حکومت کا معنی

حکومت کا معنی، معاشرے کی بھاگ دوڑ وہ شخص سنبھالے جس میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت ہو۔

حکومت کی ضروت

یہ بات کہ انسانی معاشرے کو حکومت کی ضرورت یے یا نہیں؟ روشن اور آشکار ہے، اگرچہ کچھ افراد اس نظریے کے خلاف بھی ہیں۔ انسان ذاتی طور پر سماجی وجود رکہتا ہے، انسان سب سے پہلے ایک خاندان میں آنکھ کھولتا ہے، اس کے بعد اسکول ، یونیورسٹی، آفس و غیرہ میں دوسروں سے تعلق قائم کرتا ہے، اور یہ سب تبھی ممکن ہے جب اس سے پہلے کوئی معاشرہ قائم ہو۔ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ ہر معاشرے پر ایک حاکم ہونا چائیے، اس لیے اسلام نے بھی عقل اور فطرت کے حکم کے مطابق حاکم کا ہونا لازم قرار دیا ہے۔

اسلام میں حکومت کا مقصد

اسلام نے حکومت کا واضح ہدف انصاف، انسان کو شیطان کی اسارت سے آزاد کرنا اور طاغوت کا مقابلہ کرنا، مظلوموں کو زمین کا وارث بننے میں ان کی مدد کرنا، اور احکام الہی کو زمین پر جاری کرنا، قرار دیا ہے۔واضح ہے کہ کہ اس مقصد کے لیے کچھ مقدمات کی بھی ضرورت ہے، اس لیے ان کو پانا لازم ہے،
مذکورہ اہداف پر مشتمل ایک حکومت کی تشکیل اسلام کے مسلمات میں سے ہے۔

قرآن اور حکومت کا تصور

قرآن میں حکومت کے متعلق بہت سے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، جیسا کہ ولایت، خلافت، اولی الامر، ملک، « إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا
سورہ النساء ۔ آیت 58

ترجمه ے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اُنہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اَہل ہیں، اور جب تم لوگوں پر حکومت کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کیا کرو (یا: اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا کرو)۔ بے شک اللہ تمہیں کیا ہی اچھی نصیحت فرماتا ہے، بے شک اللہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

اصلی حاکم کون ہے،

مکاتب میں اس بات پر اختلاف ہے کہ حاکم کون ہو، اسلام میں حکومت کا حق صرف خدا کو ہے، « ان الحکم الا لله» اور یہ انبیا ء ہیں جو اللہ کے حکم سے عوام میں حکمرانی کرتے ہیں،
( النور آیه 48) ترجمه : اور جب ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو اس وقت ان میں سے ایک گروہ گریزاں ہوتا ہے۔
«انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارئک الله و لاتکن للخائنین خصیما » ( النساء آیه ۱۰۵)
ترجمه
بیشک ہم نے آپ کی طرف حق پر مبنی کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں میں اس (حق) کے مطابق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے آپ کو دکھایا ہے، اور آپ (کبھی) بددیانت لوگوں کی طرف داری میں بحث کرنے والے نہ بنیں۔

غیر الہی حکومت کا نتیجہ

غیر الہی حکومت کا نتیجہ آپ ساری دنیا میں دیکھ سکتے ہیں، انسانی کی تمام مشکلات اس وجہ سے ہیں کہ انسان اب تک یہ بات نہیں سمجھ سکا ہے کہ وہ اکیلے حکومت نہیں کر سکتا، داود اور سلیمان علیہما السلام، رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدینہ میں حکومت، اور ان کے اوصیا کی حکومت اللہ کی حکومت کی مصداق ہیں، البتہ قرآن میں خدا نے فرمایا ہے کہ عوام سے مشورہ کیا جائے، اور یہ اسلامی ڈیموکریسی ہے۔
و شاور هم فی الامر
آل عمران 159
اور کاموں میں ان سے مشورہ کیا کرو۔

حوالے:

1: قرآن کریم
2: نہج البلاغہ
3: تاریخ سیاسی اسلام، رسول جعفریان
4: سیرۃ النبویہ، ابن ہشام


more post like this