حضرت زینب سلام اللہ علیھا علی ع و فاطمہ س کی بیٹی اور پیغمبر اکرم ص کی نواسی ہیں ۔ آپ نہایت ہی بافضیلت خاتون تھیں ۔ اس کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ امام علی زین العابدین ع آپ کو عالمہ غیر معلمہ[1]]ایسی عالمہ جس نے کسی سے اکتساب علم نہیں کیا[ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ آپ کے کمالات صرف علم تک ہی محدود نہیں بلکہ زندگی کے مختلف حصوں میں آپ کی شخصیت کے مختلف پہلو منظر عام پر آئے۔ جیسا کہ ہم کربلا اور اس کے بعد والے واقعات میں آپ کی شجاعت اور فن خطابت کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔
آپ کی ولادت:
حضرت زینب س کی تاریخ ولادت کے بارے میں مختلف روایات پائی جاتی ہیں ۔ ان میں سے معتبر ترین روایت کے مطابق آپ کی ولادت ٥ جمادی الاول سن ٦ ہجری کو مدینہ میں ہوئی[2]
آپ کیلئے نام کا انتخاب:
روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت زینب س پیدا ہوئیں تو پیغمبر اکرم ص مدینہ میں نہیں تھے۔ لہذا حضرت فاطمہ س نے امام علی ع کو کہا کہ آپ اس بچی کیلئے کوئی نام انتخاب کریں ۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول خدا ص کے واپس آنے کا انتظار کر لیا جائے[3]۔ جب پیغمبر اکرم ص سفر سے واپس آئے تو حضرت علی ع نے انہیں یہ خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اس بچی کا نام آپ انتخاب کریں ۔ آپ ص نے فرمایا کہ اس کا نام خدا انتخاب کرے گا[4]۔ اسی وقت جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ “خدا نے اس بچی کا نام زینب رکھا ہے”[5]
حضرت زینب س کا بچپن اور تربیت:
انسان کی زندگی کا اہم ترین زمانہ اس کے بچپن کا زمانہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی شخصیت کا قابل توجہ حصہ اس دور میں معرض وجود میں آتا ہے۔ اس سے بھی اہم وہ افراد ہوتے ہیں جو اس کی تربیت میں موثر واقع ہوتے ہیں ۔
حضرت زینب س کی خوش قسمتی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی تربیت کرنے والی خاتون سیدہ نساء العالمین حضرت فاطمہ س ہیں اورآپ امام علی ع جیسے باپ کی زیر نگرانی پرورش پاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکرم ص، جو تمام انسانوں کیلئے “اسوہ حسنہ” ہیں ، نانا کی حیثیت سے آپ کے پاس موجود ہیں
حضرت زینب کبریٰ (س) کی شخصیت کا مختلف پہلوؤ:
ثانی زہرا (س) حضرت زینب کبریٰ (س) کی شخصیت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔یقینی طور پر جس نے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ زہرا (س) جیسی الہی و آسمانی شخصیات کے دامان فضيلت میں تربیت پائي ہو یقینی طور پر اس کی ذات اعلیٰ ترین اور گرانقدر خصوصیات سے آراستہ ہوگی لیکن حضرت زینب (س) کی حیات طیبہ کا ایک اہم باب کربلا کی جاودانہ تحریک اور قیام عاشورا سے مربوط ہے ۔اموی حکام کے فسق و فجور ، ظلم و ناانصافی اور بدعنوانیوں کے خلاف تحریک کے تمام مراحل میں حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کے ساتھ ساتھ رہیں ۔اپنے بھائی امام حسین (ع) سے حضرت زینب (س) کی محبت اور قلبی لگاؤ کی مثال تاریخ پیش نہیں کرسکی ۔روایتوں میں ملتا ہے کہ جب تک آپ روزانہ اپنے بھائی کا دیدار نہ کرلتیں انہیں سکون میسر نہیں ہوتا ۔لیکن خداوند وحدہ لاشریک سے حضرت زینب (س) کا عشق الہی ناقابل توصیف ہے ۔ایسا عشق الہی جو آپ کو فرامین الہی پر عمل اور اس کے نفاذ کے لئے سعی و کوشش کی دعوت دیتا اسی لئے حضرت زينب (س) نے رفاہ و آسائش کی زندگی اور راحت دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور اپنے بچوں کے ہمراہ ظلم و جہالت کے خلاف جد وجہد کی راہ میں در پیش مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔اسی لئے جب سرزمین کربلا میں طوفان حوادث و بلا کا مقابلہ کیا تو خدا کے حضور تسلیم و رضا کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے عزیزوں کی قربانیوں اور بچوں کو راہ خدا میں قربان کردینے جیسے انتہائی مشکل حالات میں خداوند عالم کے لطف و رحمت کے سایہ میں پناہ لیں اور یوں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوکر اپنے درد و غم کا مداوا کرتیں ۔آپ نماز و نیایش کے ذریعہ دوبارہ ہمت و حوصلہ پائیں اورانوارالہی اس طرح آپ کے قلب مطہر میں جلوہ افروز ہوئے کہ دنیا کے مصائب و آلام ان انوار الہیہ کے مقابلے میں ہوا ہوجاتے ۔امام حسین علیہ السلام اپنی بہن زینب (س) کے اخلاص و بندگی کے اس درجہ قائل تھے کہ جب آپ عصر عاشورا رخصت آخر کے لئے بہن کے پاس تشریف لائے توفرمایا يا اختاه لا تنسينی فی نافلة الليل[6]میری بہن زینب (س) نماز شب میں مجھے فراموش نہ کرنا ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی صبر و شکیبائی کا مرقع ہے ۔حضرت زینب (س) نے کربلا کے میدان میں اپنے بھائي بھتیجوں ، بچوں اور عزیزوں کی شہادت کے بعد صبر کا سہارا لیا البتہ یہ اپنی تسکین کے لئے نہیں بلکہ صبر کا سہارااس لئے لیا کہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو عملی جامہ پہنا سکیں ۔ ان کا صبر با مقصد تھا ،چنانچہ تیر وتلوار سے لیس دشمنوں کا ظاہری رعب و دبدبہ خاک میں مل گيا ۔
حضرت زینب (س) کے خطبات:
حضرت زینب (س) اس قدر فصیح و بلیغ خطبہ بیان فرماتیں کہ آپ کے ایک ایک جملے لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے ۔آپ گھر میں ،مسجد میں اور جہاں بھی ممکن ہوتا لوگوں کے درمیان خطبہ دیتیں تاکہ امام حسین (ع) کا مشن بھلایا نہ جاسکے اور ان کی تحریک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجائے ، اور آپ کے دو خطبہ مشہور ہیں :
امّ المصائب نے کوفه ميں یہ خطبہ ارشاد فرمایا:
“سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لئے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمد ص پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ! اے اہل فریب و مکر! کیا اب تم روتے ہو؟ خدا کرے تمھارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو۔ تمھاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری بانٹی اور پھر خود ہی اسے کھول دیا اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا تم منافقانہ طورپر ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو جن میں کوئی صداقت نہیں ۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، ڈینگ مارنے والے ، پیکر فسق و فجور اور فسادی، کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کے غماز ہو۔ تمھاری مثال کثافت]گندگی[ پر اگنے والے سبزے یا اس چاندی جیسی ہے جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔
آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خدا وند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لئے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و زاری کرتے ہو؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ روؤ زیادہ اور ہنسو کم۔ تم اپنے امام علیہ السلام کے قتل میں ملوث ہو چکے ہو اور تم اس داغ کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوت اور معدن رسالت کے سلیل (فرزند) اور جوانان جنت کے سردار، جنگ میں اپنے پشت پناہ، مصیبت میں جائے پناہ، منار حجت اور عالم سنت کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لئے۔ تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیا ہے اور آخرت کے لئے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمھاری کوشش رائیگاں ہو گئی اورتم برباد ہو گئے۔ تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے۔ تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول خدا ص کے کس جگرگوشہ کو پارہ پارہ کر دیا ؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ؟ تم نے ایسے پست اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں ، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں ۔ تم نے قتلِ امام ع کا سنگین جرم کیا ہے جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اگر اس قدر بڑے گناہ پر آسمان سے خون برسے تو تعجب نہ کرو۔ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور رسوا کن ہو گا۔ اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خدا وندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا اور اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے”۔
٢ـ دربار یزید میں حضرت زینب س کا خطبہ:
“بسم اللہ الرحمن الرحیم سب تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو کائنات کا پروردگار ہے۔ اور خدا کی رحمتیں نازل ہوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پراور ان کی پاکیزہ عترت و اہل بیت ع پر۔ اما بعد ! بالاخر ان لوگوں کا انجام برا ہے جنہوں نے اپنے دامن حیات کو برائیوں کی سیاہی سے داغدار کر کے اپنے خدا کی آیات کی تکذیب کی اور آیات پروردگار کا مذاق اڑایا۔ اے یزید! کیا تو سمجھتا ہے کہ تو نے ہم پر زمین کے گوشے اور آسمان کے کنارے]زمین و آسمان[ تنگ کر دئیے ہیں اور کیا آلِ رسول (ص) کو رسیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر دربدر پھرانے سے تو خدا کی بارگاہ میں سرفراز اور ہم رسوا ہوئے ہیں ؟۔ کیا تیرے خیال میں ہم مظلوم ہو کر ذلیل ہو گئے اور تو ظالم بن کر سر بلند ہوا ہے؟۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم پر ظلم کر کے خدا کی بارگاہ میں تجھے شان و مقام حاصل ہو گیا ہے؟۔ آج تو اپنی ظاہری فتح کی خوشی میں سرمست ہے اور ناک بھوں چڑھاتا ہوا مسرت و شادمانی سے سرشار ہو کر اپنے غالب ہونے پر اترا رہا ہے۔ اور زمامداری]خلافت[ کے ہمارے مسلمہ حقوق کو غصب کر کے خوشی و سرور کا جشن منانے میں مشغول ہے اپنی غلط سوچ پر مغرور نہ ہو اور ذرا دم لے۔ کیا تو نے خدا کا یہ فرمان بھلا دیا ہے کہ حق کا انکار کرنے والے یہ خیال نہ کریں کہ ہم نے انہیں جو مہلت دی ہے وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ بلکہ ہم نے انہیں اس لئے ڈھیل دے رکھی ہے کہ جی بھر کر اپنے گناہوں میں اضافہ کر لیں ۔اور ان کے لئے خوفناک عذاب معین و مقرر کیا جا چکا ہے۔
اے طلقاء کے بیٹے (آزاد کردہ غلاموں کی اولاد) کیا یہ تیرا انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو چادر اور چار دیواری کا تحفظ فراہم کر کے پردے میں رکھا ہوا ہے جبکہ رسول زادیوں کو سر برہنہ در بدر پھرا رہا ہے۔ تو نے مخدرات عصمت کی چادریں لوٹ لیں اور ان کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا۔ تیرے حکم پر اشقیائ نے رسول زادیوں کو بے نقاب کر کے شہر بہ شہر پھرایا۔ تیرے حکم پر دشمنان خدا، اہل بیت رسول (ص) کی پاکدامن مستورات کو ننگے سر لوگوں کے ہجوم میں لے آئے۔ اورلوگ رسول زادیوں کے کھلے سر دیکھ کر ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دور و نزدیک کے رہنے والے سب لوگ ان کی طرف نظریں اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے ہیں ۔ ہر شریف و کمینے کی نگاہیں ان پاک بی بیوں کے ننگے سروں پر جمی ہیں ۔ آج رسول زادیوں کے ساتھ ہمدردی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ آج ان قیدی مستورات کے ساتھ ان کے مرد موجود نہیں ہیں جو اِن کی سرپرستی کریں ۔ آج آلِ محمد ص کا معین و مددگار کوئی نہیں ہے۔
اس شخص سے بھلائی کی توقع ہی کیا ہو سکتی ہے جو اس خاندان کا چشم و چراغ ہو جس کی بزرگ خاتون (یزید کی دادی) نے پاکیزہ لوگوں کے جگر چبا کر تھوک دیا۔ اور اس شخص سے انصاف کی کیا امید ہو سکتی ہے جس کا گوشت پوست شہیدوں کے خون سے بنا ہو۔ وہ شخص کس طرح ہم اہل بیت پر مظالم ڈھانے میں کمی کر سکتا ہے جو بغض و عداوت اور کینے سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ہمیں دیکھتا ہے۔
اے یزید ! کیا تجھے شرم نہیں آتی کہ تو اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرنے اور اتنے بڑے گناہ کو انجام دینے کے باوجود فخر و مباہات کرتا ہوا یہ کہہ رہا ہے کہ آج اگر میرے اجداد موجود ہوتے تو ان کے دل باغ باغ ہو جاتے اور مجھے دعائیں دیتے ہوئے کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔ اے یزید ! کیا تجھے حیا نہیں آتی کہ تو جوانانِ جنت کے سردار حسین ابن علی ع کے دندان مبارک پر چھڑی مار کر ان کی بے ادبی کر رہا ہے۔ اے یزید، تو کیوں خوش نہ ہو اور فخر و مباہات کے قصیدے نہ پڑھے کیونکہ تو نے اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے ہمارے دلوں کے زخموں کو گہرا کر دیا ہے اور شجرہ طیبہ کی جڑیں کاٹنے کے گھناؤنے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ تو نے اولاد رسول (ص) کے خون میں اپنے ہاتھ رنگین کئے ہیں ۔ تو نے عبدالمطلب کے خاندان کے ان نوجوانوں کو تہہ تیغ کیا ہے جن کی عظمت و کردار کے درخشندہ ستارے زمین کے گوشے گوشے کو منور کیے ہوئے ہیں ۔ آج تو آلِ رسول (ص) کو قتل کر کے اپنے بد نہاد]برے[ اسلاف کو پکار کر انہیں اپنی فتح کے گیت سنانے میں منہمک ہے۔تو عنقریب اپنے ان کافر بزرگوں کے ساتھ جا ملے گا اور اْس وقت اپنی گفتار و کردار پر پشیمان ہو کر یہ آرزو کرے گا کہ کاش میرے ہاتھ شل ہو جاتے اور میری زبان بولنے سے عاجز ہوتی اور میں نے جو کچھ کیا اور کہا اس سے میں باز رہتا۔
اس کے بعد حضرت زینب نے آسمان کی طرف منہ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کی ! اے ہمارے کردگارِ حق، تو ہمارا حق ان ظالموں سے ہمیں دلا دے اور تو ہمارے حق کا بدلہ ان سے لے۔ اے پردگار تو ہی ان ستمگروں سے ہمارا انتقام لے۔ اور اے خدا تو ہی ان پر اپنا غضب نازل فرما جس نے ہمارے عزیزوں کو خون میں نہلایا اور ہمارے مددگاروں کو تہہ تیغ کر دیا۔
اے یزید ! تو نے جو ظلم کیا ہے اپنے ساتھ کیا ہے۔ تو نے کسی کی نہیں بلکہ اپنی ہی کھال چاک کی ہے۔ اور تو نے کسی کا نہیں بلکہ اپنا ہی گوشت کاٹا ہے۔ تو رسولِ خدا ص کے سامنے ایک مجرم کی صورت میں لایا جائے گا اور تجھ سے تیرے اس گھناؤنے جرم کی باز پرس ہو گی کہ تو نے اولادِ رسول ص کا خونِ ناحق کیوں بہایا اور رسول زادیوں کو کیوں دربدر پھرایا۔ نیز رسول (ص) کے جگر پاروں کے ساتھ ظلم کیوں روا رکھا۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ خدا، آلِ رسول (ص) کا تجھ سے انتقام لے کر ان مظلوموں کا حق انہیں دلائے گا۔ اور انہیں امن و سکون کی نعمت سے مالامال کر دے گا۔ خدا کا فرمان ہے کہ تم گمان نہ کرو کہ جو لوگ راہِ خدا میں مارے گئے وہ مر مٹ چکے ہیں ۔ بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور بارگاہِ الٰہی سے روزی پا رہے ہیں ۔
اے یزید ! یاد رکھ کہ تو نے جو ظلم آلِ محمد ص پر ڈھائے ہیں اس پر رسول خدا ص عدالتِ الٰہی میں تیرے خلاف شکایت کریں گے۔ اور جبرائیلِ امین آلِ رسول ص کی گواہی دیں گے۔ پھر خدا اپنے عدل و انصاف کے ذریعے تجھے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اور یہی بات تیرے برے انجام کے لئے کافی ہے۔ عنقریب وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے جنہوں نے تیرے لئے ظلم و استبداد کی بنیادیں مضبوط کیں اور تیری آمرانہ سلطنت کی بساط بچھا کر تجھے اہل اسلام پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کو بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ ستمگروں کا انجام برا ہوتا ہے اور کس کے ساتھی ناتوانی کا شکار ہیں ۔
اے یزید ! یہ گردش ایام اور حوادث روزگار کا اثر ہے کہ مجھے تجھ جیسے بدنہاد]برے انسان[ سے ہمکلام ہونا پڑا ہے اور میں تجھ جیسے ظالم و ستمگر سے گفتگو کر رہی ہوں ۔ لیکن یاد رکھ میری نظر میں توْ ایک نہایت پست اور گھٹیا شخص ہے جس سے کلام کرنا بھی شریفوں کی توہین ہے۔ میری اس جر?ت سخن پر توْ مجھے اپنے ستم کا نشانہ ہی کیوں نہ بنا دے لیکن میں اسے ایک عظیم امتحان اور آزمائش سمجھتے ہوئے صبر و استقامت اختیار کروں گی اور تیری بد کلامی و بد سلوکی میرے عزم و استقامت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔
اے یزید ! آج ہماری آنکھیں اشکبار ہیں اور سینوں میں آتش غم کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیطان کے ہمنواؤں اور بدنام لوگوں نے رحمان کے سپاہیوں اور پاکباز لوگوں کو تہہ تیغ کرڈالا ہے۔ اور ابھی تک اس شیطانی ٹولے کے ہاتھوں سے ہمارے پاک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں ۔ ان کے ناپاک دہن ہمارا گوشت چبانے میں مصروف ہیں اور صحرا کے بھیڑئے ان پاکباز شہیدوں کی مظلوم لاشوں کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور جنگل کے نجس درندے ان پاکیزہ جسموں کی بے حرمتی کر رہے ہیں ۔
اے یزید ! اگر آج تو ہماری مظلومیت پر خوش ہو رہا ہے اور اسے اپنے دل کی تسکین کا باعث سمجھ رہا ہے تو یاد رکھ کہ جب قیامت کے دن اپنی بد کرداری کی سزا پائے گا تو اس کا برداشت کرنا تیرے بس سے باہر ہو گا۔ خدا عادل ہے اور وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ہم اپنی مظلومیت اپنے خدا کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ اور ہر حال میں اسی کی عنایات اور عدل و انصاف پر ہمارا بھروسہ ہے۔
اے یزید ! تو جتنا چاہے مکر و فریب کر لے اور بھر پور کوشش کر کے دیکھ لے مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ تو نہ تو ہماری یاد لوگوں کے دلوں سے مٹا سکتا ہے اور نہ ہی وحی الٰہی کے پاکیزہ آثار محو کر سکتا ہے۔
تو یہ خیال خام اپنے دل سے نکال دے کہ ظاہر سازی کے ذریعے ہماری شان و منزلت کو پا لے گا۔
تو نے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کیا ہے اس کا بد نما داغ اپنے دامن سے نہیں دھو پائے گا۔ تیرا نظریہ نہایت کمزور اور گھٹیا ہے۔
تری حکومت میں گنتی کے چند دن باقی ہیں ۔ تیرے سب ساتھی تیرا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ تیرے پاس اس دن کے لئے حسرت و پریشانی کے سوا کچھ بھی نہیں بچے گا۔ جب منادی ندا کرے گا کہ ظالم و ستمگر لوگوں کے لئے خدا کی لعنت ہے۔
ہم خدائے قدوس کی بارگاہ میں سپاس گزار ہیں کہ ہمارے خاندان کے پہلے فرد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سعادت و مغفرت سے بہرہ مند فرمایا اور ہمارے آخر (امام حسین علیہ السلام) کو شہادت و رحمت کی نعمتوں سے نوازا۔ ہم بارگاہِ ایزدی میں دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے شہیدوں کے ثواب و اجر میں اضافہ و تکمیل فرمائے اور ہم باقی سب افراد کو اپنی عنایتوں سے نوازے، بے شک خدا ہی رحم و رحمت کرنے والا اور حقیقی معنوں میں مہربان ہے۔ خدا کی عنایتوں کے سوا ہمیں کچھ مطلوب نہیں اور ہمیں صرف اور صرف اسی کی ذات پر بھروسہ ہے اس لئے کہ اس سے بہتر کوئی سہارا نہیں ہے”[7]
حضرت زینب (س) واقعہ کربلا کے بعد زیادہ عرصے حیات نہیں رہیں لیکن اسی مختصر سے عرصے میں کوشش کی کہ لوگوں کے ذہنوں پر پڑے جہالت و گمراہی کے پردے کو ہٹادیں اور انہیں غفلت سے نجات دلادیں اوراسی طرح معاشرے میں اہل بیت پیغمبر (ص) کے محوری کردار کو اجاگر کریں ۔حضرت زینب (س) نے ایک مضبوط مبلغہ و مدبّرہ کی حیثیت سے اپنی ٹھوس اورسنجیدہ تدبیروں کے ذریعہ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد کے واقعات اورحالات کو اس طرح سے سنبھالا کہ پوری کائنات کے لئے امام حسین (ع) اور ان کے مشن کی حقانیت واضح کردی حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا” ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 63 ہجری کودرجہ شہادت پر فائز ہوئیں [8]
[1]خصائص الزینبیة: صفحه27
[2]حضرت زینب فروغ تابان کوثر :ص17
[3]حضرت زينب سیره عملی اهلبیت :ص7
[4]ریاحین الشریعة : جلد 3 ، صفحه 38
[5]زنان عاشورائی :صفحه 32، السیدة زينب ،باقر شریف قرشی :ص 30-31
[6]زینب الکبری :ص61
[7]اللهوف :ص215 تا 218 ، بحار الانوار :جلد 45 ، ص 133تا 135
[8]حضرت زینب الکبری :ص167،زینب قهرمان :395
منبع:http://www.fazellankarani.com


more post like this