islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. امامت کے بارے میں دو نظریے

    امامت کے بارے میں دو نظریے

    امامت کے بارے میں دو نظریے
    Rate this post

    امامت کے بارے میں دو مشخص نظریے ہیں

    پہلانظریہ:
    جمہور،یعنی اہل سنّت کا ہے،جومعتقد ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کواپنے بعد،اپنے جانشین کے طورپر معرفی نہیں کیاہے اور یہ امت کی ذمہ داری تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین کومنتخب کریں۔
    دوسرانظریہ :
    شیعہ امامیہ کا نظریہ ہے کہ وہ امامت کوخداکی طرف سے منصوب اور معین جانتے ہیں او عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت نبوت ہی کا ایک سلسلہ ہے اور امام کو نصب اورپیغمبرکے مانند معین کر نا خدائے متعال کی ذمہ داری ہے۔
    شیعوں کے پاس اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ،عقل،کتا ب و سنّت کے حوالے سے بہت سے قطعی دلائل موجود ہیں ،جوکلام،تفسیر اور احادیث کی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔
    اس مقدمہ میں شیعوں کے عقلی نظریہ کواس مسئلہ کے بارے میں عقل کے حکم کے مطابق واضح کیا گیا ہے۔
    اس سلسلہ میں جو اقتباسات پیش کئے گئے ہیں وہ انسان کی فطری تحقیق اورغور وخوض کا نتیجہ ہے:
    ۱۔ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک لافانی دین ہے ،جو ہرزمانہ کے تمام لوگوں کے لئے نازل ہوا ہے۔
    ۲۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے،اس دین مبین کی تبلیغ اور ترقی کے سلسلہ میں ہر ممکن کو شش کی اور اپنے تمام وسائل سے کام لیا اوراس سلسلہ میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک غیرمعمولی اور ناقابل توصیف ایثاروجانثاری کا مظاہرہ کرتے رہے کی۔چنانچہ یہ مضمون کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ایمان کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے نکلتے تھے:
    <لعلّک باخع نفسک ان لایکونوا مؤمنین>)شعراء/۳)
    ”کیاآپ اپنے نفس کو ہلاکت میںڈال دیں گے اس لئے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں۔“
    <فلعلّک باخع نفسک علی آثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفاً>)کہف/۶)
    ”توکیاآپ شدت افسوس سے ان کے پیچھے اپنی جان خطرے میںڈال دیں گے اگریہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائے۔“
    ۳۔اس راہ میں بہترین اورباعظمت انسانوں کی ایک بڑی تعدادنے قربانی دے کرشہادت کاجام نوش کیاہے۔
    ۴۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،انسانوں کی سعادت کے لئے مختلف ابعادمیں جوکچھ مؤثر جانتے تھے ان کے لئے بیان فرماتے تھے،شیعہ اورسنّی کے فقہی فروعات او ر جزئی مسائل کے بارے میں احادیث اوراسلامی فقہ کی کتابوں میں جو کچھ وارد ہوا ہے وہ اس کا بیّن ثبوت ہیں۔
    ۵۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی حالت میںرحلت فرمائی کہ ابھی اسلام حجاز کے تمام حدودتک بھی نہیں پھیلاتھا،چہ جائے کہ اس پیغام و شریعت کی دنیابھرمیں رسائی ہو تی ۔
    ۶۔ایسی طاقتیں موجودتھیں کہ جن کی طرف سے اسلام کے وجوداوراس کی تبلیغ و بقاء کے لئے خطرہ کا احساس کیا جاتاتھا،بالخصوص اس لئے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اورانہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو نہ صرف قبول نہیں کیاتھا،بلکہ ان میں سے بعض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے مقا بلہ میں نامناسب رد عمل کا اظہاربھی کیا،جیسے کہ ایران کے بادشاہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط ہی پھاڑ ڈالا۔
    ۷۔اس قسم کی طاقتوں کا سرکچلنے اور انھیںزیر کر نے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدمسلمانوں کی ایک طاقتور فوج اور قطعی وفیصلہ کن رہبری کی ضرورت تھی۔
    ۸۔اقتدارپرستی اور جاہ طلبی انسان کے باطنی امور کا ایک ایسامسئلہ ہے ،کہ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اصحاب بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہوئے مسلمان ،جوآپ سے بے پناہ عشق ومحبت کرتے تھے،لیکن اس کے باوجود ان میں بھی بہت سے ایسے افراد موجودتھے جن کے وجود کی گہرائیوں میں پوری طرح اسلام نفوذ نہیں کرچکا تھااورا ب بھی جاہلیت کے رسم و رواج نیز،قومی اور خاندانی تعصبات کی حکو مت ان کے وجود پر سایہ فگن تھی اورہر آن یہ خطرہ لاحق تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآ وسلم کی رحلت کے بعد خلافت کی لالچ میںوہ ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جائیں۔چنانچہ بعض احادیث میں انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ:”میں اپنے بعدتمہارے مشرک ہونے سے نہیں ڈرتاہوں لیکن اس چیز سے ڈرتاہوں کہ تم لوگ امور دنیاکے لئے ایک دوسرے کی رقابت کروگے۔۱“
    ۹۔ایسے منافقین بھی موجودتھے جو ہمیشہ اسلام ومسلمین کے خلاف سازشوں میں مشغول
    ۱۔صحیح بخاری،ج۴،باب فی الحوض،ص۱۴۲،دارلمعرفتہ،بیروت
    رہتے تھے اور اس سلسلہ میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے،لہذا یہ خطرہ موجود تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ لوگ اسلامی خلافت میں نفوذ کریں اورشائد ان منافقین کا ایک گروہ ابتداء اسلام ہی سے اسی لالچ کی بناء پردعوت اسلام قبول کئے ہوئے تھا۔
    ہم تاریخ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ قبائل کے بعض سردار،پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے انھیں اسلام کی دعوت دینے پر شرط رکھتے تھے کو آئندہ اسلامی حکومت میں ان کے کردار کو ملحوظ نظر رکھا جائے:
    سیرئہ ابن ہشام میں یوں نقل ہواہے:
    ”پیغمبر اسلام (ص)،بنی عامر کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں خدائے عزّو جل کی طرف دعوت دی اور اپنا تعارف کرایا۔ ان میں سے ایک نے آنحضرت (ص)سے یوں کہا:
    ”اٴراٴیت ان نحن بایعناک علی امرک ثم اظھرک اللّٰہ علی من خالفک ایکون لنا الامر من بعدک؟ قال: الامر الی اللّٰہ یضعہ کیف یشاء“۱
    ”اگرہم آپ کی بیعت لیں اور آپ کی دعوت پر لبیک کہیں تو کیا آپاپنے مخالفین پرغلبہ حاصل کر نے کے بعداپنی خلا فت کے اختتام پر خلا فت کی بھاگ ڈور ہمیں سپرد کریں گے؟ آنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:اس کااختیارخداکے ہاتھ میں ہے،وہ جسے چاہے اسے اس عہدہ پر مقرر کرے گا۔“
    ۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۲،ص۴۲۵،داراحیائ التراث العربی بیروت،الروض الانف ،۴،ص۱۳۸،السیرةالنبویة،سید احمدزینی دحلان،ج ۱،ص۲۸۳،داراحیائ التراث العربی ،بیروت۔
    ۱۰۔یہ قضیہ ثابت شدہ اور مسلّم فطری امر ہے کہ جوبھی چند افراد کے امور کی زمام ہاتھ میں لئے ہو،انھیں سرپرست کے بغیرنہیں چھوڑتاہے،حتی اگراس کے تحت نظر بھیڑبکریاں بھی ہوں ،تووہ انھیں بھی بے سرپرست نہیں چھوڑتاہے۔
    جب خلیفہ دوم اپنی زندگی کے آخری لمحات بسر کر رہے تھے تو عبداللہ بن عمرنے ان سے کہا:
    ”انّ الناس یتحدّثون انّک غیر مستخلف و لو کان لک راعیابل اوراعی غنم ثمّ جاء و ترک رعیتہ راٴیت ان قد فرّط و رعیةالناس اشدّ من رعیہ الابل والغنم ماذا تقول اللّٰہ عزّوجل اذلقیتہ ولم تستخلف علی عبادہ ۱“
    ”لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ اپناجانشین مقررنہیں کررہے ہیں جبکہ آپ کے نزدیک اونٹوں نیزبھیڑ،بکریوں کیلئے کوئی نہ کوئی ساربان اورچرواہاہوتااوروہ مویشوں کوچھوڑکرچلاجاتا توآپ اسے قصوروارٹھراتے۔اوریہ بات مسلّم ہے کہ لوگوں کاخیال رکھنااونٹ اوربھیڑکی حفاظت و رکھوالی سے زیادہ اہم ہے۔جب خداکے بندوں کے لئے کسی جانشین کو مقررکئے بغیر آپ اس دنیاسے چلے جائیں گے تو آپ اپنے خدائے متعال کوکیاجواب دیں گے؟“
    ام المو منین عائشہ بھی اس قضیہ سے استنادکرتے ہوئے ابن عمرسے کہتی ہیں:
    ”یابنیّ بلغ سلامی وقل لہ لاتدع امة محمد بلا راع استخلف علیھم ولاتدعھم بعدک ھملاً فانی اخشی علیھم الفتنة“۲
    ”عمرکومیراسلام کہنااوراس سے کہدیناکہ امت) محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
    ۱۔الریاضی النضرة، ج ۲،ص۳۵۳،دارالندوةالجدیدةبیروت،سنن بیہقی ،ج۸،ص۱۴۹، دارالمعرفة بیروت، حلیةالاولیاء،ج۱ص۴۴،دارالفکر
    ۲۔الامامةوالسیا سة،ج۱،ص۲۳
    کواپنے بعد بے مہار اور سرپرست نہ چھوڑ ے اس لئے کہ میں ان میں فتنہ برپا ہونے سے ڈرتی ہوں۔“
    اس کے علاوہ بھی روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرنے اپنے باپ سے کہا:
    ”اے کاش!آپ اپنا ایک جانشین مقررکردیتے …اگر آپ اپنی طرف سے کسی کو قیّم اور سرپرست کے عنوان سے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں تو کیا اس بات کوپسندنہیں کرتے ہیں کسی کواپناجانشین مقررکردیں؟انہوں نے جواب میں کہا:کیوں نہیں؟ابن عمرنے کہا: جب آپ اپنی بھیڑوں کے لئے ایک نگراں اور سر پرست مقررکر تے ہیں توکیا آپ اس بات کو پسندنہیں کرتے اپنی جگہ پرکسی کومقررکردیں؟…“۱
    معاویہ بھی یزید کی جانشینی کے سلسلہ میں اس سے استنباط کرتے ہوئے کہتاہے:
    ”انیّ ارھب ان داع امة محمدی بعدی کا لضاٴن لاراعی لھا“۲
    ”میںڈرتاہوں کہیں ام )محمد (ص))کواپنے بعدچرواہے کے بغیربھیڑبکریوں کی طرح چھوڑدوں۔“
    ۱۱۔پیغمبراسلام (ص)،جب کبھی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو ہمیشہ اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر فرماتے تھے اورکبھی مدینہ کو اپنے جانشین کے بغیر نہیں چھوڑتے تھے سیرت اورتاریخ کی کتابوں میںیہ مطلب بیان ہوا ہے اورجن اشخاص کوآنحضرت (ص) نے اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے ،ان کے نام بھی کتا بوں میں درج ہیں ۔
    سیرئہ ابن ہشام میں پیغمبر اسلام (ص) کے غزوات بیان کئے گئے ہیں،اس سلسلہ میں آنحضرت (ص) کی طرف سے مدینہ میں مقررکئے گئے آپ کے جانشینوں کی فہرست
    ۱۔طبقات ابن سعد ،ج۳،ص۳۴۳،دار بیروت للطباعة والنشر۔
    ۲۔تاریخ طبری ،ج۳،جزء۵،ص۱۵۴،مؤسسہ عزالدین للطباعة والنشر،الامامة والسیاسة،ج۱ص۱۸۴ ،منشورات الشریف الرضی
    حسب ذیل ذکرکی گئی ہے:
    ۱۔غزوئہ بواط میں:سائب بن عثمان بن مظعون۱
    ۲۔غزوئہ عشیرہ میں:اباسلمةبن عبدالاسد۲
    ۳۔غزوئہ سفوان یعنی بدراولیٰ میں:زیدبن حادثہ۳
    ۴۔غزوئہ بدرکبریٰ میں:ابالبابہ۴
    ۵۔غزوئہ بنی سلیم میں:سباع بن عرفطة۵
    ۶۔غزوئہ سویق میں:عبدالمنذر)ابولبابہ)۶
    ۷۔غزوئہ ذی امر میں:عثمان بن غفان۷
    ۸۔غزوئہ فرع میں:ابن ام مکتوم۸
    ۹۔غزوئہ بنی قینقاع میں:بشیربن عبدالمنذر۹
    ۱۰۔غزوئہ احدمیں:ابن ام مکتوم۱۰
    ۱۱۔غزوئہ بنی النضیر میں:ابن ام مکتوم۱۱
    ۱۲۔غزوئہ ذات الرقاع میں:ابوذرغفاری یاعثمان بن عفان۱۲
    ۱۳۔غزوئہ بدر،دوم:عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول انصاری۱۳
    ۱۴۔غزوئہ دومةالجندل میں:سباع بن عرفطة۱۴
    ۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۲،ص۲۴۸۔
    ۲۔سیرئہ ابن ہشام ج،۲،ص۲۵۱
    ۳۔سیرئہ ابن ہشام ،ج۲،ص۱
    ۴۔سیرئہ ابن ہشام ج،۲ص۲۶۳و۲۶۴
    ۵۔ج۳ص۴۹
    ۶۔ج۳،ص۵۰
    ۷۔ج۳،ص۴۹
    ۸۔ج۳،ص۵۰
    ۹۔ج۳،ص۵۲
    ۱۰۔ج۳،ص۶۸
    ۱۱۔ج۳،ص۲۰۰
    ۱۲۔ج۳،ص۲۱۴
    ۱۳۔سیرئہ ابن ہشام ج۳،ص۲۲۰
    ۱۴۔سیرئہ ابن ہشام ج۳،ص۲۲۴
    ۱۵۔غزوئہ خندق میں:ابن ام مکتوم۱
    ۱۶۔غزوئہ بنی قریظہ میں:ابن ام مکتوم۲
    ۱۷۔غزوئہ بنی لحیان میں:ابن ام مکتوم۳
    ۱۸۔غزوئہ ذی قرةمین:ابن ام مکتوم۴
    ۱۹۔غزوئہ بنی المصطلق میں:ابوذرغفاری۵
    ۲۰۔حدیبیہ میں:نمیلةبن عبداللہ لیثی۶
    ۲۱۔غزوئہ خیبر میں:نمیلةابن عبداللہ لیثی۷
    ۲۲۔فتح مکہ میں:کلثوم بن حصین۸
    ۲۳۔غزوئہ حنین میں: عتاب بن اسید۹
    ۲۴۔غزوئہ تبوک میں:محمدبن مسلمةانصاری یاسباع بن عرفطة۱۰
    صحیح اورمشہورروایت یہ ہے کہ غزوئہ تبوک میں پیغمبراسلام (ص) نےحضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔اس مطلب کے سلسلہ میں تاریخ اوراحادیث کی دسیوں کتابیں گواہ ہیں۔
    ۲۵۔حجتہ الوداع میں:ابودجانہ انصاری یاسباع بن عرفطہ۱۱
    سریہ وہ جنگیں ہیں کہ جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہ نفس نفیس خود شرکت نہیں فرمائی ہے ،ایسی جنگوں میں پیغمبر )ص )کسی نہ کسی کوبہ حیثیت کمانڈر مقررفرماتے
    ۱۔سیرئہ ابن ہشام ،ج ۳،ص۲۳۱
    ۲۔سیرئہ ابن ہشام،ص۲۴۵
    ۳۔سیرئہ ابن ہشام،ص۲۹۲
    ۴۔سیرئہ ابن ہشام ص۳۲۱
    ۵۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۰۲
    ۶۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۲۱
    ۷۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۴۲
    ۸۔سیرئہ ابن ہشام ،ج۴،ص۴۲
    ۹۔سیرئہ ابن ہشام،ج۴،ص۹۳
    ۱۰۔سیرہ ابن ہشام، ج ۴، ص ۸۳
    ۱۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۴،ص۲۴۸،داراحیائ التراث العربی،بیروت
    تھے۔یہاں تک کہ بعض جنگوں میں چندافرادکوکمانڈر کی حیثیت سے مقررفرماتے تھے،تاکہ کسی نا خوشگوارواقعہ پیش آنے کی صورت میں بلافاصلہ ترتیب سے دوسراشخص آگے بڑھ کرکمانڈری سنبھا لے۔جنگ موتہ میں پیغمبر نے زیدبن حارثہ کوکمانڈرمقررفرمایاتھا۔کسی مشکل سے دو چار ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ پرجعفربن ابیطالب اوران کے بعدعبداللہ بن رواحہ کو کمانڈر کی حیثیت سے مقرر کیا تھا۔۱
    بئرمعونہ میں آنحضرت (ص)نے چالیس افرادکوبھیجااورعبدالمنذربن عمرکوان کاامیر قراردیا۲۔اورداستان رجیع میں فقہ کی تعلیم کے لئے چھ افرادکوبھیجااورمرثدبنابی مرثدعنوی کوان کاسردارقراردیا۳۔
    اب،جبکہ مذکورہ مطالب نیزان میں غور و حوض کرنے سے معلوم ہو جاتاہے کہ پیغمبراسلام (ص) کا اصل مقصدامت کی تربیت کرناتھا،چنانچہ قرآن مجیدنے فرمایاہے:
    <ویزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمتہ>۴
    ”وہ ان کے نفوذکوپاکیزہ بناتاہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے۔“
    آنحضرت (ص)،اپنی مسافرتوں کے درمیان چاہے وہ جس قدربھی مختصرہوتی تھی،اپناجانشین مقررکرنے میں کوتاہی نہیں فرماتے تھے اورکسی بھی گروہ کوکہیںروانہ کرتے وقت انھیں بے سرپرست نہیں چھوڑتے تھے آپاپنے مستقبل کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے،اس سلسلہ میں اپ کی پیشین گوئیاں موجودہیں،جن کے بارے میں شیعہ واہل سنّت کے بڑے محدثین نے اپنی حدیث کی کتابوں میں ذکرکیاہے۔اس لئے آپ اپنے بعداپنی شریعت پرحملہ آورہونے والے فتنوں سے آگاہ تھے،چنانچہ آپنے اس سلسلہ میں
    ۱۔سیرئہ ابن ہشام،ص،۵
    ۲۔سیرئہ ابن ہشام،ج۳، ص۱۹۴
    ۳۔سیرئہ ابن ہشام،ج۳،ص۱۸۳
    ۴۔آل عمران/۱۶۴
    خودخبردی ہے۔ان سب حقائق کے روشن ہونے کے بعدکیاآپاپنی جانشینی اورخلافت )جوآپکے بعداہم ترین مسئلہ اورآپ کے لئے فکرمندترین موضوع تھا)کے بارے میں کسی قسم کامنصوبہ نہیںرکھتے تھے اوراپنے بعدکسی کواپنے جانشین کی حیثیت سے منصوب و معین نہیں کرتے اور پوری طرح سے اس سے غافل وبے خیال رہتے ؟!! کیا ایسا ممکن ہے ؟!
    خداوندمتعال نے اپنے پیغمبر (ص) کورسالت کے لئے مبعوث کیا ہے اورآپ کی یوں توصیف کی ہے:
    <ولقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتّم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم> (توبہ/۱۲۸)
    ”یقیناتمہارے پاس وہ پیغمبرآیاہے کہ جوتمھیں میں سے ہے اوراس پرتمہاری ہرمصیبت شاق ہے وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتاہے اورمؤمنین کے حال پرشفیق اورمہربان ہے“
    یہ ایک ایسامسئلہ ہے جسے عقل سلیم اوربیدارضمیرہرگزقبول نہیں کرتاہے اورقرآن وسنت کی قطعی دلالت اس کے برخلاف ہے۔
    اس بناء پرشیعہ امامیہ کاعقیدہ یہ ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد ہونے والے امام اورخلیفہ کا اعلان اور انتخاب خدا وند عالم کی جانب سے فرمایاہے اوریہ مسئلہ قرآن مجید اورپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بیان ہواہے۔
    اس کتاب میں قرآن مجیدکی چندایسی آیات پربحث وتحقیق کی گئی ہے جوامامت اورائمہ علیہم السلام کی خصوصیات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
    مذکورہ آیات حسب ذیل ہیں:
    ۱۔آیہئ ابتلا
    ۲۔آیہئ مباھلہ
    ۳۔آیہئ اولی الامر
    ۴۔آیہئ ولایت
    ۵۔آیہئ صادقین
    ۶۔آیہئ تطھیر
    ۷۔آیہئ علم الکتاب)آیہئ شہادت)
    ان آیات میں پہلے،خودآیتوں کے بارے میں بحث وتحقیق کی گئی ہے اور اس کے بعدان سے مربوط احادیث کوبیان کیاگیاہے اوران احادیث سے آیات کی دلالت میں استفادہ کیاگیا ہے۔
    چونکہ اہم ان مباحث میں اہل سنت سے بھی مخاطب ہیں،اس لئے ان کے علماء اور مفسرین کانظریہ اوران کی احادیث بھی بیان کرکے علمی طورسے ان پر بحث کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں موجود شبہات اوراعتراضات کو بیان کرنے کے بعدان کاجواب دیاگیا ہے۔
    منبع:shiaarticles.com