islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة النمل ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة النمل ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة النمل ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    النمل:1    ( النمل:27 – آيت:1 )طس، یہ آیتیں ہیں قرآن کی (یعنی واضح) اور روشن کتاب کی۔

    النمل:2    ( النمل:27 – آيت:2 )ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لئے۔

    النمل:3    ( النمل:27 – آيت:3 )جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔

    النمل:4    ( النمل:27 – آيت:4 )جو لوگ قیامت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے انہیں ان کے کرتوت زینت دار کر دکھائے ہیں، پس وہ بھٹکتے پھرتے ہیں

    النمل:5    ( النمل:27 – آيت:5 )یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ سخت نقصان یافتہ ہیں۔

    النمل:6    ( النمل:27 – آيت:6 )بیشک آپ کو اللہ حکیم و علیم کی طرف سے قرآن سکھایا جا رہا ہے۔

    النمل:7    ( النمل:27 – آيت:7 )(یاد ہو گا) جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں سے یا تو کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارا لے کر ابھی تمہارے پاس آ جاؤں گا تاکہ تم سینک تاپ کر لو

    النمل:8    ( النمل:27 – آيت:8 )جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔

    النمل:9    ( النمل:27 – آيت:9 )موسیٰ! سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب با حکمت۔

    النمل:10  ( النمل:27 – آيت:10 )     تو اپنی لاٹھی ڈال دے، موسیٰ نے جب اسے ہلتا جلتا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے تو منہ موڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا، اے موسیٰ! خوف نہ کھا میرے حضور میں پیغمبر ڈرا نہیں کرتے۔

    النمل:11  ( النمل:27 – آيت:11 )     لیکن جو لوگ ظلم کریں پھر اس کے عوض نیکی کریں اس برائی کے پیچھے تو میں بھی بخشنے والا مہربان ہوں ۔

    النمل:12  ( النمل:27 – آيت:12 )     اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال، وہ سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جا یقیناً وہ بدکاروں کا گروہ ہے۔

    النمل:13  ( النمل:27 – آيت:13 )     پس جب ان کے پاس آنکھیں کھول دینے والے ہمارے معجزے پہنچے تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے۔

    النمل:14  ( النمل:27 – آيت:14 )     انہوں نے انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر پس دیکھ لیجئے کہ ان فتنہ پرواز لوگوں کا انجام کیسا کچھ ہوا۔

    النمل:15  ( النمل:27 – آيت:15 )     اور یقیناً ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم دے رکھا تھا اور دونوں نے کہا، تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایمان دار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔

    النمل:16  ( النمل:27 – آيت:16 )     اور داؤد کے وارث سلیمان ہوئے اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دیئے گئے ہیں بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے۔

    النمل:17  ( النمل:27 – آيت:17 )     سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے ہر ہر قسم الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی

    النمل:18  ( النمل:27 – آيت:18 )     جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں سلیمان اور اسکا لشکر تمہیں روند ڈالے

    النمل:19  ( النمل:27 – آيت:19 )     اس کی اس بات سے حضرت سلیمان مسکرا کر ہنس دیئے اور دعا کرنے لگے کہ اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے۔

    النمل:20  ( النمل:27 – آيت:20 )     آپ نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا؟ کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے؟

    النمل:21  ( النمل:27 – آيت:21 )     یقیناً میں اسے سزا دونگا، یا اسے ذبح کر ڈالوں گا، یا میرے سامنے کوئی صریح دلیل بیان کرے۔

    النمل:22  ( النمل:27 – آيت:22 )     کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آ کر اس نے کہا میں ایک ایسی چیز کی خبر لایا ہوں کہ تجھے اس کی خبر ہی نہیں، میں سبا کی ایک سچی خبر تیرے پاس لایا ہوں۔

    النمل:23  ( النمل:27 – آيت:23 )     میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے ۔

    النمل:24  ( النمل:27 – آيت:24 )     میں نے اسے اور اس کی قوم کو، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا، شیطان نے ان کے کام انہیں بھلے کر کے دکھلا کر صحیح راہ سے روک دیا ہے پس وہ ہدایت پر نہیں آتے۔

    النمل:25  ( النمل:27 – آيت:25 )     کہ اسی اللہ کے لئے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔

    النمل:26  ( النمل:27 – آيت:26 )     اسکے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ عظمت والے عرش کا مالک ہے۔

    النمل:27  ( النمل:27 – آيت:27 )     سلیمان نے کہا، اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے۔

    النمل:28  ( النمل:27 – آيت:28 )     میرے اس خط کو لے جا کر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔

    النمل:29  ( النمل:27 – آيت:29 )     وہ کہنے لگی اے سردارو! میری طرف ایک با وقعت خط ڈالا گیا ہے۔

    النمل:30  ( النمل:27 – آيت:30 )     جو سلیمان کی طرف سے ہے اور جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہے۔

    النمل:31  ( النمل:27 – آيت:31 )     یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آ جاؤ

    النمل:32  ( النمل:27 – آيت:32 )     اس نے کہا اے میرے سردار! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو نہیں کرتی۔

    النمل:33  ( النمل:27 – آيت:33 )     ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں آگے آپ کو اختیار ہے آپ خود ہی سوچ لیجئے کہ ہمیں آپ کیا کچھ حکم فرماتی ہیں

    النمل:34  ( النمل:27 – آيت:34 )     اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اور وہاں کے با عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے ۔

    النمل:35  ( النمل:27 – آيت:35 )     میں انہیں ایک ہدیہ بھیجنے والی ہوں، پھر دیکھ لوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں

    النمل:36  ( النمل:27 – آيت:36 )     پس جب قاصد حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو؟ مجھے تو میرے رب نے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے پس تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو ۔

    النمل:37  ( النمل:27 – آيت:37 )     جا ان کی طرف واپس لوٹ جا، ہم ان (کے مقابلہ) پر وہ لشکر لائیں گے جن کے سامنے پڑنے کی ان میں طاقت نہیں اور ہم انہیں ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کریں گے ۔

    النمل:38  ( النمل:27 – آيت:38 )     آپ نے فرمایا اے سردارو! تم میں سے کوئی ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لا دے

    النمل:39  ( النمل:27 – آيت:39 )     ایک قوی ہیکل جن کہنے لگا آپ اپنی اس مجلس سے اٹھیں اس سے پہلے ہی پہلے میں اسے آپ کے پاس لا دیتا ہوں، یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور ہوں بھی امانت دار

    النمل:40  ( النمل:27 – آيت:40 )     جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے، تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری، شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار (بے پروا اور بزرگ) غنی اور کریم ہے۔

    النمل:41  ( النمل:27 – آيت:41 )     حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تاکہ معلوم ہو جائے کہ یہ راہ پا لیتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے

    النمل:42  ( النمل:27 – آيت:42 )     پھر جب وہ آ گئی تو اس سے کہا (دریافت کیا) گیا کہ ایسا ہی تیرا (بھی) تخت ہے؟ اس نے جواب دیا کہ یہ گویا وہی ہے ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم مسلمان تھے

    النمل:43  ( النمل:27 – آيت:43 )     اسے انہوں نے روک رکھا تھا جن کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتی رہی تھی، یقیناً وہ کافر لوگوں میں تھی

    النمل:44  ( النمل:27 – آيت:44 )     اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو، جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے اپنی پنڈلیاں کھول دیں فرمایا یہ تو شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے، کہنے لگی میرے پروردگار! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرمانبردار بنتی ہوں۔

    النمل:45  ( النمل:27 – آيت:45 )     یقیناً ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے

    النمل:46  ( النمل:27 – آيت:46 )     آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو! تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں کر مچا رہے ہو تم اللہ تعالیٰ سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

    النمل:47  ( النمل:27 – آيت:47 )     وہ کہنے لگے ہم تیری اور تیرے ساتھیوں کی بد شگونی لے رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا تمہاری بد شگونی اللہ کے ہاں ہے، بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو

    النمل:48  ( النمل:27 – آيت:48 )     اس شہر میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔

    النمل:49  ( النمل:27 – آيت:49 )     انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے اور اس کے وارثوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں

    النمل:50  ( النمل:27 – آيت:50 )     انہوں نے مکر (خفیہ تدبیر) کیا اور ہم نے بھی اور وہ اسے سمجھتے ہی نہ تھے ۔

    النمل:51  ( النمل:27 – آيت:51 )     (اب) دیکھ لے ان کے مکر کا انجام کیسا کچھ ہوا؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو غارت کر دیا

    النمل:52  ( النمل:27 – آيت:52 )     یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ظلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہیں، جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں بڑی نشانی ہے۔

    النمل:53  ( النمل:27 – آيت:53 )     ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے اور پرہیزگار تھے بال بال بچا لیا۔

    النمل:54  ( النمل:27 – آيت:54 )     اور لوط کا (ذکر کر) جبکہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ باوجود دیکھنے بھالنے کے پھر بھی تم بدکاری کر رہے ہو

    النمل:55  ( النمل:27 – آيت:55 )     یہ کیا بات ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو؟ حق یہ ہے کہ تم بڑی ہی نادانی کر رہے ہو

    النمل:56  ( النمل:27 – آيت:56 )     قوم کا جواب بجز اس کہنے کہ اور کچھ نہ تھا کہ آل لوط کو اپنے شہر سے شہر بدر کر دو، یہ تو بڑے پاکباز بن رہے ہیں

    النمل:57  ( النمل:27 – آيت:57 )     پس ہم نے اسے اور اس کے اہل کو بجز اس کی بیوی کے سب کو بچا لیا، اس کا اندازہ تو باقی رہ جانے والوں میں ہم لگا ہی چکے تھے ۔

    النمل:58  ( النمل:27 – آيت:58 )     اور ان پر ایک (خاص قسم کی) بارش برسا دی پس ان دھمکائے ہوئے لوگوں پر بری بارش ہوئی۔

    النمل:59  ( النمل:27 – آيت:59 )     تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہے کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وہ جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں۔

    النمل:60  ( النمل:27 – آيت:60 )     بھلا بتاؤ؟ کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟ کس نے آسمان سے بارش برسائی؟ پھر اس سے ہرے بھرے با رونق باغات اگائے؟ ان باغوں کے درختوں کو تم ہرگز نہ اگا سکتے، کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ یہ لوگ ہٹ جاتے ہیں (سیدھی راہ سے)۔

    النمل:61  ( النمل:27 – آيت:61 )     کیا وہ جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کر دیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان روک بنا دی کیا اللہ کے ساتھ اور کوئی معبود بھی ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر کچھ جانتے ہی نہیں۔

    النمل:62  ( النمل:27 – آيت:62 )     بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے، کون قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کا خلیفہ بنانا ہے کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور معبود ہے؟ تم بہت کم نصیحت و عبرت حاصل کرتے ہو۔

    النمل:63  ( النمل:27 – آيت:63 )     کیا وہ جو تمہیں خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ دکھاتا ہے اور جو اپنی رحمت سے پہلے ہی خوشخبریاں دینے والی ہوائیں چلاتا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے جنہیں یہ شریک کرتے ہیں ان سب سے اللہ بلند و بالا تر ہے۔

    النمل:64  ( النمل:27 – آيت:64 )     کیا وہ جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل لاؤ۔

    النمل:65  ( النمل:27 – آيت:65 )     کہہ دیجئے کہ آسمان والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھ کھڑے کئے جائیں گے۔

    النمل:66  ( النمل:27 – آيت:66 )     بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم ختم ہو چکا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں ۔

    النمل:67  ( النمل:27 – آيت:67 )     کافروں نے کہا کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی۔ کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔

    النمل:68  ( النمل:27 – آيت:68 )     ہم اور ہمارے باپ دادوں کو بہت پہلے سے یہ وعدے دیئے جاتے رہے۔ کچھ نہیں یہ تو صرف اگلوں کے افسانے ہیں ۔

    النمل:69  ( النمل:27 – آيت:69 )     کہہ دیجئے کہ زمین میں چل پھر کر ذرا دیکھو تو سہی کہ گنہگاروں کا کیسا انجام ہوا (ا)

    النمل:70  ( النمل:27 – آيت:70 )     آپ ان کے بارے میں غم نہ کریں اور ان کے داؤں گھات سے تنگ دل نہ ہوں۔

    النمل:71  ( النمل:27 – آيت:71 )     کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب ہے اگر سچے ہو تو بتلا دو۔

    النمل:72  ( النمل:27 – آيت:72 )     جواب دیجئے! کہ شاید بعض وہ چیزیں جن کی تم جلدی مچا رہے ہو تم سے بہت ہی قریب ہو گئی ہوں

    النمل:73  ( النمل:27 – آيت:73 )     یقیناً آپ کا پروردگار تمام لوگوں پر بڑے ہی فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں

    النمل:74  ( النمل:27 – آيت:74 )     بیشک آپ کا رب ان چیزوں کو بھی جانتا ہے جنہیں ان کے سینے چھپا رہے ہیں اور جنہیں ظاہر کر رہے ہیں۔

    النمل:75  ( النمل:27 – آيت:75 )     آسمان اور زمین کی کوئی پوشیدہ چیز بھی ایسی نہیں جو روشن اور کھلی کتاب میں نہ ہو

    النمل:76  ( النمل:27 – آيت:76 )     یقیناً یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے ان اکثر چیزوں کا بیان کر رہا جن میں یہ اختلاف کرتے ہیں

    النمل:77  ( النمل:27 – آيت:77 )     اور یہ قرآن ایمان والوں کے لئے یقیناً ہدایت اور رحمت ہے

    النمل:78  ( النمل:27 – آيت:78 )     آپ کا رب ان کے درمیان اپنے حکم سے سب فیصلے کر دے گا وہ بڑا ہی غالب اور دانا ہے۔

    النمل:79  ( النمل:27 – آيت:79 )     پس آپ یقیناً اللہ ہی پر بھروسہ رکھئے، یقیناً آپ سچے اور کھلے دین پر ہیں

    النمل:80  ( النمل:27 – آيت:80 )     بیشک آپ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں جبکہ پیٹھ پھیرے روگرداں جا رہے ہوں۔

    النمل:81  ( النمل:27 – آيت:81 )     اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر رہنمائی کر سکتے ہیں آپ تو صرف انہیں سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے ہیں پھر وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔

    النمل:82  ( النمل:27 – آيت:82 )     جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائے گا، ہم زمین سے ان کے لئے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہو گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔

    النمل:83  ( النمل:27 – آيت:83 )     اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروہ کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر لائیں گے پھر وہ سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے

    النمل:84  ( النمل:27 – آيت:84 )     جب سب کے سب آ پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے میری آیتوں کو باوجودیکہ تمہیں ان کا پورا علم نہ تھا کیوں جھٹلایا؟ اور یہ بھی بتلاؤ کہ تم کیا کرتے رہے؟

    النمل:85  ( النمل:27 – آيت:85 )     بسبب اس کے کہ انہوں نے ظلم کیا تھا ان پر بات جم جائے گی اور وہ کچھ بول نہ سکیں گے

    النمل:86  ( النمل:27 – آيت:86 )     کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا ہے کہ وہ اس میں آرام حاصل کر لیں اور دن کو ہم نے دکھلانے والا بنایا ہے یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو ایمان و یقین رکھتے ہیں۔

    النمل:87  ( النمل:27 – آيت:87 )     جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب آسمانوں والے اور زمین والے گھبرا اٹھیں گے مگر جسے اللہ تعالیٰ چاہے اور سارے کے سارے عاجز و پست ہو کر اس کے سامنے حاضر ہونگے۔

    النمل:88  ( النمل:27 – آيت:88 )     اور پہاڑوں کو دیکھ کر اپنی جگہ جمے ہوئے خیال کرتے ہیں لیکن وہ بھی بادل کی طرح اڑتے پھریں گے یہ ہے صنعت اللہ کی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ باخبر ہے۔

    النمل:89  ( النمل:27 – آيت:89 )     جو لوگ نیک عمل لائیں گے انہیں اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وہ اس دن گھبراہٹ سے بے خوف ہوں گے

    النمل:90  ( النمل:27 – آيت:90 )     اور جو برائی لے کر آئیں گے وہ اوندھے منہ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ صرف وہی بدلہ دیئے جاؤ گے جو تم کرتے رہے ہو۔

    النمل:91  ( النمل:27 – آيت:91 )     مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں۔

    النمل:92  ( النمل:27 – آيت:92 )     اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راہ راست پر آ جائے وہ اپنے نفع کے لئے راہ راست پر آئے گا۔ اور جو بہک جائے تو کہہ دیجئے! کہ میں صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں ۔

    النمل:93  ( النمل:27 – آيت:93 )     کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں وہ عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم (خود) پہچان لو گے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں ۔