islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. امامت پر ایک مدلل بحث

    امامت پر ایک مدلل بحث

    امامت پر ایک مدلل بحث
    Rate this post

    امام کے وجود کا فلسفہ
    بعثت انبیاء کی ضرورت کے موضوع پر جو بحث ہم نے کی اس سے کافی حد تک ہمارے لئے پیغمبر کے بعد امام کی ضرورت کا مسئلہ واضح ھو جاتا ھے ،کیونکہ نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور امام(ع) اکثر موضوعات میں مشترک ہیں ،لیکن یہاں پر ضروری ھے کہ کچھ دوسرے موضوعات پر بھی روشنی ڈال جائے :
    الہٰی رہبروں کے وجود کے ساتھ معنوی تکامل
    سب سے پہلے ہمیں انسان کی خلقت کے مقصد پر بحث کرنی چاہئے کیونکہ یہ گلدستہ کائنات کا سب سے اچھا پھول ھے۔
    انسان خدا کی طرف ،تمام جہات میں کمال مطلق اور معنوی تکامل کی منزل تک پہنچنے کے لئے ایک طولانی اور نشیب وفراز سے پر راستہ طے کرتا ھے۔
    بیشک انسان اس راستہ کو ایک معصوم پیشوا کی رہبری کے بغیر طے نہیں کر سکتا ھے اور اس کے لئے ایک الہٰی معلم کی رہبری کے بغیر یہ منزل طے کرنا ممکن نہیں ھے کیونکہ ”اس راہ میں تاریکیاں اور گمراہی کے خطرات موجود ہیں“۔
    یہ صحیح ھے کہ خدا وند متعال نے انسان کو عقل وشعور کی قوت سے نوازا ھے اور اسے محکم اور قوی ضمیر عطا کیا ھے ،اس کے لئے آسمانی کتابیں بھیجی ہیں۔لیکن ممکن ھے یہ انسان ان تمام تکوینی اور تشریعی وسائل کے باوجود اپنے لئے صحیح راہ کی شناخت کر نے میں غلطی کا شکار ھو جائے ۔بیشک ایک معصوم پیشوا انحراف اور گمراہی کے خطرات کو دور کر دیتا ھے ۔لہذا ”امام کا وجود انسان کی تخلیق کے مقصد کو مکمل کر نے والا ھے۔“
    یہ وہی چیز ھے جسے عقائد کی کتابوں میں”قاعدہ لطف“سے تعبیر کیا گیا ھے۔ اور ”قاعدہ لطف“سے مراد یہ ھے کہ خدا وند متعال ان تمام چیزوں کو انسان کے اختیار میں دیتا ھے جو اس کو تخلیق کے مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ھوتی ہیں ۔انبیاء کی بعثت اور امام معصوم کا وجود بھی ان ہی میں سے ھے ورنہ انسان کے مقصد خلقت کی مخالفت لازم آئے گی۔(غور فر مائیں)۔
    آسمانی ادیان کی حفاظت
    ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جب الہٰی ادیان انبیاء کے قلوب پر نازل ھو تے ہیں تو وہ بارش کے پانی کی بوندوں کے مانند صاف وشفاف حیات بخش اور روح پرور ھوتے ہیں۔ لیکن جب وہ آلودہ ماحول اور کمزور یا ناپاک ذہنوں میں وارد ھوتے ہیں تو رفتہ رفتہ آلودہ ھو جاتے ہیں اور خرافات وتو ہمات ان میں اس قدر مخلوط ھو جاتے ہیں کہ ان کی بنیادی پاکیزگی اور لطافت ختم ھو جاتی ھے ۔اس حالت میں نہ ان میں جذّابیت باقی رہتی ھے اور نہ تربیت کا خاص اثر ،نہ ہی یہ ادیان پیاسوں کو سیراب کر سکتے ہیں اور نہ ان میں فضائل وکمالات کی کلیاں اور پھول کھلا سکتے ہیں۔
    اس لئے ضروری ھے کہ دین ومذہب کی اصلی شکل کی حفاظت اور دینی اصول وضوابط کے خالص رہنے کے لئے ایک معصوم پیشوا موجود ھو تا کہ وہ انحرا فات ،غلط افکار،غلط اور اجنبی نظریات،توہمات وخرافات سے دین کو بچاسکے ۔اگر دین ومذہب ایسے رہبر سے محروم ھوگا تو وہ دین مختصر مدت کے اندر ہی اپنی حقیقی شکل اور پاکیزگی کو کھودے گا۔
    اسی لئے حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں:
    ”اللّٰھم بلی ،لا تخلوا لارض من قائم للّٰہ بحجة،اماظاھراًمشھورا،اوخائفاًمغمورا لئلا تبطل حجج اللّٰہ وبینا تہ۔“[1]
    ”جی ہاں ،زمین ہر گز قیام کر نے والے حجت خدا سے خالی نہیں ھو سکتی ھے،خواہ(وہ حجت خدا)ظاہر وآشکار ھو یامخفی وپوشیدہ،تاکہ خدا کی واضح دلیلیں اور نشانیاں باطل نہ ھونے پائیں۔“
    حقیقت میں قلب امام(ع) اس محفوظ صندوق کے مانند ھے جس میں ہمیشہ گراں قیمت اسنادرکھے جاتے ہیں تاکہ چوروں کی لوٹ مار اور دوسرے حوادث سے محفوظ رہیں یہ بھی وجود امام کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ھے۔
    امت کی سیاسی واجتماعی رہبری
    اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ کوئی بھی معاشرہ یاگروہ ایک ایسے اجتماعی نظام کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا ھے جس کی سر پرستی ایک توانا رہبر کرتا ھو۔اسی لئے زمانہ قدیم سے آج تک تمام اقوام و ملل نے اپنے لئے ایک رہبر کو منتخب کیا ھے۔ کبھی یہ رہبر صالح ھو تا تھا لیکن بہت سے مواقع پر ناصالح ھو تا تھا ۔اکثر مواقع پر امتوں کی ایک رہبر کی ضرورت اور احتیاج سے ناجائز فائدہ اٹھا تے ھو ئے ظالم بادشاہ اور سلاطین زورو زبر دستی سے لوگوں پر مسلط ھو کر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔۔۔یہ ایک طرف۔
    دوسری طرف انسان کو اپنے معنوی کمال کے مقصد تک پہنچنے کے لئے اس راستہ کو اکیلے ہی نہیں بلکہ جماعت اور معاشرہ کے ہمراہ طے کر ناچاہئے ۔کیونکہ فکری ،جسمانی، مادی اور معنوی لحاظ سے انفرادی طاقت کمزور ھو تی ھے اور اس کے مقابلہ میں اجتماعی طاقت بہت قوی ھوتی ھے ۔
    لیکن ایک معاشرے کے لئے ضروری ھے کہ اس میں ایک ایسا صحیح نظام حکم فر ماھو،جو انسانی صلاحیتوں میں نکھار لائے ،انحرا فات اور گمراہیوں سے مقابلہ کرے،معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کا تحفظ کرے،بلند مقاصد تک پہنچنے کے لئے پرو گراموں کو منصوبہ بند طریقے پر منظم کرے اور ایک آزاد ماحول میں پورے معاشرے کو حرکت میں لانے کے عوامل یکجا کرے۔
    چونکہ ایک خطا کارانسان میں ایسی عظیم ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت اور طاقت نہیں ھے ،جیسا کہ ہم ہمیشہ صحیح راستہ سے سیاسی حکمرانوں کے انحراف اور گمراہی کا مشاہدہ کرتے رھے ہیں ،اس لئے ضروری ھے کہ خداوند متعال کی طرف سے ایک معصوم رہبران امور کی نگرانی ونظارت کرے اور لوگوں کی توانائیوں اور دانشوروں کے افکار سے استفادہ کرتے ھوئے انحرافات کی بھی روک تھام کرے۔
    یہ امام کے وجود کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ اور”قاعدہ لطف“کے شعبوں میں سے ایک شعبہ ھے۔ہم مکرر عرض کر رھے ہیں کہ استثنائی زمانہ میں بھی ،جب امام معصوم کچھ وجوہات کی وجہ سے غائب ھوں تو لوگوں کی ذمہ داریاں واضح ہیں ۔ان شاء اللہ تعالیٰ ہم”حکومت اسلامی“کی بحث میں اس پر مفصل روشنی ڈالیں گے۔
    اتمام حجّت کی ضرورت
    امام(ع) کے وجود کی نورانی کرنوں سے صرف آمادہ دلوں کی رہنمائی ہی مقصد نہیں ھے تاکہ وہ کمال مطلق کے راستے پر گامزن رہیں بلکہ امام کا وجودان لوگوں کے لئے بھی حجت کے طور پر ضروری ھے،جو جان بوجھ کر گمراہی کی طرف جاتے ہیں ،تاکہ ان کے ساتھ وعدہ کی گئی سزابے دلیل نہ ھو اور کوئی شخص ایسا اعتراض نہ کر سکے ،کہ اگر کسی الہٰی رہبر نے ہماری رہنمائی کرتے ھوئے ہمیں حق کی طرف دعوت دی ھو تی تو ہم ہر گزگمراہ نہ ھو تے۔
    مختصر یہ کہ امام کے وجود کا مقصد یہ ھے کہ عذر اور بہانہ کے تمام راستے بند کر دیئے جا ئیں ،حق کی دلیلیںکافی حد تک بیان کی جائیں ،نا آگاہ لوگوں کو آگاہی فراہم کی جائے اور آگاہ افراد کو اطمینان دلاکر ان کے ارادہ کو تقویت بخشی جائے۔
    امام،فیض الہٰی کا عظیم وسیلہ ھے
    بہت سے علماء ،اسلامی احادیث کی روشنی میں،انسانی معاشرہ یا تمام کائنات میں پیغمبر اور امام کے وجود کو انسان کے بدن میں ”قلب“کے وجود سے تشبیہ دیتے ہیں۔
    ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دل کی دھڑکن کے نتیجہ میں خون تمام رگوں میں پہنچ جاتا ھے اور اس طرح بدن کی تمام خلیوں کو غذا پہنچتی ھے۔
    چونکہ امام معصوم ایک انسان کامل اور کاروان انسانیت کے راہنما کی حیثیت سے فیض الہٰی کے نازل ھو نے کا وسیلہ ھے اور ہر شخص پیغمبر وامام سے اپنے ارتباط کے مطابق اس فیض الہٰی سے بہرہ مند ھو تا ھے ۔لہذا یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح انسان کے لئے ”دل“کا وجود ضروری ھے اسی طرح عالم انسانیت کے لئے فیض الہٰی کے اس وسیلہ (امام(ع)) کا ھونابھی ضروری ھے۔(غور فر مائیے)
    مغالطہ نہ ھو ،پیغمبر اور امام کے پاس اپنی کوئی ایسی چیز نہیں ھو تی ھے جسے وہ دوسروں کو عطا کریں ،بلکہ ان کے پاس جو کچھ ھو تا ھے وہ خدا کا دیا ھوا ھو تا ھے ،لیکن جس طرح ”دل“بدن کے لئے فیض الہٰی کا وسیلہ ھو تا ھے ،اسی طرح پیغمبر اور امام بھی تمام انسانوں کے لئے فیض الہٰی کے سبب اور وسیلہ ھو تے ہیں۔
    امام کے خاص شرائط وصفات
    اس بحث میں سب سے پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ کر نا ضروری ھے:قرآن مجید سے بخوبی معلوم ھو تا ھے کہ”امامت کا مرتبہ“ایک ایسا بلند مرتبہ ھے کہ ممکن ھے ایک انسان اس مرتبہ تک پہنچ سکے ۔یہاں تک کہ یہ مرتبہ ”نبوت“ اور ”رسالت“کے مرتبہ سے بھی بلند تر ھے۔ کیونکہ بت شکن پیغمبر حضرت ابراھیم علیہ السلام کے بارے میں قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۴میں ارشاد ھوا ھے:
    <وإذ ابتلیٰ إبراھیم ربّہ بکلمٰتٍ فاٴتمّھنّ قال إنّی جاعلک للنّاس اماماً قال ومن ذرّیّتی قال لا ینال عھدی الظلمین>
    ”اور اس وقت کو یاد کرو جب خد انے چند کلمات کے ذریعہ ابراھیم(ع) کا امتحان لیا اور انھوں نے اسے پورا کر دیا تو اس (خدا) نے کہا ہم تم کو لوگوں کا امام اور قائد بنارھے ہیں ۔انھوں نے عرض کی:میری ذریت؟ارشاد ھو یہ عہدئہ امامت ظالمیں تک نہیں جا ئے گا۔“
    اس طرح حضرت ابراھیم(ع)،نبوت اور رسالت کا مرحلہ طے کر نے اور خدا کی طرف سے لئے گئے مختلف امتحانات میں کامیابی حاصل کر نے کے بعد لوگوں کی ظاہری وباطنی اور مادی ومعنوی پیشوائی کے بلند مرتبہ(امامت)پر فائز ھوئے۔
    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نبوت ورسالت کے مرتبہ کے علاوہ لوگوں کی امامت ورہبری کے مرتبہ پر فائز تھے ،بعض انبیاء علیہ السلام بھی اس مرتبہ پر فائز تھے ،یہ ایک طرف۔
    دوسری طرف ہم جانتے ہیں کہ کسی عہدہ کو سنبھالنے والے میں فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق شرائط اور صفات کا ھو نا ضروری ھے یعنی جس قدر مرتبہ بلند تر اور ذمہ داریان سنگین تر ھوں گی اسی تناسب سے ضروری شرائط اور صفات سنگین تر ھوں گی ۔
    مثلاًاسلام میں قاضی اور جج کے عہدہ پر فائز ھونے،حتی گواہی دینے اور امام جماعت بننے کے لئے بھی عادل ھو نا ضروری ھے ۔جس مذہب میں ایک گواہی دینے یا نماز جماعت میں حمد وسورہ پڑھنے کی ذمہ داری نبھانے والے کے لئے عادل ھو نا ضروری ھو،ظاہر ھے اس میں امامت کے جیسے غیر معمول اور بلند مرتبہ پر فائز ھو نے کے لئے کن شرائط کا ھو نا ضروری ھو گا ۔
    بہر حال امام کے لئے درج ذیل شرائط کا ھو نا ضروری ھے:
    ۱۔معصوم ھو نا:امام کو پیغمبر کے مانند معصوم ھو نا چاہئے یعنی اسے خطا اور گناھوں سے پاک ھو نا چاہئے ۔اگر ایسا نہ ھو گا تو وہ لوگوں کے لئے رہبر اور نمونہ نہیں بن سکتا ھے اور معاشرے کے لئے قابل اعتماد نہیں بن سکتا ھے۔
    امام میں ایسی خصوصیات ھونی چاہئیںکہ لوگوں کے دل و جان پر حکمرانی کر سکے اور اس کا حکم کسی چون وچرا کے بغیر لوگوں کے لئے قابل قبول ھو نا چاہئے ۔جو شخص گناھوں میں آلودہ ھو گا وہ کبھی ہر لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ھو سکتا اور ایسی مقبو لیت پیدا نہیں کر سکتا ۔
    جو شخص اپنے روز مرہ کاموں میں غلطیوں اور خطاؤں کا مرتکب ھو تا ھو ،اس کے لئے کیسے ممکن ھے کہ معاشرے کے امور میں اس کے افکار و نظریات پر اعتماد کرتے ھو ئے کسی چون وچرا کے بغیر عمل کیا جائے؟
    اس میں کوئی شک نہیں ھے کہ پیغمبرکو معصوم ھو نا چاہئے ،امام میں بھی اس شرط کا ھو نا مندرجہ بالا دلیل کے مطابق ضروری ھے ۔
    اس بات کو ایک اور طریقہ سے بھی ثابت کیا جاسکتا ھے،وہ طریقہ”قاعدہ لطف“ھے ۔کہ پیغمبر و امام کے وجود کی اصل کا انحصار اسی قاعدہ پر ھے اور یہ قاعدہ عصمت کی صفت کو بھی ضروری قرار دیتا ھے ،کیو نکہ پیغمبر و امام کے وجود مقدس کے مقاصد کی تکمیل مرتبہ عصمت کے بغیر ممکن نہیں ھے۔اس کے علاوہ گزشتہ سبق میں جو وجود امام(ع) کے فلسفے ہم نے بیان کئے ہیں وہ بھی اس (صفت عصمت)کے بغیر نامکمل رہیں گے۔
    ۲۔بھر پور علم:امام،پیغمبر کے مانند لوگوں کے لئے علمی مامن اور پناہ گاہ ھو تا ھے ۔وہ تمام اصول دین،فروع دین،قرآن مجید کے ظاہر و باطن ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی سنت اور جو کچھ اسلام سے مربوط ھے ان سب کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ و عالم ھو نا چاہئے کیونکہ وہ شریعت اسلام کا محافظ بھی ھو تا ھے اور لوگوں کا رہبر و قاعد بھی ھو تا ھے۔
    جو اشخاص ،پیچیدہ اور مشکل مسائل پیش آنے کی صورت میں پریشان ھو کر دوسروں کی طرف دست ِسوال دراز کرتے ہیں اور ان کا علم ودانش اسلامی معاشرے کو پیش آنے والے مسائل کو حل کر نے سے قاصر ھو تا ھے وہ ہر گز امات کا منصب اور لوگوں کی رہبری وقیادت کی باگ ڈور نہیں سنبھال سکتے ہیں۔
    مختصر یہ کہ امام کو دین الہٰی کا سب سے عظیم عالم ھو ناچاہئے تاکہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کی وجہ سے پیدا ھو نے والے خلاء کو فوراًپر کر سکے اور صحیح اور ہر قسم کے انحرافات سے پاک اسلام کی راہ کو ثبات و دوام بخش سکے۔
    ۳۔شجاعت:امام کے لئے ضروری ھے کہ وہ اسلامی معاشرے میں شجاع ترین انسان ھو،کیونکہ شجاعت کے بغیر ،رہبری وقیادت ممکن نہیں ھے ۔یہ شجاعت سخت اور ناگوا حوادث جابروں،سرکشوں ظالموں،اور اسلامی مملکت کے داخلی وخارجی دشمنوںسے مقابلہ کے لئے ضروری ھے۔
    ۴۔زہد وتقویٰ:ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دنیا کی ظاہری شان وشوکت اور زرق وبرق میں گرفتار ھوئے لوگ جلد دھوکہ کھاتے ہیں اور ان کے لئے حق کی راہ سے منحرف ھو نے کا احتمال زیادہ ھو تا ھے ۔ان دنیا پرستوں کو کبھی لالچ کے ذریعہ اور کبھی دھمکیوں سے اپنے اصلی راستہ سے منحرف کیا جاتا ھے۔
    امام کو اس دنیا کی ظاہری نعمتوں کے مقابلہ میں ”اسیر“ھو نے کے بجائے ”امیر“(بے نیاز)ھو نا چاہئے۔
    امام کو اس مادی دنیا کی ہر قید وبند ،یعنی، نفسانی خواہشات ،مقام و منزلت ،مال و دولت اور جاہ و حشم کی قیود سے آزاد و بے نیاز ھو نا چاہئے تاکہ فریب،اثرورسوخ اور سازش کے دام میں پھنسا کر اسے شکست نہ دی جا سکے ۔
    ۵۔پر کشش اخلاق: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآن مجید میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۵۹ میں ارشاد ھوا ھے:
    <فبما رحمة من اللّٰہ لنت لھم ولو کنت فظّاً غلیظ القلب لا نفضّوا من حولک>   ( سورہ آل عمران/۱۵۹)
    ”پیغمبر!یہ اللہ کی مہر بانی ھے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ھو ورنہ اگر تم بد مزاج اور سخت دل ھوتے تو یہ تمھارے پاس سے بھاگ کھڑے ھو تے“
    پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر رہبر و پیشوا کے لئے ضروری ھے کہ وہ بھی پر کشش اور نیک اخلاق کا مالک ھو تا کہ وہ مقناطیس کے مانند لوگوں کو اپنی طرف کھینچ سکے۔
    بیشک ہر قسم کی تند روی اور بد اخلاقی،جو لو گوں میں نفرت پیدا ھو نے کا سبب ھوتی ھے ،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورامام کے لئے بہت بڑا عیب شمار ھوتی ھے وہ ایسے عیوب سے پاک و منزّہ ھو تے ہیں ،ورنہ(امام(ع))کے بہت سے وجودی فلسفے بے کار ھو کر رہ جائیں گے۔
    یہ اہم ترین شرائط ہیں،جو عظیم علماء نے امام کے لئے بیان کئے ہیں۔
    البتہ مذکورہ پانچ صفات کے علاوہ بھی امام کے لئے کچھ مزید صفات اور شرائط کا ھو نا ضروری ھے ،لیکن ان میں سے اہم ترین صفات یہی ہیں جن کا ذکر ہم نے کیا ھے۔
    امام کا تعیّن کس کے ذمہ ھے؟
    مسلمانوں کے ایک گروہ (اہل سنّت)کا یہ عقیدہ ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی حالت میں رحلت فر مائی کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنے بعد کسی کو جانشین کے طور پر مقرر و معیّن نہیں فر مایا تھا ۔ان لوگوں کا عقیدہ یہ ھے کہ یہ ذمہ داری خود مسلمانوں کی ھے کہ اپنے لئے رہبر اور پیشوا کو منتخب کریں اور اس کام کو ”اجماع مسلمین“ کے طریقہ سے انجام دیںجو دلائل شرعی میں سے ایک دلیل ھے۔
    ان کا کہنا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ کام انجام پایا اور سب سے پہلے خلیفہ اول امت کے اجماع کے ذریعہ خلافت کے عہدے پر منتخب کئے گئے ۔جبکہ پہلے خلیفہ نے (اجماع امت کے بجائے) خود ذاتی طور پر (وصیت کے ذریعہ) دوسرے خلیفہ کو مقرر کیا۔
    اس کے بعد دوسرے خلیفہ نے چھ افراد پر مشتمل ایک شوریٰ تشکیل دی تاکہ یہی لوگ ان کے بعد ان کے جانشین کو منتخب کریں۔
    اس شوریٰ کے اراکین :حضرت علی(ع)،عثمان،عبدالرحمان بن عوف،طلحہ،زبیر اور سعد بن ادبی وقاص تھے۔
    اس شوریٰ نے تین اراکین کی اکثریت سے،یعنی سعدبن ابی وقاص ،عبدالرحمان بن عوف اور طلحہ کی رائے سے عثمان کو منتخب کیا۔ دوسرے خلیفہ نے صراحت کی تھی کہ شوریٰ کے اراکین کی رائے تین تین افراد پر برابر تقسیم ھو جانے کی صورت میں جس طرف عبدالرحمان بن عوف (عثمان کے بہنوئی )کی رائے ھو وہی خلیفہ منتخب کیا جائے!
    عثمان کی خلافت کے آخری دنوں میں لوگوں نے مختلف دلائل کی بنا ء پر ان کے خلاف بغاوت کی اور اس سے پہلے کہ وہ ذاتی طور پر یا شوریٰ کے ذریعہ اپناجانشین مقرر کرتے،انھیں قتل کر ڈالا۔
    اس وقت عام مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین کی حیثیت سے آپ(ع) کی بیعت کی ۔صرف شام کے گورنر معاویہ نے حضرت علی علیہ السلام کی بیعت سے انکار کیا ،کیونکہ وہ بخوبی جانتا تھا کہ حضرت علی(ع) اسے موجودہ عہدے پر باقی نہیں رکھیں گے ۔
    معاویہ نے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی بیعت ہی نہیں کی بلکہ آپ(ع) کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کر دیا اور اس طرح تاریخ اسلام میں ناگوار،مرگ آور اور منحوث حوادث کا دور شروع ھوا جس کے نتیجہ میں بے گناہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا خون بہہ گیا۔
    یہاں پر علمی اور تاریخی بحثوں کے واضح ھو نے کے لحاظ سے بہت سے سوالات ابھرتے ہیں ہم ان میں سے چند سوالات پر بحث کر رھے ہیں:
    ۱۔کیا امت کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین منتخب کر نے کا حق ھے؟
    اس سوال کا جواب مشکل اور پیچیدہ نہیں ھے ۔اگر ہم امامت کو اسلامی معاشرہ کی ظاہری حکمرانی جان لیں تو ایسے حاکم کو لوگوں کی رائے سے منتخب کر نا رائج ھے۔
    لیکن اگر ہم امامت کو اس معنی میں لیں ،جس کی وضاحت ہم پہلے قرآن مجید کی روشنی میں کرچکے ہیں ،تو کسی شک و شبہہ کے بغیر،خداوند متعال یا وحی الہٰی سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی شخص امام اور خلیفہ کو معین نہیں کرسکتا ھے۔
    کیونکہ اس تفسیر کے مطابق امامت کی شرط اسلام کے تمام اصول وفروع میں بھر پور علم رکھنا ھے ایسا علم جس کا سر چشمہ علم الہٰی اور علم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ھوتاکہ وہ شریعت اسلام کی حفاظت کرسکے۔
    دوسری شرط یہ ھے کہ امام معصوم ھو ناچاہئے ،یعنی اسے خداکی طرف سے ہر خطاو گناہ سے پاک ومنزّہ ھو نے کی ضمانت حاصل ھو تا کہ معاشرے کی معنوی و مادی، ظاہری و باطنی رہبری و قیادت کی ذمہ داری سنبھال سکے۔
    اس کے علاوہ امام یا خلیفہ کو اس منصب کے لئے ضروری زہد وتقویٰ ،پرہیز گاری اور شجاعت کا حامل بھی ھو ناچاہئے ۔
    یہ بات یقینی ھے کہ ان شرائط کی تشخیص خدا اور پیغمبر کے علاوہ کسی اور کے ذریعہ ممکن نہیں ھے ۔وہی(خداہی) یہ جانتا ھے کہ کس شخص کی روح عصمت کے نور سے منور ھے اور وہی جانتا ھے کہ منصب امامت کے لئے ضروری علم ،تقویٰ ،پرہیز گاری ،شجاعت و شہامت کس شخص میں موجود ھے۔
    جن لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ اور امام کا تعیّن لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا ھے،انھوں نے حقیقت میں امامت کے قرآنی مفھوم میں تبدیلی ایجاد کر کے امامت کو عام حکمرانی اور دنیوی امور میں لوگوں کی رہبری تک محدود کر کے رکھ دیا ھے ورنہ جامع اور کامل معنی میں امامت کے شرائط پرور دگار عالم کے ذریعہ ہی قابل تشخیص ہیں اور وہی ان صفات کے بارے میں مکمل علم و آگاہی رکھتا ھے۔
    امام کا انتخاب بھی بالکل اسی طرح کیا جاتا ھے جس طرح پیغمبر کا انتخاب کیا جاتا ھے ۔پیغمبر کا انتخاب لوگوں کی رائے سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ ضروری ھے کہ پیغمبر کا انتخاب خداوند متعال کی طرف سے ھو اور معجزات کے ذریعہ اس کی پہچان کر وائی جائے اس لئے کہ پیغمبر میں پائی جانے والی ضروری صفات کی تشخیص بھی صرف خدا وند متعال ہی کر سکتا ھے۔
    ۲۔کیا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا ھے؟
    بیشک دین اسلام ایک ”عالمی‘اور ”لافانی“دین ھے اور قرآن مجید کی واضح آیات کے مطابق یہ دین کسی خاص زمان و مکان سے مخصوص نہیں ھے ۔
    یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی رحلت کے زمانہ تک یہ الہٰی اور آسمانی دین جزیرئہ عرب سے باہر نہیں پھیلا تھا۔
    دوسری طرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی زندہ گی کے تیرہ سال مکہ میں شرک وبت پرستی سے مبارزہ اور مقابلہ کر نے میں گزرگئے اور ہجرت کے بعد، جو اسلام کے پھلنے اور پھولنے کا درد تھا ،آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زندہ گی کے باقی دس سال بیشتر دشمنوں کی طرف سے تھوپی گئی جنگوں اور غزوات میں صرف ھو گئے۔
    اگر چہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کے مسائل کی تبلیغ اور تعلیم کے لئے دن رات انتھک کو شش کی اور اور نو عمر اسلام کا تمام جہات میں تعارف فر مایا،پھر بھی یقینا اسلام کے بہت سے ایسے مسائل باقی تھے جن کی تفسیر وتشریح کے لئے مزید وقت در کار تھا، اس لئے ضروری تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی جیسا کوئی شخص آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد اس سنگین ذمہ داری کو سنبھالے ۔
    ان تمام باتوں کے علاوہ مستقبل کے حالات کی پیشنگوئی کے پیش نظر مذہب کو دوام بخشنے کے مقد مات کو فراہم کر نا ان اہم امور میں سے ھے کہ ہر رہبر اور قائد کو اس کی فکر ھو تی ھے اور ہر گز اس بات کے لئے آمادہ نہیں ھو تا ھے کہ اس بنیادی مسئلہ کو فرا موش کر دے۔
    اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے بعض اوقات انسانی زندگی کے معمولی اور سادہ مسائل کے بارے میں بھی احکام بیان فر مائے ہیں ،کیا یہ ممکن ھے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مسلمانوں کی خلافت،زعامت اور امامت جیسے اہم مسئلہ کے بارے میں کو ئی دستور معیّن نہیں فر مایا ھو گا؟!
    مذکورہ تین نکات کا مجموعہ اس بات پر واضح دلیل ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جانشین مقرر کر نے کا قطعاً اقدام فر مایا ھے ۔انشااللہ ہم بعد میں اس سلسلہ میں قطعی اور مسلّم الثبوت روایتوں کے چند نمو نے بھی پیش کریں گے تاکہ یہ منطقی حقیقت اور بھی زیادہ واضح ھو جائے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر گز اپنی زندگی کے دوران اس اہم اور حیاتی مسئلہ سے غافل نہیں رھے ہیں ،اگر چہ خاص سیاسی وجو ہات کی بنا ء پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایاھے۔
    کیا یہ بات قابل یقین ھے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوات (جیسے غزوہ تبوک) کے دوران صرف چند دنوں کے لئے مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو ضرور اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر فر ماتے تھے اور اپنی جگہ خالی نہیں رکھتے تھے،لیکن اپنی رحلت کے بعد کی کوئی پروا کئے بغیر کسی قسم کا اقدام نہ فر مائیں ،اور امت کو اختلا فات اور سر گردانی کے طوفان میں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ہر ایک رہبر کے ذریعہ اسلام کے دوام کی ضمانت فراہم نہ فر ما ئیں؟!
    اگرپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا جانشین مقرر نہ فر ماتے تو یقینا نو عمر اسلام کے لئے بڑے خطرات لا حق ھو تے ۔عقل اور منطق اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیتی ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم   ایسا کام انجام دیں جس سے اسلام کو خطرات لاحق ھوں۔جن لوگوں کا یہ دعویٰ ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کام امت کے ذمہ چھوڑ دیا ھے ،وہ اپنے اس نظریہ کی تائید میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کم از کم ایک دلیل تو پیش کریں،جس سے ثابت ھو جائے کہ پیغمبر اسلام نے اس نظریہ کی تاکید فر مائی ھے !،جبکہ ان کے پاس اس سلسلہ میں کوئی بھی دلیل موجود نہیں ھے۔
    ۳۔ اجماع اور شوریٰ
    فرض کریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (اپنا جانشین مقرر کر نے کے )اس نہایت اہم مسئلہ کو نظر انداز کیا ھو اور خود مسلمانوں پر اس (خلیفہ) کے انتخاب کر نے کی ذمہ داری ھو لیکن ہم جانتے ہیں کہ ”اجماع“سے مراد تمام مسلمانوں کا اتفاق ھے اور پہلے خلیفہ کی خلافت کے بارے میں ہر گز ایسا اتفاق یا اجماع حاصل نہیں ھوا ھے ۔صرف مدینہ میں موجود اصحاب میں سے چند صحابیوں نے اس بات کا فیصلہ کیا، جبکہ تمام اسلامی شہروں کے لوگوں نے اس فیصلہ میں بالکل شرکت نہیں کی ،بلکہ خود مدینہ میں موجود حضرت علی(ع) اور بنی ہاشم کے بہت بڑے گروہ نے اس انتخاب میں کسی قسم کی شرکت نہیں کی ،اس لئے یہ اجماع قطعاً قابل قبول نہیں ھے۔
    پھراگر یہ طریقہ صحیح تھا ،تو پہلے خلیفہ نے اپنا جانشین مقرر کر نے کے سلسلہ میں کیوں اس پر عمل نہیں کیا ؟انھوں نے کیوں ذاتی طور پر اپنا جانشین نامزد کیا ؟اگر ایک شخص کی طرف سے جانشین کو مقرر کر نا کافی ھوتا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کام کے لئے سب سے افضل و اولیٰ تھے۔اگر لوگوں کی طرف سے بعد میں کی جانے والی بیعت اس مشکل کو حل کر سکتی ھے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں یہی بیعت بہر صورت میں مسئلہ کو حل کرسکتی ھے ۔
    اس کے علاوہ تیسری مشکل ”خلیفہ سوم“کے بارے میں پیش آتی ھے ،کہ دوسرے خلیفہ نے کیوں پہلے خلیفہ کے منتخب ھو نے کے طریقہ کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور جس طریقہ سے خود بر سر اقتدار آئے تھے ،اس کو بھی توڑ دیا یعنی نہ”اجماع“ پر عمل کیا اور نہ ذاتی طور پر کسی کو نامزد کیا بلکہ اس کام کے لئے ایک تیسرا طریقہ ایجاد کر کے ایک محدود شوریٰ کو اس کام کی ماموریت دے دی۔
    اصولی طور پر اگر شوریٰ صحیح ھے تو یہ شوریٰ کیوں صرف چھ افراد تک محدود ھو؟اور چھ ارکان میں سے صرف تین ہی کی رائے کافی ھو؟
    یہ وہ سوالات ہیں جو تاریخ اسلام کے ہر محقق کو پیش آتے ہیں اور ان سوالات کا جواب نہ ملنا اس بات کی واضح دلیل ھے کہ امام اور خلیفہ کے انتخاب کے مذکورہ طریقے صحیح نہیں ہیں ۔
    ۴۔علی علیہ السلام سب سے لائق وافضل تھے۔
    اگر ہم فرض کریں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی بھی شخص کو اپنا جانشین مقرر نہیں فر مایا تھا،اور یہ بھی فرض کرلیں کہ یہ کام لوگوں پر چھوڑ دیا گیا تھا ۔لیکن کیا یہ صحیح ھے کہ خلیفہ اور امام کو منتخب کر نے کے وقت ایک ایسے شخص کو نظر انداز کر دیا جائے جو علم ،تقویٰ،پرہیز گاری شجاعت اور دوسرے امتیازات و خصوصیات کے لحاظ سے سب سے افضل ھو اور اس کے بجائے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا جائے جو اس سے نہایت کمتر ھو؟!
    علماء اسلام کی ایک بڑی تعداد ،حتی کہ اہل سنت علماء نے واضح طور پر لکھا ھے کہ اسلامی مسائل سے آگاہی اور علم رکھنے کے حوالے سے حضرت علی(ع) سب سے افضل تھے۔ خود حضرت (ع) سے باقی ماندہ روایات اور آثار اس حقیقت کے روشن ثبوت ہیں۔تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ھے کہ حضرت علی (ع) تمام علمی مشکلات کو حل کر نے میں امت کے پناہ گاہ تھے،یہاں تک کہ اگر کبھی خلفاء کو بھی کوئی پیچیدہ یا مشکل مسئلہ پیش آتا تھا، وہ حضرت(ع) کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ(ع) سے مدد طلب کرتے تھے۔
    حضرت علی (ع)شجاعت ،علم ،تقویٰ،پرہیز گاری اور دوسری صفات کے لحاظ سے سب سے افضل تھے اس لئے اس فرض کی بناء پر کہ لوگوں کو امام وخلیفہ چننے کا حق تھا ،پھر بھی علی(ع) اس منصب کے لئے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ تھے۔(البتہ اس بحث سے متعلق کافی اسناد موجود ہیں ،جن کا ذکر اختصار کے پیش نظر یہاں پر ممکن نہیں ھے )۔
    قرآن اور امامت
    عظیم آسمانی کتاب قرآن مجید ،دوسری تمام چیزوں کے مانند امامت کے مسئلہ میں بھی ہمارے لئے بہترین راہنما ھے۔قرآن مجید نے مسئلہ امامت پر مختلف جہات سے بحث کی ھے۔
    ۱۔قرآن مجید”امامت“کو خدا کی جانب سے جانتا ھے:
    جیسا کہ ہم نے گزشتہ بحثوں میں حضرت ابراھیم (ع) بت شکن کی داستانوں میں پڑھا ھے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراھیم(ع) کو نبوت اور رسالت پر فائز ھو نے اور مختلف امتحانات میں کامیاب ھو نے کے بعد امامت کے عہدہ پر قرار دیا ھے۔اور سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۲۴ میں ارشاد فر مایا ھے:
    <وإذابتلیٰ إبرا ھیم ربّہ بکلمٰتٍ فاٴتمّھنّ قال إنی جاعلک للنّاس إما ماً>
    ”اور اس وقت کو یاد کروجب خدانے چند کلمات کے ذریعہ ابراھیم کا امتحان لیا اور انھوں نے پورا کر دیا تو اس نے کہا ہم تم کو لوگوں کا امام بنارھے ہیں۔“
    قرآن مجیدکی مختلف آیات اور تاریخی قرائن سے معلوم ھو تا ھے کہ حضرت ابراھیم (ع) با بل کے بت پرستوں سے مبارزہ کر نے،شام کی طرف ہجرت کر نے اور خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے بیٹے اسماعیل(ع) کو قربان گاہ میں لے جانے کے بعد امامت کے منصب پر فائز ھو ئے ہیں۔
    جب نبوت و رسالت کا عہدہ خدا کی طرف سے معیّن ھو ناضروری ھے تو مخلوق کی ہمہ جہت امامت و رہبری کا مرتبہ بطریق اولیٰ خدا کی طرف سے معیّن ھو نا ضروری ھے ،کیونکہ امامت کا مرتبہ رہبری کے تکامل کی معراج ھے ۔اس لئے یہ کوئی ایسی معمولی چیز نہیں ھے جسے لوگ انتخاب کریں ۔
    پھر قرآن مجید خود مذکورہ آیت میں فر ماتا ھے:
    <إنی جاعلک للنّاس اماماً>
    ”میں تم کو امام و پیشوا قرار دینے والا ھوں۔“
    اسی طرح سورہ انبیاء کی آیت نمبر ۷۳ میں بھی بعض با عظمت انبیاء جیسے: حضرت ابراھیم(ع) ،حضرت لوط(ع) ،حضرت اسحاق(ع) اور حضرت یعقوب(ع) کے بارے میں ارشاد ھو تا ھے:
    <وجعلنا ھم اٴئمة یھدون باٴمرنا>
    ”اورہم نے ان سب کو پیشوا قرار دیا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے“
    اس قسم کی تعبیریں قرآن مجید کی دوسری آیتوں میں بھی ملتی ہیں ،جن سے معلوم ھو تا ھے کہ یہ الہٰی منصب خداوند متعال کے توسط سے ہی معیّن ھو نا چاہئے ۔
    اس کے علاوہ ہم حضرت ابراھیم (ع) کی امامت سے متعلق مذکورہ آیت کے آخری حصہ میں پڑھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے فرزندوں اور آنے والی نسل کے لئے اس منصب کی درخواست کی تو اللہ کی طرف سے یہ جواب ملا :
    <لا ینال عھدی الظالمین>
    ”میرا عہد ہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا “
    یہ اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ آپ کی دعا قبول ھوئی ،لیکن آپ کے
    فر زندوں میں سے جو ظلم کے مرتکب ھو نے والے ہیں وہ ہر گز اس مرتبہ پر فائز نہیں ھو ں گے۔
    قابل ذکر بات ھے کہ لغوی اور قرآن مجید کی منطق کے اعتبار سے ”ظالم“ کے وسیع معنیٰ ہیں اور اس میں تمام گناہ من جملہ ان کے آشکار و مخفی شرک اور اپنے اوپر اور دوسروں پر ہر قسم کا ظلم شامل ھے ۔چونکہ خداوند متعال کے علاوہ کوئی اس امر سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ھے، کیونکہ صرف خدا ہی لوگوں کی نیتوں اور باطن سے آگاہ ھے ،اس لئے واضح ھو تا ھے کہ اس مرتبہ و منصب کا تعیّن صرف خدا وند متعال کے ہاتھ میں ھے ۔
    ۲۔آیہ تبلیغ
    سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۶۷ میں یوں ارشاد ھوا ھے:
    <یٰاٴ یّھا الرّسول بلّغ ماانزل إلیک من ربّک وإن لم تفعل فما بلّغت رسا لتہ واللّٰہ یعصمک من الناس إن اللّٰہ لا یھدی القوم الکٰفرین>
    ”اے پیغمبر!آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پرور دگار کی طرف سے نازل کیا گیا ھے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کا فروں کی ہدایت نہیں کر تا ھے۔“
    اس آیہ شریفہ کے لہجہ سے معلوم ھو تا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش مبارک پر ایک سنگین ماٴ مو ریت ڈالی گئی ھے اور اس سلسلہ میں ہر طرف کچھ خاص قسم کی پریشانیاں پھیلی تھیں ،یہ ایسا پیغام تھا کہ ممکن تھا لوگوں کے ایک گروہ کی طرف سے اس کی مخالفت کی جاتی،اس لئے آیہ شریفہ تاکید کے ساتھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر عمل کر نے کا حکم دیتی ھے اور ممکنہ خطرات اور پر یشانیوں کے مقابلہ میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو خاطر خواہ اطمینان دلاتی ھے۔
    یقینا یہ اہم مسئلہ توحید، شرک یا یھودو منا فقین جیسے دشمنوں سے جہاد کر نے سے مربوط نہیں تھا،کیونکہ اس زمانہ(سورہ مائدہ نازل ھو نے )تک یہ مسئلہ مکمل طور پر حل ھو چکا تھا۔
    اسلام کے دوسرے احکام پہنچانے کے سلسلہ میں بھی اس قسم کی پریشانی اور اہمیت نہیں تھی ،کیو نکہ مذکورہ آیت کے مطابق بظاہر یہ حکم رسالت کے ہم وزن اور ہم پلہ تھا کہ اگر یہ حکم نہ پہنچا یا جاتا تو رسالت کا حق ادا نہیں ھو تا ۔کیا یہ مسئلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی اور خلافت کے علاوہ کچھ اور ھو سکتا ھے ؟خاص کر جب کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر شریف کے آخری دنوں میں نازل ھوئی ھے اور یہ خلافت کے مسئلہ کے ساتھ تناسب بھی رکھتا ھے ،جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت ونبوت کی بقا کا وسیلہ ھے۔
    اس کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے صحابیوں کی ایک بڑی تعداد ،من جملہ زید بن ارقم ،ابو سعید خدری ،ابن عباس،جابر بن عبداللہ انصاری ،ابو ہریرہ ،حذیفہ اور ابن مسعود سے اس سلسلہ میں کثیر تعداد میں روایتیں نقل ھو ئی ہیں اور ان میں سے بعض روایتیں گیارہ واسطوں سے ہم تک پہنچی ہیں اور اہل سنت علماء،مفسرین ،محدثین اور مورخین نے بھی انھین نقل کرتے ھو ئے واضح کیا ھے کہ مذکورہ آیت حضرت علی(ع) اور غدیر کے واقعہ کے بارے میں نازل ھو ئی ھے [2]
    ان شاء اللہ ہم ”غدیر“کی داستان کو ”روایات وسنت “کے عنوا ن سے آئندہ بحث میں تفصیل سے بیان کریں گے ۔لیکن یہاں پر ہم اسی یاد دہانی پر اکتفا کرتے ہیں کہ یہ آیت اس بات کی ایک واضح دلیل ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرض تھا کہ اپنی زندگی کے آخری حج سے لوٹتے وقت حضرت علی(ع) کو با ضابطہ طور پر اپنا جا نشین معیّن کریں اور تمام مسلمانوں کو ان کا تعارف کرائیں۔
    ۳۔آیہ اولی الامر
    سورہ نساء کی آیت نمبر ۵۹ میں ارشاد ھوا ھے:
    <یٰاٴیّھاالّذین اٰمنوا اطیعوااللّٰہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم۔۔۔>
    ”ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمھیں میں سے ہیں۔۔۔“
    یہاں پر اولوالامر کی اطاعت کسی قید وشرط کے بغیر خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کے ہمراہ بیان ھوئی ھے۔
    کیا”اولوالامر“سے مراد ہر زمان و مکان کے حکام اور فرمانروا ہیں؟ مثلاًکیا ہمارے زمانے میں ہر ملک کے مسلمانوں پر فرض ھے کہ اپنے حکام اور فر مانرواؤں کی اطاعت کریں؟(جیسا کہ اہل سنت کے بعض مفسرین نے بیان کیا ھے)
    یہ بات عقل ومنطق کی کسی کسوٹی پر ہر گز نہیں اترتی ھے،کیونکہ اکثرحکمراںمختلف زمانوں اور عصروں میں منحرف،گناہ کار ،دوسرے ملکوں کے ایجنٹ اور ظالم ھو ئے ہیں۔کیا اس سے مراد یہ ھے کہ ان حکمرانوں کی پیروی و اطاعت کی جانی چاہئے جن کا حکم اسلامی احکام کے خلاف نہ ھو؟یہ بھی آیت کے مطلق ھو نے کے خلاف ھے۔
    کیا اس سے مراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے مخصوص اصحاب ہیں؟یہ احتمال بھی اس آیت کے وسیع مفھوم (جو ہردور اور زمانے کے لئے ھے)کے خلاف ھے۔
    اس لئے ہمارے لئے یہ بات واضح ھو جاتی ھے کہ اس سے مراد معصوم پیشوا ھے جو ہر دور اور زمانے میں موجود ھو تا ھے اور اس کی اطاعت کسی قید وشرط کے بغیر واجب ھو تی ھے اور اس کا حکم، خدا ورورسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانند واجب الاطاعت ھو تا ھے۔
    اس سلسلہ میں اسلامی منابع وماٴخذ میں موجود متعدد احادیث میں ”اولو الامر“کی حضرت علی(ع) اور ائمہ معصومین (ع) سے کی گئی تطبیق بھی اس حقیقت کی گواہ ھے۔[3]
    ۴۔آیہ ولایت
    سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۵۵ میں ارشاد ھوا ھے:
    <إنما ولیکم اللّٰہ ورسولہ والّذین آمنواالّذین یقیمون الصّلوٰة ویؤتون الزکوٰة وھم راکعون>
    ”ایمان والو بس تمھاراولی اللہ ھے اور اس کا رسول اوروہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں۔“
    عربی لغت میں لفظ”إنما“انحصار کے لئے استعمال ھو تا ھے،اس بات کے پیش نظر قرآن مجید نے مسلمانوں کی قیادت اور ولایت وسر پرستی کو صرف تین اشخاص میں منحصر فر مایا ھے :”خدا،پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکوٰة دیتے ہیں“۔
    اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ھے کہ”ولایت“ سے مراد مسلمانوں کی آپس دوستی نہیں ھے کیونکہ مسلمانوں کی عام دوستی کے لئے قید وشرط کی ضرورت نہیں ھے بلکہ تمام مسمان آپس میں دوست اور بھائی بھائی ہیں اگر چہ رکوع کی حالت میں کوئی زکوٰة بھی نہ دے ۔اس لئے یہاں پر ”ولایت“ وہی مادی و معنوی رہبری اور سر پرستی کے معنی میں ھے،بالاخص جب کہ یہ ولایت ،خدا کی ولایت اور پیغمبر کی ولایت کے ساتھ واقع ھو ئی ھے۔
    یہ نکتہ بھی واضح ھے کہ مذکورہ آیت میں ذکر شدہ اوصاف ایک مخصوص شخص سے مر بوط ہیں،جس نے رکوع کی حالت میں زکوٰة دی ھے،ورنہ یہ کوئی ضروری امر نہیں ھے کہ انسان نماز کے رکوع کی حالت میں زکوٰة ادا کرے ،حقیقت میں یہ ایک نشاندہی ھے نہ توصیف۔
    ان تمام قرائن سے معلوم ھو تا ھے کہ مذکورہ بالا آیہ شریفہ حضرت علی(ع) کی ایک مشھور داستان کی طرف ایک پر معنیٰ اشارہ ھے کہ حضرت علی(ع) نماز کے رکوع میں تھے ،ایک حاجتمند نے مسجد نبوی میں مدد کی درخواست کی ۔کسی نے اس کا مثبت جواب نہیں دیا۔ حضرت علی(ع) نے اسی حالت میں اپنے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے اشارہ کیا ۔حاجتمند نزدیک آگیا۔ حضرت علی(ع) کے ہاتھ میں موجود گراں قیمت انگوٹھی کو اتار کر لے گیا ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس واقعہ کا مشاہدہ فر مایا تو نماز کے بعد اپنے سر مبارک کو آسمان کی طرف بلند کر کے یوں دعا کی :پروردگارا!میرے بھائی موسی(ع) نے تجھ سے درخواست کی کہ ان کی روح کو کشادہ،کام کو آسان اور ان کی زبان کی لکنت کو دور فر مادے اور ان کے بھائی ہارون کو ان کا وزیر اور مدد گار بنادے۔۔۔پرور دگارا! میں محمد ،تیرا منتخب پیغمبر ھوں ،میرے سینہ کو کشادہ اور میرے کام مجھ پر آسان فر ما، میرے خاندان میں سے علی(ع) کو میرا وزیر قرار دے تاکہ اس کی مدد سے میری کمر قوی اور مضبوط ھو جائے۔۔۔“
    ابھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا ختم نہیں ھوئی تھی کہ مذکورہ بالا آیہ شریفہ کو لے کر جبرئیل امین نازل ھو ئے۔
    دلچسپ بات یہ ھے کہ اہل سنّت کے بہت سے عظیم مفسرین ،مورخین اور محدثین نے اس آیہ شریفہ کی شاٴن نزول کو حضرت علی(ع) کے بارے میں نقل کیا ھے ۔اس کے علاوہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ایک گروہ نے ،جن کی تعداد س سے زیادہ ھے،اس حدیث کو خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے براہ راست نقل کیا ھے۔[4]
    ولایت کے موضوع پر قرآن مجید میں بہت سی آیات ذکر ھوئی ہیں ،ہم نے کتاب کے اختصار کے پیش نظر صرف مذکورہ چار آیتوں پر ہی اکتفا کیا۔
    امامت ،سنّت نبی(ص) کی روشنی میں
    اسلامی احادیث سے مربوط کتابوں ،بالخصوص اہل سنت بھائیوں کی طرف سے تاٴلیف کی گئی کتابوں کا مطالعہ کر نے کے دوران انسا ن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی گئی احادیث کی ایک کثیر تعداد سے روبرو ھو تا ھے جو واضح طور پر حضرت علی(ع) کی امامت و خلافت کو ثابت کرتی ہیں۔
    حیرت کی بات ھے کہ اتنی احادیث موجود ھو نے کے باوجود اس مسئلہ کے بارے میں کسی قسم کا شک وشبہہ باقی نہیں رہ جاتا تو پھر ایک گروہ اہل بیت(ع) کی راہ سے ہٹ کر کو ئی دوسری راہ کیسے اختیار کر لیتاھے؟
    یہ احادیث ،جن میں سے بعض کے اسناد سینکڑوں تک ہیں (جیسے حدیث غدیر) اور بعض کے اسناد دسیوں تک اور دسیوں مشھور اسلامی کتا بوں میں نقل ھو ئی ہیں ،ایسی واضح اور روشن ہیں کہ اگر ہم تمام گفتگوؤں کو نظر انداز کردیں اور کسی کی تقلید کر نا چھوڑ دیں،تو ہ مسئلہ ہمارے لئے ایسا واضح ھو جائے گا کہ کسی اور دلیل کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
    ان احادیث کے مخزن سے ہم یہاں پر چند مشھور احادیث کو نمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس موضوع پر بیشتر اور گہرے مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کے لئے ہم بعض منابع(کتابوں) کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ ان سی استفادہ کریں۔(۱)
    ۱۔حدیث غدیر
    مورخین اسلام کی ایک بہت بڑی تعداد نے لکھا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری سال حج بجا لائے ۔فریضہ حج کو بجالانے کے بعد جبکہ حجاز کے مختلف علاقوں سے حج کے لئے آئے ھوئے آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نئے اور پرانے صحابیوںاور اسلام کے عاشقوں کی ایک بڑی تعداد آپ کے ساتھ تھی ۔مکہ سے واپسی پر یہ عظیم اجتماع ،مکہ اور مدینہ کے در میان واقع ”جحفہ“نامی ایک جگہ سے گزرتے ھوئے ”غدیر خم“کے نام پر ایک خشک اور گرم بیابان میں پہنچ گیا ۔در حقیقت یہ ایک چورا ہا تھا ۔جہاں پر حجاز کے تمام لوگوں کے راستے جدا ھوتے تھے۔
    یہاں پر حجاز کے مختلف علاقوں کی طرف جانے والے مسلمانوں کے ایک دوسرے سے جدا ھونے سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب کو رکنے کا حکم دیا۔ جو آگے بڑھے تھے انھیں واپس آنے کا حکم دیا اور پیچھے سے آنے والوں کا انتظار کیا گیا،اس طرح سب ایک جگہ جمع ھو گئے ۔ھوا انتہائی گرم اور دھوپ نہایت جھلسا دینے والی تھی۔بیابان میں دوردور تک کہیں کوئی سائبان نظر نہیں آرہا تھا۔مسلمانوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امامت میں ظہر کی نماز پڑھی ۔جب ان سب نے نماز کے بعد اپنے خیموں کی طرف جانا چاہا تو پیغمبر اسلام نے حکم دیا کہ سب لو گ ٹھہر جائیں اور ایک مفصل
    ۱۔بیشتر وضاحت کے لئے کتاب”المراجعات“،”الغدیر“اور ”نوید امن وامان“کی طرف رجوع کریں۔
    خطبہ کے ضمن میں ایک اہم الہٰی پیغام کو سننے کے لئے آمادہ ھو جائیں ۔
    اونٹوں کے پالانوں کا ایک منبر بنایا گیا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف لے گئے آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حمد وثنائے الہٰی کے بعد لوگوں سے مخاطب ھو کر فرمایا:
    میں خدا کی دعوت کو لبیک کہتے ھوئے جلدی ہی تمھارے درمیان سے رخصت ھونے والا ھوں۔ میں ذمہ دار ھوں اور تم لوگ بھی ذمہ دار ھو ۔ تم لوگ میرے بارے میں کس طرح کی شہادت دیتے ھو؟
    لوگوں نے بلند آواز سے کہا:
    ” نشہد انک قد بلغت و نصحت و جہدت فجزاک اللّٰہ خیرا“
    ”ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے رسالت کی ذمہ داریاں نبھائیں اور ہماری بھلائی کے لئے ہماری نصحیت کی اور ہماری ہدایت میں نہایت کوشش کی،خداوند متعال آپ کو جزائے خیردے۔“
    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت ، میری رسالت اور قیامت کی حقیقت اور اس دن مردوں کے دوبارہ زندہ ھونے کی شہادت دیتے ھو؟
    جواب میں سب نے یک زبان ھوکر کہا: جی ہاں ، ہم گواہی دیتے ہیں۔ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: خداوندا! گواہ رہنا۔۔۔
    آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے دوبارہ فرمایا: اے لوگوں ! کیا میری آواز سن رھے ھو؟انھوں نے کہا: جی ہاں۔
    اس کے بعد پورے بیابان میں چاروں طرف خاموشی چھاگئی اور ھوا کی سنسناہٹ کی آواز کے علاوہ کوئی دوسری آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔
    پیغمبرا سلام(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: اب بتاؤ کہ ان دو گرانقدر چیزوں کے ساتھ تم لوگ کیسا سلوک کروگے جومیں تمھارے درمیان یادگارکے طور پر چھوڑے جارہاھوں؟
    مجمع میں سے کسی نے بلند آورز سے سوال کیا: کون سی دوگرانقدر چیزیں، یا رسول اللہ؟!
    پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: پہلی چیز ”ثقل اکبر“ یعنی کتاب الہی”قرآن مجید“ھے۔ اس کے دامن کو ہرگز نہ چھوڑنا تا کہ گمراہ نہ ھوجاؤ۔ اور دوسری گرانقدر یادگار چیز میرے اہل بیت ہیں۔ خداوند لطیف و خبیر نے مجھے خبردی ھے کہ یہ دوچیزیں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ھونگیں یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے مل جائیں، ان دو نوں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ھوجاؤگے۔ اور ان سے پیچھے بھی نہ رہنا، کیونکہ اس صورت مین بھی ہلاک ھوجاؤگے۔
    اس دوران اچانک آپ(ع) نے اپنی نظریں ادھر اُدھردوڑائیں، جیسے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کوکسی کی تلاؤ تھی۔ جوں ہی آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نظرحضرت علی(ع) پر پڑی، آپ جھک گئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دے رہی تھی۔ سب لوگوں نے حضرت علی (ع) کو دیکھا اور انھیں پہچان لیا۔
    اس موقع پر آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اور زیادہ بلند آواز کے ساتھ رفرمایا:
    ایّھا الناس ! من اولی النّاس بالمومنین من انفسھم؟
    لوگو! لوگوں میں سے کون شخص مومنین پر خود ان سے بھی زیادہ سزاورا ھے؟
    سب نے جواب میں کہا: خدا اور س کا رسول(ع) بہتر جانتاھے۔
    پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا:
    ” خداوند متعال میرامولا اور رہبر ھے، اور میں مؤمنین کا مولا ورہبر ھوں اور ان کی نسبت خود ان سے بھی زیادہ حق رکھتاھوں۔“
    اس کے بعد فرمایا:
    ”فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ“
    ”جس جس کا میں مولا اور رہبر ھوں، اس اس کے علی(ع) بھی مولاہیں“
    آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس جملہ کوتین مرتبہ دہرایا، بعض راویان حدیث کے مطابق اس جملہ کو چار مرتبہ دہرایا، اس کے بعد اپنے سر کو آسمان کی طرف بلند کرکے فرمایا:
    ”اللّہم وال من والاہ و عاد من عاداہ واحب من احبہ، وابغض من ابغضہ، وانصرمن نصرہ، واخذل من خذلہ، وادار الحق معہ حیث دار“
    ”خداوندا! اس کے دوستوں کو دوست رکھ اور س کے دشمنوں سے دشمن رکھ، جو شخص اسے محبوب رکھے اسے محبوب رکھ اور اس شخص سے بغض رکھ جس کے دل میں اس کا بغض ھو، اس کے دوستوں کی یاری فرما اور اس کا ساتھ چھوڑنے والوں کو محروم فرما، حق کو اس کے ساتھ پھیر جدھر وہ پھرے “
    اس کے بعد فرمایا:
    ”تمام حاضرین اس خبر کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو اس دقت یہاں پر حاضر نہیں ہیں۔“
    ابھی لوگ متفرق نہیں ھوئے تھے کہ جبرئیل امین وحی الہی لے کرنازل ھوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے یہ آیہ شریفہ لے آئے:< الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی۔۔۔>[5]
    ”آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو کامل کردیا ھے اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیاھے۔۔۔“
    اس موقع پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:
    ”اللّٰہ اکبر ،اللّٰہ اکبر ،علی اکمال الدین واتمام النعمة ورضی الرب برسالتی والو لایة لعلی من بعدی۔“
    ”خدا کی بزرگی کا اعلان کرتا ھوں ،خدا کی بزرگی کا اعلان کر تا ھوں، اس لئے کہ اس نے اپنے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کر دیا ھے اور میری رسالت اور میرے بعد علی(ع) کی ولا یت سے راضی ھو نے کا اعلان فر مایا ھے۔“
    اس وقت لوگوں میں شور وغوغا بلند ھوا،لوگ حضرت علی (ع) کو اس مرتبہ کی مبارک باد دے رھے تھے ،یہاں تک کہ ابوبکر اور عمر نے لوگوں کے اجتماع میں علی(ع) سے مخاطب ھو کر یہ جملہ کہا:
    ”بخ بخ لک یابن ابیطالب اصبحت و امسیت مولای ومولا کل مؤمن ومؤ منة“
    ”مبارک ھو آپ کو ،مبارک ھو آپ کو ،اے فرزند ابیطالب آپ میرے اور تمام مومنین و مومنات کے مولا اور رہبر ھو گئے ہیں۔
    مذکورہ بالاحدیث کو علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد نے مختلف عبارتوں میں، کہیں مفصل اور کہیں خلاصہ کے طور پراپنی کتا بوں میں درج کیا ھے ۔یہ حدیث متواتر احادیث میں سے ھے اور کوئی بھی شخص اس کے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صادر ھونے پر شک وشبہہ نہیں کرسکتا ھے ،یہاں تک کہ مصنف و محقق ”علامہ امینی “نے اپنی مشھور کتاب ”الغدیر“ میں اس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک سو دس اصحاب اور تین سو ساٹھ اسلامی علماء کی کتابوں سے نقل کیا ھے۔یہ حدیث اہل سنت بھائیوں کی اکثرتفسیر و تاریخ اور حدیث کی کتا بوں میں درج ھے ،یہان تک کہ علمائے اسلام کی ایک بڑی تعداد نے اس حدیث کے سلسلہ میں مستقل کتا بیں لکھی ہیں۔مرحوم علامہ امینی نے اس سلسلہ میں ایک گرانقدر اور بے نظیر مستقل کتاب لکھی ھے اور اس میں چھبیس ایسے علمائے اسلام کے نام درج کئے ہیں جنھوں نے ”حدیث غدیر “کے متعلق مستقل کتا بیں لکھی ہیں۔
    بعض اشخاص نے حدیث کی سند کو ناقابل انکار پاتے ھوئے اس کی امامت وخلافت پر دلالت کے بارے میں شک وشبہہ ایجاد کر نے کی کوشش کی ھے ،اور مولا کے معنی کو ”دوست“کے عنوان سے جھوٹی تو جیہ کر نے کی کو شش کی ھے،جبکہ حدیث کے مضمون ،زمان ومکان کے شرائط اور دوسرے قرائن پر غور کر نے سے بخوبی معلوم ھو تا ھے کہ” مولا“کا مقصد ،بمعنی مکمل رہبری و قیادت اورمسئلہ امامت و ولایت کے علاوہ کچھ نہیں ھے:
    الف:آیہ تبلیغ ،جس کا ہم نے گزشتہ سبق میں ذکر کیا ،اس واقعہ سے پہلے نازل ھوئی ھے۔ اس میں موجود تندوسخت لہجہ اور قرائن اس بات کی بخوبی گواہی دیتے ہیں کہ یہ عام دوستی اور رفاقت کی بات نہیں ھے ،کیونکہ یہ امر پریشان کن نہیں تھا اور اس کے لئے اتنی اہمیت اور تاکید کی ضرورت نہیں تھی۔اسی طرح اس واقعہ کے بعد نازل ھو نے والی آیہ ”اکمال الدین“ اس امر کی گواہ ھے کہ یہ مسئلہ ایک غیر معمولی مسئلہ تھا اور رہبری وپیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کے علاوہ کوئی اور مسئلہ نہیں تھا۔
    ب۔اس حدیث کا ان تمام مقد مات کے ساتھ اس تپتے ھوئے بیان میں ایک تفصیلی خطبہ کے بعد بیان کیا جانا اور اس حساس زمان و مکان میں لوگوں سے اقرار لینا یہ سب ہمارے دعویٰ کی مستحکم دلیل ھے۔
    ج۔مختلف گرھوں اور شخصیتوں کی طرف سے حضرت علی (ع)کو مبارک باد دینے کے علاوہ اس سلسلہ میں اسی روز اور اس کے بعد کھے گئے اشعار،اس حقیقت کے گویا ہیں کہ یہ مسئلہ علی علیہ السلام کی امامت و ولایت کے بلند منصب پر منصوب ھو نے سے مربوط تھا نہ کسی اور چیز سے۔
    حدیث ”منزلت“اور حدیث ”یوم الدار“
    بہت سے عظیم شیعہ وسنی مفسرین نے حدیث ”منزلت“کو سورہ اعراف کی آیت نمبر ۱۴۲ کے ذیل میں نقل کیا ھے۔اس آیہ شریفہ میں حضرت موسی(ع) کے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر جانے اور اپنی جگہ پر ہارون کو جانشین مقرر کر نے کا واقعہ بیان کیا گیا ھے۔
    حدیث یوں ھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی گئی کہ مشرقی روم کے بادشاہ نے حجاز،مکہ اور مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے ایک بڑی فوج کو آمادہ کیا ھے اور اس کا مقصد یہ ھے کہ اسلامی انقلاب کواپنے خاص انسانی اور حریت و استقلال کے نظام کے ساتھ اس علاقہ میں پہنچنے سے پہلے ہی ،نابود کر دیا جائے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر فر ماکر ایک عظیم لشکر کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ھو گئے (تبوک جزیرہ عرب کے شمال میں مشرقی روم کی سلطنت کی سر حد پر واقع تھا)
    حضرت علی(ع) نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی خدمت میں عرض کی:کیا مجھے بچوں اورعورتوں کے درمیان چھوڑ رھے ہیں ؟(اور اس بات کی اجازت نہیں دے رھے ہیں کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے ہمراہ میدان جہاد میں چل کر اس عظیم افتخار کو حاصل کروں؟)۔
    پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:
    ”الاترضی ان تکون منّی بمنزلة ھارون من موسی الا انّہ لیس نبی بعدی؟“
    ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ھو کہ تمھاری مجھ سے وہی نسبت ھو جو ہارون(ع) کی موسی(ع) سے تھی صرف یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا؟“
    مذکورہ عبارت اہل سنت کی مشھور ترین حدیث کی کتابوں ،یعنی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نقل ھوئی ھے ،صرف اس فرق کے ساتھ کہ صحیح بخاری میں پوری حدیث درج ھے اور صحیح مسلم میں ایک مرتبہ پوری حدیث اور دوسرے مرتبہ صرف جملہ ”انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ لّا انّہ لا نبی بعدی“ایک کلی اور تمام جملہ کی صورت میں نقل کی گئی ھے۔[6]
    اس کے علاوہ یہ حدیث اہل سنت کی دوسری کتابوں ،جیسے:”سنن ابن ماجہ“،”سنن ترمذی“اور بہت سی دوسری کتابوں میں نقل کی گئی ھے اور اصحاب رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)پر مشتمل اس حدیث کے راویوں کی تعدادبیس افراد سے زیادہ ھے،جن میں جابر بن عبداللہ انصاری ،ابو سعید خدری،عبداللہ بن مسعود اور معاویہ بھی شامل ہیں۔
    ابو بکر بغدادی نے ”تاریخ بغداد“میں عمر بن خطاب سے یوں نقل کیا ھے:عمر بن خطاب نے ایک شخص کو حضرت علی(ع) کے خلاف برا بھلا کہتے ھوئے دیکھا ،عمر نے اس شخص سے کہا :مجھے لگتا ھے کہ تم منافق ھو، کیونکہ میں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ھے :
    کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرما تے تھے:
    ”انّما علیّ منّی بمنزلة ھارون من موسی(ع) الّانہ لا نبیّ بعدی“[7]
    ”علی علیہ السلام کی نسبت مجھ سے ویسی ہی ھے جیسی ہارون کی موسی(ع) سے تھی صرف یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ھوگا۔“
    قابل توجہ بات ھے کہ احادیث کے معتبر منابع و ماٴخذ سے معلوم ھو تا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات (حدیث منزلت) صرف جنگ تبوک کے موقع پر ہی نہیں فر مائی ھے بلکہ درج ذیل سات مواقع پر بیان فر مائی ھے جو اس کے عام اور واضح مفھوم کی دلیل ھے:
    ۱۔”مکہ کے پہلے مواخات کے دن“۔یعنی جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ میں اپنے اصحاب سے برادری اور اخوت کا عہد و پیمان باندھا،اس موقع پر آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے یہی جملہ تکرار فر مایا۔
    ۲۔”مواخات کے دوسرے دن“۔جب (مدینہ منورہ میں) مہاجر وانصار کے در میان برادری و اخوت کا عہد وپیمان باندھا تو اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث منزلت کو دوسری بار بیان فر مایا۔
    ۳۔جس دن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مسجد نبوی کی طرف کھلنے والے گھروں کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں اور صرف حضرت علی (ع) کے گھر کا دروازہ کھلا رھے،توآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس پر بھی اس جملہ (حدیث منزلت )کو دھرایا۔
    ۴،۵،۶ و۷۔اسی طرح غزوہ تبوک کے دن اور اس کے علاوہ تین اور مواقع پر آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس حدیث کو دھرایا ھے کہ ان کے مدارک اہل سنت کی تمام کتابوں میں ذکر ھوئے ہیں، لہذا نہ سند کے لحاظ سے اس حدیث کے بارے میں کوئی شک وشبہہ باقی رہتا ھے اور نہ اس کے عام مفھوم (دلیل) مفھوم ھو نے کے لحاظ سے ۔
    حدیث منزلت کا مفھوم
    اگر ہم اپنے ذاتی نظریات سے ہٹ کر،غیر جانبدارانہ طور پر مذکورہ حدیث پر تحقیق و تجزیہ کریں تو معلوم ھو گا کہ حضرت ہارون کو جو تمام مناسب اور عہدے بنی اسرائیل میں حاصل تھے ،حضرت علی علیہ السلام بھی صرف نبوت کے علاوہ ان تمام عہدوں پر فائز تھے،کیونکہ اس حدیث میں نبوت کے عہدے کے علاوہ کوئی اور قید وشرط موجود نہیں ھے۔
    اس لئے یہ نتیجہ نکلتا ھے:
    ۱۔علی(ع) امت میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے افضل تھے۔ (کیونکہ ہارون کا مرتبہ بھی ایسا ہی تھا)۔
    ۲۔علی(ع)،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وزیر،خاص نائب اور رہبری میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے شریک تھے،کیونکہ قرآن مجید نے حضرت ہارون کے لئے یہ تمام منصباور عہدے ثابت کئے ہیں ۔(سورہ طہ،آیت ۲۹ سے ۳۲ تک)
    ۳۔علی (ع) ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ تھے ،آپ(ع) کے ھوتے ھو ئے کوئی دوسرا شخص اس عہدہ پر فائز نہیں ھو سکتا تھا ،کیونکہ حضرت موسی(ع) کی نسبت حضرت ہارون (ع) بھی یہی مقام و منزلت رکھتے تھے۔
    حدیث ”یوم الدار“
    اسلامی تواریخ کے مطابق پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بعثت کے تیسرے سال خدا کی طرف سے امر ھوا کہ اپنی خفیہ دعوت اسلام کو آشکار فر مائیں ، چنانچہ سورہ شعراء کی آیت نمبر ۲۱۴میں ارشاد ھوا ھے:
    <وانذر عشیرتک الا قربین>
    ”اور پیغمبر!آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“
    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اپنے چچا حضرت ابو طالب(ع) کے گھر میں کھا نے کی دعوت دی ،کھانا کھانے کے بعد فر مایا:
    ”اے عبد المطلب کے فرزندو!خدا کی قسم عرب میں کوئی شخص ایسا نہیں ھے جواپنی قوم کے لئے مجھ سے بہتر کوئی چیزلایا ھو ،میں تمھارے لئے دنیا وآخرت کی نیکیاں لایا ھوں اور خدا وند متعال نے مجھے حکم دیا ھے کہ تم لوگوں کو اس دین (اسلام )کی طرف دعوت دوں ،تم میں سے کون(اس کام میں) میری مدد کرے گا تاکہ وہ میرا بھائی ،وصی اور جانشین بن جائے“؟
    سوائے علی علیہ السلام کے کسی بھی شخص نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعوت پر لبیک نہیں کہی ۔حضرت علی (ع) ان میں سب سے کم سن تھے،اٹھے اور عرض کی :”اے رسول خدا !میں اس راہ میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا یار ویاور ھوں ۔“پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کی گردن پر اپنا دست مبارک رکھ کر فر مایا:
    ”ان ھٰذا اخی ووصی وخلیفی فیکم فاسمعوالہ واطیعوہ“[8]
    ”یہ تم لوگوں میں میرا بھائی،وصی اور جانشین ھے،اس کی بات سنو اور اس کے حکم کی اطاعت کرو۔“
    لیکن اس گمراہ قوم (قریش)نے نہ فقط پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا بلکہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا مذاق بھی اڑایا۔
    مذکورہ حدیث جو کہ حدیث ”یوم الدار“روز دعوت ذو العشیرہ کے نام سے مشھور ھے، کافی حد تک واضح اور گو یا ھے ۔اور سند کے ساتھ بہت سے اہل سنت علماء،جیسے:ابن ابی جریر ،ابن ابی حاتم ،ابن مردویہ، ابونعیم، بیہقی، ثعلبی،طبری،ابن اثیر،ابو الفداء اور دوسرے لو گوں نے اسے نقل کیا ھے۔ [9]
    اگر ہم مذکورہ حدیث کے بارے میں بھی غیر جانبدارانہ طور پر تحقیق و تجزیہ کرین گے تو حضرت علی(ع) کی ولایت وخلافت سے مربوط حقائق بالکل واضح ھو جائیں گے کیونکہ اس حدیث میں بھی مسئلہ خلافت و ولایت کے بارے میں صراحت سے ذکر کیاگیا ھے۔
    حدیث ”ثقلین“اور حدیث”سفینہ“
    حدیث ثقلین کے اسناد
    اس حدیث کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کی ایک بڑی جماعت نے بلا واسطہ (براہ راست)آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے نقل کیا ھے بعض بزرگ علماء نے اس حدیث کی روایت کر نے والے اصحاب کی تعداد تیس سے زیادہ بتائی ھے۔[10]
    مفسرین،محدثین اور مور خین کے ایک بڑے گروہ نے اس حدیث کو اپنی کتا بوں میں درج کیا ھے۔اس طرح اس حدیث کے متواتر ھو نے میں کوئی شک وشبہہ باقی نہیں رہتا ھے۔
    بزرگ عالم سید ہاشمۺ بحرانی نے اپنی کتاب”غایة المرام“میں اس حدیث کو اہل سنت علماء کے ۳۹ اسناد اور شیعہ علماء کے ۸۰ اسناد سے نقل کیاھے ۔اور عالم بزرگوار میر حامد حسین ۺ ہندی نے اس حدیث کے بارے میں مزید تحقیقات انجام دی ہیں اور تقریباً دوسو اہل سنت علماء سے یہ حدیث نقل کی ھے اور اس حدیث کے سلسلہ میں تحقیقات کو اپنی عظیم کتاب(احقاق الحق) کی چھ جلدوں میں جمع کیا ھے ۔
    جن مشھور اصحاب نے اس حدیث کو نقل کیا ھے ،ان میں :ابو سعید خدری ،ابوذر غفاری،زید بن ارقم،زید بن ثابت،ابورافع،جبیر بن مطعم ،یاخذیفہ،ضمرہ اسلمی ،جابر بن عبداللہ انصاری اور ام سلمہ قابل ذکر ہیں۔حضرت ابوذرغفاریۺ کے بیان کے مطابق اصل حدیث یوں ھے :ابوذر غفاری اس حال میں کہ خانہ کعبہ کے دروازے کو پکڑے ھوئے تھے، لوگوں کی طرف مخاطب ھو کربیان کر رھے تھے :میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    سے سنا کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فر ماتے تھے :
    <إنی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰہ وعترتی وانھمالن تفترقاحتی یرد اعلی الحوض>[11]
    ”میں تمھارے درمیان دویاد گار گرانقدر چیزیں چھوڑ ے جارہاھوں، قرآن مجیداور میرے اہل بیت(ع)۔یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ھوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچ جائیں ،پس تم ان کا خیال رکھنا اور دیکھنا تم میری وصیت کا ان کے بارے میں کس قدر لحاظ رکھتے ھو۔“
    یہ روایت اہل سنت کے معتبر ترین مآخذ، جیسے ” صحیح ترمذی“، ”نسائی“، ”مسند احمد“، کنزالعمال“ اور ” مستدرک حاکم“ و غیرہ میں نقل ھوئی ھے۔
    بہت سی روایتوں میں”ثقلین“(دوگرانقدر چےزیں) کی تعبیر اور بعض روایات میں ”خلیفتین“(دوجانشین) کی تعبیر آ ئی ھے۔ مفھوم کے اعتبار سے ان دونوںمیں کوئی فرق نہیں ھے۔
    دلچسپ بات ھے کہ مختلف روایتوں سے معلوم ھوتاھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو مختلف مواقع پر لوگوںکے سامنے بیان فرمایاھے:
    ”جابربن عبداللہ انصاری“ کی روایت میں آیاھے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے سفر حج کے دوران عرفہ کے دن اس حدیث (ثقلین) کو بیان فرمایا۔
    ”عبداللہ بن خطب“ کی روایت میں آیا ھے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس حدیث کو سرزمین جحفہ(جو مکہ اورمدینہ کے درمیان ایک جگہ ھے جہاں سے بعض حجاج احرام باندھتے ہیں) میں بیان فرمایاھے۔
    ” ام سلمہ“ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اس حدیث کو غدیر خم میں بیان فرمایا۔
    بعض روایتوں میں آیا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بستر علالت پر بیان فرمایاھے۔
    ایک روایت میں آیا ھے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے یہ حدیث مدینہ منورہ میں منبر پر بیان فرمائی ھے[12]۔
    حتی اہل سنت کے ایک مشھور عالم ” ابن حجر“ اپنی کتاب”صواعق المحرقہ“ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں:
    ” پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمانے کے بعد حضرت علی(ع) کے ہاتھ کو پکڑ انھیں بلند کیا اور فرمایا:” یہ علی(ع) قرآن کے ساتھ ھے اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ھے، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدانہیں ھوںگے یہاں تک کہ حوض کوثر کے پاس مجھ سے ملیں گے۔“[13]
    اس سے واضح ھوتاھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلہ پر ایک بنیادی اصول کی حیثیت سے بار بار تا کید فر ما ئی ھے اور اس قطعی حقیقت کو بیان کر نے کے لئے کو ئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا ھے تا کہ اسے کبھی فرا موش نہ کیا جائے۔
    حدیث ثقلین کا مفھوم
    یہاں پر چند نکات قابل توجہ ہیں:
    ۱۔قرآن اور عترت (اہل بیت) کو پیغمبر اسلام کی طرف سے دو ”خلیفہ “ یا دو گرانقدر چیزوں کے عنوان سے پیش کر نا اس بات کی واضح دلیل ھے کہ مسلمانوں کو ہر گز ان دوچیزوں کا دامن نہیں چھوڑ نا چاہئے ،بالخصوص اس قید وشرط کے ساتھ جو بہت سی روایتوں میں مذکور ھے :” اگر ان دو چیزوں کا دامن نہ چھوڑو گے تو ہر گز گمراہ نہ ھو گے “اس سے یہ حقیقت تا کید اً ثابت ھو تی ھے۔
    ۲۔قرآن مجید کا عترت کے ساتھ اور عترت کا قرآن مجید کے ساتھ قرار پانا اس بات کی دلیل ھے کہ جس طرح قرآن مجید ہر قسم کے انحراف اور خطا سے محفوظ ھے،اسی طرح عترت اور اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی مرتبہ عصمت کے مالک ہیں۔
    ۳۔ان بعض روایتوں میں پیغمبر اسلام نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحت سے فر مایا ھے :میں قیامت کے دن تم سے ان دو یاد گاروں کے ساتھ کئے گئے تمھارے برتا ؤ کے بارے میں باز پرس کرونگا تاکہ دیکھ لو کہ تمھارا ان کے ساتھ کیسا سلوک رہا ھے؟
    ۴۔بلاشک شبہہ،ہم ”عترت واہل بیت“کی جس طرح بھی تفسیر وتوضیح کریں،حضرت علی (ع) ان کے نمایاں ترین مصداق ہیں ۔اور متعدد روایات کے مطابق آپ(ع) کبھی قرآن مجید سے جدا نہیں ھوئے ہیں اور قرآن مجید بھی آپ(ع) سے جدا نہیں ھوا ھے۔
    اس کے علاوہ متعدد روایتوں میں آیا ھے کہ آیہ ”مباہلہ“ کے نازل ھو نے کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی،فاطمہ حسن اور حسین (علیہم السلام) کو پکار کر فر مایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“[14]
    ۵۔اگر چہ اس دنیا کی چار دیواری میں مقیّد ہم لوگوں کے لئے قیامت سے متعلق مسائل پوری طرح واضح نہیں ہیں ،لیکن جیسا کہ روایتوں سے معلوم ھو تا ھے ”حوض کوثر“سے مراد بہشت میں موجود ایک خاص نہر ھے جس کے بہت سے خصوصیات ہیں، اور یہ نہر سچے مومنین ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ائمہ اہل بیت(ع) اور ان کے مکتب کے پیروؤں کے لئے مخصوص ھے۔
    یہاں تک کی گئی ہماری گفتگو سے واضح ھو تا ھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کے رہبر و قائد حضرت علی علیہ السلام ہیں اور آپ(ع) کے بعد آپ ہی کی نسل سے گیارہ ائمہ ہیں۔
    حدیث سفینہ
    اہل سنت اور شیعوں کی کتا بوں میں جو دلکش تعبیریں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    سے نقل ھو ئی ھےں،ان میں سے ایک مشھور حدیث ”سفینہ نوح“ھے۔
    اس حدیث کے راوی حضرت ابو ذر فر ماتے ہیں کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے یوں فر مایا:
    ”اٴلا إن ّمثل اھل بیتی فیکم مثل سفینة نوح من رکبھا نجی ومن تخلف عنھا غرق“
    ”میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح جیسی ھے جو اس میں سوار ھوا نجات پاگیا اور جو اس سے جدا ھوا وہ غرق (ہلاک) ھو گیا۔“[15]
    یہ مشھور حدیث بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام اور اہل بیت پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی پیروی و اطاعت کو ضروری اور لازم قرار دیتی ھے۔
    چونکہ ایسی عظیم اور عالمگیر طوفان کے وقت صرف حضرت نوح کی کشتی نجات کا ذریعہ تھی ،اس سے یہ حقیقت واضح ھو جاتی ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی رحلت کے بعد امت مسلمہ میں رونما ھو نے والے گمراہی کے طوفان میں راہ نجات صرف ولایت اہل بیت سے تمسک رکھنا تھا اور ھے۔
    بارہ امام (ع)
    بارہ اماموں کے بارے میں روایات
    امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت و امامت کو ثابت کر نے کے بعد اب ہم باقی اماموں کی امامت کے بارے میں بحث کرتے ہیں ۔
    اس سلسلہ کی بحث کا خلاصہ یہ ھے :
    آج ہمارے پاس اہل سنت اور اہل تشیّع کی متعدد ایسی روایتیں موجود ہیں جو کلی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد”بارہ خلفاء اور ائمہ“کی خلافت کو ثابت کرتی ہیں۔
    یہ احادیث اہل سنت کی نہایت اہم اور مشھور کتا بوں ،جیسے:صحیح بخاری،صحیح تر مذی،صحیح مسلم ،صحیح ابی داؤد اور مسند احمد وغیرہ میں درج ہیں۔
    کتاب”منتخب الاثر “ کے مصنف نے اس موضوع پر دوسو اکتھر احادیث جمع کی ہیں جن کی قابل توجہ تعداد اہل تسنن علماء کی کتا بوں سے اور باقی شیعوں کی کتا بوں سے نقل کی گئی ہیں۔
    مثال کے طور پر،اہل سنت کی مشھور ترین کتاب صحیح بخاری میں اس سلسلہ یوں آیا ھے:
    ”جابر بن سمرة“کہتا ھے کہ میں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فر مایا:
    ”یکون اثنا عشرامیراً۔فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انہ قال۔کلھم من قریش۔“   (صحیح بخاری ،ج۹،کتاب الامقام،ص۱۰۰)
    ”میرے بعد بارہ امیر ھوں گے۔اس کے بعد ایک جملہ فر مایا کہ میں سن نہ سکا ۔میرے باپ نے کہا کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فر مایا تھا :”وہ سب قریش میں سے ہیں “
    ”صحیح مسلم“میں اس حدیث کو یوں نقل کیا گیا ھے کہ”جابر“نے کہا :میں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فر مایا:
    ”لایزال الاسلام عزیزاًالی اثنا عشر خلیفة ثم قال کلمة لم افھمھا،فقلت لابی ماقال فقال کلھم من قریش“(صحیح مسلم،کتاب الامارہ ،باب الناس تیع لقریش)
    ”اسلام ہمیشہ عزیز رھے گا یہاں تک کہ میرے بارہ خلیفہ وجانشین ھوں گے ۔اس کے بعد ایک جملہ ارشاد فر مایا کہ میں نہ سن سکا۔ میں نے اپنے باپ سے سوال کیا ،تو انھوں نے کہا پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فر مایا :”وہ سب قریش ھوں گے۔“
    کتاب ”مسند احمد“میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشھور صحابی عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا گیا ھے کہ لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلفاءکے بارے میں سوال کیا ۔توآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فر مایا:
    ”اثناعشر کعدة نقباء بنی اسرائیل“[16]
    ”(میرے خلفاء)بنی اسرائیل کے نقباؤرؤسا کی تعداد کے برابر بارہ ھوں گے۔“
    ان احادیث کا مفھوم
    ان احادیث میں سے بعض میں”اسلام کی عزت“کا دار ومدار بارہ خلیفوں پر قرار دیا گیا ھے اور بعض میں قیامت کے دن کی بقاء اور حیات کو بارہ خلفاء کا مر ھون منت جانا ھے۔سب کو قریش سے اور بعض احادیث میں سب کو خاندان ”بنی ہاشم“سے بتایا گیا ھے۔یہ احادیث مذاہب اسلامی میں سے مذہب شیعہ کے علاوہ کسی مذہب سے تطبیق نہیں کرتی ہیں،کیونکہ شیعوں کے عقیدہ کے مطابق ان کی توجیہ مکمل طور پر بالکل صحیح اور واضح ھے،جبکہ اہل سنت علماء کے پاس ان کی توجیہ کا کوئی راستہ نہیں ھے ۔
    کیا ان(بارہ خلفاء)سے مراد پہلے چار خلفاء اور خلفائے بنی امیہ وبنی عباس ہیں؟
    جبکہ ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ نہ پہلے خلفاء کی تعدادبارہ تھی اور نہ بنی امیہ کے خلفاء کو ملاکر بارہ بنتی ھے نہ خلفائے بنی عباس کو ملا کر یہ تعداد بارہ بنتی ھے ۔مختصر یہ کہ کسی بھی حساب سے بارہ کی یہ تعداد پوری نہیں ھوتی ھے۔
    اس کے علاوہ بنی امیہ کے خلفاء میں ”یزید“جیسے اور خلفائے بنی عباس میں ”منصوردوانقی “اور ”ہارون الرشید“جیسے افراد بھی تھے جن کے ظالم اور جابر ھونے میں کسی کو شک وشبہہ نہیں ھے ،اس لئے ممکن نہیں ھے ایسے افراد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلفاء اور اسلام کی عزت وسر بلندی کا سبب شمار ھوں،جس قدر بھی ہم خلافت کے معیار کو گھٹائیں،ایسے افراد قطعاًاس دائرے میں نہیں آسکتے ہیں۔
    اس بحث سے قطع نظر،شیعوں کے بارہ اماموں کے علاوہ کسی صورت میں بارہ خلفاء کی تعداد کہیں بھی پوری ھوتی نظر نہیں آتی
    بہتر ھے کہ اس بحث کو ہم اہل سنت کے ایک مشھور عالم کی زبانی پیش کریں:
    ”سلیمان بن ابراھیم قندوزی حنفی “اپنی کتاب ”ینا بیع المودة“میں فر ماتے ہیں:
    بعض محققین نے کہا ھے :رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بارہ خلفاء پردلالت کر نے والی احادیث مشھور ہیں ۔ یہ احادیث مختلف طریقوں سے نقل کی گئی ہیں۔مرور زمانہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ھوا ھے وہ یہ ھے کہ اس حدیث سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اہل بیت اور عترت سے بارہ جانشین ہیں،کیونکہ اس حدیث کو پہلے خلفاء سے مربوط جاننا ممکن نہیں ھے،کیونکہ ان کی تعداد چار افراد سے زیادہ نہیں تھی ۔اس کے علاوہ یہ حدیث بنی امیہ پر بھی تطبیق نہیں ھوتی ھے ،کیونکہ وہ بارہ سے زیادہ تھے اور وہ عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ سب ظالم وستمگر تھے اور یہ کہ وہ ”بنی ہاشم“سے نہیں تھے ،جبکہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فر مایا ھے کہ وہ بارہ کے بارہ بنی ہاشم سے ہیں،جیسا کہ ”عبد الملک بن عمر“نے ”جابر بن سحرہ“سے نقل کیا ھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس سوال کے سلسلہ میں کہ وہ (بارہ جانشین)کسی قبیلہ سے ھوں گے؟ آہستہ جواب دینا اس بات کی دلیل ھے کہ بنی ہاشم کی خلافت پر بعض افرادراضی نہیں تھے ۔اسی طرح یہ حدیث خلفائے بنی عباس پر بھی قابل تطبیق نہیں ھے،کیونکہ ان کی تعداد بھی بارہ سے زیادہ تھی۔اس کے علاوہ انھوں نے آیہ مودت”قل لا اسئلکم علیہ اجراً الا المودة فی القربی[17] پر عمل نہیں کیا ھے اور حدیث کساء سے چشم پوشی کی ھے!
    ان وجو ہات کی بناء پریہ حدیث صرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت وعترت سے تعلق رکھنے والے بارہ اماموں پر ہی قابل تطبیق ھے۔
    کیونکہ وہ علم ودانش کے اعتبار سے سب پر فضیلت رکھتے ہیں ،اور زہد وتقویٰ کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ زاہد وپرہیز گار ہیں ،اور حسب ونسب کے اعتبار سے بھی سب پر فضیلت رکھتے ہیں اور انھوں نے تمام علوم وفنون کو اپنے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وراثت میں حاصل کیا ھے ۔اس نظریہ کی حدیث ثقلین اور دوسری بہت سی احادیث تائید کرتی ہیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ھو ئی ہیں۔“[18]
    دلچسپ بات ھے کہ میں نے اپنے سفر مکہ کے دوران علماء حجاز کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو کے دوران اس حدیث کے بارے میں ان سے ایک نئی توجیہ سنی ،جس سے ان کی اس سلسلہ میں بے بسی اور عاجزی واضح ھوتی ھے ،وہ کہتے تھے :”شاید بارہ خلفاء اور امراء سے مراد پہلے چار خلیفہ ہیں جو اسلام کی ابتداء میں تھے اور ان کے باقی افراد مستقبل میں آنے والے ہیں جنھوں نے ابھی ظھور نہیں کیا ھے!“
    اس طرح ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے واضح ھو نے والے ان خلفاء کے ارتباط سے دیدہ و دانستہ طور پر چشم پوشی کی گئی ھے۔
    ہم یہ کہتے ہیںکہ کیاوجہ ھے کہ ہم اس حدیث کی واضح اور روشن تفسیر (جو شیعوں کے بارہ اماموں پر منطبق ھے)کو چھوڑ کر ایسی دلائل میں کود پڑیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ھو۔
    نام بنام ائمہ کی تعیین
    قابل توجہ بات ھے کہ اہل سنت راویوں سے ہم تک پہنچی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں صراحت کے ساتھ بارہ اماموں کے نام ذکر ھوئے ہیں اور ان کی خصوصیات و صفات بھی تفصیل سے ذکر ھوئی ہیں۔
    اہل سنت کے معروف اور مشھور عالم ”شیخ سلیمان قندوزی “اپنی اسی کتاب ”ینابیع المودة“میں یوں نقل کرتے ہیں:
    ”نعثل نامی ایک یھودی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا اورکئی سوالات کے ضمن میں آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلفاء اور اوصیاء کے بارے میں سوال کیا ۔آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے اپنے جانشینوںکا تعارف یوں کرایا:
    ان وصیی علی بن ابیطالب وبعدہ سبطای الحسن والحسین تلوہ تسعة ائمة من صلب الحسین۔ قال یا محمّد فسمھم لی۔
    قال(ص) اذا مضی الحسین فابنہ علی،فاذا مضی علی فابنہ محمد ،فاذا مضی محمد فابنہ جعفر،فاذامضی جعفر فابنہ موسی ،فازامضی موسی فابنہ علی،فاذا مضی علی فابنہ محمد، فاذا مضی محمد فابنہ علی، فاذا مضی علی فابنہ الحسن، فاذا مضی الحسن فابنہ الحجة محمد المھدی (ع) فھٰؤلاء اثنا عشر۔“[19]
    ”میرے وصی علی بن ابیطالب ہیں اور ان کے بعد میرے دو نواسے حسن اور حسین ہیں اور حسین کے بعد نو امام ان کی نسل سے ھوں گے ۔“
    یھودی نے کہا :اُن کے نام بیان فر ما ئیے۔
    پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا:
    جب حسین دنیاسے رخصت ھوںگے تو اُن کے بیٹے علی ھوں گے، جب علی دنیا سے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے محمد ھوں گے ،جب محمد دنیا سے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے جعفر ھوں گے ،جب جعفر دنیا سے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے موسیٰ ھوں گے ،جب موسیٰ دنیا سے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے علی ھوں گے،جب علی دنیا سے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے محمد ھوں گے ،جب محمد دنیاسے رخصت ھوں گ تو ان کے بیٹے علی ھوں گے ،جب علی اس دنیاسے رخصت ھوں گے تو ان کے بیٹے حسن ھوں گے،اور جب حسن اس دنیا سے رخصت ھوں گے توان کے بیٹے حجت محمد المھدی ھوں گے۔یہ بارہ امام ہیں۔“[20]
    اس کے علاوہ اسی کتاب”ینابیع المودة“میں ”کتاب مناقب“سے نقل کی گئی ایک اور حدیث درج ھے ،جس میں بارہ اماموں کے نام اور ان کے القاب بھی بیان کئے گئے ہیں اور حضرت مھدی کی غیبت ،اور اس کے بعد ان کے قیام کر کے دنیا کو عدل وانصاف سے اسی طرح پر کر نے کا ذکر کیا گیا ھے جس طرح دنیا اس سے پہلے ظلم وستم سے بھر گئی ھوگی۔[21]
    البتہ اس سلسلہ میں شیعوں کی احادیث بہت زیادہ اور حد تواتر سے بڑھ کر موجود ہیں ۔(غور فر مائیے)۔
    جوشخص اپنے زمانہ کے امام کو پہچانے بغیر مرجائے۔۔۔
    دلچسپ بات ھے کہ اہل سنت کی کتابوں میں ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی گئی ایک حدیث میں آیا ھے:
    ”من مات بغیر امام مات میتتة جا ھلیة“[22]
    ”جو شخص امام کے بغیر مر جائے ،اس کی موت جاہلیت کی موت ھے۔“
    شیعہ کتابوں میں یہی حدیث اس عبارت میں نقل ھو ئی ھے:
    ”من مات ولا یعرف امامہ مات میتتہ جاھلتہ“
    ”جوشخص مرگیا اور اس نے اپنے امام کو نہیں پہچانا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ھے۔“(بحارالانوار ج۶،(طبع قدیم)ص۱۶)
    یہ حدیث اس بات کی گواہ ھے کہ ہر دور اور ہر زما نے ایک معصوم امام موجود ھوتا ھے ،اس کو پہچاننا ضروری ھے ۔اس کو نہ پہچاننا اتنا نقصان دہ ھے کہ انسان کفر و جاہلیت کی سر حدمیں پہنچ جاتا ھے۔
    کیا اس حدیث میں بیان کئے گئے امام وپیشوا سے مراد وہی لوگ ہیں جو زمام حکومت سنبھالتے ہیں،جیسے،چنگیز خان ،ہارون اور دوسروں کے ایجنٹ اور کٹھ پتلی حکام؟
    بے شک اس سوال کا جواب منفی ھے، کیونکہ اکثر حکمران غیر صالح ،ظالم اور کبھی مشرق ومغرب کی طاقتوں سے وابستہ اور اغیار کی سیاست کے آلہ کار ھو تے ہیں،یقیناًایسے حکمرانوں کو امام کی حیثیت سے قبول کر نا انسان کو جہنم میں بھیج دیتا ھے۔
    لہذا واضح ھو تا ھے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں ایک معصوم امام موجود ھو تا ھے لوگوں کے لئے اس کو تلاش کر کے اس کی رہبری کو قبول کر نا ضروری ھے۔
    البتہ ہر ایک امام کی امامت کو مذکورہ بالا طریقوں کے علاوہ قرآنی نصوص اور آنے والے امام کے بارے میں ہر سابق امام کی بیان کی گئی احادیث و روایات نیز ان کے معجزات سے بھی ثابت کیا جاسکتا ھے۔
    حوالاجات
    [1] نہج البلاغہ،کلمات قصارنمبر۱۴۷
    [2] مزید تفصیلات کے لئے کتاب ”احقاق الحق“،”الغدیر“،”المراجعات“ اور ”دلائل الصدق“کا مطالعہ کریں۔
    [3] مزید تفصیلات کے لئے تفسیر نمونہ ج۳:ص۴۳۵کا مطالعہ کریں۔
    [4] مزید توضیح کے لئے قیمتی کتاب”المراجعات “کا مطالعہ فر مایئے ،جس کا اردو ترجمہ”دین حق“کے نان سے ھو چکا ھے۔
    [5] سورہ مائدہ/۳
    [6] صحیح بخاری ج۶،ص۳۔ صحیح مسلم ج۱،ص۴۴۔اور ج۴،ص۱۸۷۔
    [7] تاریخ بغداد ،ج۷،ص۴۵۲
    [8] تاریخ بغداد ،ج۷،ص۴۵۲)
    [9] مزید تفصیلات کے لئے کتاب” المراجعات“،ص۱۳۰سے الخ اورکتاب ”احقاق الحق“، ج۴، ص۶۲الخ کی طرف رجوع کیا جائے۔
    [10] سیرہ حلی ج۳۳،ص۳۰۸۔
    [11] جامع ترمذی،طبق نقل ینابیع المودة،ص۳۷
    [12] المراجعات،ص ۴۲۔
    [13] الصواعق المحرقہ،ص ۷۵
    [14] مشکوة المصابیح ،ص۵۶۸(طبع دہلی)ریاض المنضرہ ،ج۲،ص۲۴۸(بحوالہ مسلم و تر مذی)۔
    [15] مستدرک حاکم ،ج۳،ص۱۵۱
    [16] مسند احمد،ج۱،ص۳۹۸
    [17] سورہ شوریٰ/۲۳
    [18] ینابیع المودة،ص۴۴۶
    [19] ینابیع المودة،ص۴۴۱
    [20] ینابیع المودة،ص۴۴۱
    [21] ینابیع المودة،ص۴۴۲
    [22] المعجم المفہرس لالفاظ الاحادیث النبوی،ج۶،ص۳۰۲
    منبع:shiaarticles.com