islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. امام رضا (ع) کي شخصيت سياسي

    امام رضا (ع) کي شخصيت سياسي

    امام رضا (ع) کي شخصيت سياسي
    Rate this post
    امام رضا (ع) کي شخصيت سياسي
    حضرت امام رضا (ع) کا مامون رشيد کي ولي عہدي قبول کرنا امور مملکت ميں ائمہ کي شراکت کا ايک منفرد واقعہ ہے- امام (ع) کے اس فيصلہ کے محرکات سمجھنے کے لئے جب ہم ائمہ حقہ کے 350 سالہ تاريخ کا مطالعہ کرتے ہيں تو ايک بدلتا ہوا نقشہ نظر آتا ہے جس ميں ہر امام نے اپنے دور کي حالات کے تقاضوں کے تحت ايک خاص حکمت عملي اختيار کيا- مثلاً علي (ع) نے 34 سال خاموشي کے بعد اپنے زمانہ ميں معاشرہ کي اصلاح، مخالفين سے جنگ اور مشکل فيصلوں کو امت کي اخلاقي، علمي اور اجتماعي رہنمائي کے لئے ضروري سمجھا (نہج البلاغہ) امام حسن (ع) نے معاويہ کے ساتھ صلح کو ناگزير جانا، اس کے برعکس حسين (ع) ابن علي (ع) نے شرائط صلح کي خلاف ورزي پر ايک نئے عنوان سے ہجرت اور جہاد کے ذريعہ حق اور باطل کے درميان خط کھينچا، ليکن بعدِ کربلا امام سجاد (ع) نے ہدايت کے پيغام کو دعاؤں کے پيرا ہن ميں ملبوس کرديا جبکہ امام صادقين (ع) نے اموي اور عباسي خلافتوں کے درميان انتقال اقتدار کي کشمکش کے وقفہ کو علوم و معارف اسلامي اور فقہ محمدي کي ترويج و اشاعت کے لئے بھر پور استعمال کيا، امام موسيٰ کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے بعد ائمہ نے بغداد اور سامرہ کے قيد خانوں کي گوشہ نشيني سے پيغام حق پہونچا يا جبکہ امام رضا (ع) نے ولي عہدي قبول کر کے ايک منفرد اقدام کيا- اگر حالات کے تناظر ميں ائمہ کے عمل ميں واضح فرق نظر آتا ہے تو يہ نہ تو ان کي صلاحيت يا فہم ميں فرق کي نشاندہي ہے اور نہ فکر کا اختلاف ہے کيونکہ اہل بصيرت جانتے ہيں کہ يہ تمام ہستياں اپنے مقصد و ہدف ميں متحد تھے، ہر ايک کا مقصد صرف خدا کي ذات، اس کے دين کي ترويج اور کتاب اور سنت کے ذريعہ بندوں کي ہدايت و رہنمائي کے سلسلہ کي حفاظت کرنا تھا جس کے لئے سيد الشھداء (ع) نے عظيم قرباني دي تھي-

    اس ضمن ميں ڈاکٹر علي شريعتي اپني کتاب ”تشيع” ميں لکھتے ہيں کہ امام صادق (ع) کے بعد تقريباً 50 سال کے عرصہ ميں استعماري قوتوں کے پروپيگنڈہ کے تحت عوام واقعہ کربلا کي اہميت سے بے بہرہ ہورہے تھے اور تشيع کي تحريک اور اہلبيت کے علمي اور فکري جہادوں کي ياد محو ہو رہي تھي، اس لئے امام رضا (ع) کے لئے ضروري تھاکہ ايسي حکمت عملي اختيار کريں کہ ائمہ کي گذشتہ 5 نسلوں کے تاريخي فاصلوں کو قريب لاسکے-

    امام صادق (ع) کے بعد مدينہ کي مرکزي حيثيت اور افاديت ختم ہوچکي تھي اور يہ ايک زيارت گاہ کي حد تک باقي رہ گيا تھا جبکہ امام رضا (ع) اپنا پيغام سارے عالم اسلام کو سنانا چاہتے تھے- جس کے لئے امام (ع) کو ايک مرکزي مقام کي ضرورت تھي- (سيدمحمد موسيٰ رضوي) اس صورت حال کو جب ہم امام (ع) کے نکتہ نظر سے ديکھتے ہيں تو امام (ع) جانتے تھے کہ ولي عہدي کي پيشکش ميں مامون قطعي مخلص نہيں تھا بلکہ وہ امام کو اپنے اور بني عباس کے مخالفين بغداد کے علويوں اور خراسان کي تحريکوں کے مقابل بطور بند باندھنا چاہتا تھا- ليکن امام (ع) نے اپني سياسي بصيرت سے يہ فيصلہ کيا کہ اس موقع کو جو دشمن نے اپني احتياج کے تحت فراہم کيا ہے خود اس کے خلاف استعمال کريں اور شيعيت کي تحريک کو زندہ کريں يہ بھي امکان تھا کہ اگر وہ مامون کي پيشکش قبول نہ کرتے تو وہ يا تو قيد کرديئے جاتے يا قتل کر ديئے جاتے جو اس زمانہ کا معمول تھا- امام رضا (ع) مامون کے خلاف کسي فوج کشي کي تياري نہيں کر رہے تھے بلکہ جس علمي مبارزہ کے ذريعہ وہ پيغام حق پہونچانا چاہتے تھے اس کےلئے ايک موافق ماحول کي ضرورت تھي- امام رضا (ع) بھي خود اپنے علم امامت سے جانتے تھے کہ وہ اس نوعيت کي خلافت کے لئے ناموزوں ہونگے، جو مامون پيش کر رہا تھا اور ان کے لئے دائرہ امامت سے بالکل باہر آجانا مناسب نہيں ہوگا اس لئے امام (ع) نے مامون رشيد کي خلافت کي پيشکش کي سختي سے مخالفت کي- اس ضمن ميں امام (ع) اور مامون رشيد کے درميان طويل گفتگو ہوئي بالآخر مامون کے شديد اصرار پر آپ (ع) نے فرمايا کہ” خدا نے انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت ميں ڈالنے سے منع کيا ہے- ”( اشارہ قتل کا امکان ہے) لہٰذا امام (ع) نے مشروط ولي عہدي قبول کي کہ وہ حکومتي کاروبار سے عليحدہ رہيں گے- لفظي يا عملي امرو نہي کو انجام نہيں ديں گے- ( احکامات صادر کرنا) اور صرف دور سے رہنمائي کے فرائض انجام ديں گے- (جليل عرفان)

    اس منزل پر مکتب اہلبيت اور ان کے مزاج سے واقف افراد يہ سمجھنا چاہيں گے- کہ حکومتي عہدہ قبول کرنا ائمہ گزشتہ کا شيوہ نہيں رہا تھا تو امام (ع) نے ايسا کيوں کيا؟

    ذيشان حيدر جوادي نے نقوش عصمت ميں ولي عہدي کے موضوع کا مامون اور امام رضا (ع) کے نکتہ نظر سے تجزيہ کيا ہے- ان کے خيال ميں مامون کے نزديک ولي عہدي کي پيشکش کا مقصد امام کو زير نظر رکھنا، ان کا عوام سے رابطہ منقطع يا دشوار بنانا ، ان کي نظام حکومت ميں شموليت کے ذريعہ اپني خلافت کي عظمت ميں اضافہ کرنا اور اس کے لئے ايک شرعي تائيد حاصل کرنا تھا، اور سب سے اہم علويوں کي انقلابي تحريکوں کو دبانا تھا-

    اس کے بر خلاف امام علي رضا (ع) نے ولي عہدي کو اس وقت کے سياسي اور معاشرتي رجحانات کے پيش نظر احکام اور تبليغات اسلامي کي ترويج و اشاعت کا موثر ذريعہ قرار ديا اور” مکرہ’ مکر الله”  کے قرآني اصول کو پيش نظر رکھتے ہوئے اسے قبول کرنے کا فيصلہ کيا- مدينہ سے مرو کے سفر کے دوران اور عہد ولي عہدي ميں حکومتي پروٹوکول کي موجودگي ميں معجزات اور کرامات کا اظہار، مناظروں ميں شرکت، نماز عيد، بارش کي دعاؤں ، زينب گذابيہ اور ديگر واقعات امام (ع) کي اس حکمت عملي کا حصہ تھے-

    اس لحاظ سے ہم اس نتيجہ پر پہونچے کہ گو ولي عہدي قبول کرنا تاريخ ائمہ کے دھارے ميں ايک منفرد واقعہ ہے جو ناواقفين ميں شکوک پيدا کرسکتا ہے ليکن درحقيقت يہ امام (ع) کي سياسي بصيرت کي عکاسي کرتا ہے کہ ايک مشکل مرحلہ کو کس طرح ايک اعليٰ وارفع مقصد کے حصول کا ذريعہ بنايا جاسکتا ہے- دوران ولي عہدي کے واقعات امام کے مناظروں اور علمي فيوض سے اس حقيقت کي تصديق ہوتي ہے- امام رضا (ع) نے اپنے فيصلے سے يہ بات ثابت کرديا کہ خداوند عالم کي صحيح خلافت اور نمائندگي کے حقدار صرف ائمہ ہيں اور زمين پر خدا کي حجت اور اس کے نمائندہ ہيں اور يہ عہدہ نا قابل انتقال ہے-


    منبع : http://www.tebyan.net/