islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة الروم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة الروم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة الروم ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    الروم:1    ( الروم:30 – آيت:1 )الم

    الروم:2    ( الروم:30 – آيت:2 )رومی مغلوب ہو گئے ہیں

    الروم:3    ( الروم:30 – آيت:3 )نزدیک کی زمین پر اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب آ جائیں گے۔

    الروم:4    ( الروم:30 – آيت:4 )چند سال میں ہی، اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس روز مسلمان شادمان ہوں گے۔

    الروم:5    ( الروم:30 – آيت:5 )اللہ کی مدد سے وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اصل غالب اور مہربان وہی ہے۔

    الروم:6    ( الروم:30 – آيت:6 )اللہ کا وعدہ ہے، اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

    الروم:7    ( الروم:30 – آيت:7 )وہ تو (صرف) دنیاوی زندگی کے ظاہر کو (ہی) جانتے ہیں اور آخرت سے بالکل ہی بے خبر ہیں ۔

    الروم:8    ( الروم:30 – آيت:8 )کیا ان لوگوں نے اپنے دل میں یہ غور نہیں کیا؟ کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اور زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے سب کو بہترین قرینے سے مقرر وقت تک کے لئے (ہی) پیدا کیا ہے، ہاں اکثر لوگ یقیناً اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں ۔

    الروم:9    ( الروم:30 – آيت:9 )کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر یہ نہیں دیکھا کہ ان سے پہلے لوگوں کا انجام کیسا (برا) ہوا وہ ان سے بہت زیادہ توانا اور طاقتور تھے اور انہوں نے (بھی) زمین بوئی جوتی تھی اور ان سے زیادہ آباد کی تھی اور ان کے پاس ان کے رسول روشن دلائل لے کر آئے تھے یہ تو ناممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان پر ظلم کرتا لیکن (دراصل) وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے ۔

    الروم:10  ( الروم:30 – آيت:10 )     پھر آخر برا کرنے والوں کا بہت ہی برا انجام ہوا، اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے۔

    الروم:11  ( الروم:30 – آيت:11 )     اللہ تعالیٰ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اسے دوبارہ پیدا کرے گا پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

    الروم:12  ( الروم:30 – آيت:12 )     اور جس دن قیامت قائم ہو گی تو گناہگار حیرت زدہ رہ جائیں گے ۔

    الروم:13  ( الروم:30 – آيت:13 )     اور ان تمام تر شریکوں میں سے ایک بھی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور (خود یہ بھی) اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے۔

    الروم:14  ( الروم:30 – آيت:14 )     اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن (جماعتیں) الگ الگ ہو جائیں گی ۔

    الروم:15  ( الروم:30 – آيت:15 )     جو ایمان لا کر نیک اعمال کرتے رہے وہ تو جنت میں خوش و خرم کر دیئے جائیں گے

    الروم:16  ( الروم:30 – آيت:16 )     اور جنہوں نے کفر کیا تھا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹا ٹھہرایا تھا وہ سب عذاب میں پکڑ کر حاضر رکھے جائیں گے

    الروم:17  ( الروم:30 – آيت:17 )     پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔

    الروم:18  ( الروم:30 – آيت:18 )     تمام تعریفوں کے لائق آسمان و زمین میں صرف وہی ہے تیسرے پہر کو اور ظہر کے وقت بھی (اس کی پاکیزگی بیان کرو) ۔

    الروم:19  ( الروم:30 – آيت:19 )     (وہی) زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور وہی زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے اسی طرح تم (بھی) نکالے جاؤ گے ۔

    الروم:20  ( الروم:30 – آيت:20 )     اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر اب انسان بن کر (چلتے پھرتے) پھیل رہے ہو

    الروم:21  ( الروم:30 – آيت:21 )     اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم آرام پاؤ اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کر دی یقیناً غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت نشانیاں ہیں۔

    الروم:22  ( الروم:30 – آيت:22 )     اس (کی قدرت) کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف (بھی) ہے دانش مندوں کیلئے اس میں یقیناً بڑی نشانیاں ہیں۔

    الروم:23  ( الروم:30 – آيت:23 )     اور (بھی) اس کی (قدرت کی) نشانی تمہاری راتوں اور دن کی نیند میں ہے اور اس کے فضل (یعنی روزی) کو تمہارا تلاش کرنا بھی ہے جو لوگ (کان لگا کر) سننے کے عادی ہیں ان کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

    الروم:24  ( الروم:30 – آيت:24 )     اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ (بھی) ہے کہ وہ تمہیں ڈرانے اور امیدوار بنانے کے لئے بجلیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اس میں (بھی) عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔

    الروم:25  ( الروم:30 – آيت:25 )     اس کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اسی کے حکم سے قائم ہیں، پھر بھی جب وہ تمہیں آواز دے گا صرف ایک بار کی آواز کے ساتھ ہی تم سب زمین سے نکل آؤ گے

    الروم:26  ( الروم:30 – آيت:26 )     اور زمین و آسمان کی ہر ہر چیز اسی کی ملکیت ہے اور ہر ایک اس کے فرمان کے ماتحت ہے ۔

    الروم:27  ( الروم:30 – آيت:27 )     وہی ہے جو اول بار مخلوق کو پیدا کرتا ہے پھر سے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ تو اس پر بہت ہی آسان ہے۔ اسی کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے آسمانوں میں اور زمین میں بھی اور وہی غلبے والا حکمت والا ہے۔

    الروم:28  ( الروم:30 – آيت:28 )     اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی ہے، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وہ اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطرہ رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کرتے ہیں۔

    الروم:29  ( الروم:30 – آيت:29 )     بلکہ بات یہ ہے کہ یہ ظالم تو بغیر علم کے خواہش پرستی کر رہے ہیں، اسے کون راہ دکھائے جسے اللہ تعالیٰ راہ سے ہٹا دے ان کا ایک بھی مددگار نہیں ۔

    الروم:30  ( الروم:30 – آيت:30 )     پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اس اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ (5)

    الروم:31  ( الروم:30 – آيت:31 )     (لوگو!) اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس سے ڈرتے رہو اور نماز قائم رکھو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ

    الروم:32  ( الروم:30 – آيت:32 )     ان لوگوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ گروہ ہو گئے ہر گروہ اس چیز پر جو اس کے پاس ہے مگن ہے۔

    الروم:33  ( الروم:30 – آيت:33 )     لوگوں کو جب کبھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف (پوری طرح) رجوع ہو کر دعائیں کرتے ہیں، پھر جب وہ اپنی طرف سے رحمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتی ہے۔

    الروم:34  ( الروم:30 – آيت:34 )     تاکہ وہ اس چیز کی ناشکری کریں جو ہم نے دی ہے اچھا تم فائدہ اٹھا لو ابھی ابھی تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

    الروم:35  ( الروم:30 – آيت:35 )     کیا ہم نے ان پر کوئی دلیل نازل کی ہے جو اسے بیان کرتی ہے جسے یہ اللہ کے ساتھ شریک کر رہے ہیں۔

    الروم:36  ( الروم:30 – آيت:36 )     اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ خوب خوش ہو جاتے ہیں اور اگر انہیں ان کے ہاتھوں کے کرتوت کی وجہ سے کوئی برائی پہنچے تو ایک دم وہ محض نا امید ہو جاتے ہیں

    الروم:37  ( الروم:30 – آيت:37 )     کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشادہ روزی دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ، اس میں بھی لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں نشانیاں ہیں۔

    الروم:38  ( الروم:30 – آيت:38 )     پس قرابت دار کو مسکین کو مسافر کو ہر ایک کو اس کا حق دیجئے یہ ان کے لئے بہتر ہے جو اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنا چاہتے ہوں ایسے لوگ نجات پانے والے ہیں۔

    الروم:39  ( الروم:30 – آيت:39 )     تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں بڑھتا اور جو کچھ صدقہ زکوٰۃ تم اللہ تعالیٰ کا منہ دیکھنے (اور خوشنودی کے لئے) دو تو ایسے لوگ ہی ہیں اپنا دوچند کرنے والے ہیں ۔

    الروم:40  ( الروم:30 – آيت:40 )     اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پھر روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے پاکی اور برتری ہے ہر اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔

    الروم:41  ( الروم:30 – آيت:41 )     خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آ جائیں

    الروم:42  ( الروم:30 – آيت:42 )     زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا جن میں اکثر لوگ مشرک تھے ۔

    الروم:43  ( الروم:30 – آيت:43 )     پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وہ دن آ جائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں اس دن سب متفرق ہو جائیں گے۔

    الروم:44  ( الروم:30 – آيت:44 )     کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہو گا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاہ سنوار رہے ہیں۔

    الروم:45  ( الروم:30 – آيت:45 )     تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

    الروم:46  ( الروم:30 – آيت:46 )     اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی ہواؤں کو چلانا بھی ہے اس لئے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے اور اس لئے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لئے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو اور اس لئے کہ تم شکر گزاری کرو (5)

    الروم:47  ( الروم:30 – آيت:47 )     اور ہم نے آپ سے پہلے بھی اپنے رسولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا وہ ان کے پاس دلیلیں لائے۔ پھر ہم نے گناہ گاروں سے انتقام لیا۔ ہم پر مومنوں کی مدد کرنا لازم ہے ۔

    الروم:48  ( الروم:30 – آيت:48 )     اللہ تعالیٰ ہوائیں چلاتا ہے وہ ابر کو اٹھاتی ہیں پھر اللہ تعالیٰ اپنی منشا کے مطابق اسے آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے پھر آپ دیکھتے ہیں اس کے اندر سے قطرے نکلتے ہیں اور جنہیں اللہ چاہتا ہے ان بندوں پر وہ پانی برساتا ہے تو وہ خوش خوش ہو جاتے ہیں۔

    الروم:49  ( الروم:30 – آيت:49 )     یقین ماننا کہ بارش ان پر برسنے سے پہلے پہلے تو وہ نا امید ہو رہے تھے۔

    الروم:50  ( الروم:30 – آيت:50 )     پس آپ رحمت الٰہی کے آثار دیکھیں کہ زمین کی موت کے بعد کس طرح اللہ تعالیٰ اسے زندہ کر دیتا ہے؟ کچھ شک نہیں کہ وہی مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے۔

    الروم:51  ( الروم:30 – آيت:51 )     اور اگر ہم باد تند چلا دیں اور یہ لوگ انہی کھیتوں کو (مرجھائی ہوئی) زرد پڑی ہوئی دیکھ لیں تو پھر اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں ۔

    الروم:52  ( الروم:30 – آيت:52 )     بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں۔

    الروم:53  ( الروم:30 – آيت:53 )     اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہدایت کرنے والے ہیں آپ تو صرف ان ہی لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں پس وہی اطاعت کرنے والے ہیں ۔

    الروم:54  ( الروم:30 – آيت:54 )     اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد توانائی دی، پھر اس توانائی کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ سب سے پورا واقف اور سب پر پورا قادر ہے۔

    الروم:55  ( الروم:30 – آيت:55 )     اور جس دن قیامت برپا ہو جائے گی گناہگار لوگ قسمیں کھائیں گے کہ (دنیا میں) ایک گھڑی کے سوا نہیں ٹھہرے اسی طرح بہکے ہوئے ہی رہے ۔

    الروم:56  ( الروم:30 – آيت:56 )     اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا وہ جواب دیں گے کہ تم تو جیسا کہ کتاب اللہ میں ہے یوم قیامت تک ٹھہرے رہے آج کا یہ دن قیامت ہی کا دن ہے لیکن تم تو یقین ہی نہیں مانتے تھے

    الروم:57  ( الروم:30 – آيت:57 )     پس اس دن ظالموں کو ان کا عذر بہانہ کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان سے توبہ اور عمل طلب کیا جائے گا

    الروم:58  ( الروم:30 – آيت:58 )     بیشک ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے سامنے کل مثالیں بیان کر دی ہیں آپ ان کے پاس کوئی بھی نشانی لائیں یہ کافر تو یہی کہیں گے کہ تم (بیہودہ گو) بالکل جھوٹے ہو۔

    الروم:59  ( الروم:30 – آيت:59 )     اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے یوں ہی مہر لگا دیتا ہے۔

    الروم:60  ( الروم:30 – آيت:60 )     پس آپ صبر کریں یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ آپ کو وہ لوگ ہلکا (بے صبرا) نہ کریں جو یقین نہیں رکھتے۔