذ اللہ کے نمائندوں اور ان افرا دکے ذریعے جنہیں اللہ نے حکم و فیصلہ کی اجازت دی ہے ، عمل میں آئے، نیابتی اقتدار یا حکومت کا معاملہ صرف ربانی حکومتوں کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ انسانی حکومتیں بھی اسی انداز پر چلتی ہیں۔
    مثال کے طو رپر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص اس ملک کا قائد اور حاکم ہے تو اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ اس ملک کا حاکم اور قائد قیادت اور حکومت کے تمام امور کو بذات خود انجام دیتا ہے بلکہ اس کے لئے معاونین ،نمائندگان ممبران اور ایک ایسے نظام کی ضرورت پڑتی ہے جس کے تحت اس کے فرمان جاری و نافذ ہوسکیں اور رعایا کی انجام دہی ممکن ہو۔
    چنانچہ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی ہمارا قائد ہے ،اس کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہوتا کہ ان میں سے ہر فرد کا تعلق اس قائد سے براہ راست ہے بلکہ حقیقت میں قائد اپنی طرف سے کچھ ایسے نمائندہ افراد کا تقرر کرتاہے جو اس کی نیابت میں ملکی امور کو انجام دیتے ہیں اور ان کا حکم قائد کے مانند ہی ہوتا ہے۔اور اس نمائندے کی اطاعت قائد اعلیٰ کی اطاعت کے قائم مقام ہوتی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    (قُلْ اللّٰھُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ منْ تَشَائُ وَتاَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمنْ تَشَائُ) (29)
    ” آپ فرما دیجئے کہ اللہ ہی بادشاہت و ملک کا مالک ہے جسے چاہتاہے بادشاہت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے ملک و بادشاہت چھین لیتا ہے۔”
    اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ تو ہی حکومت و اقتدار عطا کرتا ہے اور تو ہی اس اقتدار و حکومت کو چھین لیتا ہے ۔تیرے علاوہ کسی کو بھی یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ حکومت و اقتدار عطا کرے اور چھین لے۔اور تو ہی جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ذلت۔ ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔
    سورئہ بقرہ میں طالوت کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    (وَ قَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ ا انَّ اﷲَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکًا قَالُوا َنَّی یَکُونُ لَہُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا وَنَحْنُ َاحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْہُ وَلَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِنْ الْمَالِ قَالَ ا انَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَ زَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَ اﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم) (30)
    ”اور ان کے پیغمبر نے ان سے کہا اللہ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنایا ہے ۔وہ کہنے لگے طالوت ہمارا بادشاہ کیوں کر ہوسکتا ہے ۔طالوت سے تو ہم زیادہ حقدار ہیں بادشاہت کے ،اور اس کو مال و دولت کی فراغت بھی نہیں۔ پیغمبرۖ نے کہا اللہ نے تم پر(حکومت کرنے کیلئے)اس کو پسند کیا ہے اور(دوسری یہ کہ) اللہ نے اس کو علم اور جسم کی گنجائش (تم سے) زیادہ دی ہے اور (تیسرا یہ کہ) اللہ جس کوچاہتا ہے اپنی سلطنت دیتا ہے۔”
    اس آیت کریمہ میں یہ تصریح موجود ہے کہ اقتدار و حکومت الٰہی صرف اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔اس سلسلہ میں قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے ۔
    (قَالَ ا انَّ اﷲَ اصْطَفَاہُ عَلَیْکُمْ وَزَادَہُ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء)
    ”پیغمبر نے کہا اﷲ نے تم پر (حکومت کرنے کیلئے)اس کو پسند کیا ہے اور اﷲ نے اس کو علم اور جسم کی گنجائش(تم سے) زیادہ دی ہے اور اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنی سلطنت دیتا ہے۔”
    اﷲ عزوجل ہی جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت و اقتدار کو نافذ کرنے کیلئے منتخب کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے اقتدار عطا کرتا ہے۔قرآن کہتا ہے:
    (وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًاوَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیک فِی الْمُلْکِ) (3١)
    ”اور کہو سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے اولاد نہیں رکھی اور نہ کوئی سلطنت میں سے اس کا کوئی ساجھی ہے۔”
    اگر کوئی شخص اﷲکے علاوہ کسی اور کیلئے اقتدار اور حکومت اور امرو نہی کا اختیار مانے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے اﷲ کی حکومت و قدرت میں اس کا ایک شریک ٹہرادیا اور یہ امر اﷲ کی اطاعت و بندگی میں شرک کی مانند ہے جس کو قرآن نے صراحتاً مسترد کر دیا ہے۔ہاں الٰہی سلطنت کے قیام کے لوگوں کی رائے و اختیار شامل ہونا چاہیے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قیادت الٰہی کیلئے تعاون اور اس کے قیام کیلئے کوشش کرنا ہے تا کہ قیادت الٰہی معاشرے میں قیام عدل کر سکے۔پس الٰہی سلطنت اور انبیاء کی سلطنت کا مصدر صرف اور صرف ذات خداوندی ہے پس ملک و حکومت صرف اﷲ کیلئے سزاوار ہے اور جس کو چاہے منتخب کرتا ہے۔
    کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حاکم کا تقرر و تعین تو اﷲ کی طرف سے ہوتا ہے مگر لوگ اس کی اطاعت نہیں کرتے اور نہ ہی مدد اور نہ ہی اس کی قیادت و امامت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن لوگوں کے اس کی اطاعت و نفرت اور اس کی قیادت کو تسلیم نہ کرنے سے قانون حق و جواز سلب نہیں ہوتا ہے جسے اﷲ نے اسے لوگوں کے امور کے نفاذ کیلئے اس کا تقرر و تعین کر کے دیا ہے،بلکہ وہی حاکم قانونی و شرعی ہے اور امام حق ہے اگر چہ لوگوں کے اس کے مخالف ہونے اور ان کے اس کا تعاون نہ کرنے کی وجہ سے اسے اقتدار حکومت کے اختیار کے استعمال کا موقع عملی طور پر حاصل نہ ہوا ہے۔
    حکومت کو قدرت و طاقت بخشنے کیلئے عوامی رائے ضروری ہے لیکن لوگوںکی آراء پر قیام حکومت کا دارو مدار نہیں یعنی حاکم یا قائد کی قیادت کے قانونی طور پر جائز یا ناجائز ہونے میں عوامی رائے کا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ حکومت و قیادت کے قیام و نفاذ میں اس کا رول ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک لوگ قائد کی قیادت کو تسلیم نہ کریں اس کے امر و حکم کی بجا آوری پر خود کو راضی نہ کریں، اور اپنے طور پراسے مطلوبہ مدد نہ پہنچائیں تو خواہ وہ قائد یا حاکم کتنا ہی اہل اور صالح مزاج و فکر کا کیوں نہ ہو وہ صحیح طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرسکتا۔
    ربّانی نظریۂ امامت اور اس مادی نظریہ امامت میں بنیادی فرق یہی ہے۔جو اس کائنات میںکسی خدا کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی۔چنانچہ ہم کہتے کہ حق اور عدل لوگوں کے اختیار اور پسندیدگی سے پہلے ہے(یعنی ایسا نہیں کہ عدل و انصاف اور حق کا وجود تب ہوگا جبکہ امام لوگوں کی رائے سے منتخب ہو) اور لوگوںکیلئے ضروری ہے۔جیسا کہ انسانی عقل و وجدان اور ضمیر کا تقاضا ہے کہ وہ اس قائد کو پسند کریں۔ہاں البتہ مادی نظریہ کے مطابق لوگوں کی طرف سے پسندیدگی کے بغیر امامت کے عدل و انصاف کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اس مادی نظریے نے اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار انسانی کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔اگر ہم اس بات سے انکار کریں کہ لوگوں کی عدم رضا کے باوجود جو امامت قائم ہوئی وہ حق پر ہے اورانسان کے مطابق ہے۔تو پھر اخلاقی اقدار کا وجود کہاں رہا؟ کہ جن کی لوگ پیروی کریں اور مصلحین اس کی لوگوں کو دعوت دیں۔پھر تو اخلاق کا اطلاق ان تمام چیزوںپر ہوگا جس کو لوگ اپنے طور پر پسند کرلیں۔خواہ وہ جیسی بھی ہوں ۔گویا اگر لوگ صالحین اور انبیاء کے قتل پر بعض مفسدین اور تکبر پسندوںکے بھڑکانے پر متفق ہوجائیں،جیسا کہ تاریخ کے مختلف دور میں ایسے واقعات بکثرت پیش آچکے ہیں تو انہیں اخلاقی طور پر مذموم نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ یہ سب کچھ لوگوںکی مرضی اور منشا سے ہوا ہے اور جو لوگوں کی مرضی اور ارادے سے ہو وہ صحیح اور قابل جواز ہے۔اگر اسے تسلیم کر لیا جائے پھر اہل اصلاح،اخلاق پسندوں اور ماہرین تعلیم و تربیت کی کوئی ضرورت نہیںرہ جائے گی اور اخلاق و اقدار کا انسانی معاشرے میں کوئی معنی نہیں رہ جاتا۔پھر تو انفرادی یا اجتماعی سطح پر جو کچھ بھی پیش آرہا ہے اس سے اہل اخلاق و اصلاح کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔
    بہرحال انسانی عقل و وجدان کے مطابق،ایسے مسلّم انسانی اخلاق و اقدار کا پایا جانا ناگزیر ہے جو حق و عدل کا مظہر ہوں اور انسان کی اپنی خواہش اور چاہت پر موقوف نہ ہوں۔یہ اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار ہی بذات خود قابل اعتبار و استناد ہیں اور خداوند قدوس ہی حکومت و قیادت کے قانونی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔مذکورہ بالا آیات اور آگے آنے والی آیات بطور دلیل اس بات کے اثبات کیلئے کافی ہیں۔
    قرآن میں خدا ارشاد فرماتا ہے:
    (وَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًاوَلَمْ یَکُنْ لَہُ شَرِیک فِی الْمُلْکِ) (32)
    ”اور کہو سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے اولاد نہیں رکھی اور نہ کوئی سلطنت میں سے اس کا کوئی ساجھی ہے۔”
    (فَتَعَالَی اﷲُ الْمَلِکُ الْاحَقُّ) (33)
    ”تو اللہ کی شان بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے (وہی مالک حقیقی ہے)۔”
    (لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ) (34)
    ”اسی کی(سارے جہاں میں )بادشاہت اور اسی کو تعریف سجتی ہے۔”
    (تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ) (35)
    ” بڑی برکت والا ہے وہ (خدا) جس کے ہاتھ میں (سارے جہاں کی) بادشاہت ہے۔”
    تمام بادشاہت و حکومت اللہ کے لئے ہے اور اللہ ہی کائنات کا مالک حقیقی اور بادشاہ ہے۔ اس بادشاہت سے مراد صرف آخرت کی بادشاہت یاحکومت ہی نہیں بلکہ اللہ کو دونوں جہانوں کی مطلق حاکمتی حاصل ہے۔ مذکورہ بالا آیات اور دیگر بہت سی آیتیں اللہ کی اس صفت پر دلالت کرتی ہیں۔
    اللہ نے فرمایا :
    (لَہُ الْحَمْدُ فِی الُْولَی وَالْآخِرَةِ وَلَہُ الْحُکْمُ) (36)
    ”دنیا اور آخرت میں اسی کو تعریف سجتی ہے اور دونوں جگہ اسی کی حکومت ہے۔”
    (یُولِجُ اللَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُولِجُ النَّہَارَ فِی اللَّیْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ کُلّ یَجْرِی لَِجَلٍ مُسَمًّی ذَلِکُمْ اﷲُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُ وَالَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ مَا یَمْلِکُونَ مِنْ قِطْمِیرٍ) (37)
    ” وہ رات کو دن میں کرتا ہے اور دن کو رات میں۔ سورج اور چاند کو اس نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ان میں سے ہر ایک کو ایک معین وقت تک اپنی حرکت جاری رکھنا ہے۔ یہ ہے تمہارا پروردگار اللہ ،حاکمیت اسی کیلئے ہے اور جنہیں تم اس کے علاوہ پکارتے ہو اور ان کی عبادت کرتے ہو وہ تو کھجور کی گٹھلی کے برابر بھی حاکمیت (اور مالکیت) نہیں رکھتے۔”
    (وَاﷲُ یُؤْتِی مُلْکَہُ منْ یَشَاء وَاﷲُ وَاسِع عَلِیم) (٣8)
    ” اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی بادشاہت عطا کرتا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔”
    مذکورہ بالا قرآنی اور دیگر متعدد آیتوں کے ذریعے اطاعت میں اللہ کی توحید پر زور دیا گیا ہے۔ توحید خداوند کے مفہوم کے اندر اطاعت میں خدا کی توحید کے معنی شامل ہیں۔ عبادت و عقیدہ میں توحید اللہ کی اطاعت میں توحید کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔
    =============================================
    (١0) سورہ نجم ،آیت ٣٢۔
    (1١) سورہ نساء ،آیت٤٩۔
    (١2) سورہ شوریٰ ،آیت٩،١٠۔
    (١3) سورہ مائدہ ،آیت ٥٥،٥٦۔
    (١4) سورہ بقرہ ،آیت١٢٤۔
    (15) سورہ نساء ،آیت١٠٥۔
    (١6) سورہ نساء ،آیت ٥٩۔
    (١7) سورہ نساء ،آیت ٤٨ تا ٦٩۔
    (١8) سورہ حدید،آیت ٢٥۔
    (١9) سورہ آل عمران ،آیت٣٢۔
    (20) سورہ شعراء ،آیت١٥٠۔
    (2١) سورہ شعراء ،آیت ١٥٠ تا ١٥٢۔
    (22) سورہ مومنون،آیت ٢٣۔
    (23) سورہ نحل ،آیت٣٦۔
    (٢4) سورہ اعراف ،آیت٥٤۔
    (25) سورہ انعام ،آیت٦٢۔
    (26) سورہ انعام ،آیت٥٧۔
    (27) سورہ کہف،آیت٢٦۔
    (٢8) سورہ الناس،آیت١،٢۔
    (20) سورہ آل عمران ،آیت ٢٦۔
    (30) سورہ بقرہ،آیت ٢٤٧۔
    (3١) سورہ اسراء ،آیت ١١١۔
    (32) سورہ اسراء ،آیت١١١۔
    (33) سورہ طہٰ ،آیت١١٤۔
    (٣4) سورہ تغابن ،آیت١۔
    (35) سورہ ملک ،آیت١۔
    (36) سورہ قصص ،آیت٧٠۔
    (37) سورہ فاطر ،آیت١٣۔
    (٣8) سورہ بقرہ ،آیت٢٤٧۔
    منبع:shiaarticles.com