islamic-sources

  • features

    1. صفحہ اوّل

    2. article

    3. اسلام کے تین دشمن

    اسلام کے تین دشمن

    اسلام کے تین دشمن
    Rate this post

    جس وقت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے دنیا سے رحلت فرمائی تو اسلام کے اس نوجوان وجود کو باھر اور اندر سے تین طرح کے دشمن گھیر ے ھوئے تھے اور ھر لمحہ اس کو خطرہ تھا کہ یہ تینوں طاقتیں باھم ایک ھو کرایک مثلث بنائیں اور اسلام پر حملہ آور ھوں ۔
    پھلا دشمن :
    داخلی دشمن یعنی مدینہ اور اس کے آس پاس کے منافقین تھے جنھوں نے کئی بار پیغمبر اکرم کی جان لینے کی کوشش کی تھیں اور جنگ تبوک سے واپسی کے وقت ایک خاص منصوبہ کے تحت جو پورے طورسے تاریخ میںذکرھوھے،پیغمبرکرم کے اونٹ کو بھڑکاکر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان لینا چاھتے تھے۔
    پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان لوگوں کی سازش سے آگاہ ھو کر وہ تدبیر اپنائی کہ ان کا منصوبہ نا کام ھو گیا ۔ ساتھ ھی اسلام کی عمومی مصلحتوں کو مد نظر رکھتے ھوئے آنحضرت نے اپنی زندگی میں ھی ان کے نام بعض خاص افراد مثلا ”حذیفہ یمانی“ کو بتا دیئے تھے۔
    اسلام کے یہ دشمن جو بظاھر مسلمانوں کے لباس میں چھپے ھوئے تھے،آنحضرت کی موت کا انتظار کر رھے تھے اور در حقیقت اس آیت کو اپنے دل میں دھرا رھے تھے جسے قرآن پیغمبرکی حیات میں کافروں کی زبانی نقل کرتاھے:”انما نتربص بہ ریب المنون“ (۱) یعنی ھم اس کی موت کا انتظار کر رھے ھیں کہ وہ فوت ھوجائے اور اس کی شھرت ختم ھوجائے۔
    یہ لوگ یہ سوچ رھے تھے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی رحلت کے ساتھ ھی اسلام کی رونق ختم ھوجائے گی،اس کا پھیلاوٴ رک جائے گا۔ کچہ لوگ یہ بھی سوچتے تھے کہ اسلام آنحضرت کے بعد کمزور پڑجائے گا اور وہ دوبارہ زمانہ ٴجاھلیت کے عقائد کی طرف پلٹ جائےں گے۔
    آنحضرت کی رحلت کے بعد ”ابوسفیان “ نے چاھا کہ قریش اور بنی ھاشم کے درمیان اختلاف پیدا کردے اور جنگ بھڑکاکر اسلامی اتحاد کے اوپر کاری ضرب لگائے اس مقصد کے پیش نظر وہ بڑے ھمدردانہ انداز میں حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں داخل ھوا اور ان سے بولا :اپنا ھاتھ بڑھایئے کہ میں آپ کی بیعت کروں تاکہ تمیم اور عدی قبیلوںکے لوگ آپ کی مخالفت کی جراٴت نہ کریں․ امام نے پوری ھوشیاری کے ساتھ صف اسلام میںاختلاف پیدا کرنے اور مسلمانوں کو آپس میں ٹکرانے کی اس کی شازش کو سمجہ لیا لھٰذا فورا ًٹکا سا جواب دیا اور خود پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تجھیز و تکفین میں مشغول ھو گئے۔ (۲)
    مسجد ضرار جو نویں ھجری میں بنائی گئی تھی اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے حکم سے عمار یاسر کے ھاتھوں منھدم کی گئی تھی پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حیات کے آخر ی دنوں میں منافقوں کی خفیہ سازشوں کا ایک نمونہ تھی اور دشمن خدا (ابن عامر) سے ان کے تعلقات کو ظاھر کرتی تھی ابن عامر وہ شخص ھے جو فتح مکہ کے بعد روم بھاگ گیا اور وھاں سے اپنے گروہ کی ھدایت و رھنمائی کیا کرتا تھا۔ ھجرت کے نویں سال جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جنگ تبوک پر جانے کے لئے مدینہ سے نکلے تو داخلی سطح پر منافقوں کے ممکنہ فساد و سازش کے خطرہ سے بھت زیادہ پریشان تھے ۔اسی لئے آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا تھا اور آپ کے لئے وہ تاریخی جملہ فرمایا تھا ” انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ “ (۳) یعنی اے علی(ۡع)تم کو مجہ سے وھی نسبت ھے جو ھارون کو موسیٰ(ۡع)سے تھی۔اس کے بعد آپ نے ان سے تاکید کی کہ داخلی سطح پر مدینہ میں سکون و آرام برقرار رکھنے اور فتنہ و فسد کی روک تھام کے لئے مدینہ میں ھی رھو ۔
    منافقوں اور ان کی خطرناک سازشوں سے متعلق بھت سی آیتیں قرآن کریم کے مختلف سوروں میں موجود ھیں اور سب کی سب اسلام سے ان کی دیرینہ عداوت کو بیان کرتی ھیں ۔ اور ابھی یہ فسادی مدینہ میں موجود ھی تھے کہ آنحضرت نے دنیا سے رحلت فرمائی۔
    پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد قبائل عرب میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو آپ کے بعد کفر و شرک کی طرف پلٹ گئے اور ماموران زکوٰة کو باھر نکال کر انھوں نے اسلام کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا ۔یہ لوگ اگرچہ منافق نھیں تھے ،لیکن ایمان کے اعتبار سے اتنے کمزور تھے جو پت جھڑ کے پتوں کی طرح ھر رخ کی ھوا پر ادھرادھر ھی اڑنے لگتے تھے ۔اگر انھیں کفر و شرک کا ماحول مناسب لگتا تو اسلام کو چھوڑ کر کفر کی راہ اختیار کر لیتے تھے۔
    ایسے خونخوار دشمنوں کے ھوتے ھوئے جو اسلام کی کمین میں بیٹھے تھے اور اسلام کے خلاف سازش و شورش میں مشغول تھے کیا یہ ممکن تھا کہ ایسے عاقل ،سمجھدار اور دور اندیش پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ان ناگوار حوادث کی روک تھام کے لئے اپنا کوئی جانشین مقرر نہ کریں اور امت واسلام کو دشمنوں کے درمیان اس طرح حیران و سر گردان چھوڑ جائیں کہ ھر گروہ یہ کھتا نظر آئے کہ ”منا امیر منا امیر“ یعنی یہ کھے کہ امیر ھم میں سے ھونا چاھئے اور وہ کھے کہ امیر ھم میں سے ھونا چاھئے ؟!
    باقی دو دشمن
    اس مثلث کے بقیہ دو دشمن اس وقت کی ایران و روم کی دو بڑی طاقتیں تھیں ۔ روم کی فوج سے اسلام کی پھلی جنگ ھجرت کے آٹھویں سال فلسطین میں ھوئی جو لشکر اسلام کے بڑے بڑے سردار وں ”جعفر طیار“ ، ”زید بن حارث“اور ”عبداللہ بن رواحہ “ کے قتل اور لشکر اسلام کی انتھائی سخت شکست پر تمام ھوئی اور لشکر اسلام خالد بن ولید کی سرداری میں مدینہ واپس آیا ۔کفر کی فوج سے لشکر اسلام کی اتنی سخت شکست سے قیصر روم کے حوصلے بلند تھے اور ھر لمحہ یہ خطرہ تھا کہ کھیں وہ لوگ مرکز اسلام پر حملہ نہ کریںاسی وجہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ھجرت کے نویں سال ایک بڑا لشکر جس کی تعداد تیس ھزار تھی لیکر شام کی طرف روانہ ھوئے تاکہ فوجی مشق کے علاوہ دشمن کے ممکنہ حملہ کو روک سکیں اور راہ کے بعض قبائل سے تعاون یا غیر جانبداری کا عھد و پیمان لے سکیں ۔ اس سفر میں جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو مسلسل رنج و زحمت اٹھانا پڑی آپ رومیوں سے لڑے بغیر مدینہ واپس آگئے۔
    اس کامیابی نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کو مطمئن نھیں کیا آپ لشکر اسلام کی شکست کے جبران کی کوشش میں لگے رھے ۔اس کے لئے آپ نے اپنی بیماری سے چند روز پھلے ”اسامہ بن زید “ کو لشکر اسلام کا علم دے کر اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسامہ کی سرداری میں شام کی طرف روانہ ھوں اور اس سے پھلے کہ دشمن ان پر حملہ کرے وہ جنگ کے لئے تیار رھیں۔
    یہ تمام واقعات اس بات کی حکایت کرتے ھیں کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)شمال یعنی روم کی طرف سے بھت نگراں تھے اور کھا کرتے تھے کہ ممکن ھے قیصر روم کی طرف سے اسلام کو سخت حملہ کا سامنا کرنا پڑے
    تیسرا دشمن ایران کی ساسانی شھنشاھی تھی ۔یھاں تک کہ خسرو پرویز نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا خط پھاڑ ڈالا تھا ،سفیر کو قتل کر دیا تھا اور یمن کے گونر کو لکھا تھا کہ (معاذ اللہ ) پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو قتل کرکے ان کا سر میرے پاس مدائن روانہ کرے ۔
    حجازاور یمن عرصہ سے حکومت ایران کا حصہ شمار ھوتے تھے لیکن اسلام کے آنے کے بعد حجاج نہ صرف آزاد ھو گیا تھا بلکہ خود مختار ھو گیا تھا اور یہ امکانات بھی پیدا ھو گئے تھے کہ یہ محروم اور کچلی ھوئی قوم اسلام کے سایہ میں پورے ایران پر مسلط ھو جائے۔
    اگر چہ خسرو پرویز پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی حیات میں گزر گیا تھا لیکن ساسانیوں کی حکومت سے یمن اور حجازکا جدا ھو جانا ان لوگوں کے لئے اتنا بڑا دھکا تھا جو خسرو کے جانشینوں کے ذھن سے دور نھیں ھو ا تھا ۔ساتھ ھی یہ بڑھتی ھوئی نئی طاقت جو ایمان و اخلاص اور فداکاری سے آراستہ تھی ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔
    ایسے طاقتور دشمنوں کے ھوتے ھوئے کیا یہ درست تھا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس دنیا سے چلے جائیں اور امت اسلام کے لئے اپنا کوئی فکری و سیاسی جانشین معین نہ کریں؟ ظاھر ھے کہ عقل ، ضمیر اور سماجی محاسبات ھرگز اس کی اجازت نھیں دیتے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے اس طرح کی بھول ھوئی ھوگی ۔ اور انھوں نے ان تمام حادثات و مسائل کو نادیدہ قرار دیتے ھوئے اسلام کے گرد کوئی دفاعی حصار نہ بنایا ھوگا اور اپنے بعد کے لئے ایک آگاہ ،مدیر و مدبر اور جھاندیدہ رھبر معین نہ کیا ھوگا۔
    حوالہ جات
    (۱)۔سورہ طور/30
    (۲) الدرجات الرفیعہ ص/77 حضرت علی ںنے اس موقع پر ابو سفیان سے اپنا وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ” ما زلت علی و الاسلام و اھلہ “ تو ھمیشہ اسلام اور اھل اسلام کا دشمن رھا ھے ۔ الاستیعاب ،ج/2ص/690
    (۳) یہ حدیث شیعہ و سنی دونوں ماخذ میں تواتر کے ساتھ آئی ھے․
    منببع:shiaarticles.com