islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة العنكبوت ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة العنكبوت ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة العنكبوت ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    العنكبوت:1      ( العنكبوت:29 – آيت:1 )  ا لم

    العنكبوت:2      ( العنكبوت:29 – آيت:2 )  کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کے صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لائے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟

    العنكبوت:3      ( العنكبوت:29 – آيت:3 )  ان اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا یقیناً اللہ تعالیٰ انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں۔

    العنكبوت:4      ( العنكبوت:29 – آيت:4 )  کیا جو لوگ برائیاں کر رہے ہیں انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہمارے قابو سے باہر ہو جائیں گے یہ لوگ کیسی بری تجویزیں کر رہے ہیں

    العنكبوت:5      ( العنكبوت:29 – آيت:5 )  جسے اللہ کی ملاقات کی امید ہو پس اللہ کا ٹھہرایا ہوا وقت یقیناً آنے والا ہے وہ سب کچھ سننے والا سب کچھ جاننے والا ہے۔

    العنكبوت:6      ( العنكبوت:29 – آيت:6 )  اور ہر ایک کوشش کرنے والا اپنے ہی بھلے کی کوشش کرتا ہے۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ تمام جہان والوں سے بے نیاز ہے

    العنكبوت:7      ( العنكبوت:29 – آيت:7 )  اور جن لوگوں نے یقین کیا اور مطابق سنت کام کیے ہم ان کے تمام گناہوں کو ان سے دور کر دیں گے اور انہیں نیک اعمال کے بہترین بدلے دیں گے

    العنكبوت:8      ( العنكبوت:29 – آيت:8 )  ہم ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وہ یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کر لیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا۔

    العنكبوت:9      ( العنكبوت:29 – آيت:9 )  اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کئے انہیں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا۔

    العنكبوت:10    ( العنكبوت:29 – آيت:10 )اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو زبانی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن جب اللہ کی راہ میں کوئی مشکل آن پڑتی ہے تو لوگوں کی ایذاء دہی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرح بنا لتے ہیں، ہاں اگر اللہ کی مدد آ جائے تو پکار اٹھتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھی ہی ہیں کیا دنیا جہان کے سینوں میں جو کچھ ہے اسے اللہ تعالیٰ جانتا نہیں ہے؟

    العنكبوت:11    ( العنكبوت:29 – آيت:11 )جو لوگ ایمان لائے انہیں بھی ظاہر کر کے رہے گا اور منافقوں کو بھی ظاہر کر کے رہے گا

    العنكبوت:12    ( العنكبوت:29 – آيت:12 )کافروں نے ایمانداروں سے کہا کہ تم ہماری راہ کی تابعداری کرو تمہارے گناہ ہم اٹھا لیں گے حالانکہ وہ ان کے گناہوں میں سے کچھ بھی نہیں اٹھانے والے، یہ تو محض جھوٹے ہیں۔

    العنكبوت:13    ( العنكبوت:29 – آيت:13 )البتہ یہ اپنے بوجھ ڈھولیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ ہی اور بوجھ بھی اور جو کچھ افترا پردازیاں کر رہے ہیں ان سب کی بابت ان سے باز پرس کی جائے گی۔

    العنكبوت:14    ( العنكبوت:29 – آيت:14 )اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان میں ساڑھے نو سو سال تک رہے پھر تو انہیں طوفان نے دھر پکڑا اور وہ تھے ظالم۔

    العنكبوت:15    ( العنكبوت:29 – آيت:15 )پھر ہم نے انہیں کشتی والوں کو نجات دی اور اس واقعہ کو ہم نے تمام جہان کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا۔

    العنكبوت:16    ( العنكبوت:29 – آيت:16 )اور ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرتے رہو، اگر تم میں دانائی ہے تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔

    العنكبوت:17    ( العنكبوت:29 – آيت:17 )تم تو اللہ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو سنو! جن جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا پاٹ کر رہے ہو وہ تمہاری روزی کے مالک نہیں پس تمہیں چاہیے کہ تم اللہ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اسی کی شکر گزاری کرو اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

    العنكبوت:18    ( العنكبوت:29 – آيت:18 )اور اگر تم جھٹلاؤ تو تم سے پہلے کی امتوں نے بھی جھٹلایا ہے رسول کے ذمے تو صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہی ہے۔

    العنكبوت:19    ( العنكبوت:29 – آيت:19 )کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ مخلوق کی ابتدا کس طرح اللہ نے کی پھر اللہ اس کا اعادہ کرے گا یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت ہی آسان ہے

    العنكبوت:20    ( العنكبوت:29 – آيت:20 )کہہ دیجئے! کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداء پیدائش کی۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

    العنكبوت:21    ( العنكبوت:29 – آيت:21 )جسے چاہے عذاب کرے جس پر چاہے رحم کرے، سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

    العنكبوت:22    ( العنكبوت:29 – آيت:22 )تم نہ زمین میں اللہ تعالیٰ کو عاجز کر سکتے ہو نہ آسمان میں، اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی والی ہے نہ مددگار۔

    العنكبوت:23    ( العنكبوت:29 – آيت:23 )جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھلاتے ہیں وہ میری رحمت سے نا امید ہو جائیں اور ان لئے دردناک عذاب ہے۔

    العنكبوت:24    ( العنكبوت:29 – آيت:24 )ان کی قوم کا جواب بجز اس کے کچھ نہ تھا کہ کہنے لگے کہ اس مار ڈالو یا اسے جلا دو آخر اللہ نے انہیں آگ سے بچا لیا اس میں ایماندار لوگوں کے لئے تو بہت سی نشانیاں ہیں۔

    العنكبوت:25    ( العنكبوت:29 – آيت:25 )(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) کہا کہ تم نے جن بتوں کی پرستش اللہ کے سوا کی ہے انہیں تم نے اپنی آپس کی دنیاوی دوستی کی بنا ٹھہرا لی ہے تم سب قیامت کے دن ایک دوسرے سے کفر کرنے لگو گے اور ایک دوسرے پر لعنت کرنے لگو گے اور تمہارا سب کا ٹھکانا دوزخ ہو گا اور تمہارا کوئی مددگار نہ ہو گا۔

    العنكبوت:26    ( العنكبوت:29 – آيت:26 )پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حضرت لوط(علیہ السلام ایمان لائے اور کہنے لگے کہ میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہو وہ بڑا ہی غالب اور حکیم ہے۔

    العنكبوت:27    ( العنكبوت:29 – آيت:27 )اور ہم نے انہیں (ابراہیم کو) اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) عطا کئے اور ہم نے نبوت اور کتاب ان کی اولاد میں ہی کر دی اور ہم نے دنیا میں بھی اسے ثواب دیا اور آخرت میں تو وہ صالح لوگوں میں سے ہے ۔

    العنكبوت:28    ( العنكبوت:29 – آيت:28 )اور حضرت لوط(علیہ السلام) کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم بدکاری پر اتر آئے ہو جسے تم سے پہلے دنیا بھر میں سے کسی نے نہیں کیا۔

    العنكبوت:29    ( العنكبوت:29 – آيت:29 )کیا تم مردوں کے پاس بد فعلی کے لئے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو اس کے جواب میں اس کی قوم نے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا بس جا اگر سچا ہے تو ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آ۔

    العنكبوت:30    ( العنكبوت:29 – آيت:30 )حضرت لوط(علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما۔

    العنكبوت:31    ( العنكبوت:29 – آيت:31 )اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر پہنچے کہنے لگے کہ اس بستی والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں یقیناً یہاں کے رہنے والے گنہگار ہیں۔

    العنكبوت:32    ( العنكبوت:29 – آيت:32 )(حضرت ابراہیم علیہ السلام) نے کہا اس میں تو لوط(علیہ السلام) ہیں، فرشتوں نے کہا یہاں جو ہیں انہیں بخوبی جانتے ہیں لوط (علیہ السلام) کو اور اس کے خاندان کو سوائے اس کی بیوی کے ہم بچا لیں گے، البتہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

    العنكبوت:33    ( العنكبوت:29 – آيت:33 )پھر جب ہمارے قاصد لوط(علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ ان کی وجہ سے غمگین ہوئے اور دل ہی دل میں رنج کرنے لگے قاصدوں نے کہا آپ نہ خوف کھائیے نہ آزردہ ہوں، ہم آپ کو مع آپ کے متعلقین کے بچا لیں گے مگر آپ کی بیوی کہ وہ عذاب کے لئے باقی رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔

    العنكبوت:34    ( العنكبوت:29 – آيت:34 )ہم اس بستی والوں پر آسمانی عذاب نازل کرنے والے ہیں اس وجہ سے کہ یہ بے حکم ہو رہے ہیں۔

    العنكبوت:35    ( العنكبوت:29 – آيت:35 )البتہ ہم نے اس بستی کو بالکل عبرت کی نشانی بنا دیا ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھتے ہیں۔

    العنكبوت:36    ( العنكبوت:29 – آيت:36 )اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو قیامت کے دن کی توقع رکھو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

    العنكبوت:37    ( العنكبوت:29 – آيت:37 )پھر بھی انہوں نے انہیں جھٹلایا آخرکار انہیں زلزلے نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے مردہ ہو کر رہ گئے

    العنكبوت:38    ( العنكبوت:29 – آيت:38 )اور ہم نے عادیوں اور ثمودیوں کو بھی غارت کیا جن کے بعض مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں اور شیطان نے انہیں انکی بد اعمالیاں آراستہ کر دکھائی تھیں اور انہیں راہ سے روک دیا تھا باوجودیکہ یہ آنکھوں والے اور ہوشیار تھے ۔

    العنكبوت:39    ( العنكبوت:29 – آيت:39 )اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی، ان کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلے کھلے معجزے لے کر آئے تھے پھر بھی انہوں نے زمین میں تکبر کیا لیکن ہم سے آگے بڑھنے والے نہ ہو سکے ۔

    العنكبوت:40    ( العنكبوت:29 – آيت:40 )پھر تو ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کے وبال میں گرفتار کر لیا ان میں سے بعض پر ہم نے پتھروں کا مینہ برسایا اور ان میں سے بعض کو زور دار سخت آواز نے دبوچ لیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور ان میں سے بعض کو ہم نے ڈبو دیا (5) اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان پر ظلم کرے بلکہ یہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

    العنكبوت:41    ( العنكبوت:29 – آيت:41 )جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور کارساز مقرر کر رکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے کہ وہ بھی ایک گھر بنا لیتی ہے، حالانکہ تمام گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہے کاش! وہ جان لیتے۔

    العنكبوت:42    ( العنكبوت:29 – آيت:42 )اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جنہیں وہ اس کے سوا پکار رہے ہیں، وہ زبردست اور ذی حکمت ہے۔

    العنكبوت:43    ( العنكبوت:29 – آيت:43 )ہم نے ان مثالوں کو لوگوں کے لئے بیان فرما رہے ہیں انہیں صرف علم والے ہی سمجھتے ہیں

    العنكبوت:44    ( العنكبوت:29 – آيت:44 )اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مصلحت اور حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ایمان والوں کے لئے تو اس میں بڑی بھاری دلیل ہے ۔

    العنكبوت:45    ( العنكبوت:29 – آيت:45 )جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے بیشک اللہ کا ذکر بڑی چیز ہے جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ خبردار ہے

    العنكبوت:46    ( العنكبوت:29 – آيت:46 )اور اہل کتاب کے ساتھ بحث و مباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ظالم ہیں اور صاف اعلان کر دو کہ ہمارا تو اس کتاب پر بھی ایمان ہے جو ہم پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو تم پر اتاری گئی ہمارا تمہارا معبود ایک ہی ہے۔ ہم سب اسی کے حکم برادر ہیں۔

    العنكبوت:47    ( العنكبوت:29 – آيت:47 )اور ہم نے اسی طرح آپ کی طرف اپنی کتاب نازل فرمائی ہے، پس جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان (مشرکین) میں سے بعض اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔

    العنكبوت:48    ( العنكبوت:29 – آيت:48 )اس سے پہلے تو آپ کوئی کتاب پڑھتے نہ تھے نہ کسی کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے کہ یہ باطل پرست لوگ شک و شبہ میں پڑتے

    العنكبوت:49    ( العنكبوت:29 – آيت:49 )بلکہ یہ قرآن تو روشن آیتیں ہیں اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہیں ہماری آیتوں کا منکر سوائے ظالموں کے اور کوئی نہیں۔

    العنكبوت:50    ( العنكبوت:29 – آيت:50 )انہوں نے کہا کہ اس پر کچھ نشانیاں (معجزات) اس کے رب کی طرف سے کیوں نہیں اتارے گئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ نشانیاں تو سب اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں میں تو صرف کھلم کھلا آگاہ کر دینے والا ہوں۔

    العنكبوت:51    ( العنكبوت:29 – آيت:51 )کیا انہیں یہ کافی نہیں؟ کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو ان پر پڑھی جا رہی ہے، اس میں رحمت (بھی) ہے اور نصیحت (بھی) ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔

    العنكبوت:52    ( العنكبوت:29 – آيت:52 )کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ کا گواہ ہونا کافی ہے وہ آسمان و زمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وہ زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں ۔

    العنكبوت:53    ( العنكبوت:29 – آيت:53 )یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی کر رہے ہیں اگر میری طرف سے مقرر کیا ہوا وقت نہ ہوتا تو ابھی تک ان کے پاس عذاب آ چکا ہوتا یہ یقینی بات ہے کہ اچانک ان کی بے خبری میں ان کے پاس عذاب آ پہنچے

    العنكبوت:54    ( العنكبوت:29 – آيت:54 )یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور (تسلی رکھیں) جہنم کافروں کو گھیر لینے والی ہے۔

    العنكبوت:55    ( العنكبوت:29 – آيت:55 )اس دن انکے اوپر تلے سے انہیں عذاب ڈھانپ رہا ہو گا اور اللہ تعالیٰ   فرمائے گا کہ اب اپنے (بد) اعمال کا مزہ چھکو۔

    العنكبوت:56    ( العنكبوت:29 – آيت:56 )اے میرے ایماندار بندو! میری زمین بہت کشادہ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو

    العنكبوت:57    ( العنكبوت:29 – آيت:57 )ہر جاندار موت کا مزہ چکھنے والا ہے اور تم سب ہماری طرف لوٹائے جاؤ گے۔

    العنكبوت:58    ( العنكبوت:29 – آيت:58 )اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے انہیں یقیناً جنت کے ان بالا خانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے چشمے بہہ رہے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے نیک کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا اجر ہے۔

    العنكبوت:59    ( العنكبوت:29 – آيت:59 )وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔

    العنكبوت:60    ( العنكبوت:29 – آيت:60 )اور بہت سے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے ان سب کو اور تمہیں بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی دیتا ہے وہ بڑا ہی سننے والا ہے ۔

    العنكبوت:61    ( العنكبوت:29 – آيت:61 )اور اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ زمین و آسمان کا خالق اور سورج اور چاند کو کام میں لگانے والا کون ہے؟ تو ان کا جواب یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ پھر کدھر الٹے جا رہے ہیں

    العنكبوت:62    ( العنكبوت:29 – آيت:62 )اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے فراخ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔

    العنكبوت:63    ( العنكبوت:29 – آيت:63 )اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ آسمان سے پانی اتار کر زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کس نے کیا؟ تو یقیناً ان کا جواب یہی ہو گا اللہ تعالیٰ نے۔ آپ کہہ دیجئے کہ ہر تعریف اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے، بلکہ ان میں اکثر بے عقل ہیں ۔

    العنكبوت:64    ( العنكبوت:29 – آيت:64 )اور دنیا کی یہ زندگانی تو محض کھیل تماشا ہے البتہ آخرت کے گھر کی زندگی حقیقی زندگی ہے کاش! یہ جانتے ہوتے

    العنكبوت:65    ( العنكبوت:29 – آيت:65 )پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہیں اس کے لئے عبادت کو خالص کر کے پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں ۔

    العنكبوت:66    ( العنكبوت:29 – آيت:66 )تاکہ ہماری دی ہوئی نعمتوں سے مکرتے رہیں اور برتتے رہیں ابھی ابھی پتہ چل جائے گا۔

    العنكبوت:67    ( العنكبوت:29 – آيت:67 )کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو با امن بنا دیا ہے حالانکہ ان کے ارد گرد سے لوگ اچک لئے جاتے ہیں کیا یہ باطل پر تو یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر ناشکری کرتے ہیں

    العنكبوت:68    ( العنكبوت:29 – آيت:68 )اور اس سے بڑا ظالم کون ہو گا؟ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے یا جب حق اس کے پاس آ جائے وہ اسے جھٹلائے، کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم نہ ہو گا؟

    العنكبوت:69    ( العنكبوت:29 – آيت:69 )اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے یقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے