islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة غافر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة غافر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة غافر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    4 (80%) 1 vote

    غافر:1     ( غافر:40 – آيت:1 )حم

    غافر:2     ( غافر:40 – آيت:2 )اس کتاب کا نازل فرمانا اس اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور دانا ہے

    غافر:3     ( غافر:40 – آيت:3 )گناہ کو بخشنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا سخت عذاب والا، انعام و قدرت والا جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف واپس لو ٹنا ہے۔

    غافر:4     ( غافر:40 – آيت:4 )اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے ۔

    غافر:5     ( غافر:40 – آيت:5 )قوم نوح نے اور ان کے بعد کے گروہوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ اور ہر امت نے اپنے رسول کو گرفتار کر لینے کا ارادہ کیا اور باطل کے ذریعے جھوٹے بحث مباحثے کئے تاکہ ان سے حق کو بگاڑ دیں پس میں نے انہیں پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی ۔

    غافر:6     ( غافر:40 – آيت:6 )اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ثابت ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں۔

    غافر:7     ( غافر:40 – آيت:7 )عرش کے اٹھانے والے اور اس کے پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح و حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے، پس انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔

    غافر:8     ( غافر:40 – آيت:8 )اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اولاد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں یقیناً تو غالب و با حکمت ہے۔

    غافر:9     ( غافر:40 – آيت:9 )انہیں برائیوں سے بھی محفوظ رکھ حق تو یہ ہے کہ اس دن تو نے جسے برائیوں سے بچا لیا اس پر تو نے رحمت کر دی اور بہت بڑی کامیابی ہے۔

    غافر:10   ( غافر:40 – آيت:10 )      بیشک جنہوں نے کفر کیا انہیں آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونا اس سے بہت زیادہ ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے

    غافر:11   ( غافر:40 – آيت:11 )      وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار! تو نے ہمیں دو بار مارا اور دوہی بار جلایا اب ہم اپنے گناہوں کے اقراری ہیں تو کیا اب کوئی راہ نکلنے کی بھی ہے

    غافر:12   ( غافر:40 – آيت:12 )      یہ (عذاب) تمہیں اس لئے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے

    غافر:13   ( غافر:40 – آيت:13 )      وہی ہے جو تمہیں اپنی (نشانیاں) دکھلاتا ہے اور تمہارے لئے آسمان سے روزی اتارتا ہے نصیحت تو صرف وہی حاصل کرتے ہیں جو (اللہ کی طرف) رجوع کرتے ہیں۔

    غافر:14   ( غافر:40 – آيت:14 )      تم اللہ کو پکارتے رہو اس کے لئے دین کو خالص کر کے گو کافر برا مانیں

    غافر:15   ( غافر:40 – آيت:15 )      بلند درجوں والا عرش کا مالک وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تاکہ ملاقات کے دن ڈرائے۔

    غافر:16   ( غافر:40 – آيت:16 )      جس دن سب لوگ ظاہر ہو جائیں گے ان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گی۔ آج کس کی بادشاہی ہے؟ ، فقط اللہ واحد و قہار کی۔

    غافر:17   ( غافر:40 – آيت:17 )      آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا آج (کسی قسم کا) ظلم نہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ بہت جلد حساب کرنے والا ہے ۔

    غافر:18   ( غافر:40 – آيت:18 )      اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاہ کر دیجئے جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہونگے ظالموں کا کوئی دلی دوست ہو گا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی۔

    غافر:19   ( غافر:40 – آيت:19 )      وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو (خوب) جانتا ہے۔

    غافر:20   ( غافر:40 – آيت:20 )      اور اللہ تعالیٰ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ نہیں کر سکتے بیشک اللہ تعالیٰ خوب سنتا خوب دیکھتا ہے۔

    غافر:21   ( غافر:40 – آيت:21 )      کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا ہوا؟ وہ قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیادہ تھے، پس اللہ نے انہیں ان گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا۔

    غافر:22   ( غافر:40 – آيت:22 )      یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس پیغمبر معجزے لے لے کر آتے تھے تو وہ انکار کر دیتے تھے پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وہ طاقتور اور سخت عذاب والا ہے۔

    غافر:23   ( غافر:40 – آيت:23 )      اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا۔

    غافر:24   ( غافر:40 – آيت:24 )      فرعون ہامان اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا (یہ تو) جادوگر اور جھوٹا ہے۔

    غافر:25   ( غافر:40 – آيت:25 )      پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے

    غافر:26   ( غافر:40 – آيت:26 )      اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں موسیٰ(علیہ السلام) کو مار ڈالوں اور اسے چاہیے کہ اپنے رب کو پکارے مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی (بہت بڑا) فساد برپا نہ کر دے۔

    غافر:27   ( غافر:40 – آيت:27 )      موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس تکبر کرنے والے شخص(کی برائی) سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔

    غافر:28   ( غافر:40 – آيت:28 )      اور ایک مومن شخص نے، جو فرعون کے خاندان میں سے تھا اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا، کہا کہ تم ایک شخص کو محض اس بات پر قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے اگر وہ جھوٹا ہو تو اس کا جھوٹ اسی پر ہے اور اگر وہ سچا ہو، تو جس (عذاب) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے اس میں کچھ نہ کچھ تو تم پر آ پڑے گا، اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حد سے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں۔

    غافر:29   ( غافر:40 – آيت:29 )      اے میری قوم کے لوگو! آج تو بادشاہت تمہاری ہے کہ اس زمین پر تم غالب ہو، لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کرے گا 21) فرعون بولا، میں تو تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں اور میں تو تمہیں بھلائی کی راہ بتلا رہا ہوں۔

    غافر:30   ( غافر:40 – آيت:30 )      اس مومن نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی روز (بد عذاب) نہ آئے جو اور امتوں پر آیا۔

    غافر:31   ( غافر:40 – آيت:31 )      جیسے امت نوح اور عاد و ثمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا) اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

    غافر:32   ( غافر:40 – آيت:32 )      اور مجھے تم پر قیامت کے دن کا بھی ڈر ہے

    غافر:33   ( غافر:40 – آيت:33 )      جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے، تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں

    غافر:34   ( غافر:40 – آيت:34 )      اور اس سے پہلے تمہارے پاس (حضرت) یوسف دلیلیں لے کر آئے، پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی (دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ان کی وفات ہو گئی تو کہنے لگے ان کے بعد تو اللہ کسی رسول کو بھیجے گا ہی نہیں ، اسی طرح اللہ گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا شک شبہ کرنے والا ہو (5)

    غافر:35   ( غافر:40 – آيت:35 )      جو بغیر کسی سند کے جو ان کے پاس آئی ہو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں اللہ کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ تو بہت بڑی ناراضگی کی چیز ہے اللہ تعالیٰ اسی طرح ہر مغرور سرکش کے دل پر مہر کر دیتا ہے۔

    غافر:36   ( غافر:40 – آيت:36 )      فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لئے ایک بالا خانہ بنا شاید کہ میں آسمان کے جو دروازے ہیں

    غافر:37   ( غافر:40 – آيت:37 )      (ان) دروازوں تک پہنچ جاؤں اور موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اور بیشک میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹا ہے اور اسی طرح فرعون کی بد کرداریاں اسے بھلی دکھائی گئیں اور راہ سے روک دیا گیا اور فرعون کی (ہر) حیلہ سازی تباہی میں ہی رہی ۔

    غافر:38   ( غافر:40 – آيت:38 )      اور اس ایماندار شخص نے کہا اے میری قوم! (کے لوگو) تم (سب) میری پیروی کرو میں نیک راہ کی طرف تمہاری رہبری کرونگا

    غافر:39   ( غافر:40 – آيت:39 )      اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے

    غافر:40   ( غافر:40 – آيت:40 )      جس نے گناہ کیا ہے اسے تو برابر ہی کا بدلہ ہے اور جس نے نیکی کی ہو خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ ایماندار ہو تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور وہاں بے شمار روزی پائیں گے

    غافر:41   ( غافر:40 – آيت:41 )      اے میری قوم! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔

    غافر:42   ( غافر:40 – آيت:42 )      تم مجھے دعوت دے رہے ہو کہ میں اللہ کے ساتھ کفر کروں اور اس کے ساتھ شرک کروں جس کا کوئی علم مجھے نہیں اور میں تمہیں غالب بخشنے والے (معبود) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔

    غافر:43   ( غافر:40 – آيت:43 )      یہ یقینی امر ہے کہ مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ تو نہ دنیا میں پکارے جانے کے قابل ہے نہ آخرت میں اور یہ بھی (یقینی بات ہے) کہ ہم سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے اور حد سے گزر جانے والے ہی (یقیناً) اہل دوزخ ہیں۔ (5)

    غافر:44   ( غافر:40 – آيت:44 )      پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگران ہے۔

    غافر:45   ( غافر:40 – آيت:45 )      پس اسے اللہ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں اور فرعوں والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا

    غافر:46   ( غافر:40 – آيت:46 )      آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی (فرمان ہو گا کہ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں ڈالو۔

    غافر:47   ( غافر:40 – آيت:47 )      اور جب کہ دوزخ میں ایک دوسرے سے جھگڑیں گے تو کمزور لوگ تکبر والوں سے (جن کے یہ تابع تھے) کہیں گے ہم تو تمہارے پیرو تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ ہٹا سکتے ہو؟

    غافر:48   ( غافر:40 – آيت:48 )      وہ بڑے لوگ جواب دیں گے ہم تو سبھی اس آگ میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔

    غافر:49   ( غافر:40 – آيت:49 )      اور (تمام) جہنمی مل کر جہنم کے داروغوں سے کہیں گے کہ تم ہی اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ کسی دن تو ہمارے عذاب میں کمی کر دے۔

    غافر:50   ( غافر:40 – آيت:50 )      وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول معجزے لے کر نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں، وہ کہیں گے پھر تم ہی دعا کرو اور کافروں کی دعا محض بے اثر اور بے راہ ہے

    غافر:51   ( غافر:40 – آيت:51 )      یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانی دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہونگے۔

    غافر:52   ( غافر:40 – آيت:52 )      جس دن ظالموں کو ان کی (عذر) معذرت کچھ نفع نہ دے گی ان کے لئے لعنت ہی ہو گی اور ان کے لئے برا گھر ہو گا

    غافر:53   ( غافر:40 – آيت:53 )      ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایت نامہ عطا فرمایا اور بنو اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنایا

    غافر:54   ( غافر:40 – آيت:54 )      کہ وہ ہدایت و نصیحت تھی عقل مندوں کے لئے

    غافر:55   ( غافر:40 – آيت:55 )      پس اے نبی! تو صبر کر اللہ کا وعدہ بلا شک (و شبہ) سچا ہی ہے تو اپنے گناہ کی معافی مانگتا رہ اور صبح شام اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتا رہ۔

    غافر:56   ( غافر:40 – آيت:56 )      جو لوگ باوجود اپنے پاس کسی سند کے نہ ہونے کے آیات الٰہی میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے دلوں میں بجز نری بڑائی کے اور کچھ نہیں وہ اس تک پہنچنے والے ہی نہیں سو تو اللہ کی پناہ مانگتا رہ بیشک وہ پورا سننے والا اور سب سے زیادہ دیکھنے والا ہے۔

    غافر:57   ( غافر:40 – آيت:57 )      آسمان و زمین کی پیدائش یقیناً انسان کی پیدائش سے بہت بڑا کام ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) اکثر لوگ بے علم ہیں

    غافر:58   ( غافر:40 – آيت:58 )      اندھا اور بینا برابر نہیں نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور بھلے کام کئے بدکاروں کے برابر ہیں تم (بہت) کم نصیحت حاصل کر رہے ہو۔

    غافر:59   ( غافر:40 – آيت:59 )      قیامت بالیقین اور بلاشبہ آنے والی ہے، لیکن (یہ اور بات ہے کہ) بہت سے لوگ ایمان نہیں لاتے۔

    غافر:60   ( غافر:40 – آيت:60 )      اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہو چکا) ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ ابھی ابھی ذلیل ہو کر جہنم پہنچ جائیں گے

    غافر:61   ( غافر:40 – آيت:61 )      اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے رات بنا دی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور دن کو دیکھنے والا بنا دیا بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے۔

    غافر:62   ( غافر:40 – آيت:62 )      یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو

    غافر:63   ( غافر:40 – آيت:63 )      اس طرح وہ لوگ بھی پھیرے جاتے رہے جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

    غافر:64   ( غافر:40 – آيت:64 )      اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو ٹھہرنے کی جگہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور تمہیں عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کو عطا فرمائیں (5) یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، پس بہت برکتوں والا اللہ ہے سارے جہان کا پرورش کرنے والا۔

    غافر:65   ( غافر:40 – آيت:65 )      وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں پس تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

    غافر:66   ( غافر:40 – آيت:66 )      آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کے سوا پکار رہے ہو اس بنا پر کہ میرے پاس میرے رب کی دلیلیں پہنچ چکی ہیں، مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں تمام جہانوں کے رب کا تابع فرمان ہو جاؤں۔

    غافر:67   ( غافر:40 – آيت:67 )      وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے، پھر (تمہیں بڑھاتا ہے کہ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں (وہ تمہیں چھوڑ دیتا ہے) تاکہ تم مدت معین تک پہنچ جاؤ اور تاکہ تم سوچ سمجھ لو۔ (5)

    غافر:68   ( غافر:40 – آيت:68 )      وہی ہے جو جلاتا ہے اور مار ڈالتا ہے پھر وہ جب کسی کام کا کرنا مقرر کرتا ہے تو اسے صرف کہتا ہے ہو جا پس وہ ہو جاتا ہے۔

    غافر:69   ( غافر:40 – آيت:69 )      کیا تو نے نہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں وہ کہاں پھیر دئیے جاتے ہیں

    غافر:70   ( غافر:40 – آيت:70 )      جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی۔

    غافر:71   ( غافر:40 – آيت:71 )      جب ان کی گردنوں میں طوق ہونگے اور زنجیریں ہوں گی گھسیٹے جائیں گے

    غافر:72   ( غافر:40 – آيت:72 )      کھولتے ہوئے پانی میں اور پھر جہنم کی آگ میں جلائے جائیں گے۔

    غافر:73   ( غافر:40 – آيت:73 )      پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جنہیں تم شریک کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟

    غافر:74   ( غافر:40 – آيت:74 )      جو اللہ کے سوا تھے وہ کہیں گے کہ وہ تو ہم سے بہک گئے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی پکارتے ہی نہ تھے اللہ تعالیٰ کافروں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے۔

    غافر:75   ( غافر:40 – آيت:75 )      یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے۔ اور بے جا اتراتے پھرتے تھے۔

    غافر:76   ( غافر:40 – آيت:76 )      اب آؤ جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لئے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والوں کی

    غافر:77   ( غافر:40 – آيت:77 )      پس آپ صبر کریں اللہ کا وعدہ قطعاً سچا ہے انہیں ہم نے جو وعدے دے رکھے ہیں ان میں سے کچھ ہم کو دکھائیں یا (اس سے پہلے) ہم آپ کو وفات دے دیں، ان کا لوٹایا جانا تو ہماری ہی طرف ہے۔

    غافر:78   ( غافر:40 – آيت:78 )      یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کئے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزہ اللہ کی اجازت کے بغیر لا سکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئے گا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطن خسارے میں رہ جائیں گے۔

    غافر:79   ( غافر:40 – آيت:79 )      اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے چوپائے پیدا کئے جن میں سے بعض پر تم سوار ہوتے ہو اور بعض کو تم کھاتے ہو۔

    غافر:80   ( غافر:40 – آيت:80 )      اور بھی تمہارے لئے ان میں بہت سے نفع ہیں اور تاکہ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی حاجتوں کو انہی پر سواری کر کے تم حاصل کر لو اور ان چوپایوں پر اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو۔

    غافر:81   ( غافر:40 – آيت:81 )      اللہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا جا رہا ہے پس تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا منکر بنتے رہو گے۔

    غافر:82   ( غافر:40 – آيت:82 )      کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلوں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے تعداد میں زیادہ تھے قوت میں سخت اور زمین میں بہت ساری یادگاریں چھوڑی تھیں ان کے کئے کاموں نے انہیں کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا۔

    غافر:83   ( غافر:40 – آيت:83 )      پس جب کبھی ان کے پاس ان کے رسول کھلی نشانیاں لے کر آئے تو یہ اپنے پاس کے علم پر اترانے لگے بالآخر جس چیز کو مذاق میں اڑا رہے تھے وہی ان پر الٹ پڑی۔

    غافر:84   ( غافر:40 – آيت:84 )      ہمارا عذاب دیکھتے ہی کہنے لگے کہ اللہ واحد پر ہم ایمان لائے اور جن جن کو ہم شریک بنا رہے تھے ہم نے ان سب سے انکار کیا۔

    غافر:85   ( غافر:40 – آيت:85 )      لیکن ہمارے عذاب کو دیکھ لینے کے بعد ان کے ایمان نے انہیں نفع نہ دیا۔ اللہ نے اپنا معمول یہی مقرر کر رکھا ہے جو اس کے بندوں میں برابر چلا آ رہا ہے اور اس جگہ کافر خراب و خستہ ہوئے۔