زندگی میں معیشت

معیشت کا معنی یہ ہے کہ انسانی اپنی فردی اور سماجی زندگی ایسے اصولوں کے مطابق گزارے، جو معاشی اور اقتصادی کاموں سے تعلق رکھتے ہون، غالبا معاش کا لفظ انسان کی زندگی میں خرچ اور کمائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

زندگی میں معیشت کی اہمیت

اسلام میں زندگی کی خاص اہمیت ہے کیونکہ تمام دنیا اور آخرت کے کاموں کا تعلق زندگی سے ہے، تمام کاموں میں میانہ روی کا کہا گیا ہے، اسی طرح زندگی اور معاش میں بھی میانہ روی ہونی چاہئے۔
غریبی، امیری، بخل و کنجوسی اور اسراف جیسے مفاہیم بھی معیشت کے ضمن میں آتے ہیں۔ اسلام نے غربت، اور وہ امیری جو اسراف کی وجہ بنے اس کی نفی کی ہے۔ قرآن مجید میں رزق کو معیشت کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔ خدا نے انسان کی معیشت کو پورا کرنے کا وعدہ کیا ہے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ مَا مِنۡ دَآ بَّةٍ فِى الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَ يَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا‌ؕ كُلٌّ فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ
اور زمین پر چلنے والی کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جس کا رزق خدا کے ذمہ نہ ہو -وہ ہر ایک کے سونپے جانے کی جگہ اور اس کے قرار کی منزل کو جانتا ہے اور سب کچھ کتاب مبین میں محفوظ ہے
القرآن – سورۃ 11 – هود – آیت 6

راہِ خدا میں جہاد کرنا

اسلامی تعلیمات میں مادی ضروریات کے لیے کوشش کرنا اور انہیں فراہم کرنے کو اللہ کی راہ میں جہاد کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق اپنے اہل خانہ کے لیے حلال روزی حاصل کرنے کو عبادت قرار دیا گیا ہے، اور معیشت کی کوشش انبیاء اور اولیا کی سیرت ہے۔

رزق زیادہ کرنے کے طریقے

اسلام میں روزی کو زیادہ کرنے کے بہت سے اسباب کا ذکر کیا گیا ہے جیسے کہ کاروبار ، تجارت، زراعت اور ان کے علاوہ دعا، نیک اخلاق، اور ظلم سے دوری بھی معیشت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، رسول اکرم صلی الله عليه و آلہ و سلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا: اے ابوذر! بے شک کبھی کبھار گناہ کی وجہ سے بھی انسانی کی روزی کم ہو جاتی ہے۔ ( بحار الانوار جلد 74 صفحہ77)
ایک اور حدیث میں فرمایا گیا ہے: «الخلق یزید فی الرزق» ( سفینۃ النجاۃ جلد 3 صفحہ 178)
ترجمہ: نیک اخلاق روزی میں اضافہ کرتا ہے۔

نبی کریم نے عبادت کے 10 حصے بتائے ہیں، ان میں سے 9 حصوں کو زندگی کے امور سنبھالنے کے لئے حلال روزی کمانے کو قرار دیا ہے۔ (بحار الانوار جلد 100، صفحہ 9)

اسلامی تعلیمات میں بیان ہوا ہے کہ عقل مندی کی انتہا تین چیزوں میں چھپی ہوئی ہے: ساری کامیابیاں تین چیزوں میں چھپی ہوئی ہیں: دین کو صحیح سے سمجھنا، سختیوں کو برداشت کرنا، اور معاشی زندگی کے لئے منصوبہ بندی کرنا۔

روحانی عامل

قرآن مجید نے معیشت میں روحانیت کو بھی داخل سمجھا ہے، یادِ خدا سے دوری کی وجہ سے انسان اپنی زندگی سے پر سکون نہیں رہتا ہے۔
کچھ لوگ زندگی کو اسی دنیائے فانی میں منحصر سمجھتے ہیں، اس لئے زندگی میں تمام سہولیات کے ہونے کے باوجود بھی روحی طور پر خوشی کا احساس نہیں کرتے ہیں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَـهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى‏
اور جو میرے ذکر سے اعراض کرے گا اس کے لئے زندگی کی تنگی بھی ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا بھی محشور کریں گے۔
القرآن – سورۃ 20 – طه – آیت 124

کوئی غربت کا شکار نہیں ہوگا

اسلام میں غربت کی کوئی جگہ نہیں ہے، اگر تمام مسلمان اسلامی احکامات پر عمل کرے تو کسی کو معاشی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
جیسا کہ زکات، خمس، انفاق اور ایثار، ان سب سے اسلامی معاشرے میں عوام کی معیشت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں، البتہ اگر مسلنان ان تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ مل کر تجارت کرنا شامل ہے، امام علی علیہ السلام نے بھی زندگی میں معیشت کے لیے کوشش کی ہے، البتہ کبھی خدا انسان کو غربت کے ذریعے آزمائش کرتا ہے، اور تب خود یہ بھی فضیلت کی وجہ بن جاتی ہے۔

حوالہ جات

1- قرآن کریم
2- نہج البلاغۃ
3-بحار الانوار ، مجلسی
4- سفینۃ البحار ، محدث قمی
5- سیره ابن ہشام ، ابن هشام
6-تاریخ الامم و الملوک ، طبری


more post like this