islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. فلسفۂ رجعت

    فلسفۂ رجعت

    فلسفۂ رجعت
    Rate this post
    رجعت کے سلسلہ میں ایک اہم سوال جو ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، وہ اہداف رجعت اور اس کا فلسفہ ہے کہ خدا وند عالم کیوں قیامت سے پہلے تاریخ کے ایک خاص حصہ میں کچھ خالص مومنوں اور کافروں کو زندہ کرے گا۔ قیامت سے پہلے اس رجعت کا کیا مقصد ہے؟

    روایات ، علمائے شیعہ اوردانشوروں کے اقوال سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ رجعت مندرجہ ذیل اہداف اور اغراض و مقاصد کے تحت ہوگی:

    ۱۔ عدل و انصاف کی بنیاد پر عالمی حکومت کی تشکیل

    بعض آیات قرآنی کی روشنی میں ایک ایسا بھی زمانہ آئے گا جب شریعت اسلامی تمام ادیان اور مکاتب بشری پر غلبہ حاصل کرلے گی : ہُوَ الَّذِی ٲَرْْسَلَ رَسُولَہُ بِالْْہُدَی وَدِینِ الْْحَقِّ لِیُظْْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْْ کَرِہَ الْْمُشْْرِکُونَ. ﴿سورۂ صف،آیت۹﴾ اور اسلام کو عالمی دین کے عنوان سے جانا اور پہچانا جائے گا اور روئے زمین پر مومنین و صالحین کی حکومت ہوگی : وَلَقَدْْ کَتَبْْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْْ بَعْْدِ الذِّکْْرِ ٲَنَّ الْْٲَرْْضَ یَرِثُہَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ .﴿سورۂ انبیائ،آیت۵۰۱﴾

    دوسری جانب ان آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی روایات کے مطابق اسلام کا دیگر تمام ادیان پر غلبہ اور عالمی تسلط، امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے زمانہ اور آپ کے دست مبارک سے ہوگا۔ ﴿۱﴾

    ایک ایسا دن بھی آئے گا جب انسانی افکار سے تھکے ہوئے انسان معرفت الٰہی کے آب زلال سے سیراب ہوں گے اور دوسری جانب کرۂ زمین کی سیاسی اور اجتماعی حکومت امام زمانہ(ع) کی رہبری میں مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔ واضح سی بات ہے کہ ایسی حکومت کی تشکیل اور اس کا دوام و استمرار ایسے افراد کے وجود کا محتاج ہے جو ہر طرح کے امتحانات و آزمائشات سے سر فراز باہر آئے ہوں اور ایمان کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو گئے ہوں۔

    بے شک خالص مومنین جنہیں روایات میں رجعت کرنے والا کہا گیا ہے، وہ ایسے ہی صفات و خصوصیات کے حامل ہیں۔ لہٰذا وہ لوگ دنیا میں واپس آئیں گے، تاکہ عالمی حکومت کی تشکیل میں امام زمانہ(ع) کی مدد کرکے ثواب حاصل کرسکیں اور حکومت کریمہ اور حق کی کامیابی کو دیکھ کر محظوظ ہوں۔

    جیسا کہ بعض روایات بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں: حضرت امام جعفر صادق- نے ارشاد فرمایا: کچھ لوگ کوفہ کے باہر سے امام زمانہ(ع) کے ساتھ خارج ہوں گے جو سب کے سب آپ کے یاور و مددگار اور خادم ہوں گے اور حکومت چلانے میں آپ(ع) کی نصرت کریں گے۔ ﴿۲﴾

    ۲۔ ہر دور و زمان میں حجت خدا کا وجود ضروری

    مکتب تشیع کے تعلیمات کی بنیاد پر یہ زمین ایک لمحہ بھی حجت خدا سے خالی نہ تھی اور نہ ہی خالی رہے گی۔ اس لئے کہ ہدف خلقت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک حجت خدا ہر دور و زمان میں موجود رہے۔ لہٰذا امام اور حجت خدااس دنیا سے سب سے آخر میںاس دنیا سے رخصت ہوگا۔ ﴿۳﴾

    روایات میں اس بات کوبھی صراحت کے ساتھ بیان کیا گیاہے کہ امام- بھی رحلت کے بعد رجعت فرمائیں گے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ آپ (ع)کی وفات کے چالیس دن بعد قیامت برپا ہوگی ۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں روایتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ آخری روایت زمانۂ رجعت میں آنحضرت(ع) کی رحلت سے متعلق ہے۔ ﴿۴﴾ ورنہ سیکڑوں احادیث کی روشنی میں حضرت بقیۃ اللہ الاعظم کی پہلی وفات کے بعد ائمہ اہل بیت٪ ہزاروں سال تک حکومت کریں گے۔ ﴿۵﴾

    اگر زمانۂ رجعت میں آپ(ع) کی رحلت کے بعد کوئی دوسرا معصوم نہ ہوتا تو یہ زمین اسی طرح نیست و نابود ہوجاتی جس طرح بدن سے روح نکلنے پر صرف بدن اس کے فقدان پر متاثر ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے فراق میں مر جاتا ہے۔

    اسی وجہ سے امام علی- سے مروی ایک روایت میں آیا ہے:’’ اگر زمین ایک لمحہ کے لئے بھی حجت الٰہی سے خالی ہوجائے تو وہ تباہ و برباد ہوجائے گی۔‘‘ ﴿۶﴾

    امام محمد باقر- ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب تک ہم اہل بیت٪ زندہ ہیں اہل زمین امن و امان میں رہیں گے۔ جب خدا وندعالم زمین اور زمین والوں کو نیست و نابود کرنا چاہے گا تو ہمیں ان کے درمیان سے اٹھالے گا، اس کے بعد انہیں نیست و نابود کرے گا۔ ﴿۷﴾

    بے شک قیامت کبریٰ کے برپا ہونے کا دار و مدار، اس بات پر ہے کہ خدا وند عالم نظام کائنات کی روح رواں ﴿حجت و امام﴾ کو اٹھالے اور ان کاکوئی جانشین نہ بھیجے۔ ظاہرسی بات ہے کہ حقیقت زمانۂ رجعت کے بعد ہی عملی جامہ پہنے گی۔

    امام جعفر صادق- نے ارشاد فرمایا:’’ ہمیشہ زمین پر حجت خدا باقی رہے گی۔ لیکن قیامت کبریٰ برپا ہونے سے چالیس دن پہلے خدا وندعالم اپنی حجت کو اٹھالے گا۔ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے اور قیامت کبریٰ برپا ہوگی۔‘‘ ﴿۸﴾

    یہ سارے واقعات امام زمانہ- کے ظہور اور آپ کی عالمی حکومت عدل کے برپا ہونے اور ائمہ معصومین٪ کے زمانۂ رجعت کے بعد واقع ہوں گے۔ لہٰذا اگر زمانہ رجعت میں امام زمانہ- کی وفات کے بعد دوسرے ائمہ معصومین٪ رجعت نہ فرمائیں اور امامت و رہبری کو اپنے ذمہ نہ لیں تو یہ زمین حجت خدا سے خالی ہوجائے گی اور یہ تعلیمات شیعہ کے برخلاف ہے۔ اسی بنیاد پر رجعت کا ایک مقصد ’’ہر زمانہ میں حجت خدا کے وجود کے ضروری اور لازمی ہونے کو قرار دیا جاسکتا ہے۔‘‘

    ۳۔ اوج کمال اور شقاوت

    روایات میں آیا ہے کہ رجعت سب کے لئے نہیں ہے، بلکہ خالص مومنین اور ظالم و ستمگر کافرین سے مخصوص ہے۔ لہٰذا ان دو دستوں کا دوبارہ دنیا میں پلٹنا پہلے گروہ کے کمال و ارتقائ کے لئے اور دوسرے گروہ کے دنیاوی عذاب وعقاب کے لئے ہوگا۔

    دوسرے لفظوں میں چونکہ حقیقی مومنین کے لئے معنوی کمال و ارتقائ کے حصول کی راہ میں ہمیشہ مشکلات رکاوٹیں رہی ہیں اورچونکہ وہ اس راہ میں ناکام رہ گئے ہیں چنانچہ انہوں نے کریمانہ اور عادلانہ حکومت میں زندگی بسر نہیں کی ہے اور ہمیشہ جباروں اور ستمگروں سے روبرو رہے ہیں۔لہٰذا حکمت الٰہی کا تقاضا ہے کہ وہ اس دنیا میں دوبارہ پلٹ کر اپنے تکامل کی آخری منزلوں کو طے کرلیں۔

    خالص مومنین جنہوں نے اپنی انفرادی زندگی میں کسی بھی عمل صالح کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں کی ہے وہ روز رجعت منافقین و ظالمین کے ایک گروہ کو سزا دینے اور روئے زمین پر صالحین کی حکومت کی تشکیل اور دین خدا کی نصرت و کامیابی کو دیکھ کر معنوی ارتقائ کے بلند ترین درجہ پر فائز ہوں گے۔

    دووسری جانب، منافقین اور تاریخ کے ستمگروں کا ایک گروہ جس نے بشریت پر ہر طرح کے ظلم و ستم کو روا رکھا تھا وہ اس دنیا میں پلٹا جائے گا تاکہ وہ روز قیامت، اپنے مخصوص عذاب کے علاوہ اس دنیاایسی سزائیں بھی پائیں جو سرکش اور طاغی اقوام جیسے آل فرعون، عاد، ثمود اور قوم لوط کو دی گئی تھیں اور ان دونوں امور کے وجود میں آنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ رجعت ہے۔

    ۴۔ ستمگروں سے انتقام

    رجعت میں کفارو معاندین کا ایک گروہ بھی دنیا میں پلٹایا جائے گا تاکہ ان سے انتقام لیا جاسکے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ رجعت کے وقت دشمنان اہل بیت٪ ، بالخصوص شہدائے کربلا کے دشمنوں سے انتقام لیا جائے گا۔

    اس کے علاوہ تمام مومنین کی روحیں ان کے دشمنوں کی روحوں کے ساتھ، ان کے بدن میں پلٹا دی جائیں گی؛ تاکہ وہ اپنے دشمنوں سے اپنا حق واپس لے سکیں۔ جس نے بھی ان مومنین کو آزار و اذیت دی ہوگی وہ اس سے اسی اعتبارسے انتقام لیں گے۔ ﴿۹﴾

    امام جعفر صادق- ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب امام زمانہ- ظہور کریں گے تو خدا وندعالم اپنے مومن بندوں کو آزار و اذیت دینے والوں کو ان کی پہلی والی شکل و صورت و قیافہ میںاس دنیا میں پلٹائے گا تاکہ مومنین ان سے انتقام لے سکیں۔‘‘ ﴿۰۱﴾

    اسی طرح آیۂ شریفہ’’ وَٲَقْْسَمُوا بِاﷲِ جَہْْدَ ٲَیْْمَانِہِمْْ لاَیَبْْعَثُ اﷲُ مَنْْ یَمُوتُ بَلَی وَعْْدًا عَلَیْْہِ حَقًّا وَلَکِنَّ ٲَکْْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْْلَمُونَ ۔ لِیُبَیِّنَ لَہُمْْ الَّذِی یَخْْتَلِفُونَ فِیہِ وَلِیَعْْلَمَ الَّذِینَ کَفَرُوا ٲَنَّہُمْْ کَانُوا کَاذِبِینَ ۔ ‘‘﴿سورۂ نحل، آیت/۹۳ و ۰۴﴾کے ذیل میں امام جعفر صادق- ارشاد فرماتے ہیں:’’ یعنی زمانۂ رجعت میں خدا وند عالم انہیں﴿ظالمین کو﴾ پلٹائے گا تاکہ وہ مومنین کے ہاتھوں مارے جائیں اور مومنین کے دل کو تسلی و تشفی حاصل ہو۔ ‘‘﴿۱۱﴾

    بے شک خدا وند عالم رجعت میں اپنی لا محدود قدرت کے ذریعہ بوسیدہ ہڈیوں اور فرسودہ جسموں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو ہزاروں سال سے مٹی کے نیچے چھپے ہوئے تھے تاکہ مومنین، تاریخ کے ستمگروں سے انتقام الٰہی کا مشاہدہ کرسکیں۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ رجعت کو خدا کی لا محدود اور بے کراں قدرت و عظمت کی ایک نشانی اور قیامت کبریٰ کے برپا ہونے کی ایک علامت بھی کہا جاسکتا ہے۔ جس کے واقع ہونے سے مومنین کے دل ہر طرح کے شک و شبہہ سے پاک و پاکیزہ اور دشمنان خدا پر حجت تمام ہوجائے گی۔

    اللھم انا نرغب الیک فی دولۃ کریمۃ تعز بھا الاسلام و اھلہ و تذل بھا النفاق و اھلہ و تجعلنا فیھا من الدعاۃ الی طاعتک و القادۃ الی سبیلک و ترزقنا بھا کرامۃ الدنیا و الآخرۃ!

    حوالہ جات

    ۱۔ تفسیر عیاشی، ج/۲، ص/۱۳۲.         ۲۔ بحار الانوار، ج/۳۵، ص/۰۹.

    ۳۔ بحار الانوار، ج/۳۵، ص/۴۱۱.    ۴۔ بحار الانوار، ج/۵۲، ص/۸۰۱.

    ۵۔ حق الیقین، ص/۴۵۳         ۶۔ بحار الانوار، ج/۳۲، ص/۹۲.

    ۷۔ بحار الانوار، ج/۳۲، ص/۷۳.    ۸۔ بحار الانوار، ج/۳۲، ص/۱۴

    ۹۔ حق الیقین، ج/۲، ص/۷.

    ۰۱۔ معجم احادیث الام المہدی، ج/۴، ص/۵۹.

    ۱۱۔ معجم احادیث الام المہدی، ج/۵، ص/۴۱۲.


    منبع : http://fazael.com