islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة القصص ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة القصص ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة القصص ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    القصص:1( القصص:28 – آيت:1 )   طسم

    القصص:2( القصص:28 – آيت:2 )   یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی۔

    القصص:3( القصص:28 – آيت:3 )   ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعوں کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں

    القصص:4( القصص:28 – آيت:4 )   یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا بیشک وہ تھا ہی مفسدوں میں سے۔

    القصص:5( القصص:28 – آيت:5 )   پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بیحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں

    القصص:6( القصص:28 – آيت:6 )   اور یہ بھی کہ ہم انہیں زمین میں قدرت و اختیار دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو وہ دکھائیں جس سے وہ ڈر رہے ہیں ۔

    القصص:7( القصص:28 – آيت:7 )   ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاتی رہ اور جب تجھے اس کی نسبت کوئی خوف معلوم ہو تو اسے دریا میں بہا دینا اور کوئی ڈر خوف یا رنج نہ کرنا ہم یقیناً اسے تیری طرف لٹانے والے ہیں اور اسے اپنے پیغمبروں میں بنانے والے ہیں۔

    القصص:8( القصص:28 – آيت:8 )   آخر فرعوں کے لوگوں نے اس بچے کو اٹھا لیا کہ آخرکار یہی بچہ ان کا دشمن ہوا اور ان کے رنج کا باعث بنا کچھ شک نہیں کہ فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے ہی خطا کار ۔

    القصص:9( القصص:28 – آيت:9 )   اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائدہ پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہیں رکھتے تھے ۔

    القصص:10     ( القصص:28 – آيت:10 )موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل بے قرار ہو گیا قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ظاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے

    القصص:11     ( القصص:28 – آيت:11 )موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وہ اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور فرعوں کو اس کا علم نہ ہوا۔

    القصص:12     ( القصص:28 – آيت:12 )ان کے پہنچنے سے پہلے ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کا دودھ حرام کر دیا تھا یہ کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا گھرانا بتاؤں جو اس بچے کی تمہارے لئے پرورش کرے اور ہوں بھی اس بچے کے خیر خواہ۔

    القصص:13     ( القصص:28 – آيت:13 )پس ہم نے اس کی ماں کی طرف واپس پہنچایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور آزردہ خاطر نہ ہو اور جان لے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

    القصص:14     ( القصص:28 – آيت:14 )اور جب (موسیٰ علیہ السلام) اپنی جوانی کو پہنچ گئے اور پورے توانا ہو گئے ہم نے انہیں حکمت و علم عطا فرمایا نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

    القصص:15     ( القصص:28 – آيت:15 )اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیق میں سے تھا اور دوسرا اس کے دشمنوں میں سے اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے مکا مارا جس سے وہ مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے والا ہے ۔

    القصص:16     ( القصص:28 – آيت:16 )پھر دعا کرنے لگا کہ اے پروردگار! میں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا، تو مجھے معاف فرما دے اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، وہ بخشش اور بہت مہربانی کرنے والا ہے۔

    القصص:17     ( القصص:28 – آيت:17 )کہنے لگے اے میرے رب! جیسے تو نے مجھ پر یہ کرم فرمایا میں بھی اب ہرگز کسی گنہگار کا مددگار نہ بنوں گا

    القصص:18     ( القصص:28 – آيت:18 )صبح ہی صبح ڈرتے اندیشہ کی حالت میں خبریں لینے شہر میں گئے، کہ اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ان سے فریاد کر رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے کہا کہ اس میں شک نہیں تو تو صریح بے راہ ہے

    القصص:19     ( القصص:28 – آيت:19 )پھر جب اپنے اور اس کے دشمن کو پکڑنا چاہا وہ فریادی کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کیا جس طرح تو نے کل ایک شخص کو قتل کیا ہے مجھے بھی مار ڈالنا چاہتا ہے، تو تو ملک میں ظالم و سرکش ہونا چاہتا ہے اور تیرا ارادہ ہی نہیں کہ ملاپ کرنے والوں میں سے ہو۔

    القصص:20     ( القصص:28 – آيت:20 )شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا اے موسیٰ! یہاں کے سردار تیرے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں، پس تو جلد چلا جا مجھے اپنا خیر خواہ مان

    القصص:21     ( القصص:28 – آيت:21 )پس موسیٰ (علیہ السلام) وہاں سے خوفزدہ ہو کر دیکھتے بھالتے نکل کھڑے ہوئے کہنے لگے اے پروردگار! مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔

    القصص:22     ( القصص:28 – آيت:22 )اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا

    القصص:23     ( القصص:28 – آيت:23 )مدین کے پانی پر جب آپ پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو عورتیں الگ کھڑی اپنے جانوروں کو روکتی دکھائی دیں، پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے وہ بولیں کہ جب تک یہ چروا ہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد بہت بڑی عمر کے بوڑھے ہیں

    القصص:24     ( القصص:28 – آيت:24 )پس آپ نے خود ان جانوروں کو پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور کہنے لگے اے پروردگار! تو جو کچھ بھلائی میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں

    القصص:25     ( القصص:28 – آيت:25 )اتنے میں ان دونوں عورتوں میں سے ایک ان کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی کہنے لگی کہ میرے باپ آپ کو بلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے (جانوروں) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اجرت دیں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس پہنچے اور ان سے اپنا سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے اب نہ ڈر تو نے ظالم قوم سے نجات پائی ۔

    القصص:26     ( القصص:28 – آيت:26 )ان دونوں میں سے ایک نے کہا کہ ابا جی! آپ انہیں مزدوری پر رکھ لیجئے، کیونکہ جنہیں آپ اجرت پر رکھیں ان میں سے سب سے بہتر وہ ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو

    القصص:27     ( القصص:28 – آيت:27 )اس بزرگ نے کہا میں اپنی دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں اس (مہر پر) کہ آپ آٹھ سال تک میرا کام کاج کریں ہاں اگر آپ دس سال پورے کریں تو یہ آپ کی طرف سے بطور احسان کے ہیں یہ ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ کو کسی مشقت میں ڈالوں اللہ کو منظور ہے تو آگے چل کر مجھے بھلا آدمی پائیں گے ۔

    القصص:28     ( القصص:28 – آيت:28 )موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، خیر تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان پختہ ہو گئی، میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے پورا کروں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر اللہ (گواہ اور) کارساز ہے

    القصص:29     ( القصص:28 – آيت:29 )موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں تاکہ تم سینک لو۔

    القصص:30     ( القصص:28 – آيت:30 )پس جب وہاں پہنچے تو بابرکت زمین کے میدان کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دئیے گئے کہ اے موسیٰ! یقیناً میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار ۔

    القصص:31     ( القصص:28 – آيت:31 )اور یہ بھی آواز آئی کہ اپنی لاٹھی ڈال دے۔ پھر جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح پھن پھلا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر واپس ہو گئے اور مڑ کر رُخ بھی نہ کیا، ہم نے کہا اے موسیٰ! آگے آ ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن والا ہے

    القصص:32     ( القصص:28 – آيت:32 )اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال وہ بغیر کسی قسم کے روگ کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید اور خوف سے (بچنے کے لئے) اپنے بازو اپنی طرف ملا لے پس یہ دونوں معجزے تیرے لئے تیرے رب کی طرف سے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف، یقیناً وہ سب کے سب بے حکم اور نافرمان لوگ ہیں ۔

    القصص:33     ( القصص:28 – آيت:33 )موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا پروردگار! میں نے ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کر ڈالیں گے

    القصص:34     ( القصص:28 – آيت:34 ) اور میرا بھائی ہارون علیہ السلام مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے تو اسے میرا مددگار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ مجھے سچا مانے، مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔

    القصص:35     ( القصص:28 – آيت:35 )اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے فرعونی تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے بسبب ہماری نشانیوں کے، تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے غالب رہیں گے ۔

    القصص:36     ( القصص:28 – آيت:36 )پس جب ان کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے دیئے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے وہ کہنے لگے یہ تو صرف گھڑا گھڑایا جادو ہے ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے زمانہ میں کبھی نہیں سنا

    القصص:37     ( القصص:28 – آيت:37 )حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے میرا رب تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے جو اس کے پاس کی ہدایت لے کر آتا ہے اور جس کے لئے آخرت (اچھا) انجام ہوتا ہے یقیناً بے انصافوں کا بھلا نہ ہو گا۔

    القصص:38     ( القصص:28 – آيت:38 )فرعون کہنے لگا اے درباریو! میں تو اپنے سوا کسی کو تمہارا معبود نہیں جانتا۔ سن اے ہامان! تو میرے لئے مٹی کو آگ سے پکوا پھر میرے لئے ایک محل تعمیر کر تو میں موسیٰ کے معبود کو جھانک لوں اسے میں جھوٹوں میں سے ہی گمان کر رہا ہوں۔

    القصص:39     ( القصص:28 – آيت:39 )اس نے اس کے لشکروں نے ناحق طریقے پر ملک میں تکبر کیا اور سمجھ لیا کہ وہ ہماری جانب لوٹائے ہی نہ جائیں گے۔

    القصص:40     ( القصص:28 – آيت:40 )بالآخر ہم نے اس کے لشکروں کو پکڑ لیا اور دریا برد کر دیا اب دیکھ لے کہ ان گنہگاروں کا انجام کیسا کچھ ہوا۔

    القصص:41     ( القصص:28 – آيت:41 )اور ہم نے انہیں ایسے امام بنا دیئے کہ لوگوں کو جہنم کی طرف بلائیں اور روز قیامت مطلق مدد نہ کئے جائیں

    القصص:42     ( القصص:28 – آيت:42 )اور ہم نے اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے اپنی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن بھی بدحال لوگوں میں سے ہونگے ۔

    القصص:43     ( القصص:28 – آيت:43 )اور ان اگلے زمانے والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لئے دلیل اور ہدایت و رحمت ہو کر آئی تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کر لیں

    القصص:44     ( القصص:28 – آيت:44 )اور طور کے مغرب کی جانب جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی، نہ تو تو موجود تھا اور نہ تو دیکھنے والوں میں سے تھا

    القصص:45     ( القصص:28 – آيت:45 )لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے ہیں

    القصص:46     ( القصص:28 – آيت:46 )اور نہ تو طور کی طرف تھا جب کہ ہم نے آواز دی بلکہ تیرے پروردگار کی طرف سے ایک رحمت ہے اس لئے کہ تو ان لوگوں کو ہوشیار کر دے جن کے پاس تجھ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا کیا عجب کہ وہ نصیحت حاصل کر لیں ۔

    القصص:47     ( القصص:28 – آيت:47 )اگر یہ بات نہ ہوتی کہ انہیں ان کے اپنے ہاتھوں آگے بھیجے ہوئے اعمال کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچتی تو یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اور ایمان والوں میں سے ہو جاتے ۔

    القصص:48     ( القصص:28 – آيت:48 )پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آ پہنچا تو کہتے ہیں کہ یہ وہ کیوں نہیں دیا گیا جیسے دیئے گئے تھے موسیٰ (علیہ السلام) اچھا تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا گیا تھا اس کے ساتھ لوگوں نے کفر نہیں کیا تھا صاف کہا تھا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور ہم تو ان سب کے منکر ہیں۔

    القصص:49     ( القصص:28 – آيت:49 )کہہ دے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو میں اسی کی پیروی کرونگا

    القصص:50     ( القصص:28 – آيت:50 )پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کر لے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں ہدایت نہیں دیتا۔

    القصص:51     ( القصص:28 – آيت:51 )اور ہم برابر پے درپے لوگوں کے لئے اپنا کلام بھیجتے رہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

    القصص:52     ( القصص:28 – آيت:52 )جس کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنایت فرمائی وہ تو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

    القصص:53     ( القصص:28 – آيت:53 )اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں۔

    القصص:54     ( القصص:28 – آيت:54 )یہ اپنے کئے ہوئے صبر کے بدلے دوہرا اجر دیتے جائیں گے یہ انکی بدی کو ٹال دیتے ہیں اور ہم نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں۔

    القصص:55     ( القصص:28 – آيت:55 )اور جب بیہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے، تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے۔

    القصص:56     ( القصص:28 – آيت:56 )آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے

    القصص:57     ( القصص:28 – آيت:57 )کہنے لگے اگر ہم آپ کے ساتھ ہو کر ہدایت کے تابعدار بن جائیں تو ہم تو اپنے ملک سے اچک لئے جائیں کیا ہم نے انہیں امن و امان اور حرمت والے حرم میں جگہ نہیں دی؟ جہاں تمام چیزوں کے پھل کھینچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس بطور رزق کے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کچھ نہیں جانتے۔

    القصص:58     ( القصص:28 – آيت:58 )اور ہم نے بہت سی وہ بستیاں تباہ کر دیں جو اپنی عیش و عشرت میں اترانے لگی تھیں، یہ ہیں ان کی رہائش کی جگہیں جو ان کے بعد بہت ہی کم آباد کی گئیں اور ہم ہی ہیں آخر سب کچھ کے وارث ۔

    القصص:59     ( القصص:28 – آيت:59 )تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ظلم و ستم پر کمر کس لیں

    القصص:60     ( القصص:28 – آيت:60 )اور تمہیں جو کچھ دیا گیا ہے صرف زندگی دنیا کا سامان اور اسی کی رونق ہے، ہاں اللہ کے پاس جو ہے وہ بہت ہی بہتر اور دیرپا ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے ۔

    القصص:61     ( القصص:28 – آيت:61 )کیا وہ شخص جس سے ہم نے نیک وعدہ کیا ہے وہ قطعاً پانے والا ہے مثل اس شخص کے ہو سکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانی دنیا کی کچھ یونہی دے دی پھر بالآخر وہ قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا

    القصص:62     ( القصص:28 – آيت:62 )اور جس دن اللہ تعالیٰ انہیں پکار کر فرمائے گا کہ تم جنہیں اپنے گمان میں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے کہاں ہیں

    القصص:63     ( القصص:28 – آيت:63 )جن پر بات آ چکی وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! یہی وہ ہیں جنہیں ہم نے بہکا رکھا تھا ہم نے انہیں اس طرح بہکایا جس طرح ہم بہکے تھے ہم تیری سرکار میں اپنی دست برادری کرتے ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے

    القصص:64     ( القصص:28 – آيت:64 )کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ وہ بلائیں گے لیکن انہیں وہ جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے۔

    القصص:65     ( القصص:28 – آيت:65 )اس دن انہیں بلا کر پوچھے گا کہ تم نے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ ۔

    القصص:66     ( القصص:28 – آيت:66 )اس دن ان کی تمام دلیلیں گم ہو جائیں گی اور ایک دوسرے سے سوال تک نہ کریں گے ۔

    القصص:67     ( القصص:28 – آيت:67 )ہاں جو شخص توبہ کر لے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا۔

    القصص:68     ( القصص:28 – آيت:68 )اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں اللہ ہی کے لئے پاکی ہے وہ بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں۔

    القصص:69     ( القصص:28 – آيت:69 )ان کے سینے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں آپ کا رب سب کچھ جانتا ہے۔

    القصص:70     ( القصص:28 – آيت:70 )وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے۔ اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور اسی کی طرف تم سب پھیرے جاؤ گے۔

    القصص:71     ( القصص:28 – آيت:71 )کہہ دیجئے! کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی لائے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟

    القصص:72     ( القصص:28 – آيت:72 )پوچھئے! کہ یہ بھی بتا دو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے تو بھی سوائے اللہ کے کوئی معبود ہے جو تمہارے پاس رات لے آئے؟ جس میں تم آرام حاصل کر سکو، کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو؟

    القصص:73     ( القصص:28 – آيت:73 )اس نے تو تمہارے لئے اپنے فضل و کرم سے دن رات مقرر کر دیئے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو یہ اس لئے کہ تم شکر ادا کرو ۔

    القصص:74     ( القصص:28 – آيت:74 )اور جس دن انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنہیں تم میرے شریک خیال کرتے تھے وہ کہاں ہیں؟

    القصص:75     ( القصص:28 – آيت:75 )اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ الگ کر لیں گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جو کچھ بہتان وہ جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا۔

    القصص:76     ( القصص:28 – آيت:76 )قارون تھا تو قوم موسیٰ سے، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا ہم نے اسے (اس قدر) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بمشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اتر امت اللہ تعالیٰ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا ۔

    القصص:77     ( القصص:28 – آيت:77 )اور جو کچھ تجھے اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول جا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔

    القصص:78     ( القصص:28 – آيت:78 )قارون نے کہا یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کی بنا پر ہی دیا گیا ہے کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت والے اور بہت بڑی جمع پونجی والے تھے اور گنہگاروں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی

    القصص:79     ( القصص:28 – آيت:79 )پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیاوی زندگی کے متوالے کہنے لگے کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وہ مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے۔

    القصص:80     ( القصص:28 – آيت:80 )ذی علم انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہ ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں یہ باتیں انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر کرنے والے ہوں۔

    القصص:81     ( القصص:28 – آيت:81 )(آخرکار) ہم نے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لئے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا۔

    القصص:82     ( القصص:28 – آيت:82 )اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی؟ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی ۔

    القصص:83     ( القصص:28 – آيت:83 )آخرت کا یہ بھلا گھر ہم ان ہی کے لئے مقرر کر دیتے ہیں جو زمین میں اونچائی بڑائی اور فخر نہیں کرتے نہ فساد کی چاہت رکھتے ہیں پرہیزگاروں کے لئے نہایت ہی عمدہ انجام ہے۔

    القصص:84     ( القصص:28 – آيت:84 )جو شخص نیکی لائے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے بد اعمالی کرنے والوں کو ان کے انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو وہ کرتے تھے۔

    القصص:85     ( القصص:28 – آيت:85 )جس اللہ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لانے والا ہے کہہ دیجئے کہ میرا رب اسے بخوبی جانتا ہے جو ہدایت لایا اور اس سے بھی کھلی گمراہی میں ہے۔

    القصص:86     ( القصص:28 – آيت:86 )آپ کو تو کبھی خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی جائے گی لیکن یہ آپ کے رب کی مہربانی سے اترا اب آپ کو ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیے

    القصص:87     ( القصص:28 – آيت:87 )خیال رکھئے کہ یہ کفار آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تبلیغ سے روک نہ دیں اس کے بعد کہ یہ آپ کی جانب اتاری گئیں، تو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔

    القصص:88     ( القصص:28 – آيت:88 )اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا منہ (اور ذات) اسی کے لئے فرمانروائی ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔