islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. تقویٰ اور صاحبانِ تقویٰ

    تقویٰ اور صاحبانِ تقویٰ

    • نذر حافی
    • http://www.ur.islamic-sources.com/
    تقویٰ اور صاحبانِ تقویٰ
    Rate this post

    تقویٰ اور صاحبانِ تقویٰ

    نذرحافی

    معاشرے میں فسق و فجور کے فروغ اور فسادات کے پھیلانے میں بدکار اور بے دین لوگوں کی طرح نام نہاد متّقی اور کھوکھلے پرہیزگاربھی برابر کے شریک ہیں۔یہ لوگ اپنے چہروں پر تقوے کا نقاب چڑھا کرعوام النّاس کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا تے ہوئے نت نئی خرافات اور بدعات کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ انھیں رائج بھی کرتے ہیں۔کبھی تویہ لوگ جعلی طورپرپیروں فقیروں کے بھیس میں اور کبھی تعویز گنڈے کرنے والوں کے روپ میں دین ِاسلام کا تمسخّر اڑاتے ہیں۔چونکہ ایسے لوگ بظاہر بڑے متّقی اور پارسا نظر آتے ہیں چنانچہ عوام بیچاری ان کے ہر قول و فعل کو حکم خدا و رسول سمجھ کراطاعت کرنے لگتی ہے جبکہ حقیقت میں ایسے لوگ دین ،عرفان اور تقویٰ کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔یہ ا پنی طرف سے کتاب و سنّت کی من مانی تفسیریں بیان کر کے لوگوں کے دین و ایمان سے کھیلتے ہوئے ان کی دنیا اور آخرت دونوں خراب کر دیتے ہیں۔ان میں سے بعض تو سرِ عام قرآن و احادیث کی من گھڑت توضیحات بیان کر کے حق کو باطل سے مخلوط کرتے ہیں،حرام کو حلال اور حلال کو حرام بیان کرتے ہیں،مستحبّات کو واجبات پر ترجیح اور واجبات کو ترک کرنے کی ترغیب دیتے ہیں،مشرکانہ جملات و کلمات بطور ورد لوگوں کو پڑھنے کے لئے دیتے ہیں نیزنجاسات کھانے کی ترغیب دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کودیگر حرام کاموں پر بھی اکساتے ہیں۔

    ایسے میں ضروری ہے کہ لوگوں کے سامنے قرآن و حدیث کی روشنی میں تقویٰ کی حقیقی تصویر پیش کی جائے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید ،اہل بیت،صحابہ کرام اور علمائے اسلام نے تقویٰ اور صاحبانِ تقویٰ کے بارے میں کیا معارف و مطالب بیان کئے ہیں۔

    سب سے پہلے لغت کی روشنی میں تقویٰ کے معانی پرایک نگاہ ڈالیئے۔

    لغت کی روشنی میں تقویٰ:

    صاحب مجمع البحرین نے لکھا ہے کہ تقویٰ، فعلیٰ کے وزن پر ہے مثلاً نجویٰ اور اس کا مصدر وقویُُ ُ ہے جس کا معنیٰ ہے روکنا۔

    المنجد کے مولف نے تقویٰ کا معنیٰ حفاظت اور نگرانی کرنا لکھا ہے۔

    مفردات میں راغب نے لکھا ہے :

    اَلوِقَایَةُ حِفظُ الشَّیء مِمّایُوذِیہِ وقایہ

    مضر اور نقصان دہ چیز سے حفاظت تقویٰ ہے۔

    اب آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں تقویٰ سے کیا مراد ہے:

    قرآن مجید میں تقویٰ کے معانی

    کلی طور پر قرآن مجید میں کلمہ تقویٰ تین معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔

    ١۔خوف و ڈر کے معنیٰ کے لئے

    قرآن مجید میں کلمہ تقویٰ خوف و ڈر کے معنیٰ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ٤١ میں ارشاد پروردگار ہے:

    وَاِیّایَِ فَاتَّقُون

    ٢۔اطاعت و عبادت

    قرآن مجید میں کلمہ تقویٰ اطاعت و عبادت کے معنیٰ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیت ١،٢ میں ارشاد پروردگار ہے:

    اِتَّقُوللہَ حقَّ تقاتہ

    ٣۔دل کو گناہوں سے پاک کرنا

    قرآن مجید میں کلمہ تقویٰ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کے معنیٰ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورہ نور کی آیت ٥٢ میں ارشاد پروردگار ہے:

    وَ مَن یطع اللہ ورسولہ و یخشی اللہ و یتّقہ فاولٰئک ھم الفائزون

    اگر ہم دقّت نظر سے کام لیں تو بخوبی یہ سمجھ جائیں گے کہ تقویٰ کے مندرجہ بالا تینوں معانی ایک ہی حقیقت کی طرف پلٹتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کے سامنے سر جھکائے رکھے۔

    دینی اصطلاح میں تقویٰ

    دین میں تقویٰ کی اصطلاح سے مراد انسان کا اپنے آپ میں گناہ سے بچنے کا ملکہ(ٹھوس صلاحیّت) پیدا کرنا ہے۔یعنی اپنے آپ میں گناہوں سے بچنے کی ٹھوس صلاحیّت پیدا کرنے کا نام تقویٰ ہے۔

    آئیے اب دیکھتے ہیں کہ معصومین نے تقویٰ کی کیا تعریف کی ہے اور کس چیز کو تقویٰ قرار دیا ہے۔

    تقویٰ معصومین کے الفاظ میں

    تقویٰ کی تعریف حضرت امام علی کی زبانی:

    اعلموعباداللہ انّ التقویٰ دارحصن

    اے خدا کے بندو جان لو کہ تقویٰ مضبوط قلعہ ہے (نہج البلاغہ خطبہ ١٥٧)

    پھر اسی خطبے میں آپ کا ارشاد مبارک ہے:

    فانّ التقوی اللہ مفتاح سدادوذخیرة معادوعتق من کل ملکةونجاة من کل ھلکة۔

    تقویٰ ہر دروازے کو کھولنے کی کنجی اورقیامت کے لیے ذخیرہ ہے اور شیطان کی ہرطرح کی غلامی سے آذادی کا باعث ہے اور ہر ہلاکت سے نجات ہے۔

    تقویٰ کی تعریف حضرت امام صادق کی زبانی:

    اَن لا یَفقُدَکَ اللہُ حَیثُ اَمَرَکَ،وَلا یَراکَ حَیثُ نَھاکَ۔

    تقویٰ یہ ہے کہ ہر وہ جگہ جہاں خدا نے حاضر ہونے کا حکم دیا ہے وہاں انسان حاضر ہو اور ہر وہ جگہ جہاں سے خدانے منع کیا ہے انسان وہاں حاضر نہ ہو۔

    تقویٰ کی تعریف مفسّرقرآن علامہ طباطبائی مرحوم کی زبانی

    علّامہ مرحوم نے تفسیرالمیزان جلد١٤صفحہ٤١پرسورہ حج کی آیت ٣٢

    ذَلِکَ وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اﷲِ فَِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوب

    ترجمہ:(32) یہ ہمارا فیصلہ ہے اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا یہ تعظیم اس کے دل کے تقوی کا نتیجہ ہوگی۔

    کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں تقویٰ کو قلوب کی طرف مضاف کرنے “تقوی القلوب”کی وجہ یہ ہے کہ خدا وند کی ناراضگی اور غضب سے بچنااورخدا کے حرام کردہ کاموں سے اجتناب کرناایک ایسا معنوی امر(قلبی کیفیت)ہے جس کا تعلق قلوب(دلوں)سے ہے اور یہی حقیقت میں تقویٰ ہے۔

    تقویٰ کی تعریف کے بعد قرآن وحدیث کی روشنی میں تقویٰ کی اہمیت کو جاننے کے لیئے قرآن و احادیث میں سے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیے:

    اہمیتِ تقویٰ قرآن مجید کی روشنی میں

    قرآن مجید میں متعدد مقامات پرتقویٰ سے متعلق گفتگوکی گئی ہے اور ٧٨مقامات پرجملہ”اتقوا”کے ذریعے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔تقویٰ کی اہمیت کے پیشِ نظر بطور نمونہ چند آیات ملاحظہ فرمائیں:

    ) وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوْاالْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَاِیَّاُکْم اَنِ اتَّقُوْا اللّٰہ

    اور ہم نے تم سے پہلے اہلِ کتاب کوبھی یہ وصیت کی ہے اور اب تمھیں بھی کہ تقویٰ ِ الٰہی اختیارکرو۔(نسائ١٣٣)

    ) یَاَیُّہَا النَّاسُ ِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَُنثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ِنَّ َکْرَمَکُمْ عِنْدَ اﷲِ َتْقَاکُمْ ِنَّ اﷲَ عَلِیم خَبِیر

    (13) انسانو !ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ متّقی ہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے (حجرات)

    ) فَِنَّمَا یَسَّرْنَاہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِینَ

    (97) بس ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں اس لئے آسان کردیا ہے کہ تم متقین کو بشارت دے سکو ( مریم ٩٧)

    ) ذَلِکَ َمْرُ اﷲِ َنزَلَہُ ِلَیْکُمْ وَمَنْ یَتَّقِ اﷲَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّئَاتِہِ وَیُعْظِمْ لَہُ َجْرًا

    (5) یہ حکم خدا ہے جسے تمہاری طرف اس نے نازل کیا ہے اور جوتقویٰ ِ الٰہی اختیار کرتاہے خدا اس کی برائیوں کو دور کردیتا ہے اور اس کے اجر میں اضافہ کردیتا ہے (طلاق)

    ) ِنَّ الَْرْضَ لِلَّہِ یُورِثُہَا مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِہِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِین

    زمین اللہ کی ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے وارث بناتا ہے اور انجام کار بہرحال صاحبان تقویٰ کے لئے ہے ۔(اعراف١٢٨)

    ) وَِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَکُمْ َجْر عَظِیم

    اگر ایمان و تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہارے لئے اجر عظیم ہے ۔ (آل عمران١٧٩)

    ) ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِینَ اتَّقَوْا وَنَذَرُ الظَّالِمِینَ فِیہَا جِثِیًّا

    (72) اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کوجہنم میں چھوڑ دیں گے (مریم)

    ) کِتَاب َنزَلْنَاہُ مُبَارَک فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ

    (155) اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے یہ بڑی بابرکت ہے لہذا اس کا اتباع کرو اور تقوی اختیار کرو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے (انام)

    قرآن مجید کے بعد احادیث کی روشنی میں تقویٰ کی اہمیت ملاحظہ فرمائیں۔

    اہمیتِ تقویٰ احادیث کی روشنی میں

    تقویٰ کی اہمیت رسولِ خداۖ کے الفاظ میں:

    ٭مَن رُزِقَ التَّقوَیٰ فقَد رُزِقَ خَیرَالدُّنیا والآخرة

    ترجمہ:جسے تقویٰ کا رزق عطا کیا گیاپس اسے دنیاوآخرت کی بھلائی عطاکی گئی۔(نہج الفصاحة ص٥/٦)

    ٭لوگو!آدم سے لے کر آج تک کنگھی کے دندانوں کی مانند سب برابر ہیں،کسی عربی کو عجمی پراور کسی سرخ کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر یہ کہ صاحبِ تقویٰ ہو۔ (بحارالانوارج٢٢ص٣٤٨باب فضائل مسلمان)

    ٭جان لو اور یقین رکھو کہ تقویٰ الٰہی حکمتِ کبریٰ اور نعمتِ عظمیٰ(بہت بڑی نعمت) ہے۔

    (بحارالانوارج١١ص٢٨٣)

    تقویٰ حضرت امام علی کے الفاظ میں:

    لایقِلُّ عمل مع التقوی و کیف یقل ما یتقبلُ

    وہ عمل جو تقویٰ کے ہمراہ ہو کم نہیں ہے چونکہ جو عمل قبول ہو جائے کم کیسے ہو سکتا ہے۔

    تقویٰ کی اہمیت حضرت امام حسن کی زبانی:

    ایھاالنّاسُ انَّ اکیسُ الکیسِ التُّقیٰ

    اے لوگو!عقلمندترین لوگ متّقی ہیں۔(صلح نامہ امام حسن)

    علمائِ اسلام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ارکان تقویٰ بھی بیان کئے ہیںلہذا تقویٰ کی اہمیت کے بعد ارکان تقویٰ اور پھر درجاتِ تقویٰ بیان کیئے جائیں گے۔

    ارکان تقویٰ :

    ١۔اللہ کی بارگاہ میںواجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ساتھ کسبِ اطاعت

    ٢۔حرام اور مکروہ افعال سے بچنا

    اب آئیے درجاتِ تقویٰ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔

    درجاتِ تقویٰ

    علمائے اسلام نے مراتب کے اعتبار سے تقویٰ کے تین درجے بیان کئے ہیں:

    ١۔تقویٰ بدن

    ٢۔تقویٰ نفس

    ٣۔تقویٰ قلب

    ١۔تقویِٰ بدن

    بدن کا تقویٰ یہ ہے کہ بدن کو دین اسلام کے احکام کے مطابق نجاساتِ ظاہری سے پاک رکھا جائے۔

    ٢۔تقویِٰ نفس

    تقویِٰ نفس یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو تمام چھوٹی بڑی بُری عادات اورشیطانی وسواس سے پاک کرے۔

    ٣۔تقویِٰ قلب

    تقویِٰ قلب یہ ہے کہ دل کو افکارِ خبیثہ اور وسواسِ شیطانی سے پاک کر کے یادِ خدا سے اس طرح بھر دینا کہ خانہ خدا بن جائے۔یہی وجہ ہے کہ عرفاء دل کو کعبے سے تشبہیہ دیتے ہیں۔چونکہ کعبہ اللہ کا ظاہری اور دل باطنی گھر ہے۔

    درجاتِ تقویٰ کے ساتھ ساتھ علمائے اسلام نے تقویٰ کی مندرجہ زیل اقسام بھی بیان کی ہیں:

    اقسامِ تقویٰ:

    ١۔ روحی تقویٰ ٢۔ فکری تقویٰ ٣۔ اعضاء کا تقویٰ ٤۔ قلبی تقویٰ ٥۔ علمی تقویٰ ٦۔ِ سیاسی تقویٰ ٧۔اقتصادی تقویٰ

    ٨۔ جنسی تقویٰ ٩۔تقویٰ طبّی ١٠۔لفظی تقویٰ

    ١۔ روحی تقویٰ

    روحی تقویٰ یہ ہے کہ انسان اپنی روح کو گناہوں سے اس قدر بچائے کہ گناہوں سے بچنے کی یہ عادت کبھی بھی اس سے جدا نہ ہو پائے یعنی انسان میں گناہوں سے بچنے کا ملکہ پیدا ہو جائے اور تقویٰ ،لباس کی طرح ہمیشہ انسان کے ہمراہ رہے۔احادیث میں لباس تقویٰ کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے ،جیساکہ غررالحکم میں ارشادِ معصوم ہے:

    ثوبُ التُّقیٰ اَشرَفُ الملابِس

    لباسِ تقویٰ بہترین لباس ہے

    ٢۔ فکری تقویٰ

    فکری تقویٰ یہ ہے کہ انسان گناہ کے بارے میں سوچے بھی نہیںکیونکہ گناہوں سے آلودہ فکرہی گناہوں کے لیئے مقدمہ فراہم کرتی ہے۔

    ٣۔ اعضاء کا تقویٰ

    اعضاء کا تقویٰ یہ ہے کہ انسان کہ تمام اعضائ،شیطان کے بجائے اس کے اپنے قابو میں ہوں اور وہ اپنے باطنی تقوے کے ذریعے ظاہری طور پر اپنے اعضاء و جوارح کو گناہوں سے محفوظ رکھے اور واجبات و مستحبّات کو اداکرے۔

    ٤۔قلبی تقویٰ

    اللہ نے قلبی تقویٰ کانتیجہ شعائراللہ کااحترام قراردیاہے۔جیساکہ سورہ حج کی آیت ٣٣ میں ارشاد پروردگار ہے:

    ذَلِکَ وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَ اﷲِ فَِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوب

    ٥۔علمی تقویٰ

    علمی تقویٰ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو باطل عقائد اور فخروغرور سے محفوظ رکھے۔علم اگر تقویٰ کے بغیر ہو تو کھلی ہوئی گمراہی اور ضلالت ہے۔صرف وہی علم انسان کے لئے نور اور ہدایت ہے جو تقویٰ کے ہمراہ ہو۔

    ٦۔سیاسی تقویٰ

    سیاسی تقویٰ یہ ہے کہ انسان معاشرے میںبرائیوں کے خاتمے اور اچھائیوں کے فروغ کے لیئے ہمیشہ سرگرمِ عمل رہے،بدکردار اور فاسق لوگوں کے مقابلے میں دیندار ،شریف اور متقی افراد کی سیاسی حمایت کرے اور عوام النّاس میں یہ شعور پیدا کرے کہ حقِ اقتدار صرف اور صرف خداکے نیک اور صالح بندوں کا حق ہے۔

    ٧۔اقتصادی تقویٰ

    اقتصادی تقوے کی مندرجہ ذیل دو اقسام ہیں:

    ١۔انسان مالِ حرام کھانے سے بچے اور دوسروں کے مال پرہاتھ صاف نہ کرے۔

    ٢۔اگر مقدّر یاوری کرے اور انسان کسی بلند منصب پر فائز ہوجائے توکمزور ،غریب اور نادار لوگوں کا حق نہ مارے،دین و شریعت کی مکمل طور پر پاسداری کرتے ہوئے ہر حقدار تک اس کا حق پہنچائے۔

    ٨۔جنسی تقویٰ

    جنسی تقویٰ یہ ہے کہ انسان معاشرے میں غیرت مندانہ زندگی بسر کرئے،دوسروں کی اوراپنی عزّت و ناموس کی حفاظت کو ہر صورت میں مقدّم جانے،بے غیرت ،لاابالی اور بدماش لوگوں کی سرزنش کرے اور اپنے کسی بھی قول و فعل سے کمینے اور پست فطرت لوگوں کی حوصلہ افزائی نہ ہونے دے۔افرادِ معاشرہ کو جنسی مسائل سے نجات کا شعور اور بروقت ازدواج کی ترغیب دلائے ۔

    ٩۔طبّی تقویٰ

    تقویٰ کی ایک اہم ترین قسم طبّی تقویٰ ہے،طبّی تقویٰ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کوبیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے نہ صرف یہ کہ حرام چیزوںکے کھانے پینے سے پرہیز کرے بلکہ حلال چیزوں کو بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں استعمال کرے۔

    جیساکہ سورہ انام کی آیت١٤١ میں ارشاد پروردگار ہے:

    وَلاَتُسْرِفُوا ِنَّہُ لاَیُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ

    خبردار اسراف نہ کرنا کہ خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے

    ١٠۔لفظی تقویٰ

    لفظی تقویٰ یہ ہے کہ انسان قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی زبان کی بھی حفاظت کرئے،قرآن حکیم اور معصومین نے زبان کی حفاظت کرنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔فضول،لغو اور بے ہودہ باتوں سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ باتیں کرنے سے بھی روکا گیاہے۔

    تقویٰ کی اقسام کے بعد ضروری ہے کہ تقویٰ کے ثمرات اور فوائد کو بھی جانا جائے۔

    تقویٰ کے ثمرات و فوائد قرآن مجید کی روشنی میں:

    َلاَِنَّ َوْلِیَائَ اﷲِ لاَخَوْف عَلَیْہِمْ وَلاَہُمْ یَحْزَنُونَ (٦٢)

    الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ (٦٣)

    لَہُمْ الْبُشْرَی فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَةِ لاَتَبْدِیلَ لِکَلِمَاتِ اﷲِ ذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ (٦٤) سورہ یونس ْ٦٢۔٦٣۔٦٤

    ترجمہ:(62) آگاہ ہوجا کہ اولیاء خدا پر نہ خوف طاری ہوتا ہے اور نہ وہ محزون اور رنجیدہ ہوتے ہیں

    (63) یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان لایا اور تقویٰ اختیارکیا

    (64) ان کے لئے زندگانی دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر بشارت اور خوشخبری ہے اور کلمات خدا میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ہے اور یہی درحقیقت عظیم کامیابی ہے۔

    اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت ٥ میں ارشاد پرور دگار ہے:

    ُوْلَئِکَ عَلَی ہُدًی مِنْ رَبِّہِمْ وَُوْلَئِکَ ہُمْ الْمُفْلِحُونَ (٥)

    (5) یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت کے حامل ہیں اور فلاح یافتہ اور کامیاب ہیں

    تقویٰ کے فوائد کے بعد متّقین کی نشانیاں قرآن مجید کی روشنی میں پیشِ خدمت ہیں:

    متّقین کی نشانیاں قرآن مجید کی روشنی میں:

    الم (١) ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِلْمُتَّقِینَ (٢) الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ (٣) وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِمَا ُنْزِلَ ِلَیْکَ وَمَا ُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَةِ ہُمْ یُوقِنُونَ (٤)

    ترجمہ:(1) الم

    (2) یہ وہ کتاب ہے جس میں کسی طرح کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے. یہ صاحبانِ تقوی اور پرہیزگار لوگوں کے لئے مجسم ہدایت ہے

    (3) جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں

    (4) وہ ان تمام باتوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں جنہیں (اے رسول) ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں (بقرہ)

    مندرجہ بالا آیات سے متقین کی مندرجہ زیل علامات کا پتہ چلتا ہے:

    قرآن سے ہدایت:

    متّقی افراد قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور قرآن سے متمسک رہتے ہیں۔

    غیب پر ایمان:

    صاحبانِ تقویٰ دین ِ اسلام کی تمام تر تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں ،وہ خدا ،جنّت جہنّم،برزخ،معاد اور فرشتوں پر ایمانِ کامل رکھتے ہیں۔

    نماز قائم کرنا:

    متّقین کی ایک نشانی نماز قائم کرنا ہے وہ نماز کی ادائیگی میں سستی اور کاہلی سے کام نہیں لیتے۔

    خدا کی راہ میں خرچ:

    متقین خدا کی خوشنودی کے لیئے خدا کے راستے میں خرچ کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔انھوں نے چونکہ خدا کے علاوہ کسی اور سے کوئی امید ہی نہیں باندھی ہوتی لہذا ان کے خرچ کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں ہوتا۔وہ بندگانِ خدا کو اپنے احسانات یاد دلا کر انھیں تنگ نہیں کرتے اور ناں ہی لوگوں میں اپنی سخاوت کا ڈھنڈوارا پیٹتے ہیں۔

    انبیاء پر ایمان:

    متّقین ،انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی زندگیوں کو اپنے لیئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ سمجھتے ہوئے ان کی سیرت پر چلتے ہیں۔

    قیامت پر ایمان:

    متّقی حضرات اپنی خلقت کو بامقصد اور باہدف سمجھتے ہیں اوراس عارضی زندگی اور فانی دنیا کے بعد ایک ابدی زندگی اورابدی جہان پر ایمان رکھتے ہیں۔وہ اس روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوئے اپنے تمام تر اعمال اس طرح انجام دیتے ہیں کہ ہر عمل کے نتیجے میں قربِ خداوند ی اور رضائے پروردگار حاصل ہو۔وہ ایمان رکھتے ہیں کہ قیامت کے روز تمام انسانوں کا محاسبہ ہوگا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء یا سزاء دی جائے گی۔

    متقین کی نشانیاں امام المتّقین کی زبانی

    خصال صدوق جلد٢صفحہ٢٥٣پرحضرت امام باقر سے منقول یہ روایت درج ہے کہ امیرالمومنین نے فرمایا ہے کہ صاحبانِ تقویٰ اپنی اِن نشانیوں سے پہچانے جاتے ہیں:

    ١۔ گفتگو میں سچ

    ٢۔امانتوں کی ادائیگی

    ٣۔وعدے کی پاسداری

    ٤۔غرور اور بُخل سے دوری

    ٥۔صلہ رحمی

    ٦۔کمزوروں پر رحم

    ٧۔دوسروں پر بوجھ نہ بننا

    ٨۔عورتوں سے معاشقہ بازی و شہوت رانی سے دوری

    ٩۔سخاوت

    ١٠۔حُسنِ خلق

    ١١۔حِلم و بردباری

    ١٢۔ایسے علم کی پیروی کرنا جو انسان کو خدا سے نزدیک کرے