islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة مریم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة مریم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة مریم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    مريم:1     ( مريم:19 – آيت:1 ) کہیعص

    مريم:2     ( مريم:19 – آيت:2 ) یہ ہے تیرے پروردگار کی اس مہربانی کا ذکر جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کی تھی۔

    مريم:3     ( مريم:19 – آيت:3 )جبکہ اس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی

    مريم:4     ( مريم:19 – آيت:4 )کہ اے میرے پروردگار! میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اٹھا ہے لیکن میں کبھی بھی تجھ سے دعا کر کے محروم نہیں رہا

    مريم:5     ( مريم:19 – آيت:5 )مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے میری بیوی بھی بانجھ ہے پس تو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔

    مريم:6     ( مريم:19 – آيت:6 )جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب (علیہ السلام) کے خاندان کا بھی جانشین اور میرے رب! تو اسے مقبول بندہ بنا لے۔

    مريم:7     ( مريم:19 – آيت:7 )اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا ۔

    مريم:8     ( مريم:19 – آيت:8 )زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے میرے رب! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا، جب کہ میری بیوی بانجھ اور میں خود بڑھاپے کے انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں ۔

    مريم:9     ( مريم:19 – آيت:9 )ارشاد ہوا کہ وعدہ اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں

    مريم:10   ( مريم:19 – آيت:10 )      کہنے لگے میرے پروردگار میرے لئے کوئی علامت مقرر فرما دے ارشاد ہوا کہ تیرے لئے علامت یہ ہے کہ باوجود بھلا چنگا ہونے کے تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہ سکے گا۔

    مريم:11   ( مريم:19 – آيت:11 )      اب زکریا (علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آ کر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو ۔

    مريم:12   ( مريم:19 – آيت:12 )      اے یحییٰ! میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی

    مريم:13   ( مريم:19 – آيت:13 )      اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی وہ پرہیزگار شخص تھا۔

    مريم:14   ( مريم:19 – آيت:14 )      اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا وہ سرکش اور گناہ گار نہ تھا

    مريم:15   ( مريم:19 – آيت:15 )      اس پر سلام ہے جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس دن وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے ۔

    مريم:16   ( مريم:19 – آيت:16 )      اس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کر۔ جبکہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علیحدہ ہو کر مشرقی جانب آئیں

    مريم:17   ( مريم:19 – آيت:17 )      اور ان لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا پھر ہم نے اس کے پاس اپنی روح (جبرائیل علیہ السلام) کو بھیجا پس وہ اس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا ۔

    مريم:18   ( مريم:19 – آيت:18 )      یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو کچھ بھی اللہ سے ڈرنے والا ہے۔

    مريم:19   ( مريم:19 – آيت:19 )      اس نے جواب دیا کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہوا قاصد ہوں، تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔

    مريم:20   ( مريم:19 – آيت:20 )      کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہ لگا اور نہ میں بدکار ہوں۔

    مريم:21   ( مريم:19 – آيت:21 )      اس نے کہا بات تو یہی ہے، لیکن تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ۔

    مريم:22   ( مريم:19 – آيت:22 )      پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔

    مريم:23   ( مريم:19 – آيت:23 )      پھر درد زہ اسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا، بولی کاش! میں اس سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہو جاتی ۔

    مريم:24   ( مريم:19 – آيت:24 )      اتنے میں اسے نیچے سے ہی آواز دی کہ آزردہ خاطر نہ ہو، تیرے رب نے تیرے پاؤں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے

    مريم:25   ( مريم:19 – آيت:25 )      اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرا دے گا ۔

    مريم:26   ( مريم:19 – آيت:26 )      اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمان کے نام کا روزہ رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی۔

    مريم:27   ( مريم:19 – آيت:27 )      اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئیں۔ سب کہنے لگے مریم تو نے بڑی بری حرکت کی

    مريم:28   ( مريم:19 – آيت:28 )      اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی

    مريم:29   ( مريم:19 – آيت:29 )      مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے باتیں کیسے کریں؟

    مريم:30   ( مريم:19 – آيت:30 )      بچہ بول اٹھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے

    مريم:31   ( مريم:19 – آيت:31 )      اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں، اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں

    مريم:32   ( مريم:19 – آيت:32 )      اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا ۔

    مريم:33   ( مريم:19 – آيت:33 )      اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاؤں گا، سلام ہی سلام ہے۔

    مريم:34   ( مريم:19 – آيت:34 )      یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کا، یہی ہے وہ حق بات جس میں لوگ شک شبہ میں مبتلا ہیں

    مريم:35   ( مريم:19 – آيت:35 )      اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا ہونا لائق نہیں، وہ بالکل پاک ذات ہے، وہ تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وہ اسی وقت ہو جاتا ہے ۔

    مريم:36   ( مريم:19 – آيت:36 )      میرا اور تم سب کا پروردگار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔

    مريم:37   ( مريم:19 – آيت:37 )      پھر یہ فرماتے آپس میں اختلاف کرنے لگے، پس کافروں کے لئے ‘ ویل ‘ ہے ایک بڑے (سخت) دن کی حاضری سے ۔

    مريم:38   ( مريم:19 – آيت:38 )      کیا خوب دیکھنے سننے والے ہونگے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

    مريم:39   ( مريم:19 – آيت:39 )      تو انہیں اس رنج و افسوس کے دن کا ڈر سنا دے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت اور بے ایمانی میں ہی رہ جائیں گے۔

    مريم:40   ( مريم:19 – آيت:40 )      خود زمین کے اور تمام زمین والوں کے وارث ہم ہی ہونگے اور سب لوگ ہماری ہی طرف لوٹا کر لائے جائیں گے۔

    مريم:41   ( مريم:19 – آيت:41 )      اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر، بیشک وہ بڑی سچائی والے پیغمبر تھے ۔

    مريم:42   ( مريم:19 – آيت:42 )      جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں۔

    مريم:43   ( مريم:19 – آيت:43 )      میرے مہربان باپ! آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا ۔

    مريم:44   ( مريم:19 – آيت:44 )      میرے ابا جان آپ شیطان کی پرستش سے باز آ جائیں شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے ۔

    مريم:45   ( مريم:19 – آيت:45 )      ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ پڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں

    مريم:46   ( مريم:19 – آيت:46 )      اس نے جواب دیا کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ ۔

    مريم:47   ( مريم:19 – آيت:47 )      کہا اچھا تم پر سلام ہو میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے۔

    مريم:48   ( مريم:19 – آيت:48 )      میں تو تمہیں بھی اور جن جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو انہیں بھی سب کو چھوڑ رہا ہوں۔ صرف اپنے پروردگار کو پکارتا رہوں گا، مجھے یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار سے دعا مانگ کر محروم نہ رہوں گا۔

    مريم:49   ( مريم:19 – آيت:49 )      جب ابراہیم (علیہ السلام) ان سب کو اور اللہ کے سوا ان کے سب معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے، اور دونوں کو نبی بنا دیا۔

    مريم:50   ( مريم:19 – آيت:50 )      اور ان سب کو ہم نے اپنی بہت سی رحمتیں عطا فرمائیں اور ہم نے ان کے ذکر جمیل کو بلند درجے کا کر دیا ۔

    مريم:51   ( مريم:19 – آيت:51 )      اس قرآن میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر، جو چنا ہوا اور رسول اور نبی تھا

    مريم:52   ( مريم:19 – آيت:52 )      ہم نے اسے طور کی دائیں جانب سے آواز کی اور راز گوئی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔

    مريم:53   ( مريم:19 – آيت:53 )      اور اپنی خاص مہربانی سے اس کے بھائی کو نبی بنا کر عطا فرمایا

    مريم:54   ( مريم:19 – آيت:54 )      اس کتاب میں اسماعیل (علیہ السلام) کا واقعہ بھی بیان کر، وہ بڑا ہی وعدے کا سچا تھا اور تھا بھی رسول اور نبی۔

    مريم:55   ( مريم:19 – آيت:55 )      وہ اپنے گھر والوں کو برابر نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا، اور تھا بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پسندیدہ اور مقبول۔

    مريم:56   ( مريم:19 – آيت:56 )      اور اس کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا بھی ذکر کر، وہ بھی نیک کردار پیغمبر تھا۔

    مريم:57   ( مريم:19 – آيت:57 )      ہم نے اسے بلند مقام پر اٹھا لیا

    مريم:58   ( مريم:19 – آيت:58 )      ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں چڑھا لیا تھا، اور اولاد ابراہیم و یعقوب سے اور ہماری طرف سے راہ یافتہ اور ہمارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ ان کے سامنے جب اللہ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی یہ سجدہ کرتے روتے گڑگڑاتے گر پڑتے تھے ۔

    مريم:59   ( مريم:19 – آيت:59 )      پھر ان کے بعد ایسے اطاعت نہ کرنے والے پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کر دی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا

    مريم:60   ( مريم:19 – آيت:60 )      بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی

    مريم:61   ( مريم:19 – آيت:61 )      ہمیشگی والی جنتوں میں جن کا غائبانہ وعدہ اللہ مہربان نے اپنے بندوں سے کیا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ پورا ہونے والا ہی ہے۔

    مريم:62   ( مريم:19 – آيت:62 )      وہ لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے، ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہو گا ۔

    مريم:63   ( مريم:19 – آيت:63 )      یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔

    مريم:64   ( مريم:19 – آيت:64 )      ہم بغیر تیرے رب کے حکم کے اتر نہیں سکتے ہمارے آگے پیچھے اور ان کے درمیان کی کل چیزیں اس کی ملکیت میں ہیں، تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔

    مريم:65   ( مريم:19 – آيت:65 )      آسمانوں کا، زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب وہی ہے تو اسی کی بندگی کر اور اس کی عبادت پر جم جا۔ کیا تیرے علم میں اس کا ہم نام ہم پلہ کوئی اور بھی ہے؟

    مريم:66   ( مريم:19 – آيت:66 )      انسان کہتا ہے کہ جب میں مر جاؤنگا تو کیا پھر زندہ کر کے نکالا جاؤنگا ۔

    مريم:67   ( مريم:19 – آيت:67 )      کیا یہ انسان اتنا بھی یاد نہیں رکھتا کہ ہم نے اسے اس سے پہلے پیدا کیا حالانکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ۔

    مريم:68   ( مريم:19 – آيت:68 )      تیرے پروردگار کی قسم! ہم انہیں اور شیطانوں کو جمع کر کے ضرور ضرور جہنم کے ارد گرد گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کر دیں گے

    مريم:69   ( مريم:19 – آيت:69 )      ہم ہر ہر گروہ سے انہیں الگ نکال کھڑا کریں گے جو اللہ رحمٰن سے بہت اکڑے اکڑے پھرتے تھے

    مريم:70   ( مريم:19 – آيت:70 )      پھر ہم انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو جہنم کے داخلے کے زیادہ سزاوار ہیں ۔

    مريم:71   ( مريم:19 – آيت:71 )      تم میں سے ہر ایک وہاں ضرور وارد ہونے والا ہے، یہ تیرے پروردگار کے ذمے قطعی، طے شدہ امر ہے۔

    مريم:72   ( مريم:19 – آيت:72 )      پھر ہم پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور نافرمانوں کو اسی میں گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے ۔

    مريم:73   ( مريم:19 – آيت:73 )      جب ان کے سامنے ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو کافر مسلمانوں سے کہتے ہیں بتاؤ ہم تم دونوں جماعتوں میں سے کس کا مرتبہ زیادہ ہے؟ اور کس کی مجلس شاندار ہے ۔

    مريم:74   ( مريم:19 – آيت:74 )      ہم تو ان سے پہلے بہت سی جماعتوں کو غارت کر چکے ہیں جو سازو سامان اور نام و نمود میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں

    مريم:75   ( مريم:19 – آيت:75 )      کہہ دیجئے! جو گمراہی میں ہوتا ہے اللہ رحمٰن اس کو خوب لمبی مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کو دیکھ لیں جن کا وعدہ کیے جاتے ہیں یعنی عذاب یا قیامت کو، اس وقت ان کو صحیح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ کون برے مرتبے والا اور کس کا گروہ کمزور ہے ۔

    مريم:76   ( مريم:19 – آيت:76 )      اور ہدایت یافتہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت میں بڑھاتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے لحاظ سے اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں ۔

    مريم:77   ( مريم:19 – آيت:77 )      کیا تو نے اسے بھی دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا اور کہا کہ مجھے تو مال و اولاد ضرور ہی دی جائے گی۔

    مريم:78   ( مريم:19 – آيت:78 )      کیا وہ غیب پر مطلع ہے یا اللہ کا کوئی وعدہ لے چکا ہے؟

    مريم:79   ( مريم:19 – آيت:79 )      ہرگز نہیں، یہ جو بھی کہہ رہا ہے ہم ضرور لکھ لیں گے، اور اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔

    مريم:80   ( مريم:19 – آيت:80 )      یہ جن چیزوں کو کہہ رہا ہے اسے ہم اس کے بعد لے لیں گے۔ اور یہ تو بالکل اکیلا ہی ہمارے سامنے حاضر ہو گا ۔

    مريم:81   ( مريم:19 – آيت:81 )      انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود بنا رکھے ہیں کہ وہ ان کے لئے باعث عزت ہوں۔

    مريم:82   ( مريم:19 – آيت:82 )      لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ وہ تو پوجا سے منکر ہو جائیں گے، الٹے ان کے دشمن بن جائیں گے۔

    مريم:83   ( مريم:19 – آيت:83 )      کیا تو نے نہیں دیکھا کہ ہم کافروں کے پاس شیطانوں کو بھیجتے ہیں جو انہیں خوب اکساتے ہیں

    مريم:84   ( مريم:19 – آيت:84 )      تو ان کے بارے میں جلدی نہ کر، ہم تو خود ہی ان کے لئے مدت شمار کر رہے ہیں ۔

    مريم:85   ( مريم:19 – آيت:85 )      جس دن ہم پرہیزگاروں کو اللہ رحمان کی طرف بطور مہمان جمع کریں گے۔

    مريم:86   ( مريم:19 – آيت:86 )      اور گنہگاروں کو سخت پیاس کی حالت میں جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ۔

    مريم:87   ( مريم:19 – آيت:87 )      کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہو گا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے ۔

    مريم:88   ( مريم:19 – آيت:88 )      ان کا قول یہ ہے کہ اللہ رحمٰن نے بھی اولاد اختیار کی ہے۔

    مريم:89   ( مريم:19 – آيت:89 )      یقیناً تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو۔

    مريم:90   ( مريم:19 – آيت:90 )      قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں

    مريم:91   ( مريم:19 – آيت:91 )      کہ وہ رحمٰن کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ۔

    مريم:92   ( مريم:19 – آيت:92 )      شان رحمٰن کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔

    مريم:93   ( مريم:19 – آيت:93 )      آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ۔

    مريم:94   ( مريم:19 – آيت:94 )      ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پورے گن بھی رکھا ہے

    مريم:95   ( مريم:19 – آيت:95 )      یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں

    مريم:96   ( مريم:19 – آيت:96 )      بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لئے اللہ رحمٰن محبت پیدا کر دے گا

    مريم:97   ( مريم:19 – آيت:97 )      ہم نے اس قرآن کو تیری زبان میں بہت ہی آسان کر دیا ہے کہ تو اس کے ذریعہ سے پرہیزگاروں کو خوشخبری دے اور جھگڑالو کو ڈرا دے۔

    مريم:98   ( مريم:19 – آيت:98 )      ہم نے اس سے پہلے بہت سی جماعتیں تباہ کر دیں ہیں، کیا ان میں سے ایک بھی آہٹ تو پاتا ہے یا ان کی آواز کی بھنک بھی تیرے کان میں پڑتی ہے؟ ۔