islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. انبیائے الٰہی کی صفات

    انبیائے الٰہی کی صفات

    انبیائے الٰہی کی صفات
    Rate this post

    اہلسنت وشیعہ علماء اس بات پر متفق ہیں کہ انبیائے الٰہی میں ان صفات کا ہونا ضروری ہے .معارف اسلامی کے دروس کے سلسلے کا یہ چوتہا درس ہے جس میں امامت کے متعلق بحث و گفتگو نو دلیلوں پر مشتمل ہو گی ۔ تمام علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ انبیائے الٰہی میں مندرجہ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ان صفات و خصوصیات کے متعلق اہلسنت و شیعہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔
    1 : پہلی صفت جو ایک نبی (ع) کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس کے پاس وسیع علم ہونا چاہئے یعنی وہ تمام چیزیں جو ہدایت بشر کے لئے ضروری ہیں نبی انہیں جانتا ہو ۔ ایسا کوئی بہی مسئلہ جو لوگوں کی ہدایت کے لئے ضروری ہو اور نبی اس کو نہ جانتا ہوتو پہروہ نبی نہیں کہلایا جاسکتا۔
    2 : دوسری صفت یہ ہے کہ وہ عظیم قدرت و طاقت کا حامل ہو ۔ہماری کتابوں میں اس طاقت کو بعنوان معجزہ ذکر کیا جاتا ہے ۔آدم سے لے کر خاتم تک کسی نبی نے یہ نہیں کہا کہ ہم عام لوگوں کی طرح صرف معمولی کام انجام دے سکتے ہیں غیر معمولی کام انجام دینے سے قاصر ہیں ۔ اگر کوئی نبی اس بات کو کہے تو یقینا وہ نبی نہیں ہو سکتا لہذا نبی کو حتماً صاحب اعجاز ہونا چاہئے۔ اگر وہ چاہے تو درخت چلنے لگے ،ایک خشک درخت کو ہرا بہراا ور پہل دار بنا دے اور یہ سب کچہآن واحد میں ہو جائے ۔علم کلام کی روشنی میں اسے ولایت تکوینی سے موسوم کیا جاتا ہے یعنی نبی تکوینیات میں بہی دخیل ہو سکتا ہے ۔معجزہ وہ دلیل ہے جس کی بنا ء پر لوگ ایک نبی کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں لہذا نبی کے پاس وسیع علم کے ساتہ ساتہ معجزہ بہی ہونا چاہئے ۔ یہ ایک طویل بحث ہے ۔مختصر یہ کہ نبی(ع) اور ایک معمولی انسان کے درمیان یہ فرق پایا جاتا ہے کہ نبی(ع) خارق عادات و غیر طبیعی امور کو انجام دے سکتا ہے لیکن معمولی انسان غیر طبیعی امور کو انجام نہیں دے سکتا ۔
    3 : تیسری صفت جو ایک نبی میں ہونی چاہئے وہ عصمت ہے یعنی نبی عالم غیب سے ایکآئین زندگی حاصل کرے اور لوگوں کے حوالے کر دے تاکہ لوگ اسآئین زندگی کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر منزل کمال سے ہم کنار ہوسکیں ۔اس کا عالم غیب سےآئین زندگی کا حاصل کرنا ،اپنے پاس محفوظ کرنا اور لوگوں تک پہنچاناوغیرہ جیسے تمام مراحل کے لئے عصمت کا ہونا ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی تمام صورتوں اور حالات میں غلطی سے محفوظ ہوتا ہے ۔
    4 : چوتہی صفت جو ایک نبی(ع) کے لئے ضروری ہے وہ یہ ہے کہ عالم وحی اور فرشتوں سے اس کا ارتباط ہو۔ یہ صفت مذکورہ صفات کا لازمہ ہے۔ اگر کوئی نبی یہ کہے کہ اسکا عالم وحی سے کوئی رابطہ نہیں ہے توقطعاً نبی نہیں ہو سکتا ۔ بہرحال کسی نہ کسی صورت میں اس کا رابطہ عالم وحی سے ہونا چاہئے خواہ براہ راست ہو یا با لواسطہ حتیٰ عالم خواب میں ، اس لئے کہ یہ رابطہ اس کو ان تمام گذشتہ صفات کا حامل بناتا ہے ۔
    5 : پانچویں صفت ان انبیاء (ع) سے مخصوص ہے جواولو العزم اورصاحب کتاب و شریعت ہیں ۔انہیں تمام فضائل و کمالات کی بنا پر وہ تمام افراد سے افضل ہوتے ہےں اور لوگ ان کی اتباع کرتے ہیں ۔ اگر یہ فضائل ان کے اندر نہ پائیں جائیں تو ان کی لائی ہو ئی کتاب و شریعت کا نفاذ معاشرہ میں نہیں ہو سکتااور نہ ہی انہیں کوئی تسلیم کر سکتا ہے۔کیونکہ مزاج انسانی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کمال سے عاری انسان کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے۔
    6 : چہٹی صفت یہ ہے کہ نبی کا انتخاب صرف خدا کر سکتا ہے ۔ بندہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ نبی کو انتخاب کرے کیونکہ اس کے لئے کہ صلاحیت درکار ہوتی ہے ۔ جو خصوصیات انبیا ء کے لئے بیان کی گئیں ہیں وہ ایسی خصوصیات نہیں ہیں جنہیں عوام الناس تشخیص دے سکیں مثلاًوسیع علم ، معجزہ ، عصمت اور عالم غیب سے رابطہ وغیرہ ۔یہ عام لوگوں سے بالاتر چیزیں ہیں لیکن ان میں صرف معجزہ ہی ایسا امرہے جس کو عوام تشخیص دے سکتے ہیں ۔پوری تاریخ میں یہ کہیں نہیں ملتا کہ کسی نے کبہی یہ کہا ہو کہ نبی کا انتخاب ہم کریں یا خدا ، یا پہلے ہم منتخب کریں بعد میں خدا تصدیق کر دے، یا پہلے خدا تعارف کرا دے بعد میں ہم منتخب کرلیں ، یا ہم تعارف کرا دیں اور خدا اسے منتخب کرے،سب صورتیں مساوی ہیں ۔
    7 : ساتویں صفت یہ ہے کہ نبی(ع) معزول نہیں ہوتا یعنی کبہی بہی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلاں نبی ایک مدت تک نبی تہا اور بعد میں لوگوں نے جمع ہو کریہ کہہ دیا کہ تم اب نبی نہیں رہے۔ اس لئے کہ خدا وند متعال نبی کے کردار کو مستقبل کےآئینہ میں دیکہ کر درجہٴ نبوت پر فائزکرتا ہے تاکہ بعد میں معزول کرنے کی نوبت ہی نہآئے ۔پوری تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اللہ نے کسی نبی کو معزول کیا ہو ۔ اجتماعی مسائل میں تو لوگوں کو انتخاب و معزول کرنے کا اختیار ہے لیکن مسئلہ پیغمبری میں لوگوں کو یہ حق نہیں ہے ۔
    8 : آٹہویں صفت یہ ہے کہ نبی (ع) مستعفی نہیں ہو سکتا یعنی وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک عرصہ سے کام کرتے کرتے میں تہک گیا ہوں لہذا اب اپنے عہدے سے استعفی دینا چاہتا ہوں ۔بسا اوقات اپنے معاشرہ میں نظرآتاہے کہ ایک شخص اہلیت نہ ہونے کے با وجود یہ کہتا ہے کہآخر ہم کتنا کام کریں دس سال ، بیس سال یا تیس سال ،اب ہمت جواب دے گئی ہے لہذا اب میں اپنے عہد ہ سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں مگر نبوت ایسا عہدہ نہیں ہے کہ خدا جب چاہے معزول کردے اور جب چاہے نبی استعفی دے دے ۔
    9 : نویں صفت یہ ہے کہ نبی کے لئے سن و سال کی قید نہیں ہوتی ہے۔جب کہ معاشرہ کے تمام عہدوں کے لئے عمر کی قید حتمی ہوتی ہے ۔خدائی عہدوں کے لئے سن و سال کی کوئی قید نہیں ہوتی ہے اور اس کے متعلق ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ عہد ہ عالم غیب سے متعین ہوتا ہے ۔چونکہ اس عہدے میں کچہ خصوصیات ہوتی ہیں جن کی بنا پر اللہ نبی کو مبعوث کرتا ہے ،خود قرآن مجید میں بہی اس کی تصریح موجود ہے ۔حضرت عیسیٰ (ع) کا قول نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے کمسنی میں فرمایا : وجعلنی نبیاً و جعلنی مبارکاً ۔
    10 : دسویں صفت یہ ہے کہ وہ زاہد و عابد ہو۔ جیسا کہ دعائے ندبہ میں موجود ہے ” ان شرطت علیہم الزہد فی درجات ہذہ الدنیا الدنیۃ“ اس لئے کہ دنیا پرست نبی نہیں ہو سکتا ۔نبی کے لئے زہد شرط ہے اور اس کے ساتہ ساتہ اس میں خلوص اور صبر و تحمل جیسے صفات کا ہونا بہی ضروری ہے ۔رسول اکرم فرماتے ہیں :” مااوذی نبیاً مثل ما اوذیت“ کہ جتنی اذیت مجہے دی گئی اتنی کسی نبی کو نہیں دی گئی ۔ لہذ ا نبی کو صابر بہی ہونا چاہئے۔ یہ تمام صفات و خصوصیات جو انبیا ء کے لئے بیان کی گئی ہیں امام میں بہی ہونا چاہییں ۔اس لئے کہ مذہب تشیع میں ایک بنیادی بحث یہ ہے کہ امامت نبوت ہی کا سلسلہ ہے۔
    اب سوال یہ ہے کہ امام کس طرح سلسلہٴ نبوت سے ہے ۔اس سوال کے جواب کے لئے عقلی و نقلی دلائل مندرجہ ذیل ہیں : عقلی دلیل اگر عقائد و کلام کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے توواضح ہو جاتا ہے کہ جو دلائل ضرورت نبوت کے لئے بیان کئے گئے ہیں وہی دلائل ضرورت امامت کے لئے بہی پیش کئے گئے ہیں ۔ علم کلام میں ایک موضوع یہ ہے کہ کیوں ضروری ہے کہ خدا نبی کو بہیجے ؟اس بحث میں جو دلائل ذکر کئے گئے ہیں وہی دلائل ضرورت امامت کے لئے کافی ہیں ۔خدا نے بشر کو کسب کمال کےلئے پیدا کیاہے اور کمال تک پہونچنے کے لئے استاد و معلم کی ضرورت ہوتی ہے لہذا ضروری ہے کہ کوئی نبی ہو جو لوگوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعہ کمال تک پہونچائے اور بعینہ یہی دلیل نبی کے بعدسو فیصد امام کے لئے بہی منطبق ہو گی کہ جب کوئی نبی موجود نہ ہو تو ایک ایسا معلم ہونا چاہئے کہ جو سلسلہٴ تعلیم کو جاری رکہے اور یہی جملہ کتاب ”مسند الجواد “(یہ وہ کتا ب ہے جس میں امام جواد (ع) سے مروی روایتیں جمع کی گئیں ہیں ) میں موجود ہے کہ ” الامامۃ تجری مجری النبوة“ امامت، قائم مقام نبوت ہے یعنی وہ تمام خصوصیات جو نبی میں ہوتی ہیں وہ امام میں بہی ہونا چاہییں ورنہ وہ قائم مقام نبوت نہیں ہو سکتا ۔اس مقام پر اگر غیر شیعہ علماء نے”الامامۃ تجری مجری النبوۃ “ کے ساتہ ساتہ مذکورہ صفات کو قبول کر لیا تو ٹہیک ہے ورنہ ان سے بحث کرنا لا حاصل ہے.
    جیسا کہ بعض اہل سنت حضرات ان باتوں کو تسلیم نہیں کرتے ۔فرض کیجئے کہ اگر کوئی شیعہ یہ کہے کہ خلیفہ اول نے تو خود ہی اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے لہذا وہ امام نہیں ہو سکتے تو سامنے والا جواب دے گا کہ امام کیوں نہیں ہو سکتے اس لئے کہ امام اسے کہتے ہیں جس میں غلطی و گناہ کا امکان پایا جاتاہو ۔ لیکن مکتب اہل بیت علیہم السلام میں امامت بمنزلہ ٴ نبوت ہے۔ اس لئے امام کے لئے بہی ضروری ہے کہ وہ نبی کی طرح وسیع علم ، معجزہ ، عصمت کا مالک ہو اور عالم غیب ہونے کے ساتہ ساتہ تمام لوگوں سے افضل بہی ہو لہذا جس میں یہ صفات پائیں جائیں وہ امام ہو سکتا ہے اور جس میں نہ پائی جائیں وہ امام نہیں ہو سکتا نقلی دلیل قرآن مجید میں عصمت کے متعلق بہت سیآیتیں موجود ہیں ، ان ہی میں سے ایک یہ ہے کہ ” یا ایہا الذین آمنوا اتّقوا اللہ و کونوا مع الصادقین “( اے ایمان لانے والو! تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتہ ہو جاؤ )۔ اس کے علاوہ حضرت علی (ع) نے نہج البلاغہ میں اور ائمہ اطہار (ع) نے بہی اپنے اقوال میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔جیسا کہ زیارت جامعہ میں ہم پڑہتے ہیں ” معدن العلم و الرسالۃ “آپ معدن علم و رسالت ہیں ۔ اسی طرح معجزہ کے لئے فرمایا گیا ہے : ” ان ذلّ کل شئی عندکم “ یعنی ہر شئیآپ کے سامنے خاضع ہے۔آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں ۔ہمارے مذہب میں جو امامت کا مفہو م ہے اس کے اعتبار سے کوئی دوسرا امام سے برتر نہیں ہو سکتا ۔ مثلا ً وہ تمام صفات جوایک نبی کے لئے ضروری ہیں ہمارے نظریہ کے مطابق امام میں بہی ہونی چاہییں اور ہیں ۔ مثلا ً حضرت علی (ع) کی زندگی میں ایسے نمونے پائے جاتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہآپ معصوم ہیں ۔
    جیسا کہ وسعت علم کے متعلقآپ نے خود فرمایا ” سلونی سلونی قبل ان تفقدونی “ جو بہی پوچہنا ہو مجہ سے پوچہ لو قبل اس کے کہ میں تمہارے درمیان نہ رہوں ۔ اسی طرح معجزہ ہے یعنی وہی معجزات جو پیغمبر اکرم نے پیش کئے تہے حضرت علی (ع) بہی پیش کر سکتے تہے اور کئے بہی ۔البتہ ہمارے یہاں علم کلام کی بعض کتابوں میں یہ بہی ملتا ہے کہ معجزہ صرف نبی سے مخصوص ہے ،امام صاحب کرامت ہوتا ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ نہیں ، امام بہی صاحب اعجاز ہو تا ہے ۔ علمائے اہلسنت نے خلفاء کے لئے افضلیت و امامت کا تو دعویٰ کیا لیکن کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سناگیا کہ خلفا ء کا ارتباط عالم غیب سے بہی تہا ۔ہاں ، اتنا ضرور کہتے ہیں کہ وہ عادل اور بہترین شخصیت کے حامل تہے ۔ جب کہ ہمارے یہاں اس کے متعلق ایک مفصل باب موجود ہے کہ اہل بیت (ع) محدث ہیں یعنی فرشتوں سے ان کا رابطہ تہا ، ان سے گفتگو کرتے تہے۔
    امام خمینی (رہ) نے حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے متعلق اصول کافی سے صحیح سند کے ساتہ ایک حدیث بیان کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جبرئیل حضرت فاطمہ زہرا (ع) کے پاس آتے تہے اور ان سے گفتگو کرتے تہے اور حضرت علی (ع) اس گفتگو کو لکہتے تہے ۔ ہماراعقیدہ ہے کہ امام بہی نبی ہی کی طرح ہوتا ہے البتہ یہ بات ذہننشین رہے کہ اصطلاحی وحی، ائمہ(ع) کے لئے نہیں ہے ۔ کبہی کبہی اہلسنت حضرات بعض غلط چیزوں کو ہماری طرف منسوب کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعوں کے یہاں یہ تصور ہے کہ جس طرح نبی پر وحیآتی ہے ویسے ہی امام پر بہی ، جب کہ ایسا نہیں ہے یہ وحی اصطلاحی نہیں ہے بلکہ رابطہ ہے اور رابطہ ہمیشہ وحی کے معنی میں نہیں ہوتابلکہ اسے محدث کے نام سے تعبیرکیا جاتا ہے جیسا کہ روایات میں ہے کہ محدث خصوصیات نبی کا حامل ہوتا ہے اور غیروں کی بہ نسبت وہ اپنے انتخاب و تعارف میں خدا کے علاوہ کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ تاریخ میں ہے کہ ایک مرتبہ سب نے مل کر کہا کہ عثمان خلیفہ تو ہیں لیکن یہ خلافت کے لائق نہیں ہیں ۔ لیکن ہمارے مذہب میں امامت و خلافت کا دار و مدار خواہش پر نہیں ہوتاہے۔ ان دونوں مفاہیم میں بہت فرق ہے ۔
    اس نشست میں ہم نے یہ بحث اس لئے چہیڑی ہے کہ ہم اپنی گفتگو میں زیادہ تر ان مقامات کو تلاش کریں جن میں مفہوم امامت پایا جاتاہو البتہ پہلے یہ طے کرلیں کہ مفہوم امامت ہے کیا ؟ اگر کوئی یہ کہے کہ ہمارے نزدیک امامت کی حیثیت ایک مجسٹریٹ کی سی ہے تو اس سے بحث کرنا ہی فضول ہے کیونکہ اس صورت میں امامت میں غلطی و گناہ ، جہالت اور غلط انتخاب کا امکان ہو سکتا ہے جب کہ یہ بات سب سے پہلے قرآن ا و رعقلی و نقلی دلائل سے طے ہو چکی ہے کہ ”الامامۃ تجری مجری النبوۃ “ اور وہ خصوصیات جو ائمہ میں ہیں دوسروں میں نہیں ہیں مثلاًعلم ، معجزہ ، عصمت ، دوسروں سے افضل ہوناا ورعالم غیب سے ارتباط اور زہد و صبروغیرہ ۔یہ سبہی تسلیم کرتے ہیں کہ اس وسیع و عریض کائنات میں سب سے بڑے زاہد و صابر حضرت علی (ع) ہیں ۔آپ میں زہد منزل کمال پر تہاآپ سب سے بڑے صابر تہے۔صرف اس لئے کہ اسلام کو کوئی نقصان نہ پہونچے ،پچیس سال تک خاموش رہے۔ اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام مذکورہ خصوصیات ایک نبی کے لئے ضروری ہیں ۔ساتہی ہی امامت قائم مقام نبوت ہوتی ہے ۔نیز یہ کہ جس میں یہ خصوصیات ہوں وہی امام ہے اور جس میں نہ ہوں وہ امام نہیں ہے ۔ جب ہم تاریخ و حدیث کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ملتا ہے کہ یہ ساری خصوصیات حضرت علی علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں اور دوسروں میں نہیں پائی جاتیں اور بالفرض کسی میں زہد و صبر وغیرہ جیسی صفات پائی جاتی ہیں تو یقینا اس کا عالم غیب سے رابطہ نہیں ہوتا ۔ نجف کے ایک بزرگ عالم دین کاظم قریشی جن کی بیالیس کتابیں منظر عام پرآچکی ہیں ۔یہ فرماتے ہیں کہ ایک سنی عالم سے میری گفتگو ہوئی ،قبل اس کے کہ ان سے گفتگو شروع ہومیں نے کہا کہ ایک شخص جو کسی ادارہ کو چلا رہا ہو اور بہت سے کام اس کے ذمہ ہوں ، اگرکہیں جانا چاہے تو کس کو اپنا نائب منتخب کرے ؟جب کہ اس کے پاس ایساآدمی ہے جو سوفیصد تمام امور کو بخوبی انجام دے سکتا ہے اور باقی افراد ان امور کوانجام نہیں دے سکتے۔ اس عالم نے کہا کہ یہ قضیہ مسئلہ امامت میں بہی ہے۔ جب تک پیغمبر موجود ہیں دوسرے امام نہیں بن سکتے۔ یہ بات غیر معقول ہے کہ ایک شخص سوفیصد رسول کی طرح موجود مگر امام نہ بنے اور جو نا اہل ہیں وہ امام بن جائیں ۔
    منبع:http://shiaarticles.com/