islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سید حسین عارف نقوی۔ایک عہد ساز شخصیت

    سید حسین عارف نقوی۔ایک عہد ساز شخصیت

    • نذر حافی
    • http://www.ur.islamic-sources.com/
    سید حسین عارف نقوی۔ایک عہد ساز شخصیت
    Rate this post

    تحریر: نذر حافی
    nazarhaffi@gmail.com

    میرا قلم تو عدالت میرے ضمیر کی ہے
    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لُوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
    میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں
    یقین ہے مجھے
    کہ یہ حصارِستم کوئی تو گرائے گا
    تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
    میرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
    یہ جملے بجا طور پر ملت اسلامیہ کے عظیم محقق سید حسین عارف نقوی کے بارے میں کہے جاسکتے ہیں۔ وہ صرف چند ماہ پہلے اس دارِ فانی سے عالمِ بقا کی طرف کوچ کرگئے۔ اربابِ علم و دانش بخوبی جانتے ہیں کہ کتابیات اور تحقیق کے حوالے سے وہ اپنے فن میں طاق تھے۔ ایک ایسی قیمتی شخصیت کا یوں خاموشی کے ساتھ ہمارے درمیان سے اٹھ جانا اور ہمارے کسی بھی پلیٹ فارم سے موصوف کی دینی و علمی خدمات کو منظرِ عام پر لانے اور آگے بڑھانے کا عزم نہ کرنا یقیناً ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ چند سال پہلے ان سے میری ملاقات “مجلّہ نورِ معرفت اسلام آباد” کے مدیر قبلہ سید رمیز الحسن موسوی نے کروائی تھی۔ وہ مجلّہ نورِ معرفت کے گروہ ِعلمی کے ممبر بھی تھے اور اس طرح ان کے ساتھ وقتاً فوقتاً مختصر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

    وہ اپنی عمر اور صحت کے اعتبار سے اگرچہ سن رسیدہ تھے لیکن اس کے باوجود ان کے حافظے میں معلومات اور تاریخی حقائق کا ذخیرہ بخوبی موجود تھا۔ ان کی توفیقات اور ان پر خداوندِ عالم کے خاص لطف و کرم کا مشاہدہ صرف اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں دینی و قلمی خدمات انجام دیں، جب قلم کی طاقت سے دین کے دفاع اور علم کے تحفظ کا رواج ہی نہیں تھا۔ انہوں نے نہایت منفرد انداز میں لکھا اور اپنے تمام تر قلمی و علمی سفر میں تحقیقی معیارات، اجتماعی اخلاقیات اور باہمی اخوت کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ حتّی کہ مناظرے جیسے موضوع پر بھی انہوں نے جب قلم کو حرکت دی تو انتہائی میٹھے انداز میں، شیرین تعبیرات کے ساتھ اور اسلامی اخلاق کے عین مطابق، محبت و اخوت کے پیرائے میں وہابی و دیوبندی علماء اور ان کی مناظرانہ تصانیف کا تعارف کروایا۔

    مجھے ان کی قلمی لطافت، منفرد اسلوب اور شیرین تجزیہ و تحلیل کا زیادہ تر اندازہ نورِ معرفت میں ان کے چھپنے والے مقالہ جات کے مطالعے سے ہی ہوا۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات کی فہرست بہت طویل ہے۔ انہوں نے اپنے تمام تر قلمی سفر میں صرف اور صرف انتہائی اہم علمی موضوعات پر ٹھوس منابع کے ساتھ قلم اٹھایا۔ وہ دائیں بائیں کی بھیڑ چال کے شکار ہوئے بغیر دینِ اسلام کی دفاعی اور تحقیقی بنیادوں پر کام کرتے رہے۔ ان کی نگارشات میں کتابوں کے علاوہ متعدد کتابچے اور کئی اہم مقالہ جات شامل ہیں۔ جہاں تک راقم الحروف کا حافظہ ساتھ دے رہا ہے، ان کی اہم ترین کتابوں میں سے چند ایک کا ذکر کئے دیتا ہوں۔ ان کی ایک تحقیقی کاوش “تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان” کے نام سے ہے، جس میں انہوں نے ہماری آئندہ نسلوں اور محقیقین کے لئے اپنے ہم عصر علمائے کرام میں سے تقریباً ساڑھے چار سو سے زائد علماء کرام کے حالات زندگی جمع کر دئے ہیں۔

    اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب “تذکرہ علمائے امامیہ پاکستان (شمالی علاقہ جات) بھی ہے۔ جس میں شمالی علاقہ جات کے تقریباً چار سو سے زائد علمائے کرام کے حالات زندگی درج ہیں۔ ان کی ایک شہرہ آفاق کتاب “برّصغیر کے امامیہ مصنفین” ۲ جلدوں پر مشتمل ہے۔ وہ چونکہ خود بھی ایک عالمِ دین تھے اور انہوں نے اپنی دینی تعلیم مدرسہ آیت اللہ الحکیم اور مدرسہ تعلیم قرآن راولپنڈی سے حاصل کی تھی، چنانچہ انہوں نے حوزوی کتابوں کے تراجم پر بھی توجہ دی۔ جن میں سے بطورِ نمونہ ایک کتاب تاریخ اصول فقہ شیعہ از محمود شہابی کا ترجمہ ہے۔ ترویجِ معارفِ قرآن و سنّت کے علاوہ انہوں نے دفاعِ قرآن و سنّت میں بھی قلم اٹھایا اور محمد و آلِ محمد (ع) کے بغض میں یا غلط فہمیوں کی بنیاد پر لکھی جانے والی کتابوں اور تصنیفات پر مقالہ جات کی صورت میں علمی نقد بھی کیا۔

    اپنی ان تمام تر مصروفیات کے باوجود انہوں نے کتابوں اور مقالہ جات کی تصنیف کے ساتھ ساتھ عوام النّاس کے استفادے کے لئے چھوٹے چھوٹے کتابچے بھی لکھے، جن میں سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا فریضہ بطورِ احسن انجام دیا۔ ان کے مختصر و مفید کتابچوں میں سے نمونے کے طور پر دو کا تعارف پیشِ خدمت ہے۔ عوام کو تعلیمات اسلامی سے آشنا کرانے کے لئے قرآن و اہلبیت (ع) کی تعلیمات کے عنوان سے ان کا صرف سولہ صفحات پر مشتل ایک کتابچہ ہے۔ اس کے علاوہ اکابرین تحریک کے عنوان سے بھی 5 کے 24 صفحات پر مشتمل ایک اور کتابچہ ہے، جس میں انہوں نے قبلہ مولانا سید محمد دہلوی، قبلہ مولانا مفتی جعفر حسین نجفی، قبلہ مولانا سید عارف حسین الحسینی شہید اور قبلہ مولانا سید ساجد علی نقوی کے حالات زندگی اور خدمات پر مختصر مگر جامع انداز میں روشنی ڈالی ہے۔

    اس وقت موصوف کو ہم سے جدا ہوئے تقریباً چار ماہ ہوچکے ہیں، لیکن ان کی علمی خدمات چراغِ فروزاں کی صورت میں ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ ہماری تنظیموں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں فراموش نہ کریں۔ کسی بھی علمی شخصیت کو فراموش کرنا، پورے ایک علمی عہد کو فراموش کرنا ہے اور جو لوگ اپنے علمی عہد سے ناطہ توڑ لیتے ہیں، وہ کسی طور بھی جہالت کی آغوش سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ حالات کی موجودہ تاریکی میں ہمیں اپنے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے، اس عظیم شخصیت اور واجب الاحترام محقق کی یاد کی مناسبت سے یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا علمی و قلمی سفر کسی طور بھی رکنے نہ پائے۔

    ہمیں اس حقیقت کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ آج اسلامِ حقیقی کے حقیقی دشمن (امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور ان کے آلہ کار) سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند آپس میں متحد ہیں۔ کراچی سے لے کر خیبر پختونخوا تک اور عراق سے بحرین تک اس وقت اسلامِ ناب کے پیروکاروں کے لئے ہر روز، روزِ عاشور اور ہر شہر کربلا بن چکا ہے۔ ایسی گھٹاٹوپ تاریکی میں اگر ہم اپنے حصے کی کوئی شمع نہیں جلا سکتے، تو کم از کم کسی جلتی ہوئی شمع یا کسی ہلکی سی ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی کرن کو تو بھجنے سے بچائیں۔ دشمنان اسلام کی وحدت کو دیکھتے ہوئے ہمیں ہر حال میں اپنی تنظیموں اور جھنڈوں پر اپنے باہمی اتحاد اور علمی میراث کی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔

    ہر وہ شخص یا تنظیم جو بھی دین اسلام کی خدمت و دفاع اور ترویج و اشاعت میں مشغول ہے، ہمیں اپنی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر اس کی بھرپور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اگر ہمارے کسی ایک جملے سے کسی بھی خادِم اہلبیت (ع) کی تحقیر یا حوصلہ شکنی ہوئی یا قبلہ سید حسین عارف جیسی شخصیات فراموش ہونا شروع ہوگئیں تو یقین جانئے یہ دنیا بہت تھوڑی ہے اور ہم نے بالآخر خدا اور اس کے رسول (ص) کو اس کا جواب دینا ہے۔ یہ تنظیموں کی دیواریں، یہ شخصیات کے بت اور یہ ہمارے اپنے احساس کمتری یا برتری کے باعث پھیلائے گئے اختلافات، اور یہ جھگڑے جنہیں ہم ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کر رہے ہیں، اب انہیں ہر قیمت پر ختم ہو جانا چاہیے۔۔۔ ختم ہوجانا چاہیے۔۔۔

    لیکن اگر ہم نے اپنی آئندہ نسلوں میں یہ زہر منتقل کر دیا تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری آئندہ نسل ہم سے زیادہ تاریک دور میں داخل ہوجائے گی۔ ہماری آئندہ نسلوں کے روشن مستقبل اور اخروی نجات کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ملت کے لئے حوصلہ شکنی، تنقید ہی تنقید، ضد ہی ضد اور اختلاف و انتشار جیسے جراثیم وراثت میں نہ چھوڑیں۔ قبلہ حسین عارف نقوی اپنی متحرک زندگی کے ساتھ عالم بقا کی طرف پرواز کرکے ایک مرتبہ پھر ہمیں یہ پیغام دے گئے ہیں کہ یہ دنیا بہت تھوڑی ہے اور ہم اپنی ہر حرکت ہر تقریر، ہر بیان اور ہر سطر کے حوالے سے خدا اور اس کے رسول کے سامنے جوابدہ ہیں۔۔۔ سامان سو برس کا ہو پل کی خبر نہیں۔