islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. سورة الحِجر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة الحِجر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی

    سورة الحِجر ترجمہ محمد خان جونا گڈھی
    Rate this post

    الحِجر:1   ( الحِجر:15 – آيت:1 )      ا لر، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلی اور روشن قرآن کی ۔

    الحِجر:2   ( الحِجر:15 – آيت:2 )      وہ وقت بھی ہو گا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے ۔

    الحِجر:3   ( الحِجر:15 – آيت:3 )      آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئیے یہ خود بھی جان لیں گے ۔

    الحِجر:4   ( الحِجر:15 – آيت:4 )      کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے مقررہ نوشتہ تھا

    الحِجر:5   ( الحِجر:15 – آيت:5 )      کوئی گروہ اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا نہ پیچھے رہتا

    الحِجر:6   ( الحِجر:15 – آيت:6 )      انہوں نے کہا اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے

    الحِجر:7   ( الحِجر:15 – آيت:7 )      اگر تو سچا ہی ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا ۔

    الحِجر:8   ( الحِجر:15 – آيت:8 )      ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وہ مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے

    الحِجر:9   ( الحِجر:15 – آيت:9 )      ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔

    الحِجر:10( الحِجر:15 – آيت:10 )    ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی رسول (برابر) بھیجے۔

    الحِجر:11( الحِجر:15 – آيت:11 )    اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے ۔

    الحِجر:12( الحِجر:15 – آيت:12 )    گناہگاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح ہی رچا دیا کرتے ہیں ۔

    الحِجر:13( الحِجر:15 – آيت:13 )    وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے ۔

    الحِجر:14( الحِجر:15 – آيت:14 )    اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازہ کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں۔

    الحِجر:15( الحِجر:15 – آيت:15 )    تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے۔

    الحِجر:16( الحِجر:15 – آيت:16 )    یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اسے سجا دیا گیا ہے۔

    الحِجر:17( الحِجر:15 – آيت:17 )    اور اسے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھا ہے

    الحِجر:18( الحِجر:15 – آيت:18 )    ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دھکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے ۔

    الحِجر:19( الحِجر:15 – آيت:19 )    اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی۔

    الحِجر:20( الحِجر:15 – آيت:20 )    اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو ۔

    الحِجر:21( الحِجر:15 – آيت:21 )    اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم ہر چیز کو اس کے مقررہ انداز سے اتارتے ہیں۔

    الحِجر:22( الحِجر:15 – آيت:22 )    اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں پھر آسمان سے پانی برسا کر وہ تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو ۔

    الحِجر:23( الحِجر:15 – آيت:23 )    ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالآخر) وارث ہیں۔

    الحِجر:24( الحِجر:15 – آيت:24 )    اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔

    الحِجر:25( الحِجر:15 – آيت:25 )    آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وہ بڑی حکمتوں والا ہے۔

    الحِجر:26( الحِجر:15 – آيت:26 )    یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے ۔

    الحِجر:27( الحِجر:15 – آيت:27 )    اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا۔

    الحِجر:28( الحِجر:15 – آيت:28 )    اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں۔

    الحِجر:29( الحِجر:15 – آيت:29 )    تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لئے سجدے میں گر پڑنا ۔

    الحِجر:30( الحِجر:15 – آيت:30 )    چنانچہ تمام فرشتوں نے سب کے سب نے سجدہ کر لیا۔

    الحِجر:31( الحِجر:15 – آيت:31 )    مگر ابلیس کے، کہ اس نے سجدہ کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

    الحِجر:32( الحِجر:15 – آيت:32 )    (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟

    الحِجر:33( الحِجر:15 – آيت:33 )    وہ بولا کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجدہ کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے ۔

    الحِجر:34( الحِجر:15 – آيت:34 )    فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیونکہ تو راندہ درگاہ ہے۔

    الحِجر:35( الحِجر:15 – آيت:35 )    تجھ پر میری پھٹکار ہے قیامت کے دن تک۔

    الحِجر:36( الحِجر:15 – آيت:36 )    کہنے لگا میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوبارہ اٹھ کھڑے کیئے جائیں۔

    الحِجر:37( الحِجر:15 – آيت:37 )    فرمایا کہ اچھا تو ان میں سے ہے جنہیں مہلت ملی ہے۔

    الحِجر:38( الحِجر:15 – آيت:38 )    روز مقرر کے وقت تک۔

    الحِجر:39( الحِجر:15 – آيت:39 )    (شیطان نے) کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی۔

    الحِجر:40( الحِجر:15 – آيت:40 )    سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لئے گئے ہیں۔

    الحِجر:41( الحِجر:15 – آيت:41 )    ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راہ ہے

    الحِجر:42( الحِجر:15 – آيت:42 )    میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں لیکن ہاں جو گمراہ لوگ تیری پیروی کریں۔

    الحِجر:43( الحِجر:15 – آيت:43 )    یقیناً سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

    الحِجر:44( الحِجر:15 – آيت:44 )    جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لئے ان کا ایک حصہ بنا ہوا ہے

    الحِجر:45( الحِجر:15 – آيت:45 )    پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہونگے

    الحِجر:46( الحِجر:15 – آيت:46 )    (ان سے کہا جائیگا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔

    الحِجر:47( الحِجر:15 – آيت:47 )    ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش و کینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے وہ بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔

    الحِجر:48( الحِجر:15 – آيت:48 )    نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے۔

    الحِجر:49( الحِجر:15 – آيت:49 )    میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے والا اور بڑا مہربان ہوں۔

    الحِجر:50( الحِجر:15 – آيت:50 )    ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں۔

    الحِجر:51( الحِجر:15 – آيت:51 )    انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو۔

    الحِجر:52( الحِجر:15 – آيت:52 )    کہ جب انہوں نے ان کے پاس آ کر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو ڈر لگتا ہے

    الحِجر:53( الحِجر:15 – آيت:53 )    انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں۔

    الحِجر:54( الحِجر:15 – آيت:54 )    کہا، کیا اس بڑھاپے کے آ جانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟

    الحِجر:55( الحِجر:15 – آيت:55 )    انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں ۔

    الحِجر:56( الحِجر:15 – آيت:56 )    کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں ۔

    الحِجر:57( الحِجر:15 – آيت:57 )    پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟

    الحِجر:58( الحِجر:15 – آيت:58 )    انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔

    الحِجر:59( الحِجر:15 – آيت:59 )    مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو ضرور بچا لیں گے

    الحِجر:60( الحِجر:15 – آيت:60 )    سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی رہ جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے۔

    الحِجر:60( الحِجر:15 – آيت:61 )    جب بھیجے ہوئے فرشتے آل لوط کے پاس پہنچے۔

    الحِجر:62( الحِجر:15 – آيت:62 )    تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو ۔

    الحِجر:63( الحِجر:15 – آيت:63 )    انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے ۔

    الحِجر:64( الحِجر:15 – آيت:64 )    ہم تیرے پاس (صریح) حق لائے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے ۔

    الحِجر:65( الحِجر:15 – آيت:65 )    اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا اور (خبردار) تم میں سے (پیچھے) مڑ کر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جا رہا ہے وہاں چلے جانا۔

    الحِجر:66( الحِجر:15 – آيت:66 )    ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہو تے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی ۔

    الحِجر:67( الحِجر:15 – آيت:67 )    اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے ۔

    الحِجر:68( الحِجر:15 – آيت:68 )    (لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو ۔

    الحِجر:69( الحِجر:15 – آيت:69 )    اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے رسوا نہ کرو۔

    الحِجر:70( الحِجر:15 – آيت:70 )    وہ بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟ ۔

    الحِجر:71( الحِجر:15 – آيت:71 )    (لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں ۔

    الحِجر:72( الحِجر:15 – آيت:72 )    تیری عمر کی قسم! وہ تو اپنی بد مستی میں سرگرداں تھے ۔

    الحِجر:73( الحِجر:15 – آيت:73 )    پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا ۔

    الحِجر:74( الحِجر:15 – آيت:74 )    بالآخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر برسائے۔

    الحِجر:75( الحِجر:15 – آيت:75 )    بلاشبہ بصیرت والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔

    الحِجر:76( الحِجر:15 – آيت:76 )    یہ بستی راہ پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گزرگاہ) ہے ۔

    الحِجر:77( الحِجر:15 – آيت:77 )    اور اس میں ایمان داروں کے لئے بڑی نشانی ہے۔

    الحِجر:78( الحِجر:15 – آيت:78 )    ایک بستی کے رہنے والے بھی بڑے ظالم تھے

    الحِجر:79( الحِجر:15 – آيت:79 )    جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں

    الحِجر:80( الحِجر:15 – آيت:80 )    اور حجر والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا

    الحِجر:81( الحِجر:15 – آيت:81 )    اور ہم نے اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے ۔

    الحِجر:82( الحِجر:15 – آيت:82 )    یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہو کر ۔

    الحِجر:83( الحِجر:15 – آيت:83 )    آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑ نے آ دبوچا ۔

    الحِجر:84( الحِجر:15 – آيت:84 )    پس ان کی کسی تدبیر و عمل نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔

    الحِجر:85( الحِجر:15 – آيت:85 )    ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا ہے، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن و خوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے۔

    الحِجر:86( الحِجر:15 – آيت:86 )    یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔

    الحِجر:87( الحِجر:15 – آيت:87 )    یقیناً ہم نے سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ وہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے۔

    الحِجر:88( الحِجر:15 – آيت:88 )    آپ ہرگز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہرہ مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں ۔

    الحِجر:89( الحِجر:15 – آيت:89 )    اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔

    الحِجر:90( الحِجر:15 – آيت:90 )    جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا ۔

    الحِجر:91( الحِجر:15 – آيت:91 )    جنہوں نے اس کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے

    الحِجر:92( الحِجر:15 – آيت:92 )    قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے۔

    الحِجر:93( الحِجر:15 – آيت:93 )    ہر چیز کی جو وہ کرتے تھے۔

    الحِجر:94( الحِجر:15 – آيت:94 )    پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جا رہا ہے کھول کر سنا دیجئے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجئے۔

    الحِجر:95( الحِجر:15 – آيت:95 )    آپ سے جو لوگ مسخرا پن کرتے ہیں ان کی سزا کے لئے ہم کافی ہیں۔

    الحِجر:96( الحِجر:15 – آيت:96 )    جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا۔

    الحِجر:97( الحِجر:15 – آيت:97 )    ہمیں خوب علم ہے کہ ان باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔

    الحِجر:98( الحِجر:15 – آيت:98 )    آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجدہ کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔

    الحِجر:99( الحِجر:15 – آيت:99 )    اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آ جائے ۔