islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. عدل الہیٰ

    عدل الہیٰ

    • نذر حافی
    • http://www.ur.islamic-sources.com/
    عدل الہیٰ
    Rate this post

    عدل الہیٰ

    نذر حافی

    nazarhaffi@gmail.com

    عدل کی تعریف اور اہمیت

    عدل اتنا اہم موضوع ہے کہ ابتدائے اسلام سے امت مسلمہ کے درمیان موضوع بحث رہا ہے اورعقائدِ امامیہ میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے۔لغت میں عدل کے معانی برابری اور انصاف کے ہیں ۔اصطلاح میں عدل کی دوتعریفیں کی جاتی ہیں، ایک یہ کہ” اعطاء کل ذی حق حقہ ”ہرصاحب حق کو اس کا حق ادا کرنااور دوسری تعریف یہ کہ جاتی ہے کہ ”وضع کل شیء فی موضعہ ”کسی بھی شیء کو اس کے مقام پررکھنا۔

    مندرجہ بالا تعریفوں سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ عدل سے مراد یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پراس طرح سے رکھا جائے تاکہ صاحب حق کو اس کا حق مل جائے ۔عدل کی اہمیت اس سے بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ خداوند ازلی وابدی کی لامحدودصفات میں سے صرف ”عدل ”کوہی اصول دین میں شامل کیا گیاہے ۔عدل الہی سے مرادیہ ہے کہ خداوند عالم کی ذات عین عدل ہے اور اس کے تمام افعال عین عدالت ہیں۔

    عدل اور مساوات میں فرق

    یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ عدل سے مراد مساوات نہیں ہے طونکہ مساوات کامطلب برابر عطا کرنا ہے جبکہ عدل سے مراد یہ ہے کہ جو جس چیز کا اہل ہے اسے وہی چیز عطا کی جائے یعنی عدل سے مراد وہ برابری ہے جس کی رو سے سبھی کو اپنا اپنا حق حاصل ہو جائے ۔

    مسلمان فرقوں میں خدا کی عدالت کے بارے میں پائے جانے والے نظریات

    ہم مختصراًعرض کرتے چلیں کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ جسے اشاعرہ کہا جاتا ہے اور جس کا تعلق اہل سنت سے ہے یہ خدا کے بارے میں اس نظریے کا قائل ہے کہ خدا جو کچھ بھی کرئے وہ عدل ہے ۔خدا کے نزدیک ظلم کا کوئی معنیٰ نہیں چونکہ ساری کائنات خداکی ملکیت ہے لہذاوہ جوبھی کرئے وہ عدل ہے ۔

    اہل سنت کا ہی ایک دوسرا گروہ جسے ”معتزلہ ”کہا جاتا ہے وہ اور تمام شیعہ اس نظرئے کے قائل ہیں کہ خداوند عالم عادل ہے اور کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا ۔

    اس دوسرے گروہ (معتزلہ +شیعہ )کو عدلیہ جبکہ اشاعرہ کو غیر عدلیہ کہا جاتا ہے ۔بعدازاںاہل تشیع نے اپنے مکتب کو جدارکھنے کے لئے امامت کو بھی اصول دین میں شامل کرلیا چنانچہ جہاں بھی عدل اور امامت کی بات ہوتی ہے وہاں مکتب تشیع نمایاں ہوجاتا ہے۔

    اب آئیے عدل کی اقسام کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

    عدل کی اقسام

    عصر حاضر کے ایک مایہ ناز محقق اور مفسر آیت اللہ جفعر سبحانی نے عدل الہی کی دوقسمیں بیان کی ہیں ١۔عدل تکوینی ٢۔عدل تشریعی

    عدل تکوینی

    عدل تکوینی سے مراد نظام کائنات کا عدل ہے ۔نظام کائنات میں عدل سے مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کی خلقت نیز ان کے اجزاء بدنی بھی اپنی موزینیت اور مناسبت زمین اور تمام آسمان عدل پر قائم ہیں ۔جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے ۔بالعدل قامت السمٰوٰت والارض ۔آسمان اورزمین عدل پر قائم ہیں ۔(سورہ۔رحمن ۔آیت ٧)

    عدل تشریعی

    عدل تشریعی کی پھر دو قسمیںکی ہیں ۔ایک یہ کہ خداوند عالم کے تمام احکا م پیغمبروں کے وسیلے سے لوگوں تک پہنچایا جانا الہی عدالت پر استوار ہے نیز خداوند عالم نے اپنے احکامات صادر کرتے وقت انسانوں کی طاقت وتوانائیوں کو بھی عدل الہی کے تقاضوںکے مطابق مد نظر رکھا ہے ۔دوسرے یہ کہ خدا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ قضاوت کرئے گا اور کسی بھی صورت میں نیک وبد کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرئے گا نیز اگر کسی گنہکار کوبخشے گا تو اس کے بدلے میں کسی نیک کو سزا نہیں دے گا ۔جیسا کہ قرآن میں ارشاد پروردگار ہے :

    وَلَا نُکَلِّفُ نَفْساً ِلَّا وُسْعَہَا وَلَدَیْْنَا کِتَاب یَنطِقُ بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ

    ترجمہ:اور ہم تو کسی شخص کو اس کی قوت سے بڑھ کر تکلیف دیتے ہی نہیں اور ہمارے پاس تو(لوگوں کے اعمال کی ) کتاب ہے جو بالکل ٹھیک حال بتاتی ہے اور ان لوگوں کی(ذرہ برابر)حق تلفی نہیں کی جائے گی ۔(مؤمنون٦٢)

    قرآن کی روشنی میںخدا کے عادل ہونے کامطلب ارباب فکر دانش اور صاحبان مطالعہ جانتے کہ شھید مطھری نے عدل الہی کے نام ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے معاد کی بنیاد اور رسالت ونبوت کی غرض وغایت ”عدل”کو قرار دیا ہے ۔

    دلیل کے طور پر انہوں نے سورہ حدیدکی آیت ٢٥ پیش کی ہے جس میں ارشاد پرودگار ہے۔

    لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ

    ہم نے یقیناًپیغمبروں کو واضح وروشن معجزے دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ ساتھ کتاب (اور انصاف)ترازو نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں (حدید٢٥)

    شھید مطھری کے مطابق بعض آیات میں عدل اور عدل کے ہمراہ قیام کی صفت کو خداوند تعالیٰ کے لئے ایک ثبوتی قرار دیا گیا ہے یعنی قرآن کریم ذات کو پروردگارکو صرف ظم سے منزہ نہیں کرتا بلکہ براہ راست عدل کو خدا کے لئے ثابت بھی کرتا ہے جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے :

    شَہِدَ اللّہُ أَنَّہُ لاَ ِلَہَ ِلاَّ ہُوَ وَالْمَلاَئِکَةُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ قَآئِمَاً بِالْقِسْطِ

    خود خدا نے اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام فرشتوںنے اور صاحبان علم (انبیاء واولیاء )جو عدل پر قائم ہیں (آل عمران ١٨)

    شھید مطھری کے نزدیک خدا کے عادل ہونے کا یہ معنیٰ ہے کی خدا کسی بھی موجود کی قابلیت اور استحقاق کو مھمل وبے مصرف نہیں چھوڑتا اور ہرموجود کو اس کے استحقاق کے مطابق عطاکرتاہے ۔

    اسی طرح ایک اور مقام پرشھید مطھری فرماتے ہیں کہ عدل سے متعلق بیشتر آیات اجتماعی عدل کی جانب اشارہ کرتی ہیں جن میں کاندانی ،سیاسی اور سماجی عدل جیسے شامل ہیں ۔یہاں تک کہ حقیر نے تقریباً١٦ آیات کواپنی موضوعات کی جانب اشارہ کرتے پایا ہے ۔قرآن میں توحید سے معاد ،نبوت سے امامت اورانفرادی مقصد حیات سے لے کر اجتماعی اہداف تک کو سب ہی کا محور عدل ہے ۔قرآن میں بیان کردہ مفھوم عدل ،توحید کاہمسر ،معاد کی بنیاد ،مقصد نبوت ،حکمت امامت وقیادت ،انفرادی کمال کی کسوٹی اور سماج کی صحت وسلامتی کاپیمانہ ہے ۔

    قرآن اور عدالت پروردگار

    ِنَّ اللّہَ لاَ یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْْئاً وَلَکِنَّ النَّاسَ أَنفُسَہُمْ یَظْلِمُونَ(یونس ٤٤)

    خدا تو ہرگز لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیںکرتا مگر لوگ خود اپنے اوپر (اپنی کرتوت سے ) ظلم کیا کرتے ہیں ۔

    ِنَّ اللّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَِن تَکُ حَسَنَةً یُضَاعِفْہَا وَیُؤْتِ مِن لَّدُنْہُ أَجْراً عَظِیْماً(نساء ٤٠)

    خدا (ہرگز )ذرہ برابر بھی نہیں کرتا بلکہ بلکہ اگر (ذرہ برابر بھی کسی کی ) کوئی نیکی ہو تو اس کو دوگنا کرتا اور اپنی طرف سے بڑا ثواب عطافرماتاہے۔

    وَنَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْس شَیْْئاً

    اور قیامت کے دن تو ہم (بندوں کے بھلے بڑے اعمال تولنے کے لئے )انصاف کی ترازوئیں کھڑی کردیں گے (انبیائ٤٧)

    عصر حاضر کے مایہء ناز مفسر اسلام آیت اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی اپنی کتاب اصول عقائدکے صفحہ ٨٨ پر خداوند عالم کے ظلم سے مبرا اور منزہ ہونے کی وضاحت اکرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ خداوند عالم عادل کیوں ہے تو ہمارے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خدا ظلم کیوں نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ اگرہم ظلم کرنے کے اسباب پہچان لیں تو پھر ہم پر خدا کی عدالت خودبخود واضح ہوجائے گی۔انھوں نے ظلم کرنے کے مندرجہ زیل اسباب لکھے ہیں:

    ظلم کرنے کے اسباب

    ظلم کرنے کے پانچ سباب ہیں:

    جہالت ٢۔ضرورت ٣۔کمزوری اور عاجزی ٤۔خود خواہی اور ہوس انتقام

    ١۔جہالت

    انسان اس وقت ظلم کا ارتکاب کرتاہے جب وہ حقیقت حال سے آگاہ نہیں ہوتا لیکن خداوند عالم کی ذات ہرطرح کی جہالت سے منزہ ہے پس خداظلم نہیں کرتا ۔

    ٢۔ضرورت

    کبھی انسان کو ایسی چیز کی ضرورت پڑ جاتی ہے جو دوسروں کی ملکیت ہوتی ہے ۔چنانچہ اس چیز کو ہتھیانے کے لئے ظلم کا ارتکاب کرتا ہے لیکن چونکہ خدا بے نیاز ہے اور اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی اس لئے وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔

    ٣۔خود خواہی اور ہوس انتقام

    کبھی کبھار انسان جہالت یا ضرورت کے بجائے اپنی خود خواہی اور ہٹ دھرمی کے باعث ظلم کا ارتکاب کرتا ہے یا کسی سے انتقام لینے کی خاطر اپنے ہاتھ ظلم میں رنگتا ہے لیکن خداوند عالم ہر قسم کی خود خواہی اور ہٹ دھرمی سے پاکیزہ اور انتقام جوئی سے منزہ ہے پس وہ ظلم کا مرتکب نہیں ہوتا ۔

    ٤۔کمزوری اور عاجزی

    بعض اوقات انسان چاہتاتو ہے کہ دوسروں کے حقوق ادا کرے لیکن وہ ادا کرنے سے عاجزہوتاہے اور اس طرح دوسروں کے حقوق ادا نہ کر کے ظلم کا مرتکب ہوتا ہے لیکن خداوند عالم ہر قسم کی کمزوی اور عاجزی سے پاک ہے اس کئے وہ ظلم نہیں کرتا۔

    روز آخرت میں عدل الہی قرآن کی روشنی میں

    جس طرح ہماری اس مادی کائنات پر عدل الہی حاکم ہے اسی طرح عالم آخرت کابھی عدل الہی نے احاطہ کر رکھا ہے ۔عالم آخرت کی تمام تر سزاؤں اور انعامات کا دارومدار عدل پر ہے ۔خداوند عالم وہاں پربھی سب کے عادلانہ برتاؤ کرے گا جیسا کہ متعدد مقامات پرقرآن مجید نے بھی اس امر کی گواہی دی ہے روز آخرت ،عدل الہی کے بارے میں نمونے کے طور پر چند آیات ملاحظہ فرمائیں

    ١۔یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْْرٍ مُّحْضَراً وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوَء ٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَیْْنَہَا وَبَیْْنَہُ أَمَداً بَعِیْداً

    اور (اس دن کو یاد کرو)جس دن ہر شخص جو کچھ اس نے (دنیا ) میں نیکی کی ہے اور جو کچھ برائی کی ہے اس کو موجود پائے گا (اور ) آرزو کرئے گا کہ کاش اس کی بدی اور اس کے درمیان زمانہ دراز (حائل ) ہوجاتا(آل عمران ٣٠)

    ٢۔ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِراً وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ أَحَداً

    جو کچھ ان لوگوں نے (دنیا میں )کیا تھا وہ سب (لکھاہوا) موجود پائیں گے اور تیرا پروردگار کسی پر (ذرہ برابر)ظلم نہ کرے گا (کہف ٤٩)

    ٣۔یَوْمَئِذٍ یَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتاً لِّیُرَوْا أَعْمَالَہُمْ (6) فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْْراً یَرَہُ (7) وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرّاً یَرَہُ (8)

    اس دن لوگ گروہ در گروہ (اپنی قبروں) سے نکلیں گے تاکہ اپنے اعمال کودیکھیں (زلزال ٦-٨)

    ٤۔وَاتَّقُواْ یَوْماً تُرْجَعُونَ فِیْہِ ِلَی اللّہِ ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ

    اور اس دن سے ڈرو جس دن تمسب کے سب خدا کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ جس شخص نے کیا اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کی ذرا بھی حق تلفی نہ ہو گی (بقرہ٢٨١)

    ٥۔ِنَّ الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْماً ِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِیْ بُطُونِہِمْ نَاراً وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْراً

    جو لوگ یتیموں کے مال ناحق پیٹ کرجایا کرتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بس انگارے بھرتے ہیں اور عنقریب واصل جہنم ہوگے ۔(نسائ١٠)

    ٦۔یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْس مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ ِنَّ اللَّہَ خَبِیْر بِمَا تَعْمَلُون

    اے ایمانداروخداسے ڈرواور ہر شخص کو غور کرنا چاہیے کہ کل (قیامت ) کے واسطے اس نے پہلے سے کیا بھیجاہے اور خدا سے ڈرتے رہو ۔بیشک جوکچھ تم کرتے ہو خدا اس سے باخبر ہے (حشر١٨)

    ٧۔ِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ (1) وَِذَا النُّجُومُ انکَدَرَتْ (2) وَِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ (3) وَِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (4) وَِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (5) وَِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ (6) وَِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ (7) وَِذَا الْمَوْؤُودَةُ سُئِلَتْ (8) بِأَیِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ (9) وَِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (10) وَِذَا السَّمَاء کُشِطَتْ (11) وَِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ (12) وَِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ (13) عَلِمَتْ نَفْس مَّا أَحْضَرَتْ (14)

    جس وقت آفتاب (کی چادرکو) لپیٹ لیا جائے گااور جس وقتتارے گرپڑیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب عنقریب جننے والوں اونٹنیاں بیکار کردی جائیں گی اور جس وقت وحشی جانور اکٹھے کی جائیںگے اور جس وقت دریا آگ ہوجائیں گے اور جس وقت روھیں (ہڈیوںسے)ملادی جائیں گی اور جس وقت زنڈہ در گور لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ کے بدلے ماری گئی اور جس وقت (اعمال کے )دفتر کھولے جائیں گے اور جس وقت اسمان کا چھلکااتاراجائے گا اور جب دزح (کی آگ ) بھڑک جائے گی اور جب بہشت قریب کردی جائے گی تب ہر شخص معلوم کرے گا کہ وہ کیا (اعمال ) لے کر آیا (تکویر ١-١٤)

    ٨۔قُلْ ِنَّ الْمَوْتَ الَّذِیْ تَفِرُّونَ مِنْہُ فَِنَّہُ مُلَاقِیْکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ ِلَی عَالِمِ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (8)

    (اے رسول )تم کہہ دو کہ موت جس سے تم لوگ بھاگتے ہو وہ ضرور تمہارے سامنے آئے گی پھر پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے (خدا) کی طرف لوٹا دئے جاؤگے(جمعہ ٨)

    قرآن مجید کی روشنی میں نظام کائنات اور عدل الہی

    جب ہم کائنات پر نگا ہ ڈالتے ہیں تو اس میں معدنیات ،نباتات ،حیونات ،فلکیات ،آبی ذخائر الغرض طرح طرح کی مخلوقات نظر آتی ہیں ۔یہ سب کی سب مخلوقات آپس میں بالکل مختلف ہیں لیکن اس کے باوجود یہ نظام کائنات میں کوئی خلل نہیں ڈالتیں ۔مختلف مخلوقات کا نظام کائنات میں خلل نہ ڈالنااس بات کی دلیل ہے کہ ان سب کا خالق عادل ہے ،اس نے تمام مخلوقات کو ایسے مناسب محل ومقام پر رکھا ہے جس کے باعث کسی قسم کا خلل رونما نہیں ہوتا ۔ یعنی خدانے ہر چیز کو بر محل اور طبق عدالت خلق کیا ہے ۔جیسا کہ ارشاد پروردگار ہے :

    الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقاً مَّا تَرَی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ہَلْ تَرَی مِن فُطُورٍ (3) ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْْنِ یَنقَلِبْ ِلَیْْکَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَہُوَ حَسِیْر ٭

    جس نے سات آسمان اوپر تلے بنا ڈالے ۔بھلا تجھے خداکی آفرینش میں کوئی کسر نظر آتی ہے ۔توپھر آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھے کوئی شگاف نظر آتاہے پھر دوبارہ دیکھ تو (ہربار تیری نظر ) ناکام اور تھک کر تیری طرف پلٹ آئے گی (ملک ٣-٤)

    نظام کائنات میں اس قدر حسن نظم ہے پایا جاتاہے کہ اس سے بہترین نظام سو چاہی نہیں جاسکتا ۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے لادین فلاسفر اور سیکولر علماء بھی کائنات میں وحدت نظم اور حسن نظم کے عدل پر قائم ہونے کے قائل ہیں ۔چونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جمادات ،نباتات ،آبی چکر ،بادلوں کی حرکت ،ہواؤں کی رفتار ،ستاروں کی حرکات وسکنات ،سورج کاطلوع وغروب ، چاند کی آمد ورفت ،سمندر کامدوجزر ،چاند گرہن وسورج گرہن ،یہ سب کچھ ایک نظام کے تحت منظم اورمربوط طریقے سے وقوع پذیر ہوتا چلاآرہا ہے ۔اس سارے نظام کا حسن اور نظم و ضبط ایک ایسا بدیہی امر اور کھلی ہوئی حقیقت ہے جس سے انکار کرنااپنی حماقت اور نادانی نیز تعصب کا علان کرنا ہے۔

    نظام کائنات میں پائے جانے والے عدل کے بارے میں امیر المؤمنین حضرت علی اس طرح سے ارشاد فراماتے ہیں

    قَدَّرَ مَاخَلَقَ فَأَحْکَمَ تَقْدِیْرَہُ، وَدَبَّرَہُ فَأَلْطَفَ تَدْبِیْرَہُ، وَوَجَّھَہُ لِوِ جْھَتِہِ فَلَمْ یَتَعَدَّ حُدُودَ مَنْزِلَتِہِ، وَلَمْ یَقْصُرْ دُوْنَ

    الْاِنْتِھَائِ اِلٰی غَایَتِہِ، وَلَمْ یَسْتَصْعِبْ اِذْ أَمِرَ بِالْمُضِیَّ عَلَیٰ اِرَادَتِہِ، فَکَیْفَ وَاِنَّمَا صَدَرَتِ الْأُمُورُ عَنْ مَشِیْئَتِہِ(خطبہ ٩٠)

    اللہ نے ہر مخلوق کی مقدار معین کی ہے اور محکم ترین معین کی ہے اور ہر ایک کی تدبیر کی ہے اور لطیف ترین تدبیر کی ہے ہرایک کو ایک رخ پر لگا دیا ہے تو اس نے اپنی منزلت کے حدود سے تجاوز بھی نہیں کیا ہے اور انتہا تک پہنچنے میں کوتاہی بھی نہیں کی ہے اور مالک کے ارادہ پر چلنے کا حکم دے دیا گیا تو اس سے سرتابی بھی نہیں کی ہے اور یہ ممکن بھی کیسے تھا جب کہ سب اس کی مشیت سے منظر عام پرآئے ہیں۔

    سورہ ملک کی آیت ٣ و٤ اور امیر المؤمنین کے خطبے سے پتہ چلتاہے کہ نظام کائنات یعنی عالم تکوین ،عدل پر مبنی ہے اسی لئے خداوند عالم نے عالم تکلیف کوبھی یعنی احکام شرعیہ کوبھی عدل پر استوار کیا ہے ۔چنانچہ قرآن مجید میں اس طرح سے بھی ارشاد مبارک ہوا ہے ۔

    ِنَّ اللّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالِحْسَانِ وَِیْتَاء ذِیْ الْقُرْبَی وَیَنْہَی عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنکَرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ

    ترجمہ: یقیناً اللہ تعالیٰ عدل اور احسان اور قرابت داروں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برئے کاموں سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔(نحل٩٠)

    اسی طرح سورہ اعراف میں ارشاد پروردگار ہے کہقُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ َ (اے رسول )تم کہہ دوکہ میرے پروردگار نے انصاف کا حکم دیا ہے (اعراف٢٩)

    ِنَّا أَنزَلْنَا ِلَیْْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاکَ اللّہُ وَلاَ تَکُن لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْماً(نسائ١٠٥)

    (اے رسول ) ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب اس لئے نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوںکے درمیان فیصلہ کریں اور خیانت کرنے والوں کے طرفدار نہ بنیں۔

    قرآن مجید میں عدل کے مترادفات کے طور پر کلمہ”قسط”استعمال ہوا ہے جبکہ عدل کی ضد ظلم ہے۔ کسی بھی حوالے سے اسراف کرنا ،زیادتی کرنا یاکمی کرنا یہ ظلم ہے اور عدل خلاف ہے ۔

    قرآن کا معیار عدل اور بنی نوع انسان :

    قرآن مجید نے الہی عدل کے دائرہ کار میں رہ کر زندگی گذارنے کے لئے ”ختم النبین ”حضرت محمد رسول اللہ کی زندگی کو اسوہِ حسنہ قراردیا ہے اور سورہ آل عمران کی آیت٣١ میں فرمایا کہ اگرتم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو پھراللہ بھی تمہیں دوست رکھے گااور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔یعنی الہی عدالت کے معیار پر پورا اترنے کے لئے ضروری ہے کہ

    ہم رسول خدا ۖکے نقش قدم پرچلیں ۔حضوراکرم نے بنی نوع انسان کی زندگی کوعدل الہٰی کے زیر سایہ رکھنے کیلئے ہی ارشاد فرمایا تھا :

    انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اہلبیتی ماان تمسکتم بھمالن تضلوا بعدی ابداوانھمالن یفترقا حتیٰ یردا علی الحوض

    پیغمبر کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قافلہ بشریت ،قرآن اور اہل بیت کی تعلیمات کی روشنی میں اپنا سفر طے کرنے لگے تو افراد معاشرہ کی انفرادی اوراجتماعی زندگیوں میں ایسا عدل قائم ہوجائے گاکہ تاروز حشر کسی کے بھٹکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔

    نتیجہ :عدل سے مراد مساوات نہیں ہے عدل سے مراد یہ ہے کہ ہر چیزکو اس کے مقام ہررکھا جائے اور ہرشخص کو اس کاپورا پورا حق دیاجائے ۔خداوندعالم ہرلحاظ سے( اشیاء کو ان کے مقام پر رکھنے نیز افراد کو ان کا پورا پورا حق دینے کے لحاظ سے )عادل ہے ۔اس نے بنی نوع انسان کوراہِ عدل پرگامزن کرنے کے لئے معاد ،نبوت ،آسمانی کتابوں اور معصومین کابندوبست کیا ۔پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی عدل الہی کے تحت رہ کر نعمات ابدی اور اس دنیا میں بھی عدل الہی کے معیارات پرپورا اتر کر اکرام حقیقی حاصل کریں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ فرمان رسولۖ کے مطابق قرآن اور اہلبیتۖسے مضبوط اور عملی رابطہ قائم کئے رکھیں۔

    ایک اہم سوال اگر خدا عادل ہے تو پھر زلزلے ،سیلاب اورحادثات کیوں ؟

    جیسا کہ گزشتہ یونٹ میںہم نے بیان کیا ہے کہ عد ل سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کاپورا پورا حق دیا جائے ۔اس بات سے یہ سوال پیداہوتا ہے کہ پھر نیک لوگ مصیبتوں میں کیوں گرفتار ہوتے ہیں ؟زلزلوں ،سیلابوں اور حادثات میں بہت سارے نیک اصلی لوگ بھی کیوں آفات وبلیات کے شکار ہوتے ہیں ؟

    اس یونٹ میںہم اس سوال کا جواب دینا چاہتے ہیں ۔اسی سوال کے جواب کے لیے ہمیں مندرجہ ذیل نکات پرتوجہ دینی پڑے گی ۔

    ١۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ خداوندعادل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس نے کائنات کی ہر شے کو اس کے خاص اورمناسب مقام پر رکھا ہے ۔پس جو مصیبتیں اورمشکلات آتی ہیں وہ عدل کائنات کو درہم برہم نہیں کرتیں بلکہ عدل الہیٰ کو نافذ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ مثلا اگر کہیں پر سیلاب آتا ہے تو برے لوگوں کے ساتھ ساتھ اچھے لوگوں بھی جانی و مالی نقصان ہوتا ہے ۔ یہ نقصان جہاںپر برے لوگوں کے لیے خداکی طرف سے عذاب او رسزا ہوتا ہے ہیں پر اچھے لوگ کے لیے لمحہ فکریہ !

    اپنے اعمال کے محاسبے اور اپنی اصلاح کے لیے ایک موقع ہوتا ہے ۔ایسے حادثات نیک لوگوں کوخدا سے اوربھی قریب کر دیتے ہیں اور ان کے خضوع و خشوع نیز رقت قلبی میں اور زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے ۔

    ٢۔ انسانی سماج میں بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بظاہر نیک و پارسا نظر آتے ہیں اور وہ خود بھی اپنے آپ کو نیک وپارسا سمجھ رہے ہوتے ہیں لیکن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیںکرتے ۔ اس طرح وہ معاشرے میںبرائیوں کے فروغ میںخاموش مددگار کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں ۔چنانچہ بدکاروں کے ساتھ وہ بھی آفات وبلیات کی لپیٹ میں آتے ہیں ۔

    ٣۔آفات وبلیات میںجب نیک لوگوں کا جانی ومالی نقصان ہوتا ہے تو ہم اپنی ظاہری اور مادی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اورہم کو یہ سب نقصان دکھائی دیتا ہے حالانکہ اس نقصان کے اندر بھی مومنین اورمتقی افراد کا فائدہ پوشیدہ ہوتا ہے ۔

    مثلا کسی علاقے میںجنگ لگتی ہے تو وہاں کے برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگوں کو بھی ہجرت کرنی پڑتی ہے ،اپنا گھر بار اورکاروبار سب کچھ چھوڑ ناپڑتا ہے لیکن یہی لوگ جب کسی نئیمقام پرجا کر آباد ہوتے ہیں تو ان میں سے بہت سے لوگوں کو اچھے ،نیک او ردیندار ہمسائے نصیب ہوتے ہیں ،بہت سارے لوگوں کی پہے عزت وناموس خطرے میںتھی اب محفوظ ہوجاتی ہے ،بہت سارے لوگ پہلے بے روز گار تھے اس لیے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے اب انہیں روز گار مل جاتا ہے اور وہ جرائم سے توبہ کر لیتے ہیں ۔

    ٤۔یہ آفات اور مصیبتیں جب کسی کا نقصان کرتی ہیں ان کی پیچھے خدائے بزرگ وبرتر کی حکمت عملی پوشیدہ ہوتی ہے لہذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو شخص سیلاب میںہلاک ہوگیا اسکانقصان ہوگیا اور جو بچ گیا وہ فائدے میںرہا چونکہ نقصان یافائدے کامعیار ہمارے پاس نہیں ہے بلکہ خدا کے پاس ہے ۔

    ٥۔ نعمت یامصیبت :

    بہت سارے ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں انسان سخت ناپسند کرتا ہے اور انہیںبرا سمجھ رہا ہوتا ہے جبکہ وہ چیزیں انسان کے لیے مفید اورنعمت ہوتی ہیں ۔ مثلا علم ایک نعمت ہے لیکن لوگوں کی اکثریت حصول علم کے راستے میںآنے والی دشواریوں اور مشکلات کو سخت ناپسند کررہی ہوتی ہے لوگ حصول علم سے جی چرانے ہیں اور ڈگریوں کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ اسی طرح فارغ بیٹھنا اور وقت کو خوش گپیوں یا سوکر گزاردینا مصیبت ہے لیکن لوگوں کی اکثریت گپ شپ لگانے اور فارغ بیٹھنے یا ادھر ادھر گھومنے کو نعمت سمجھتی ہے اور اس لوگ اپنی زندگی کے زیادہ تر دور کولغویات میںضائع کردیتے ہیں ۔ اس لیے جب مصیبتیں اور بلائیںآتی ہیں وہ بہت سارے سست ،نکمے اور کام چور لوگوں کو مشغول کردیتی ہیں اسی طرح بہت سارے خوابوں کی دنیا میںزندگی گزارنے والے بہت سارے لوگ میدان عمل میں اترنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور خوش گپیوں میںوقت گزارنے والوں کوبھی ہاتھ پائوں مارنے پڑتے ہیں ۔

    اس طرح یہ حادثات انسانی معاشرے کو تہ و بالا کر کے انسانوں کو غفلت سے نکال کر نعمتوں کا مزہ چکھاتے ہیں ۔

    ٦۔ ایک دوسرے کا احساس :

    دراصل انسانی معاشرہ انسانی جسم کی مانند ہے ۔جس طرح انسانی اعضاء ایک دوسرے سے مربوط ہیںاور اگر جسم کے کسی ایک حصے میںکوئی تکلیف اور درد سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

    اگر خدانخواستہ کسی کا دایاں ہاتھ آگ میںجل رہاہو اور باقی بدن اس جلن کا احساس نہ کرئے تو رفتہ رفتہ سارا بدن جل کر راکھ کاڈھیر بن جائے گا ۔

    بالکل اسی طرح انسانی معاشرے میںبسنے والے افراد بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیںاگر گناہوں کی آگ میںجلنے والے برے لوگوں کی جلن کا احساس نیک لوگوں کونہ ہو تو نیک لوگ بھی رفتہ رفتہ نعمتوں کی قدر دانی بھول جائیں گے اور گناہوں کا ارتکاب کرنا شروع کریںگے اور یوں یکے بعد دیگرے سب گناہوں کی آگ میںجل کر راکھ ہوجائیں گے ۔

    برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگ بھی آفات وبلیات کے شکار اس لیے ہونے ہیںتاکہ وہ خدا کی ناراضگی سے سلسل ڈرتے رہیں اور دوسروں کوبھی ڈراتے ہیں ۔نیز ۔۔۔۔کی نعمتوں کی خود بھی قدر دانی کریں اور دوسروں کوبھی کفران نعمت کرنے سے سے روکیں تاکہ معاشرے میں امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو فروغ ملے اوریوں پورا معاشرہ گناہوں کی لپیٹ میںنہ آئے

    ٧۔آپ خود سوچیں کہ اگر یہ آفات وبلیات ،سیلاب اور زلزلے ،بیماریاں ،دکھ ،رنج ،مصیبتیں اور حادثات و اموات نہ ہوتیں تو انسانی معاشرے کا کیا حال ہوتا ۔طاقتور ہمیشہ کیلئے کمزور کاجگر چباتا رہتا ،بدکار کی ہوس ہمیشہ پرہیز گار کو ڈستی رہتی ،بدمعاش اور اوباش لوگ شریفوں کاجینا دوبھر کئے رکھتے ۔ایسے میںیہ آفات وبلیات اور حادثات ہی وہ واحد اور موثر ہتھیار ہیں کہ جن سے طاقتور کا گھمنڈ ،بدمعاش کاغرور اور بدکار کی مکروہات کا صفایا ہوتا ہے ۔اگرچہ آفات اورمصیبتیں نہ ہوتیں تو انسانی معاشرے میںکوئی شریف انسان ایک لمحے کے لیے بھی سکھ کاسانس نہ لے پاتا ۔

    ٨۔ بہت ساری برائیوں کا ارتکاب انسان غفلت کی بناء پر کرتا ہے ۔یہ حادثات ایک غافل انسان کیلئے خطرے کی گھنٹی کی مانند ہیں ۔انسان جب ان آفات وبلیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے یا پھر ان کا احوال اپنے کانوں سے سنتا ہے تو ایک دم خواب غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے ،اپنے اعمال اور کردار کامحاسبہ کرتا ہے اور غضب خدا سے چوکنا ہوجاتا ہے ۔

    ٩۔انسان معاشرے کا ایک بڑا لمیہ انسانی دنیا میںذات پات کی تقسیم ،ملک ،برادری اور تہذیب وتمدن کی برتری کا ذعم ہے ۔اسی تکبر اور برتری کے اظہار کے لیے لوٹ کھسوٹ دھونس دھاندلی اور غلم و ستم کا سہارا لیا جاتا ہے ۔یہ مصیبتیں انسان کوا س کی بے بسی ،عاجزی اورکمزوری کااحساس دلاتی ہیںتاکہ انسان اپنے پروردگار کی بارگامیں جھک جائے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ شفقت ،مروت اورمحبت کے ساتھ پیش آئے ۔

    ١٠۔ اکابرین دین کی روشنی میں :۔

    حادثات وبلیات کے بارے میں حضرت امام صادق ارشاد فرماتے ہیںکہ جولوگ آفات وبلیات پر اعتراض کرتے ہیں وہ دراصل اسرار خلقت سے آگاہ نہیں ہیں اور انہیں ان(آفات وبلیات )کی وجہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور امام نے یہ بھی فرمایا کہ جو چیز یں منکرین نہیں جانتے انہیں عرفاء جانتے ہیں اور بہت سارے ایسے مسائل ہیںکہ مخلوق انکے بارے میں کچھ معلومات نہیںرکھتی اور صرف خدا کوان کاعلم ہے ۔(بحارالانوار جلد ٣ ص ٦٥)

    مصبیت ظالم کو سدھار نے کے لیے ہے ،مومن کے لیے امتحان ہے اور انبیاء واولیاو کرام کے لیے درجات کی بلندی میں اضافے کا باعث ہے ۔(بحارالانوار جلد ٨١،ص ١٩٨)

    نتیجہ :۔

    حادثات وبلیات عدل الہیٰ کے مظہر ہیں اوران کے پس پردہ حکمت پروردگار پوشیدہ ہے ۔