islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. بے ادبی کا علاج کیا ہے؟

    بے ادبی کا علاج کیا ہے؟

    بے ادبی کا علاج کیا ہے؟
    Rate this post

    ادب، ایک اخلاقی اور اجتماعی قدر و منزلت ہے، یہ اولاد کے لئے بھی اور اولیا اور مربیوں کے لئے بھی قابل قدر چیز ہے- ادب جس میں اور جہاں پر بھی ھو، اپنے ساتھ محبت و جاذبیت لاتا ہے اور ایک با ادب انسان کو محبوب بنا دیتا ہے- ہر چیز کی آراستگی کسی چیز پر منحصر ھوتی ہے اور حسب و نسب کی شرافت اور خاندانی اعتبار ادب پر منحصر ہے- امام علی {ع} نے فرمایا ہے: ” بے ادبی میں کوئی شرافت نہیں ہے”-[1] اگر کوئی شخص حسب و نسب کے لحاظ سے زیادہ اہمیت کا حامل نہ ھو، مگر با ادب ھوتو شرافت پاتا ہے، ادب نا مناسب حسب و نسب کو بھی چھپاتا ہے”-[2]
    جب، ادب کی بات کی جاتی ہے تو معلوم ھوتا ہے کہ ادب، ایک قسم کا خاص اور سنجیدہ برتاو ہے جو دوسرے افراد سے { چھوٹے بڑوں، آشنا اور نا آشنا} سے کیا جاتا ہے اور اس کا سر چشمہ شائستہ تربیت ہے- یہ برتاو بات کرنے کے طریقہ، راستہ چلنے، میل جول، نظر کرنے، درخواست کرنے، سوال کرنے اور جواب دینے وغیرہ کے طریقوں سے متعلق ھوتا ہے- ہر ایک کو اپنی محدودیت کو جاننا چاہئے اور اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے، اسی کو ادب کہتے ہیں-
    بے ادبی، ایک قسم کا ممنوعہ علاقہ میں داخل ھونا اور حد و حدود کو پامال کرنا ہے- امام علی {ع} نے فرمایا ہے:” برتر ادب وہ ہے کہ انسان اپنے حدود کی سرحدوں پر کھڑا رہے اور اپنے حدود سے آگے نہ بڑھے”-[3]
    ادب، سیکھنے کے قابل ہنر ہے- بہ الفاظ دیگر، ادب، شائستہ تربیت ہے، خواہ مربی، ماں باپ ھوں یا استاد یا خود انسان- اہم یہ ہے کہ انسان تربیت کے دقیق نکتوں کو حاصل کرکے ان پر عمل کرے، جنھوں نے ادب کی بلند چوٹیاں سر کی ہیں، انھوں نے اس راہ کو طے کیا ہے-
    امام صادق {ع} نے فرمایا: ” میرے باپ نے مجھےادب کے تین نکات کے بارے میں خبردار کیا ہے- – – اور فرمایا: جو برے دوست سے ہم نشینی کرے، محفوظ نہییں رہتا ہے اور جو اپنی گفتار کے بارے میں ھوشیار اور پابند نہ ھو، وہ پشیمان ھوتا ہے اور جو شخص بری جگہوں پر آمد و رفت رکھتا ہے، اس پر الزام لگتا ہے”-[4]
    معصومین{ع} کے کلام میں بعض مواقع پر” خود کو ادب کرنے اور خود مربی ھونے” کی تاکید کی گئی ہے- یہ نعمت اس کو حا صل ھوتی ہے جو فراست عقلمندی، علم و فضل اور بصیرت کا مالک ھو اور حضرت علی {ع} کی فرمائش کے مطابق” اپنے آپ کو ادب کرنے میں اتنا ہی کافی ہے ، جو چیز تم دوسرے شخص میں نا پسند جانتے ھو، اس سے پرہیز کرنا”-[5]
    جو کچھ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، وہ دوسروں سے معاشرت کے بارے میں ایک کلی اصول ہے- حقیقت میں امام {ع} کی اس سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے ھو، اسے دوسروں کے لئے بھی نہ چاہو اور جس چیز کو دوسروں میں برا سمجھتے ہو اسے اپنے لیے بھی برا سمجھنا ، اگر دوسروں کے نا پسند کاموں کی تنقید کرتے ھو، تو وہی کام اور صفات تم میں بھی نہیں ھونے چاہئے-
    ادب تک پہنچنے اور بے ادبی سے پرہیز کرنے کی راہوں میں سے ایک، ادب اور بے ادبی کے موارد و مصادیق کو جاننا ہے- اگر چہ ادب بے ادبی کے مصادیق میں سے ہر ایک کی اپنی خاص نشانیاں ہیں، لیکن ادب کو مکمل اور دقیق طور پر پہچاننا بے ادبی کے مصادیق پر توجہ کئے بغیر ممکن نہیں ہے، حضرت علی {ع} کے بقول ایسا شخص ادب سے بہرہ مند نہیں ہے-[6] اس کے علاوہ عقلمندی سے زندہ رہنا اور گفتار و کردار و متانت کا مظاہرہ کرنا ادب کی نشانی ہے-
    اس کے مقابلے میں، بیوقوفی، بیہودہ کلام، برا بھلا کہنا، تیز کلامی، گالی گلوچ کرنا، ہٹ دھرمی اور عناد وغیرہ بے ادبی ہے- اگر دوستی اور معاشرتوں کا تحفظ ادب ہے، تو بے ادبی، یعنی مشکوک افراد کے پاس رفت و آمد، دوست منتخب کرنے میں غور نہ کرنا اور مجالست اور رفاقت میں ذمہ داری سے کام نہ لینا ہے- جو شخص دوسرے افراد سے برتاو میں عظمت و تکریم سے پیش آنے کے لئے تیار نہیں ہے اور مسلسل دوسروں کی توہین اور غیبت کرتا رہتا ہے، جو دوسروں کی بکواس کو بکواس   اور گالیوں کا جواب گالیوں سے دیتا ہے، جو مجالس و محافل میں دوسروں کے حق کی رعایت نہیں کرتا ہے اور نظم و نسق، مقررات اور خاموشی کی رعایت نہیں کرتا ہے، جو دوسرے کی باتوں کو سننے کے لئے تیار نہیں ہے، جو گفتگو اور بحث کے دوران شور مچاتا ہے، دوسرے کے حق کی رعایت نہیں کرتا ہے – – – یہ سب چیزیں ادب کے فقدان کی نشانیاں ہیں-
    دوسری جانب، کھانے پینے لباس پہننے، خلال کرنے، جمائی لینے، کھانسنے اور چھینکنے وغیرہ کے آداب کی رعایت کرنا ادب کی نشانی ہے۔ بے ادبی، انسانوں کے حقوق و شخصیت کی بے اعتنائی کرنا ہے- اگر کوئی شخص چھینکتے وقت ، لعاب دھن کو دستر خوان یا کسی کے چہرہ پر چھڑک دے یا متنفر حالت میں کھانا کھائے ، یا خط کو دوہاتھوں سے تقدیم کرنے کے بجائے پھینک دے، یا صرف ایک ہی ہاتھ سے پیش کرے، یا آپ کے مطالعہ کے وقت شور مچائے یا خلوت کے وقت اچانک آپ کے کمرے میں داخل ھوجائے اور داخل ھونے کی اجازت نہ لے، یہ سب چیزیں اجتماعی ادب کی رعایت نہ کرنے کی نشانیاں ہیں-
    دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام نے ان سب چیزوں کے لئے دستورالعمل بیان کیا ہے- ” اسلامی تربیت” اور اسلام کا مکتبی اخلاق اور تمام دستور اور “باید” و ” نباید” ادب آموز ہیں- جو شخص دینی تعلیمات کا پابند نہ ھو، اس نے ادب کی وادی سے نکل کر بے ادبی کی وادی میں قدم رکھا ہے-
    اسلامی آداب سے آشنائی اور ان کی تربیت حاصل کرنے کا ایک طریقہ پیغمبر اسلام {ص} اور ائمہ اطہار {ع} کی سیرت اور طریقہ کار سے آشنا ھونا اور ان نکات پر توجہ کرنا ہے جن کی وہ رعایت فرماتے تھے-
    رسول اکرم {ص} جو ایمان، اخلاق، ادب اور نیک کردار کے نمونہ عمل ہیں، خود کو پرور دگار کی طرف سے ادب شدہ جانتے تھے اور فرماتے تھے:” پروردگار نے میرا ادب کیا ہے اور کیا اچھا ادب کیا ہے”-[7]
    پیغمبر اسلام {ص} کی سیرت، ادب سکھانے کی ایک کتاب ہے، پیغمبر {ص} کا کردار، اخلاقی معاشرت کا بلند ترین نمونہ عمل ہے- ہم ذیل میں پیغمبر اکرم {ص} کے آداب اور آپ {ص} کے دوسروں سے برتاو کی چند مثالیں پیش کرتے ہیں:
    ” رسول خدا {ص} جسے بھی دیکھتے تھے، اسے سلام کرتے تھے، خواہ چھوٹا ھو یا بڑا ھو”[8]
    آنحضرت {ص} کبھی کسی کے سامنے اپنے پیر نہیں پھیلاتے تھے- کسی کے چہرہ پر نظر ڈالتے وقت ٹکٹکی لگا کر نہیں دیکھتے تھے، اپنی آنکھوں اور بھنووں سے کسی کو اشارہ نہیں کرتے تھے، بیٹھتے وقت ٹیک لگا کر نہیں بیٹھتے تھے-[9]
    جب لوگوں سے مصافحہ کرتے تھے تو، کبھی اپنے ہاتھ کو پیچھے نہیں کھینچتے تھے، جب تک نہ طرف مقابل اپنا ہاتھ کھینچتا- کسی بھی کھانے کی مذمت نہیں کرتے تھے-[10] کسی کو دشنام نہیں دیتے تھے اور نا سزا نہیں کہتے تھے اور کبھی تکلیف دہ بات زبان پر نہیں لاتے تھے اور برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے تھے- جب کوئی شخص آپ {ص} کی خدمت میں حاضر ھوتا تو اپنے فرش کو اس کے احترام میں پیش کرتے تھے-[11] بعثت کے دن سے رحلت تک ، کبھی آپ {ص} نے ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا ہے-[12] افراد کی طرف سے تحفوں کو قبول کرتے تھے، { اگر چہ تحفہ معمولی چیز بھی ھوتا} اکثر اوقات قبلہ رخ بیٹھتے تھے-[13] افراد کے سامنے پیر نہیں پھیلاتے تھے- اگر کوئی اجنبی شخص سوال کرتے وقت تند برتاو کرتا تو آنحضرت {ص} صبر سے سنتے تھے- کسی کی ملامت اور سرزنش نہیں کرتے تھے، اور دوسروں کے اسرار جاننے کی کوشش نہیں کرتے تھے-[14] آپ {ص} کا ہنسنا، تبسم تھا، قہقہہ لگا کر کبھی نہیں ہنستے تھے-[15] انتہائی شرمیلے اور با حیا تھے- کسی کی بات کو نہیں کاٹتے تھے- اپنے سامنے سے کھانا کھاتے تھے- دوسروں کے کام انجام دینے میں بہر صورت تعاون فرماتے تھے- – – آپ {ص} اس کے علاوہ بہت سے دوسرے نمایاں فضائل اور بلند اخلاق کے مالک تھے-[16]
    معصومین {ع} جو اخلاق و ادب میں بہترین نمونہ عمل ہیں ، کے علاوہ دوسرے انسانوں کے نیک اخلاق بھی انسان کے لئے موثر ھوتے ہیں “با ادب” افراد کے ساتھ نشست و بر خاست کرنا، ہمارے رفتار و کردار کو ” ادب” کی زینت بخشتا ہے- لوگوں کے نا پسند اخلاق بھی انسان پر منفی اثر ڈالتے ہیں- لیکن عقلمند اور با فراست انسانوں کا کمال یہ ہے کہ دوسروں کے ناپسند کردار سے عبرت اور سبق حاصل کرتے ہیں- یہ وہی حضرت لقمان کی حکمت ہے کہ لقمان سے پوچھا گیا کہ: آپ نے ادب کہاں سے سیکھا ہے؟ تو انھوں نے جواب میں کہا: بے ادبوں سے، جو کچھ مجھے ان کے بارے میں پسند نہیں آیا، اس سے اجتناب کیا”-[17] حضرت عیسی {ع} کا بھی یہی طریقہ کار تھا- ان سے پوچھا گیا کہ: آپ کو کس نے ادب سکھایا ہے؟ جواب میں فرمایا؛ مجھے کسی نے ادب نہیں سکھایا، میں نے جہالت کی برائی کو دیکھا اور اس سے پرہیز کیا-[18] امام علی {ع} نے بھی اس روش کی تائید کرتے ھوئے فرمایا ہے کہ: جب بھی دوسروں میں نا پسند اخلاق دیکھو، تو اس قسم کی روش کو اپنے میں پیدا کرنے سے پرہیز کرنا”-[19]
    البتہ جس طرح کم گوئی کو یا وہ گوا فراد سے سیکھنا چاہئے، اسی طرح نفس کی بزرگی و کرامت کو بھی تنگ نظروں اور کنجوس افراد کے برے کاموں سے سیکھنا چاہئے- اگر ہم دوسروں کی برائیوں سے، نیک اعمال سیکھ سکے، تو ہمارے باطن میں اخلاق کا معلم پوشیدہ ہے-
    اسلامی اخلاق و آداب کے سلسلہ میں مزید آگاہی حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے-
    1. معراج السعادة، ملا احمد نراقی.
    2. قلب سلیم، شهید سید عبدالحسین دستغیب.
    4. گناهان کبیره، شهید سید عبدالحسین دستغیب.
    5. اخلاق الاهی، مجتبی تهرانی.
    6. مراحل اخلاق در قرآن، عبدالله جوادی آملی.
    7. نقطه های آغازین در اخلاق عملی، محمد رضا مهدوی کنی.
    8. به سوی خود سازی، محمد تقی مصباح یزدی.
    9. اخلاق و راه سعادت، بانو مجتهده امین.
    10. گناه شناسی، محسن قرائتی، انتشارات پیام آزادی، تهران.
    11. سایٹ حوزه نت، دانشنامه، اخلاق.
    عربی زبان میں موجودہ اخلاق سے متعلق کتابوں میں سے مندرجہ زیل کتابون کا مطالعہ کر سکتے ہیں:
    1. اخلاق شبٌر، سید عبدالله شبر.
    2. محجة البيضاء في تهذيب الاحياء، ملامحسن فيض كاشاني.
    [1] آمدی، عبد الواحد، غررالحکم، «لا شَرَفَ مَعَ سُوءِ الأدبِ». غررالحکم، «حُسْنُ الأدبِ یَسْتُرُ قبیحَ
    [2] غررالحکم، «حُسْنُ الأدبِ یَسْتُرُ قبیحَ النّ
    [3] غررالحکم، «اَفْضَلُ الأدبِ اَنْ یَقِفَ الإنسانُ علی حَدِّهِ و لا یَتَعدّی قَدْرَهُ».
    [4] علامه مجلسی، بحارالانوار، ج75، ص261.«ادّبنی ابی بثلاثٍ … قال لی: یا بُنیَّ! مَنْ یَصْحَبْ صاحبَ السوءِ لا یسلِمْ و مَن لا یقیّدْ الفاظَهُ یَنْدَم و مَن یَدْخُلْ مداخِلَ السّوءِ یُتَّهمْ».
    [5] محمدی ری شهری، محمد، میزان الحکمة، ج1، ص72، “کفاک اَدبا لِنَفْسِکَ اِجتنابُ ما تَکْرَهُهُ مِنْ غیرِکَ».
    [6] غررالحکم، «لااَدَبَ لِسَّئیِ النُّطْقِ».
    [7] میزان الحکمة، ج 1، ص 78، «اَدَّبَنی رَبّی فَاَحْسَنَ تأدیبی».
    [8] علامه طباطبائی، سنن النبی، ص41، 43 و 75.
    [9] سنن النبی، ص 45، 46، 47، 73 و 61.
    [10] سنن النبی، ص 41 و 47.
    [11] سنن النبی، ص 75 و 76.
    [12] بحارالانوار، ج 16، ص 237.
    [13] بحارالانوار، ج 16، ص 227 و 240.
    [14]مکارم الاخلاق، ص 17، 15 و 13.
    [15] سنن النبی، ص 75.
    [16]اقتباس از ساییٹ حوزه نٹ
    [17] گلستان سعدی، باب 2، حکایت 20
    [18] بحارالانوار، ج 14، ص 326، “ما ادّبنی احدٌ رأیتُ قبحَ الجهلِ فجانبتُه”.
    [19] میزان الحکمة، ج 1، ص70، ح 374،«اِذا رَأیتَ فی غَیْرِکَ خُلْقا ذَمیما فَتَجَنَّبْ مِنْ نَفْسِک اَمثالَهُ».
    منبع:shiaarticles.com