islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة طه ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة طه ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة طه ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    طه:1( طه:20 – آيت:1 )   طٰہٰ

    طه:2( طه:20 – آيت:2 )   ہم نے یہ قرآن تجھ پر اس لئے نہیں اتارا کہ تو مشقت میں پڑ جائے۔

    طه:3( طه:20 – آيت:3 )   بلکہ اس کی نصیحت کے لئے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔

    طه:4( طه:20 – آيت:4 )   اس کا اتارنا اس کی طرف سے ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمان کو پیدا کیا ہے۔

    طه:5( طه:20 – آيت:5 )   جو رحمٰن ہے، عرش پر قائم ہے

    طه:6( طه:20 – آيت:6 )   جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور (کرہ خاک) کے نیچے کی ہر ایک چیز پر ہے ۔

    طه:7( طه:20 – آيت:7 )   اگر تو اونچی بات کہے تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ، بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ تر بات کو بھی بخوبی جانتا ہے

    طه:8( طه:20 – آيت:8 )   وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بہترین نام اسی کے ہیں ۔

    طه:9( طه:20 – آيت:9 )   تجھے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بھی معلوم ہے۔

    طه:10     ( طه:20 – آيت:10 )جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس لاؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں ۔

    طه:11     ( طه:20 – آيت:11 ) جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی اے موسیٰ۔

    طه:12     ( طه:20 – آيت:12 )یقیناً میں تیرا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دے، کیونکہ تو پاک میدان طویٰ میں ہے ۔

    طه:13     ( طه:20 – آيت:13 )اور میں نے تجھے منتخب کر لیا ہے اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن۔

    طه:14     ( طه:20 – آيت:14 )بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا عبادت کے لائق اور کوئی نہیں پس تو میری ہی عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم رکھ ۔

    طه:15     ( طه:20 – آيت:15 )قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو۔

    طه:16     ( طه:20 – آيت:16 )پس اب اس کے یقین سے تجھے کوئی ایسا شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو، ورنہ تو ہلاک ہو جائے گا ۔

    طه:17     ( طه:20 – آيت:17 ) اے موسیٰ! تیرے اس دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟

    طه:18     ( طه:20 – آيت:18 )جواب دیا کہ یہ میری لاٹھی ہے، جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں مجھے بہت سے فائدے ہیں۔

    طه:19     ( طه:20 – آيت:19 ) فرمایا اے موسیٰ! اسے ہاتھ سے نیچے ڈال دے۔

    طه:20     ( طه:20 – آيت:20 ) ڈالتے ہی وہ سانپ بن کر دوڑنے لگی۔

    طه:21     ( طه:20 – آيت:21 )فرمایا بے خوف ہو کر اسے پکڑ لے، ہم اسے اسی پہلی سی صورت میں دوبارہ لادیں گے

    طه:22     ( طه:20 – آيت:22 )اور اپنا ہاتھ بغل میں ڈال لے تو وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا، لیکن بغیر کسی عیب (اور روگ) کے یہ دوسرا معجزہ ہے

    طه:23     ( طه:20 – آيت:23 )یہ اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں

    طه:24     ( طه:20 – آيت:24 ) اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے

    طه:25     ( طه:20 – آيت:25 ) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے پروردگار! میرا سینہ میرے لئے کھول دے۔

    طه:26     ( طه:20 – آيت:26 ) اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے

    طه:27     ( طه:20 – آيت:27 ) اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے۔

    طه:28     ( طه:20 – آيت:28 ) تاکہ لوگ میری بات اچھی طرح سمجھ سکیں۔

    طه:29     ( طه:20 – آيت:29 ) اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔

    طه:30     ( طه:20 – آيت:30 ) یعنی میرا بھائی ہارون (علیہ السلام) کو۔

    طه:31     ( طه:20 – آيت:31 )تو اس سے میری کمر کس دے۔

    طه:32     ( طه:20 – آيت:32 ) اور اسے میرا شریک کار کر دے

    طه:33     ( طه:20 – آيت:33 ) تاکہ ہم دونوں بکثرت تیری تسبیح بیان کریں

    طه:34     ( طه:20 – آيت:34 )اور بکثرت تیری یاد کریں ۔

    طه:35     ( طه:20 – آيت:35 ) بیشک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے ۔

    طه:36     ( طه:20 – آيت:36 )جناب باری تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ تیرے تمام سوالات پورے کر دیے گئے

    طه:37     ( طه:20 – آيت:37 ) ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے

    طه:38     ( طه:20 – آيت:38 ) جب کہ ہم نے تیری ماں کو وہ الہام کیا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔

    طه:39     ( طه:20 – آيت:39 )کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے، پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا اور میں نے اپنی طرف کی خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔

    طه:40     ( طه:20 – آيت:40 )(یاد کر) جبکہ تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں بتا دوں جو اس کی نگہبانی کرے اس تدبیر سے ہم نے تجھے تیری ماں کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو، اور تو نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا اس پر بھی ہم نے تمہیں غم سے بچا لیا، غرض ہم نے تجھے اچھی طرح آزما لیا ۔ پھر تو کئی سال تک مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا پھر تقدیر الٰہی کے مطابق اے (5) موسیٰ! تو آیا۔

    طه:41     ( طه:20 – آيت:41 ) اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فرمایا لیا۔

    طه:42     ( طه:20 – آيت:42 ) اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراہ لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا

    طه:43     ( طه:20 – آيت:43 ) تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے

    طه:44     ( طه:20 – آيت:44 )اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔

    طه:45     ( طه:20 – آيت:45 ) دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں خوف ہے کہ کہیں فرعون ہم پر کوئی زیادتی نہ کرے یا اپنی سرکشی میں بڑھ نہ جائے۔

    طه:46     ( طه:20 – آيت:46 ) جواب ملا کہ تم مطلقاً خوف نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں اور سنتا اور دیکھتا رہوں گا

    طه:47     ( طه:20 – آيت:47 )تم اس کے پاس جا کر کہو کہ ہم تیرے پروردگار کے پیغمبر ہیں تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے، ان کی سزائیں موقوف کر۔ ہم تو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی اس کے لئے ہے جو ہدایت کا پابند ہو جائے۔

    طه:48     ( طه:20 – آيت:48 )ہمارے طرف وحی کی گئی ہے کہ جو جھٹلائے اور روگردانی کرے اس کے لئے عذاب ہے

    طه:49     ( طه:20 – آيت:49 ) فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ! تم دونوں کا رب کون ہے؟

    طه:50     ( طه:20 – آيت:50 )جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت، شکل عنایت فرمائی پھر راہ سجھا دی ۔

    طه:51     ( طه:20 – آيت:51 )اس نے کہا اچھا یہ تو بتاؤ اگلے زمانے والوں کا حال کیا ہونا ہے

    طه:52     ( طه:20 – آيت:52 )جواب دیا کہ ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے، نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے

    طه:53     ( طه:20 – آيت:53 )اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے، پھر برسات کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔

    طه:54     ( طه:20 – آيت:54 )تم خود کھاؤ اور اپنے چوپاؤں کو بھی چراؤ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

    طه:55     ( طه:20 – آيت:55 )اس زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔

    طه:56     ( طه:20 – آيت:56 )ہم نے اسے اپنی سب نشانیاں دکھا دیں لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اور انکار کر دیا۔

    طه:57     ( طه:20 – آيت:57 )کہنے لگا اے موسیٰ! کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے

    طه:58     ( طه:20 – آيت:58 )اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے، پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو۔

    طه:59     ( طه:20 – آيت:59 )موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں

    طه:60     ( طه:20 – آيت:60 )پس فرعون لوٹ گیا اور اس نے اپنے ہتھکنڈے جمع کئے پھر آگیا

    طه:61     ( طه:20 – آيت:61 )موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تمہاری شامت آ چکی، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افتراء نہ باندھو کہ تمہیں عذابوں سے ملیامیٹ کر دے، یاد رکھو وہ کبھی کامیاب نہ ہو گا جس نے جھوٹی بات گھڑی۔ ۔

    طه:62     ( طه:20 – آيت:62 ) پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کرنے لگے ۔

    طه:63     ( طه:20 – آيت:63 )کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کریں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کریں ۔

    طه:64     ( طه:20 – آيت:64 )تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کر کے آؤ، جو آج غالب آگیا وہی بازی لے گیا۔

    طه:65     ( طه:20 – آيت:65 )کہنے لگے اے موسیٰ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔

    طه:66     ( طه:20 – آيت:66 )جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں

    طه:67     ( طه:20 – آيت:67 ) پس موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دل ہی دل میں ڈر محسوس کیا۔

    طه:68     ( طه:20 – آيت:68 ) ہم نے فرمایا کچھ خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا ۔

    طه:69     ( طه:20 – آيت:69 )اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے، انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔

    طه:70     ( طه:20 – آيت:70 )اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے کہ ہم تو ہارون اور موسیٰ (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لائے

    طه:71     ( طه:20 – آيت:71 )فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً تمہارا بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، (سن لو) میں تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔

    طه:72     ( طه:20 – آيت:72 )انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آ چکیں ہیں، اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے والا ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں ہی ہے۔

    طه:73     ( طه:20 – آيت:73 )ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناہ) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ۔

    طه:74     ( طه:20 – آيت:74 )بات یہی ہے کہ جو بھی گناہ گار بن کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہو گا اس کے لئے دوزخ ہے، جہاں نہ موت ہو گی اور نہ زندگی

    طه:75     ( طه:20 – آيت:75 )اور جو بھی اس کے پاس ایماندار ہو کر حاضر ہو گا اور اس نے اعمال بھی نیک کئے ہونگے اس کے لئے بلند و بالا درجے ہیں۔

    طه:76     ( طه:20 – آيت:76 )ہمیشگی والی جنتیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی انعام ہے ہر اس شخص کا جو پاک ہوا ۔

    طه:77     ( طه:20 – آيت:77 )ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل پھر نہ تجھے کسی کے آ پکڑنے کا خطرہ ہو گا نہ ڈر ۔

    طه:78     ( طه:20 – آيت:78 )فرعون نے اپنے لشکروں سمیت ان کا تعاقب کیا پھر تو دریا ان سب پر چھا گیا جیسا کچھ چھا جانے والا تھا

    طه:79     ( طه:20 – آيت:79 ) فرعون نے اپنی قوم کو گمراہی میں ڈال دیا اور سیدھا راستہ نہ دکھایا

    طه:80     ( طه:20 – آيت:80 )اے بنی اسرائیل! دیکھو ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات دی اور تم سے کوہ طور کی دائیں طرف کا وعدہ اور تم پر من و سلویٰ اتارا

    طه:81     ( طه:20 – آيت:81 )تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ، اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہو گا، اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ یقیناً تباہ ہوا ۔

    طه:82     ( طه:20 – آيت:82 )ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں ایمان لائیں نیک عمل کریں اور راہ راست پر بھی رہیں

    طه:83     ( طه:20 – آيت:83 ) اے موسیٰ! تجھے اپنی قوم سے (غافل کر کے) کون سی چیز جلدی لے آئی؟

    طه:84     ( طه:20 – آيت:84 )کہا کہ وہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی پیچھے ہیں، اور میں نے اے رب! تیری طرف جلدی اس لئے کی کہ تو خوش ہو جائے ۔

    طه:85     ( طه:20 – آيت:85 )فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے

    طه:86     ( طه:20 – آيت:86 )پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا

    طه:87     ( طه:20 – آيت:87 )انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کے خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ لاد دیئے گئے تھے، انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے۔

    طه:88     ( طه:20 – آيت:88 )پھر اس نے لوگوں کے لئے ایک بچھڑا نکال کھڑا کیا یعنی بچھڑے کا بت، جس کی گائے کی سی آواز بھی تھی پھر کہنے لگے کہ یہی تمہارا بھی معبود ہے اور موسیٰ کا بھی۔ لیکن موسیٰ بھول گیا ہے۔

    طه:89     ( طه:20 – آيت:89 )کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ وہ تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھتا ہے

    طه:90     ( طه:20 – آيت:90 )اور ہارون (علیہ السلام) نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا اے میری قوم والو! اس بچھڑے سے صرف تمہاری آزمائش کی گئی ہے، تمہارا حقیقی پروردگار تو اللہ رحمٰن ہی ہے، پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانتے چلے جاؤ ۔

    طه:91     ( طه:20 – آيت:91 )انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے

    طه:92     ( طه:20 – آيت:92 ) موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراہ ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا۔

    طه:93     ( طه:20 – آيت:93 ) کہ تو میرے پیچھے نہ آیا۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نافرمان بن بیٹھا

    طه:94     ( طه:20 – آيت:94 )ہارون (علیہ السلام) نے کہا اے میرے ماں جائے بھائی! میری داڑھی نہ پکڑ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہ خیال دامن گیر ہوا کہ کہیں آپ یہ (نہ) فرمائیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کا انتظار نہ کیا۔

    طه:95     ( طه:20 – آيت:95 ) موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا سامری تیرا کیا معاملہ ہے۔

    طه:96     ( طه:20 – آيت:96 )اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں دکھائی نہیں دی، تو میں نے قاصدِ الٰہی کے نقش قدم سے ایک مٹھی بھر لی اسے اس میں ڈال دیا اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بھلی بنا دی۔

    طه:97     ( طه:20 – آيت:97 )کہا اچھا جا دنیا کی زندگی میں تیری سزا یہی ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا اور ایک اور بھی وعدہ تیرے ساتھ ہے جو تجھ سے ہرگز نہیں ٹلے گا اور اب تو اپنے اس معبود کو بھی دیکھ لینا جس کا اعتکاف کئے ہوئے تھا کہ ہم اسے جلا کر دریا میں ریزہ ریزہ اڑائیں گے۔

    طه:98     ( طه:20 – آيت:98 )اصل بات یہی ہے کہ تم سب کا معبود برحق صرف اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔ اس کا علم تمام چیزوں پر حاوی ہے

    طه:99     ( طه:20 – آيت:99 )اس طرح ہم تیرے سامنے پہلے کی گزری ہوئی وارداتیں بیان فرما رہے ہیں اور یقیناً ہم تجھے اپنے پاس سے نصیحت عطا فرما چکے ہیں ۔

    طه:100   ( طه:20 – آيت:100 )      اس سے جو منہ پھیر لے گا وہ یقیناً قیامت کے دن اپنا بھاری بوجھ لا دے ہوئے ہو گا ۔

    طه:101   ( طه:20 – آيت:101 )      جس میں ہمیشہ رہے گا اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے

    طه:102   ( طه:20 – آيت:102 )      جس دن صور پھونکا جائیگا اور گناہ گاروں کو ہم اس دن (دہشت کی وجہ سے) نیلی پیلی آنکھوں کے ساتھ گھیر لائیں گے

    طه:103   ( طه:20 – آيت:103 )      وہ آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے ہونگے کہ ہم تو (دنیا میں) صرف دس دن ہی رہے۔

    طه:104   ( طه:20 – آيت:104 )      جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیادہ اچھی رائے والا کہہ رہا ہو گا کہ تم صرف ایک ہی دن دنیا میں رہے۔

    طه:105   ( طه:20 – آيت:105 )      وہ آپ سے پہاڑوں کی نسبت سوال کرتے ہیں،توآپ کہہ دیں کہ انہیں میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔

    طه:106   ( طه:20 – آيت:106 )      اور زمین کو بالکل ہموار صاف میدان کر کے چھوڑے گا۔

    طه:107   ( طه:20 – آيت:107 )      جس میں تو نہ کہیں موڑ توڑ دیکھے گا، نہ اونچ نیچ۔

    طه:108   ( طه:20 – آيت:108 )      جس دن لوگ پکارنے والے کے پیچھے چلیں گے جس میں کوئی کجی نہ ہو گی اور اللہ رحمٰن کے سامنے تمام آوازیں پست ہو جائیں گی سوائے کھسر پھسر کے تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا ۔

    طه:109   ( طه:20 – آيت:109 )      اس دن سفارش کچھ کام نہ آئیگی مگر جسے رحمٰن حکم دے اور اس کی بات کو پسند فرمائے

    طه:110   ( طه:20 – آيت:110 )      جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا۔

    طه:111   ( طه:20 – آيت:111 )      تمام چہرے اس زندہ اور قائم دائم اور مدبر، اللہ کے سامنے کمال عاجزی سے جھکے ہوئے ہونگے، یقیناً وہ برباد ہوا جس نے ظلم لاد لیا

    طه:112   ( طه:20 – آيت:112 )      اور جو نیک اعمال کرے اور ایمان دار بھی ہو تو نہ اسے بے انصافی کا کھٹکا ہو گا نہ حق تلفی کا

    طه:113   ( طه:20 – آيت:113 )      اس طرح ہم نے تجھ پر عربی میں قرآن نازل فرمایا ہے اور طرح طرح سے اس میں ڈر کا بیان سنایا ہے تاکہ لوگ پرہیزگار بن جائیں یا ان کے دل میں سوچ سمجھ تو پیدا کرے

    طه:114   ( طه:20 – آيت:114 )      پس اللہ عالی شان والا سچا اور حقیقی بادشاہ ہے۔ تو قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کر اس سے پہلے کہ تیری طرف جو وحی کی جاتی ہے وہ پوری کی جائے، ہاں یہ دعا کر کہ پروردگار میرا علم بڑھا

    طه:115   ( طه:20 – آيت:115 )      ہم نے آدم کو پہلے تاکیدی حکم دے دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا

    طه:116   ( طه:20 – آيت:116 )      اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے کیا۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔

    طه:117   ( طه:20 – آيت:117 )      تو ہم نے کہا اے آدم! یہ تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے (خیال رکھنا) ایسا نہ ہو کہ وہ تم دونوں کو جنت سے نکلوا دے کہ تو مصیبت میں پڑ جائے

    طه:118   ( طه:20 – آيت:118 )      یہاں تو تجھے یہ آرام ہے کہ نہ تو بھوکا ہوتا ہے نہ ننگا۔

    طه:119   ( طه:20 – آيت:119 )      اور نہ تو یہاں پیاسا ہوتا ہے نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاتا ہے۔

    طه:120   ( طه:20 – آيت:120 )      لیکن شیطان نے وسوسہ ڈالا، کہنے لگا کہ کیا میں تجھے دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلاؤں کہ جو کبھی پرانی نہ ہو

    طه:121   ( طه:20 – آيت:121 )      چنانچہ ان دونوں نے اس درخت سے کچھ کھا لیا پس ان کے ستر کھل گئے اور بہشت کے پتے اپنے اوپر ٹانکنے لگے۔ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی پس بہک گیا

    طه:122   ( طه:20 – آيت:122 )      پھر اس کے رب نے نوازا، اس کی توبہ قبول کی اور اس کی راہنمائی کی

    طه:123   ( طه:20 – آيت:123 )      فرمایا، تم دونوں یہاں سے اتر جاؤ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو، اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو میری ہدایت کی پیروی کرے نہ تو وہ بہکے گا نہ تکلیف میں پڑے گا۔

    طه:124   ( طه:20 – آيت:124 )      اور (ہاں) جو میری یاد سے روگردانی کرے گا اس کی زندگی تنگی میں رہے گی، اور ہم اسے بروز قیامت اندھا کر کے اٹھائیں گے

    طه:125   ( طه:20 – آيت:125 )      وہ کہے گا کہ الٰہی! مجھے تو نے اندھا بنا کر کیوں اٹھایا؟ حالانکہ میں تو دیکھتا بھالتا تھا۔

    طه:126   ( طه:20 – آيت:126 )      (جواب ملے گا کہ) اسی طرح ہونا چاہیے تھا تو میری آئی ہوئی آیتوں کو بھول گیا تو آج تو بھی بھلا دیا جاتا ہے

    طه:127   ( طه:20 – آيت:127 )      ہم ایسا ہی بدلہ ہر اس شخص کو دیا کرتے ہیں جو حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں پر ایمان نہ لائے، اور بیشک آخرت کا عذاب نہایت ہی سخت اور باقی رہنے والا ہے۔

    طه:128   ( طه:20 – آيت:128 )      کیا ان کی رہبری اس بات نے بھی نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک کر دی ہیں جن کے رہنے سہنے کی جگہ یہ چل پھر رہے ہیں۔ یقیناً اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

    طه:129   ( طه:20 – آيت:129 )      اگر تیرے رب کی بات پہلے ہی سے مقرر شدہ اور وقت معین کردہ نہ ہوتا تو اسی وقت عذاب آ چمٹتا ۔

    طه:130   ( طه:20 – آيت:130 )      پس ان کی باتوں پر صبر کر اور اپنے پروردگار کی تسبیح اور تعریف بیان کرتا رہ، سورج نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے سے پہلے، رات کے مختلف وقتوں میں بھی اور دن کے حصوں میں بھی تسبیح کرتا رہ بہت ممکن ہے کہ تو راضی ہو جائے

    طه:131   ( طه:20 – آيت:131 )      اور اپنی نگاہیں ہرگز چیزوں کی طرف نہ دوڑانا جو ہم نے ان میں سے مختلف لوگوں کو آرائش دنیا کی دے رکھی ہیں تاکہ انہیں اس میں آزما لیں تیرے رب کا دیا ہوا ہی (بہت) بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے ۔

    طه:132   ( طه:20 – آيت:132 )      اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے۔

    طه:133   ( طه:20 – آيت:133 )      انہوں نے کہا کہ یہ نبی ہمارے پاس اپنے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں لایا؟ کیا ان کے پاس اگلی کتابوں کی واضح دلیل نہیں پہنچی؟

    طه:134   ( طه:20 – آيت:134 )      اور ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل و رسوا ہوتے۔

    طه:135   ( طه:20 – آيت:135 )      کہہ دیجئے! ہر ایک انجام کا منتظر ہے پس تم بھی انتظار میں رہو۔ ابھی ابھی قطعاً جان لو گے کہ راہ راست والے کون ہیں اور کون راہ یافتہ ہیں ۔